44

شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دو روز کیلئے پولیس کے حوالے

شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دو روز کیلئے پولیس کے حوالے
اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں) اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو گرفتار کر لیا، تھانہ کوہسار میں درج مقدمہ سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر کے مطابق شہباز گل نے نجی ٹی وی پروگرام میں فوج کو تقسیم کرنے اور مختلف رینک کے افسران کو سیاسی جماعت سے جوڑنے کی کوشش کی، سول بیوروکریسی کو بھی دھمکایا اور بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی،شہباز گل کو تھانہ کوہسار کی پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے روبرو پیش کیا، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا،کل پھر کورٹ میں پیش کیا جائیگا،شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ کسی ایک شخص کی رائے سے ادارے کی سالمیت کو فرق نہیں پڑتا ، جبکہ شہباز گل کا کہنا تھا کہ میرے بیان میں کچھ ایسا نہیں جس سے شرمندگی ہو،میرا بیان ایک محب وطن کا بیان ہے، اپنی فوج سے پیار کرنے والا بیان ہے، کسی کو اکسانے کی کوشش نہیں کی، شہباز گل کیخلاف غداری سمیت 10 سنگین دفعات کے تحت مقدمہ کی تفتیش کیلئے چار رکنی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کی سربراہی ایس ایس پی انویسٹی گیشن سید فرحت کاظمی کرینگے، کمیٹی میں ایس ڈی پی او کوہسار ، ایس ایچ او کوہسار اور ایک سب انسپکٹر شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سٹی مجسٹریٹ نے گرفتار پی ٹی آئی کے رہنما کیخلاف درخواست برائے اندراج مقدمہ زیر دفعہ، 120،124،131،153،153,505 ،506 ت پ، اور121B-109/34 ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو دی جو وفاقی سیکرٹری داخلہ کی منظوری سےتھانہ کوہسار پہنچی جس میں کہا گیا ہے کہ 8 اگست 2022ء کو ایک نجی چینل کا ایک پروگرام نشر ہوا جس میں شہاز گل کو بطور مہمان مدعو کیا گیا اور دوران پروگرام ایک سوال کے جواب میں شہاز گل نے مندرجہ ذیل الفاظ کے ذریعے بریگیڈیر رینک سے نیچے تک کے عہدیداروں اور بریگیڈیر رینک کے اوپر تک کے عہدیداروں کو آپس میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ۔ بریگیڈیئر رینک سے نیچے کے رینک کو ایک سیاسی جماعت سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی، ایک تو وہ یہ کہ فوج کے اندر جوہمارا لانس نائیک ہے جو ہمارا حوالدار ہے جو ہمارا سپاہی ہے جو ہمارا کیپٹن ہے میجر ہے کرنل ہے بریگیڈیئر ہے ان رینکس کیخلاف کیوں ایک نفرت کھڑی کی، ان رینکس کی بڑی محبت ہے پاکستان تحریک انصاف کے ایجنڈے کیلئے، ان رینگس کی جو فیملی ہے وہ پاکستان تحریک انصاف نہیں اصل میں پاکستان کیلئے محبت رکھتی ہیں، ان کو جو ایجنڈا پاکستان کیلئے چاہیے وہ پاکستان تحریک انصاف دیتی ہے، اسی طرح ملزم نے پاک فوج کے ادارے کے افسران اپنے ہی شہیدوں کے خلاف فیڈ کرنے کا الزام لگایا ہے اور پاک فوج میں بغاوت کی کوشش کی جو کہ misinformation ہے، ملزم نے مندرجہ ذیل الفاظ بیان کیے آپ کو سوچنا پڑتا ہے، آپکا بھی یہ اپنا ملک ہے، آپ یہ کیا کررہے ہیں ؟ آپ اپنے ہی ادارے کے شہیدوں کے خلاف “فیڈ کررہے ہیں، اسی طرح ملزم نے دیگر سول اداروں کے افسران کو بھی بغاوت پر اکسایا اور انہیں درجہ ذیل الفاظ میں حکومتی احکامات نہ مانے کی تلقین کی اور افسران کو فرائض کی سرانجام دہی کی صورت میں ڈرایا دھمکایا، اس لیے میں بھی جتنی بھی بیوروکریسی کے اندر افسران موجود ہیں ان سے میں یہ التماس کرتا ہوں کہ آپ صرف اپنی نوکری بچانے کیلئے نہ ہی ایسا اس جعلی چور حکومت کو اور نہ ہی انکا آلہ کار بنیے کیوں کہ ہم ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایسے تمام لوگ جواس برے کام میں ملوث ہیں، انکا احتساب کیا جائے گا، قانونی طور پر انکا احتساب کیا جائیگا اور یہ جو ایک بہت بڑا ایجنڈا ہے ۔ اس طرح ایک اور سوال کے جواب میں ملزم نے فوج کے اندر اور عوام میں حب الوطنی کے اعانت اورکوشش کی،Waging war کے نام پر بغاوت کرانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی د ھمکایا کہ اگر آپ نے یہ بغاوت با جنگ نہ لڑی تو پاکستان بھارت امریکہ کی کالونی بن جائیگا لیکن درمیان میں جو صرف اس لیے یہ گند ڈال رہے ہیں کہ ہم تو سرحکم کے پابند ہیں،ہمیں جو حکم ملاہے ، لیکن آپ نے امر بالمعروف بھی پڑھا ہوا ہے آپ پیغمبر پاکؐ کے امتی بھی ہیں آپ قائداعظم کے بنائے ہوئے پاکستان کے شہری ہیں تو آپ کو علم ملا ہے تو آپ نہ پاگل ہیں نہ اندھے ہیں نہ جانور ہیں انسان ہیں آپ بتائیں کہ سر آپ یہ جو علم دے رہے ہیں میرے اپنے ملک کی Conscious کا فوج کیخلاف ہے، آپ جو علم دے رہے ہیں اس سے میرا ارادہ کمزور ہوگا آپ یہ بھی بتائیے کہ یہ جو علم دے رہے ہیں آپ اس سے کبھی بھی دنیا کی کوئی فوج تگڑی نہیں ہوتی جب تک اسکے اسکی عوام کی اکثریت نہ کھڑی ہو، آپ جو علم دے رہے ہیں وہ اکثریت کی خواہشات کے خلاف علم دے رہے ہیں، آپ اگر یہ کرینگے تو فوج اور عوام کے درمیان میں جو محبتوں کا گہرا رشتہ ہے آپ اس میں تکلیف کا باعث بنیں گے تو آپ کو اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ جب بندہ نوکری کررہاہوتا ہےتو حکم ماننے پڑتے ہیں لیکن آپ نے حکم مانتے ہوئے یہ ضرور دیکھنا ہے کہ آپکی حب الوطنی تو کہیں ریڈلائن پر نہیں آگئی ، آپ غداری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ، آپ ایک غیر آئینی غیر قانونی حکم کو نہیں مان رہے آپ ایک ایسا حکم تو نہیں مان رہے جس حکم کے ماننے کی وجہ سے آپ اپنے ملک کے دفاع کو کھوکھلا کر رہے ہیں ،دفاع صرف سرحدوں پر جاکر آپ نے بندوقوں کے ساتھ نہیں کرنا ، آج اگر پاکستان کی پوری قوم نے یہ جنگ اپنی سڑکوں پر چوکوں پر گرلز بوائز کالجز یونیورسٹیز اسپتالوں ہر جگہ پر اگر پاکستان کی عوام میں جاگتے ہوئے یہ جنگ نہ لڑی تو ہم ہمیشہ کیلئے بھارت اور امریکہ کی کالونی بن جائینگے ،ہم انکے اثرور سوخ میں چلے جائینگے۔ ہم ایک خوددار ملک نہیں رہ پائیں گے ۔ جو جنگ اس ٹائم جاری ہے یہ جنگ بیانیے کی جنگ ہے یہ جنگ اس ٹائم اس چیز کی جنگ ہے کہ ہمارے ملک کیلئے سب سے زیادہ ضروری کیا ہے ،ہماری خودداری کس چیز کے اندر ہے ۔ ملزم نے یہ تمام الفاظ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکر باہم صلاح مشورہ کرتے ہوئے ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے ایک چینل کی انتظامیہ نے بھی شریک جرم ہوتے ہوئے ٹی وی چینل پر بیان کیے جس میں ٹی وی ملزم کو دانستہ طور پر پورا پورا موقع فراہم کیا اور یہ پروگرام نشر کیا،جس کا مقصد اداروں کیخلاف جنگ پر اکسانے ،جنگ پر مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی، اس بیان کا مقصد فوج کے خلاف عوام میں نفرت پھیلانا اور سازش کرنا تھا کہ فوج کے اندر مختلف گروہ بن جائیں اور اسی طرح جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینا تھا ،ملزم نے یہ بیان سوچ سمجھ کر اور ملک میں انتشار پھیلانے کیلئے دیا اس طرح ملک پاکستان کی فوج کو کمزور اور تقسیم کرنے اور پاکستان کے سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے بيان دیا تا کہ ملزم کے نفرت انگیز اور انتہا پسند ایجنڈے کی تکمیل ہو سکے اور اس طرح ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے ملزم سازش مجرمانہ کا بھی مرتکب ہوا۔ آپ سے درخواست ہے ،کیپیٹل پولیس کے اے ٹی ایس اسکواڈ نے شہباز گل کو بنی گالا ہاؤس جاتے ہوئے راستے میں روک کر گرفتار کیا ، شہباز گل نے پولیس کے روکنے پر نہ تو دروازہ کھولا اور نہ ہی شیشہ نیچے کیا جس پر اے ٹی ایس اہلکار نے پچھلے دروازے کا شیشہ توڑ کر دروازہ کھولا اور شہباز گل کو ایک نجی گاڑی میں بٹھا لے گئے، پی ٹی آئی کو کئی گھنٹے تک صورتحال کا ادراک نہ ہو سکا اور عمران خان نے شہباز گل کے اغوا کا الزام لگا دیا،وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کر کے گرفتاری کی تصدیق کی اور شہباز گل کے بیان کو ایک منظم سازش قرار دیا جسکے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ دریں اثناء شہباز گل کیخلاف غداری سمیت 10 سنگین دفعات کے تحت مقدمہ کی تفتیش کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سید فرحت کاظمی کی سربراہی میں چار رکنی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ،آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر ناصر اکبر کی ہدایت پر ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ کی طرف سے قائم کی گئی اسپیشل کمیٹی میں ایس ڈی پی او کوہسار خالد اعوان، ایس ایچ او کوہسار انسپکٹر محمد ارشد اور تفتیشی افسر سب انسپکٹر طلعت شامل ہیں۔ کمیٹی ڈی آئی جی آپریشنز کو تفتیش کے متعلق 7 دنوں میں رپورٹ پیش کریگی۔ادھر بدھ کو شہباز گل کو تھانہ کوہسار کی پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے روبرو پیش کیا، اس موقع پر ڈیوٹی مجسٹریٹ عمر شبیر نے کیس کی سماعت کی۔عدالت میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے پولیس حکام نے موقف اپنایا کہ ملزم شہباز گل سے اس کا موبائل فون برآمد کرنا ہے، ملزم جس پیپرسے دیکھ کر بول رہاتھا وہ پیپر بھی برآمد کرنا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ پروگرام کس کے کہنے پر ہوا اس بارے میں بھی تفتیش کرنی ہے، جس پر شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل نے پروگرام کسی کے کہنے پر نہیں کیا۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے شہباز گل کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس پر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے مخالفت کی۔ شہباز گل کے وکیل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کو ریمانڈ پر جیل منتقل کیا جائے۔ عدالت نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کچھ دیر کیلئے محفوظ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں