16

شہباز شریف پاکستان کیلئے 8 ارب ڈالرز کے پیکیج کے حصول میں کامیاب

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) پاکستان، سعودی عرب سے تقریباً 8ارب ڈالرز کا پیکیج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل طریقہ کار کو حتمی شکل دے رہے ہیں، دستاویز تیاری میں دو ہفتے لگیں گے۔
تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب سے تقریباً 8 ارب ڈالرز کے معقول حجم کا پیکیج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے جس میں تیل فنانسنگ کی سہولت، اضافی رقوم چاہے وہ ڈپوزٹس کی صورت میں ہو یا سکوک اور موجودہ 4.2 ارب ڈالرز کے رول اوور کی صورت میں ہو، ملے گی۔
اعلیٰ حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ اس ضمن میں تکنیکی تفصیلات پر کام ہورہا ہے اور تمام دستاویزات تیاری میں دو ہفتے کا وقت لگے گا جس کے بعد اس پر دستخط ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ان کا سرکاری وفد سعودی عرب سے روانہ ہوچکا ہے لیکن وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اب بھی وہاں ہیں اور اضافی مالی پیکیج کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تیل کی سہولت 1.2 ارب ڈالرز سے بڑھا کر 2.4 ارب ڈالرز کرنے کا کہا تھا، جسے سعودی عرب نے قبول کرلیا ہے۔ جب کہ 3 ارب ڈالرز کے موجودہ ڈپوزٹ کو بھی جون 2023 تک رول اوور کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے 2 ارب ڈالرز کے اضافی پیکیج کو ڈپوزٹ یا سکوک کے ذریعے فراہم کرنے پر بات چیت کی اور ممکنہ طور پر مزید رقم پاکستان کو فراہم کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مجموعی پیکیج کے حجم کا اندازہ اس وقت لگایا جائے گا جب اضافی رقم کو حتمی شکل دی جائے گی، یہ رقم مجموعی طور پر 8 ارب ڈالرز کے قریب ہوگی۔
سعودی عرب نے دسمبر، 2021 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 3 ارب ڈالرز جمع کیے تھے۔ جب کہ سعودی تیل سہولت (ایس او ایف) مارچ، 2022 سے فعال ہوئی ہے، اس کے علاوہ پاکستان کو تیل کے حصول کے لیے 10 کروڑ ڈالرز کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب نے 2013-18 میں ن لیگ دور حکومت میں 7.5 ارب ڈالرز کا پیکیج فراہم کیا تھا۔ جب کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں سعودی عرب نے 4.2 ارب ڈالرز کا پیکیج دیا۔ اب سعودی عرب، اسلام آباد کو اضافی مالی پیکیج دے رہا ہے، جب کہ پاکستان کو اس کی سخت ضرورت ہے۔
پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ ذخائر گزشتہ 6 سے 7 ہفتوں میں 6 ارب ڈالرز کم ہوکر 10.5 ارب ڈالرز پر پہنچ چکے ہیں۔ ابتدائی 9 ماہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ کر 13.2 ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے اور بیرونی قرض ادائیگی کا دبائو بڑھا ہے، ایسے میں پاکستان کو جون، 2022 تک 9 ارب ڈالرز سے 12 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو رواں مالی سال میں (اپریل سے جون کے درمیان) آخری سہ ماہی میں 3 ارب ڈالرز کے قرض واجبات ادا کرنا ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کو لازمی سمجھا جارہا ہے کیوں کہ مجموعی بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ آئندہ مالی سال 2022-23 کے لیے 35 ارب ڈالرز لگایا گیا ہے، جب کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر یہ بڑا مالی فرق ختم نہیں ہوسکتا۔
تاہم، کچھ آزاد ماہر اقتصادیات بالخصوص ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے تجویز دی ہے کہ لگژری کاروں سمیت دیگر غیر ضروری اشیاء کی درآمدات پر پابندی لگانی چاہیے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جدہ ایئرپورٹ پر ابھی وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر ساتھیوں کو خدا حافظ کہا ہے، وفدابوظہبی میں مختصر قیام کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے گا، ابو ظہبی میں ولی عہد محمد بن زاید سے ملاقات ہوگی، میں سعودی حکام سے ملاقات اور تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع کرنے کیلئے سعودی عرب میں ہی قیام کرونگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں