39

شمالی وزیرستان میں خود کش بم حملہ چار فوجی ہلاک

شمالی وزیرستان میں خود کش بم حملہ چار فوجی ہلاک
پاکستان کے افغان سرحد کے قریبی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک فوجی قافلے پر خود کش بم حملے میں چار فوجی مارے گئے۔ پاکستانی فوج کے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ بم حملہ میر علی کے مقام پر کیا گیا۔
اکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے نو اگست منگل کے روز موصولہ رپورٹوں میں کہا گیا کہ ملکی فوج نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملہ کب کیا گیا۔ بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ ماضی میں پاکستانی قبائلی علاقے کہلانے والے شمالی مغربی علاقوں میں سے شمالی وزیرستان میں ایک خود کش حملہ آور کی طرف سے ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنانے کے واقعے میں چار فوجی مارے گئے۔
مقامی پولیس اور ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس حملے میں ایک عسکریت پسند نے اپنی آٹو موبائل پیر آٹھ اگست کو رات گئے وہاں سے گزرنے والے ایک فوجی قافلے میں شامل گاڑیوں سے ٹکرا دی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس سرحدی علاقے میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایسے خونریز حملوں میں ایک بار پھر کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماضی میں شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی ایجنسیاں پاکستانی طالبان، دہشت گرد تنظیم داعش کے شدت پسندوں اور دیگر عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔ پھر کئی سال پہلے پاکستانی فوج نے ان علاقوں میں کئی مرتبہ آپریشن کر کے ان شدت پسندوں کو وہاں سے تقریباﹰ نکال دیا تھا۔
خالد خراسانی کی ہلاکت کے ایک روز بعد کیا جانے والا حملہ
روئٹرز کے مطابق منگل کی دوپہر تک کسی بھی عسکریت پسند گروپ نے اس خود کش حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔ پاکستانی سرحدی علاقے میں یہ حملہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ہونے والے ایک دھماکے میں عمر خالد خراسانی کی موت کے ایک روز بعد کیا گیا۔ خراسانی پاکستان کا ایک بہت سرکردہ عسکریت پسند رہنما تھا، جس کے سر کی امریکہ نے تین ملین ڈالر قیمت لگا رکھی تھی۔
عمر خالد خراسانی کا اصل نام عبدالولی تھا اور وہ پاکستانی طالبان کی ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا بانی رکن ہونے کے علاوہ اس تحریک کا ایک سرکردہ رہنما بھی تھا۔ اس کی موت کو پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کے لیے بہت بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خراسانی کا تعلق جماعت الاحرار نامی اس عسکریت پسند تنظیم سے تھا، جسے امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں نے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
ماضی میں یہ ممنوعہ شدت پسند تنظیم پاکستان میں مقامی مسیحی اقلیت، شیعہ مسلمانوں، پولیس کے دستوں اور پاکستانی فوج کے قافلوں پر بہت سے ایسے خونریز حملوں کی ذمے داری قبول کر چکی ہے، جن میں مجموعی طور پر سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں