qasim-ali-shah-urdu-articles 36

شہراہ کامیابی. قاسم علی شاہ

53 / 100

شہراہ کامیابی
قاسم علی شاہ
گراؤنڈ تماشائیوں کے پرجوش نعروں سے گونج رہا تھا۔ ہر ایک اپنے پسندیدہ گھڑ سوار کھلاڑی کو حوصلہ دے رہا تھا اور اس کی جیت کاخواہش مند تھا۔ لال شرٹ پہنا سوار سب کو پیچھے چھوڑ کر پورے جوش کے ساتھ ہدف کی جانب بڑھ رہا تھا، اس کو یقین ہوگیا تھا کہ آج کی جیت اسی کی ہے، وہ دل ہی دل میں اپنی کامیابی کی خوشی منانے لگا، وہ فنشنگ لائن کو چھونے ہی والا تھا کہ۔۔۔ بلیو شرٹ والاپلک جھپکتے میں انتہائی تیزی کے ساتھ اس کے پاس سے گزرا اور سیکنڈ کے دسویں حصے میں ہدف عبور کرگیا، جبکہ لال شرٹ والاہاتھ ملتا ہی رہ گیا۔ ایک کی کامیابی اور دوسری کی ناکامی صرف ایک وجہ سے ہوئی، جس کو منیجمنٹ کہا جا تا ہے۔ دراصل بلیوشرٹ گھڑ سوار نے اپنی رفتار، ٹارگٹ اور مدِ مقابل کا اندازہ لگاکر اپنی انرجی اور وقت کوبہترین انداز میں منظم کیااورجیت کا اعزازاپنے نام کرلیا۔ آپ نے زندگی میں جب بھی کسی شخص کودیکھنا ہے تو یہ دیکھیں کہ وہ منظم کتنا ہے؟ کوئی بھی غیر منظم شخص زندگی میں کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ وہ نوکری ہی کرتا رہتا ہے اور اچھا باس ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ ہر منظم انسان مالک بن جاتاہے۔ نپولین ہل نے بھی اپنی کتاب میں کامیاب ترین افراد پر جو ریسرچ کی اس کے مطابق ان لوگوں میں ساتویں بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ لوگ انتہائی منظم انداز میں وقت گزارتے تھے۔ گزشتہ سے پیوستہ مضمون میں ہم نے کامیابی کا ابتدائی کونسپٹ، حاصل کرنے کے لیے بنیادی عوامل اور اس کے بعد والے آرٹیکل میں کامیاب افراد کی عادات بتائی تھیں۔ آج کی نشست میں ہم ایسی شخصیات کی مزید کچھ عادات کو زیرِ قلم لاکر اس موضوع کو سمیٹیں گے۔

انسان جتنا پلاننگ میں اچھا ہوتاہے اتنا ہی وہ آگے بڑھتا ہے اور جتنا پلاننگ میں کمزور ہوتا ہے اتنا ہی ناکام۔ یہ بات یاد رکھیں کہ پلاننگ بڑے کاموں کی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں کی ہوتی ہے۔ اس کو اگر ہم ایک جملے میں سمونا چاہیں تو کچھ یوں ہوگا کہ ” وسائل اور ذرائع کوبہترین انداز میں استعمال کرنا۔”اب جو اِن وسائل کو جیسے استعمال کرے گا وہ اتنا ہی کامیاب ہوگا۔ انسان ہی وہ خوش قسمت مخلوق ہے جس کو اللہ نے یہ نعمت عطا کی ہے، جس کی بدولت وہ اپنے وقت، مطالعہ، معمولات اور معلومات کو منظم کرتا اور کامیابی پاتا ہے۔

(8) خود پر کنٹرول:

آٹھویں خوبی اس نے یہ نوٹ کی یہ سب لوگ خود پر کنٹرول کرناجانتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے موڈ کے ساتھ لڑنا جانتا ہو، یعنی اس کا دل کسی کام کرنے کو نہیں کررہا مگر اس کے باوجود بھی وہ خود کومنوالیتا ہے اور وہ کام کرلیتا ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے صبح 9سے شام5بجے تک نہیں بلکہ اس سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی انسان نے کامیاب بننا ہے تو پھر اسے خود کو کنٹرول اور اپنا ماسٹر بننا پڑے گا۔ اس کو سیکھنا ہوگا کہ ایک کے بعد دوسرا کام اور تھکاوٹ کے باوجود کوئی کام کیسے کرناہوتاہے؟ اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان لوگوں نے اپنی سستی کو کنٹرول کرنا سیکھ لیاتھا، کیونکہ انسان بنیادی طورپر سُست ہے اور سستی کی عالمی مثال پاکستان میں موجود ہے۔ جہاں ایک بھائی ملک سے باہر ہوتا ہے اورباقی چار ہاتھ پر ہاتھ رکھے کھارہے ہوتے ہیں، جبکہ آپ اگر چائنہ جاکر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہاں ان کے دادے، دادیاں بھی کام کررہی ہوتی ہیں۔ ان کو معلو م ہے کہ کام کریں گے تو جسم متحرک رہے گااور بیماریاں نہیں آئیں گی۔ انسان جیسے ہی آرام سے بیٹھتا ہے تو اس کے تفکرات شروع ہوتے ہیں جو اس کو پریشان کرتے کرتے بیمار اور پھر بہت جلد قبر تک لے جاتے ہیں۔ یادرکھیں سستی کامیاب انسان کی دشمن ہے۔

(9) استقامت:

ایک اور خوبی ان میں استقامت کی تھی۔ یہ لوگ اپنے ارادوں پرڈٹے رہتے ہیں، کیونکہ استقامت میں ہی کرامت ہے اور حدیث شریف بھی ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ کام زیادہ پسندیدہ ہے جو استقامت کے ساتھ ہو اگر چہ تھوڑا ہو۔ استقامت والے انسان کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے اور یہی مدد اس کو کسی بڑے نتیجے تک پہنچا دیتی ہے۔

(10) Power of master mind

اس بات کو میں ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ کیل کو اگر پانی کی سطح پر چھوڑ دیا جائے تو وہ ڈوب جائے گا۔ لیکن اگر یہی کیل لکڑے کے تختے پر لگ جائے اور پھر پانی کی سطح پر ہو تونہیں ڈوبے گا۔

یہی مثال انسان کی بھی ہے، انسان خود نہیں ڈوبتا، اردگرد کے لوگ اس کو ڈبودیتے ہیں۔ میں نے اپنی بیس سالہ عملی زندگی میں جتنے بھی لوگ ناکام ہوتے دیکھے اس کی بنیادی وجہ ان کو مشورہ دینے والے غلط لوگ تھے۔ بے شمار لوگ اور کہانیاں میں نے غلط مشورے کی وجہ سے عبرت بنتی دیکھیں۔ یاد رکھیں اگرآپ ماضی سے عبرت نہیں پکڑیں گے توپھر آپ دوسروں کے لیے عبرت بن جائیں گے۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ جتنے بھی لوگ کامیاب تھے، ان کی سنگت کامیاب لوگوں میں تھی۔

ایک کمال کی عادت جو کہ سنت بھی ہے وہ “مشورہ” ہے۔ آپ حضور ﷺ کی سیرت کو ملاحظہ کریں تو آپ نے اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مشورہ کیا ہے، حالانکہ آپ پر وحی نازل ہوتی اور جبرائیل ؑ کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی تھیں مگر اس سب کے باوجود بھی آپ اپنے ساتھیوں سے مشورہ ضرور کیا کرتے تھے۔ کیوں؟ وجہ میں اور آپ تھے، تاکہ ہمیں سکھائیں کہ زندگی میں جب بھی کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتو اپنے ایڈوائزری بورڈ سے ضرور مشورہ کرنا ہے۔

انسان اسی سے مشورہ کرتا ہے جس کو وہ اپنی نظروں میں معتبر سمجھتا ہے۔ اب اگر اس کی عقل کمزور ہوگئی ہو تو وہ غلط لوگوں کو معتبر سمجھے گاجوکہ اصل میں معتبر نہیں ہوں گے، اسی لیے تقوا ضروری ہے، کیونکہ جب آپ نیک اور متقی ہوں گے تو جو آپ کی مجلس مشاورت ہوگی وہ بھی نیک اور متقی لوگوں کی ہوگی اور ظاہر ہے وہ آپ کو ایمان اور خیر کاہی مشورہ دیں گے۔

ان سب کامیاب لوگوں کا ایک ایڈوائزری بورڈ تھا اور وہ اپنے کام کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ ان کے نزدیک ایک او ر ایک “دو” نہیں بلکہ” گیارہ” ہوتے ہیں۔ یہ ہمیشہ لوگوں کو ساتھ لیتے ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ اچھے لوگوں کا آپ کے پاس ہونا، آ پ کے اچھے وقت آنے کی ضمانت ہے۔ اللہ رب العزت جس کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کو اچھے لوگوں سے ملواتاہے، کیونکہ اچھے لوگوں کے ملنے سے آپ کی اچھائی طاقت پکڑتی ہے۔

اب بہت سارے لوگوں کا یہ سوال ہوتا ہے کہ ہمیں تو اچھے لوگ نہیں ملتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر انسان خود جنٹلمین اور سنجیدہ ہو تو اس کو اچھے لوگ ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ ہونہیں سکتا کہ آپ اچھے ہوں، اچھے ارادے کے ساتھ اچھے لوگوں کو ڈھونڈیں اور آپ کو نہ ملیں۔ نیک لوگوں کو اپنی زندگی میں قدر دیں !اگر آپ نہیں دیں گے تو پھر ناکام لوگ ہی آپ کے اردگرد اکھٹے ہوں گے۔ کسی بھی انسان کو عز ت دیتے وقت اس کی وجہ ڈھونڈیں کہ آپ کس چیز کی وجہ سے اسے عزت دے رہے ہیں، آیا اس کے پاس علم زیادہ ہے، اس کااخلاق اچھا ہے یا وہ بانٹنے میں اچھا ہے؟ پھر اس کی اس خصوصیت کو پانے کی تمنا بھی کریں کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی عمرجیسے بہادرانسان کو اللہ سے مانگا کہ یا اللہ!عمر کو میرے قافلے میں شامل فرما! اس عمل سے اللہ کے رسولﷺ نے ایک نئی سنت دی کہ اچھے انسان کو اپنے ساتھ شامل کریں۔ اچھے انسان کے لیے دعا کریں کہ یا اللہ! اس کا ساتھ مجھے نصیب فرما۔ ہمیشہ نیک لوگوں کو تلاش کریں اور ان میں خود کو مشہور کروائیں، بدفطرت لوگوں میں نہیں کیونکہ یہ رسوائی ہے او ررسوائی اللہ کا عذاب ہے۔ اللہ کسی کی رسوائی نہیں چاہتا، وہ ستار العیوب(عیبوں پر پردہ ڈالنے والی ذات) ہے لیکن کوئی رسوا ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعی بدفطرت انسان ہے۔

(11) ایموشنل مینجمنٹ:

یعنی جذبات کو استعمال کرنا، دنیا کے سب بڑے لوگوں کے جذبات بہت ہائی(بھڑکیلے) ہوتے ہیں۔ نپولین اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ” میں نے دو ہزار سالہ تاریخ کی بڑی شخصیات کی سوانح حیات کو پڑھا او ر ایک چیزسب میں مشترک دیکھیں کہ جو بھی بڑ اانسان بنا ہے اس کے پیچھے کوئی اہم واقعہ تھا۔”اس واقعہ کی وجہ سے ان کا دل ٹوٹا، انہوں نے اپنے جذبات کو دوسرا رخ دیا اور وہ بڑے انسان بن گئے۔

انسان کے دو جذبات ایسے ہیں جن میں تباہ کرنے اور بنانے کی مکمل صلاحیت موجودہے۔ ایک غصہ اور دوسری محبت، واصف علی واصف کا جملہ ہے کہ “چھوٹے انسان کا غم اسے کھاجاتا ہے اوربڑے انسان کا غم اسے بناجاتا ہے۔”غصے کی مثال آگ کی طرح ہے، یہ جسم میں اٹھتی ہے اب اگر انسان کو اسے استعمال کرنا آتا ہوتو اس سے کوئی بڑا کام لے لیتا ہے، لیکن اگر اس کو استعمال نہیں کرسکااور وہ جسم میں ہی رہاتو یاد رکھیے گا کہ وہ آگ ہے اور آگ جس بھی جگہ بھڑکتی ہے توسب سے پہلے اس جگہ کو بھسم کرتی ہے۔

(12) خوف کے بھوت پر کنٹرول:

جو انسان اپنے خوف کو لگام ڈال دیتا ہےوہ کامیاب ہوجاتاہے۔ نپولین نے ان سب لوگوں میں یہ چیز مشتر ک پائی کہ وہ اپنے خوفوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ میں ناکام ہوگیا تو لوگ کیا کہیں گے وغیرہ وغیرہ، انسان کے اندرپیدائشی طورپر صرف د و تین چیزوں کاخوف ہوتا ہے باقی جتنے خوف ہوتے ہیں وہ خود سیکھتا ہے۔ ہم باقاعدہ طوپر خوف پالنے کی تربیت پاتے ہیں۔ ہم نے تمام خوفوں کی ڈگری کسی یونیورسٹی یا کالج سے نہیں بلکہ معاشرے سے لی ہوئی ہے اورمعاشرے میں ہمیں کہیں نہ کہیں یہ خوف دیے جاتے ہیں۔ پیدائشی خوف کے علاوہ باقی جتنے بھی خوف ہیں اگر انسان اپنی عقل سے جائزہ لے کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ کوئی خوف نہیں، سب دھوکا ہے۔

کامیاب ہونے کے لیے انسان کو لا خوف ہونا پڑتا ہے۔ آپ کامیاب ہیں یا ناکام، لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا، البتہ آپ کو ضرورفرق پڑتاہے۔ دن کی فکر وں اور رات کی پریشانیوں سے نکلیں اور بڑی سوچ سوچیں۔ اس بات کو دیکھیں کہ روز قطرہ قطرہ ہوکر زندگی کیا بن رہی ہے؟ آگے کسی مقام پر ایک چیزایسی پڑی ہوئی ہے جس کا آج آپ کو شاید معاوضہ نہیں مل رہا مگر ایک دن ضرور ملنا ہے، اسی کو کامیابی کہتے ہیں کہ کسی کو دکھائے بغیر، آپ نقطوں کو جوڑتے جوڑتے ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ پھر لوگ بول اٹھتے ہیں : ” آپ واقعی ایک کامیاب اور غیر معمولی انسان ہیں۔”یہ سب وہی انسان کرسکتا ہے جو نصاب کے علاوہ کتابیں پڑھتا ہے، جو چیزوں کو ڈھونڈتا ہے، ریسرچ کرتاہے، جو تَگ و دُو کرتا ہے اورجو سوچتا ہے۔ وہی پھر ایک بڑے نتیجے پر پہنچتا ہے۔ لیکن ہاتھ پر ہاتھ دھرے روزٹی وی دیکھتے رہنا اور خود کو نہ بدلنا، ناکامی ہے۔ یاد رکھیں جو خود کو نہیں بدل سکتا وہ دنیا کو بھی نہیں بدل سکتا۔ سقراط کا قول ہے کہ “میں عالم اس لیے ہوں کہ مجھے اپنی جہالت کا پتا ہے۔” جس کو اپنی جہالت کا نہیں پتا وہ عالم نہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے کامیابی کے بارے میں اپناتصور درست کیجیے۔۔ اپنی لاعلمی اور کمزوری تلاش کیجیے۔۔ اس پر محنت کرکے اس کو اپنی طاقت بنائیے اور۔۔۔ کامیاب شخصیات کی ان تمام عادات کو اپنا کر کامیابی کی جانب عازمِ سفر ہوجائیے، اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن آپ بھی تاریخ رقم کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں