40

شہباز گل سے جنسی زیادتی بھی ہوئی عمران خان

شہباز گل سے جنسی زیادتی بھی ہوئی عمران خان
اسلام آباد (این این آئی‘ٹی وی رپورٹ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ‘ان پر تشددمیں جنسی زیادتی بھی شامل ہے‘یاد رکھیں عوام رد عمل دیں گے‘ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائیگا‘انہیں کٹہرے میں لائیں گے ۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان اپنے چیف آف اسٹاف شہباز گل سے ملاقات کیلئے پمز اسپتال پہنچے جہاں ان کی ملاقات شہباز گل سے نہ ہوسکی ۔عمران خان کی آمد کے موقع پر پمز اسپتال میں سکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی تھی اور سابق وزیراعظم کارڈیالوجی وارڈ کے باہر ملاقات کیلئے اپنی گاڑی میں ہی انتظار کرتے رہےتاہم پولیس کی جانب سے انہیں شہباز گل سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور عدالت سے اجازت حاصل کرنے کا کہا گیا۔ بعد ازاں پمز اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ عدالت کے حکم کے باوجود پولیس نے ہمارا راستہ روکا‘ مجھے شہباز گل سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی‘ پولیس بتائے وہ کس سے آرڈرلے رہی ہے، بتایا جائے ملک میں قانون یا ڈنڈے کی حکمرانی ہے۔انہوں نے کہا کہ (آج) ہفتہ کو شہباز گل کے لیے ریلی نکالیں گے، اسلام آباد کے لوگوں کو ریلی میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ شہبازگل پر اگر ٹارچر ہو سکتا ہے تو کسی پر بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا کا منہ بند کرکے چوروں کومسلط کیا جارہا ہے، ہم ان چوروں کی غلامی کبھی قبول نہیں کریں گے۔قبل ازیں عمران خان نے الزام عائد کیا کہ شہباز گل پر تشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ تصاویر اور ویڈیوز میں واضح ہے کہ شہباز گل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ان پر تشددمیں جنسی زیادتی بھی شامل ہے ‘ شہباز گل کو توڑنے کیلئے ذلیل کیا گیا، میرے پاس مکمل تفصیلی معلومات ہیں۔پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے اس نے کوئی تشدد نہیں کیا، میرا سوال ہے شہباز گل پر تشدد کس نے کیا؟ عوام میں اور ہمارے ذہنوں میں ایک خیال ہے اتنا بھیانک تشدد کون کر سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ یاد رکھیں عوام رد عمل دیں گے، ذمہ داروں کا پتہ لگانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ قبل ازیں اپنے ایک بیان میں اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل سے ملنے کی کسی کو اجازت نہیں اور اسپتال پراضافی نفری تعینات کردی گئی ہے‘ عوام یا کوئی بھی شخص ملاقات کی کوشش کرکے امن وامان کی صورتحال پیدا نہ کرے۔ملزم جسمانی ریمانڈ پر نہیں ہے اور ملزم سے ملاقات کی اجازت نہیں۔ کسی بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بننے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں