50

شہباز گل کا اعتراف جرم

شہباز گل کا اعتراف جرم
اسلام آباد ( نیوز ایجنسیز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے فوج کیخلاف بیان دینے کا اعتراف جرم کرلیا ہے ۔ پولیس کو دیتے ہوئے بیان میں شہباز گل نے کہا کہ سوچ سمجھ کربات کی، پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا۔ ادھر شہباز گل کا پمز میں طبی معائنہ ہوا جس میں تشدد ثابت نہیں ہوا ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا کوئی عہدیدار یا فیملی ممبر پوچھنے تھانے نہیں آیا، شواہد و ثبوت اکٹھے کررہے ہیں، کیس کا دائرہ اسلام آباد سے صوبوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے، پولیس نے شہباز شبیر گل کے ڈرائیور کم اسسٹنٹ اظہار ہدایت اللہ کےگھر چھاپہ مارا تاہم ڈرائیور فرار ہوگیا ۔ اظہار ہدایت اللہ کی بیوی اور برادر نسبتی نعمان ظفر اقبال کو پولیس مزاحمت ،کار سرکار میں مداخلت اور سرقہ باالجبر کے الزام میں گرفتار کر لیا ۔پولیس ذرائع کے مطابق شہبازگل کے فون سےٹویٹ کرنیوالاملزم کاساتھی تھا، فون ڈرائیور لے گیا ، برآمد ڈمی تھا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے دوران تفتیش پولیس کے سامنے پاک فوج سے متعلق بیان دینے کا اعتراف کرلیا۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کےدوران شہبازگل نےفوج سے متعلق بیان دینےکا اعتراف کرلیا ہے۔ پولیس کو دیےگئے بیان میں شہباز گل کا کہنا تھا کہ میرےخیال میں، میں نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر یہ بیان نہیں دیا، بیان سوچ سمجھ کر دیا ہے۔اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں شہباز گل کے خلاف سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں بغاوت کا مقدمہ درج ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق شہبازگل نے ٹی وی چینل پر الفاظ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایجنڈے کی تکمیل کیلئےکہے، شہباز گل کے بیان اور تقریر کا مقصد فوج میں بغاوت پھیلانا اور سازش کرنا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بیان اور تقریر کا مقصد عوام میں فوج کےخلاف نفرت پھیلانا اورسازش کرنا تھا، شہباز گل نے کوشش کی فوج کے مختلف گروہ بن جائیں، ان کا مقصد فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینا تھا، شہباز گل نے ملک میں انتشار پھیلانے اور فوج کو کمزور اور تقسیم کرنے کیلئے بیان دیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق شہباز گل نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے بیان دیا اور ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے مجرمانہ سازش کا مرتکب ہوا۔ادھر کوہسار پولیس نے چھاپہ مار کر شہباز شبیر گل کے ڈرائیور کم اسسٹنٹ اظہار ہدایت اللہ کی بیوی اور برادر نسبتی نعمان ظفر اقبال کو پولیس مزاحمت ،کار سرکار میں مداخلت اور سرقہ باالجبر کے الزام میں گرفتار کر لیا ۔حزب اللہ، اظہار اللہ ،سردار عمران اور ظفر اقبال سمیت متعدد نامعلوم افراد کے خلاف مزاحمت کا مقدمہ درج کرلیا ہے ادھر اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھا پہ ،گرفتاری کا عمل قانونی ہے،تمام تر شواہد اکٹھے کرر ہے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق دوران تفتیش ملزم شہباز گل نے بتایا کہ اس نے اپنا وہ موبائل جس میں معلومات موجود ہیں گرفتاری سے قبل ڈرائیور کو دے دیا تھا ،اے ایس آئی وارث علی کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق شہباز گل کے بیان کی روشنی میں پولیس کی سات رکنی ٹیم نے ڈرائیور اظہار ہدایت اللہ سے شہباز گل کے موبائل کی برآمدگی کیلئے اس کے سسرال پر چھاپہ مارا تو وہ موجود افراد نے مزاحمت کرتے ہوئے کانسٹیبل کا گریبان چاک کر دیا اور کانٹیبل سے موبائل فون ،اے ٹی ایم کارڈ ،محکمانہ کارڈ اور 15ہزار روپے کی رقم چھین لی ،پولیس نے ڈرائیور کی بیوی اور برادر نسبتی کو گرفتار کر لیا دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپے اور گرفتاری کا عمل قانونی ہے، ڈرائیور کے اہلِ خانہ نے کارِ سرکار میں عملی مزاحمت کی۔اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہاکہ پولیس اس کیس سے جڑے تمام تر شواہد و ثبوت اکٹھے کررہی ہے جہاں کہیں بھی قانونی کاروائی کی ضرورت پڑی پولیس اپنا کام کرے گی کیس کا دائرہ کار اسلام آباد کے علاوہ دیگر صوبوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے جو لوگ ثبوت چھپانے یا شواہد مٹانے میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی،۔عوام سے گزارش ہے کہ جھوٹی خبروں پر دھیان نہ دیں،غلط خبریں پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب شہباز گل کا پمز ہسپتال میں میڈیکل کروایا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ شہباز گل پر میڈیکل رپورٹ میں تشدد ثابت نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق تین رکنی میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کا طبی معائنہ کیا، شہباز گل کی میڈیکل رپورٹ اسلام آباد پولیس کو بھجوا دی گئی ہے۔دریں اثناء تحریک انصاف کا کوئی عہدیدار پولیس حراست میں موجود شہباز گل کا حال احوال پوچھنے نہیں آیا ۔پولیس حکام کا کہنا ہےکہ پارٹی کا کوئی چھوٹا یا بڑا عہدیدار تاحال شہبازگل کاپتا کرنے نہیں آیا جب کہ پی ٹی آئی قیادت نے بھی اب تک شہباز گل سے ملاقات کی کوئی کوشش نہیں کی۔پولیس حکام کے مطابق شہباز گل کے خاندان سے ان کے پیچھے ابھی تک کوئی نہیں آیا اور کسی فیملی ممبر نے بھی ان کے لیے پولیس سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔پولیس حکام نے بتایا کہ شہباز گل کے وکلاء تھانے اور پولیس سے رابطے میں ہیں جن میں فیصل چوہدری اور علی بخاری ایڈووکیٹ نے پولیس سے رابطہ کیا اور وہ تھانہ کوہسار بھی آئے تھے البتہ شہباز گل کی اہلیہ اور بھائی سمیت کسی نے پولیس سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی کی اسلام آباد کی قیادت سمیت اسد عمر یا علی نواز میں سے کسی نے بھی شہباز گل کا حال پوچھنے کے لیے تھانے آنے کی زحمت نہ کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں