106

شب براءت کی فضیلت و حقیقت

شب براءت کی فضیلت و حقیقت

اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہۛ

انا انزلناہ فی لیلة مبارکة۔

یقینا ھم نے ہی اس ﴿قران ﴾کو مبارک رات میں نازل فرمایا۔﴿سورة الدخان﴾

شعبان کے آمد کے ساتھ ھی آمد رمضان کے نقارے بج اٹھے ہیں ۔ماہ شعبان کی آمد رمضان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔لہذآ تمام محب رمضان حضرات اس ماہ میں ہی اپنی مصروفیت کے تمام کام نپٹا لیتے ہیں۔یہ ماہ بذات خود بھی رحمت کے اور عبادت کے ثمرات ثموے ہوے ہے۔

چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہٰٰٰ ٰٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزے نہ رکھتے اور حضور علیہ السلام شعبان کے پورے ماہ میں روزے رکھتے ۔﴿بخاری حدیث١۸٦۹﴾

اسی ماہ مبارک میں اللہ جل شانہ نے ایک رحمت سے بھر پور رات کا بھی نزول فرمایا۔یہ رات چودہ شعبان کا دن گذار کر پندرہویں رات کو آتی ہے۔اسے شب برات کہا جاتا ہے۔شب کا مطلب تو رات ہے او برات کا عربی میں معنی بری ہونے کے اور بیزاری کے آتے ہیں۔چنانچہ اس رات میں اللہ جل شانہ مجرموں کی اور عام مسلمانوں کی بخشش فرماتے ہیں اور گویا کہ وہ لوگ عذاب سے بری ہوجاتے ہیں لہذا اسی سبب کی بنا پر اس رات کو شب برات کہا جاتا ہے۔اس رات کے احادیث میں بیش بہا فضائل آے ہیں۔اور ایک قول کے مطابق سورہ دخان میں مذکورہ آیت میں رات سے مراد یہ والی رات ہے۔یعنی اس رات میں قران کریم کا نزول شریف ہوا۔ مگر زیادہ تر علماء کی راے کے مطابق اس رات سے مراد شب قدر ہے۔بہر کیف شب برات رحمت سے بھرپور رات ہے۔اور اللہ کی رحمت اس رات میں عام و تام پر برستی ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے غائب پایا تو میں﴿ تلاش میں﴾ نکلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں موجود تھے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاۛ ًًًًًًًًًٰ کیا تم اس بات سے خوف زدہ تھیں کہ اللہ اور انکا رسول تم پر ظلم کریں گے۔ًًمیں نے کہا یا رسول اللہ إ میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گے ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا ًً اللہ عز وجل نصٰف شعبان کی رات کو نچلے آسمان پرتجلی فرماتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کی اون سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔ً ﴿سنن ترمذی۷۷۴﴾

اس حدیث کو اور حضرات نے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ بکری کے جسم پر ویسے ہی لاتعداد بال ہوتے ہیں مگر حضور علیہ السلام نے بنو کلب کی بکریوں کا ذکر فرمایا کیونکہ ان بکریوں میں دوسری بکریوں کی بنسبت زیادہ بال ہوتے تھے۔تو معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کی رحمت ایسی وسیع ہوتی ہے اس رات میں کہ ان گنت لوگوں کی بخشش کا باعث بن جاتی ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۛ اللہ نصف شعبان کی رات میں اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تمام مخلوق کی بخشش فرما دیتے ہیں سواے مشرک اور بغض وعداوت رکھنے والے شخص کے۔﴿ ابن حبان۵۷۵۷﴾

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛ جب شعبان کی نصف رات ہو تو اسکی رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ عز وجل سورج کے غروب سے قریبی آسمان کی طرف تجلی فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کوی مغفرت طلب کرنے والا ہے جسکی میں مغفرت کروں؟ کوی رزق کا طالب ہے جسکو میں رزق عطا کروں کوی مصیبت زدہ ہے جسے میں عافیت عطا کروں۔اور کوی ہے۔۔۔اسی طرح کہتے جاتے ہیں حتیٰ کہ فجر ہوجاتی ہے۔﴿ابن ماجہ نے اس حدیث کو ضعیف سند کے ساتھ ذکر فرمایا ہے١۳۷۸﴾

اس طرح شب میں کافی سارے امور بھی انجام پاتے ہیں اور انسان کی زندگیوں کا فیصلہ اللہ جل شانہ اس شب میں فرماتے ہیں ۔اور انسان اپنی حالت سے بےخبر کہ اسکا نام اب اموات میں شامل ہو چکا ہے اپنی دھن میں لگا رہتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا؛ تم جانتی ہو اس رات میں یعنی ماہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہےِ؟ عرض کیا یا رسول اللہ آپ فرمایے کیا ہوتا ہے؟فرمایا اس رات میں ہر ایسے بچے کا نام لکھ دیا جاتا ہے جو آنے والے سال میں پیدا ہونے والا ہے﴿اللہ کو تو سب پتا ہے مگر انتظام میں لگنے والے فرشتوں کو اس رات میں فہرست دی جاتی ہے﴾اور اس رات میں نیک اعمال اوپر اٹھا ے جاتے ہیں﴿یعنی مقبولیت کے درجے میں لے جاے جاتے ہیں﴾اس رات میں لوگوں کے ارزاق ﴿ارزاق رزق کی جمع ہے﴾ نازل ہوتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہی بات ہے نا کہ کوی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا سواے اللہ کی رحمت کے۔آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا ہاں کوی نہیں ایسا کہ جو اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل ہوجائے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بھی اللہ کی رحمت کے بنا جنت میں اخل نہ ہونگے؟یہ سن کر حضور صلی الل علیہ وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا اور تین بار فرمایا میں بھی جنت میں داخل نہ ہونگا مگر اس طرح کہ اللہ جل شانہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔﴿بہیقی بحوالہ مشکوٰة المصابیح ص١١۵﴾

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اس رات میں اللہ جل شانہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی اور ہر مرنے والے شخص کا ناموں کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں ۔اور ہوتا کچھ یوں ہے کہ اللہ جل شانہ اسکی فھرست فرشتوں کو عطا فرماتے ہیں اور فرشتے احکام کو فورا پایا تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ علماء لکھتے ہیں کہ اس وقت لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ کوی شخص رخت لگانے میں مصروف ہوتا ہے کوی دنیاوی کاروبار میں مشغول ہوتا ہے کوئ عبادت میں۔اس کےسان گمان بھی نہیں ہوتا کہ اس کی موت کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔اس لیے ہر وقت ہر کام کو ہمیں قران و سنت کے پیش نظر رکھ کر کرنا چاہیے تاکہ موت جس حا ل میں بھی آئے ہم سنت پر عمل پیرا ہوں۔ بحرحال مذکورہ امور اس شب میں انجام پاتے ہیں۔

۔پورے سال میں پیدا ہونے والے بچوں کے نام کی فھرست اس شب میں جاری ہوتی ہے۔

۔جن جن لوگوں نے اس سال کو لقمہ اجل نصیب ہونا ہوتا ہے اس سال ان لوگوں کی فھرست جاری ہوتی ہے۔

۔لوگوں کے رزق کا فیصلہ ہوتا ہے اسور اسکی فھرست جاری وساری ہوتی ہے۔

۔اس شب میں ان گنت تعداد میں لوگوں کی بخشش ہوتی ہے۔

اللہ کی رحمت اس شب میں لوگوں پر برستی ہے اور گناہوں میں ڈوبے لوگوں کو اللہ جل شانہ صرف اپنے ٰفضل سے معاف فرماتے ہیں۔مگر افسوس چند بد نصیب ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ انکی طرف نظر رحمت نہیں فرماتے۔ اور وہ لوگ مذکورہ ہیں،

١۔ اللہ جل شانہ کے ساتھ شرک کرنے والا

۲۔ کینہ بغض و عداوت رکھنے والا۔

۳۔ قطع رحمی کرنے والا یعنی اللہ تعالیٰ نے جو رشتہ داروں کے حقوق رکھے ہیں انکو توڑنے والا۔

۴۔ شلوار ٹراوزر یا پینٹ کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا۔

۵۔ شراب پینے کی عادت رکھنے والا۔

٦۔جان بوجھ کر ناحق قتل کرنے والا۔

علما ء اکرام نے کچھ لوگوں کے بارے میں احادیث کے ذریعے ثابت کیا ہے جن پر اللہ جل شانہ نظر رحمت نیں فرمایں گے۔

١۔ ظلم سے ٹیکس لینے والا۔

۲۔ جادو کرنے والا۔

۳۔ غیب کی خبریں بتانے والا اور فال نکالنے والا۔

۴۔ گانے یا طبلہ سارنگی بجانے والا۔

۵۔ ہاتوں کی لکیریں دیکھ کر غیب کی خبریں بتلانے والا۔﴿شب برات ص ١۹ ﴾

اس شب میں ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے۔وہ امور مندرجہ ذیل ہیں۔

١۔ تلاوت و عبات کے لیے وضوء کرنا مستحب ہے۔

۲۔ فجر اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنی چاہیے۔کیونکہ اگر صرف یہ دونوں نمازیں بجماعت ادا کرلیں تو پوری رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔

۳۔جتنا سہولت سے ممکن ہو نوافل ، تسبیحات و تلاوت کرنی چاہیے۔

۴۔روزہ رکھنا مستحب ہے اور باعث ثواب ہے۔

۵۔اگر کوی شخص تمام بدعات اور منکرات سے بچتے ہوے قبرستان جانا چاہے تو جا سکتا ہے۔مگر جانا قطعا فرض نہیں ہے۔

٦۔ عافیت و بخشش کی دعا کرنی چاہیے۔

۷۔اپنے تمام گناہوں پر نادم ہو کر دوبارہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرنا چاہیے۔

۸ ۔سب سے اھم بات یہ ہے کہ جو دل میں بغض وعداوت ہے اسے وہیں ختم کردینا چاہیے۔ہمارا ایک بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہم ہر ایسی شب میں لوگوں سے معافی مانگ لیتے ہیں ۔ مگر رات کے گذرتے ہی دل میں بغض و عداوت شروع ہوجا تا ہے۔گویا لوگوں سے معافی کا کہنا ایک رسم بن گیا ہے اورحقیقت میں وہ بغض و عداوت اسی طرح موجود ہوتا ہے۔ لہذا یہ بات خوب یاد رکھنی چایے کہ معاف کردینے کا مطلب ہوتا ہے مکمل طور پر دوسرے کے خلاف دل میں موجود بات کو ختم کردینا۔

اسکا طریقہ غالبا حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جس کسی کی طرف سے دل برا ہو اس رات میں اسکی طرف کوی رقعہ بھیج کر یا خود بنفس نفیس جا کر کہہ دیا جاے کہ میرے بھای مجھ سے بھی غلطی ہوی آپ کہ دل میں بھی جو کچھ ہے بس اسے دل سے ھی نکال دیں۔میں بھی اپنے دل سے نکال دیتا ہوں۔انشا ء اللہ دوسرا بھی معاف کردے گا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اللہ جل شانہ اپنے حقوق معاف فرما دیتے ہیں مگر بندوں کے حقوق تب تک معاف نہیں ہوتے جب تک وہ بندہ خود اسے معاف نہ کردے۔

اس شب میں کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جن سے مکمل طورپر ہمیں احتراز کرنا چاہیے۔یاد رکھیے کہ ہمارا دین میں کوی افراط و تفریط نہیں ہے۔یعنی ہمارا دین نہ ایسا ہے کہ اس دین میں کوی کمی باقی ہو اور نہ دین ایسا ہے کہ اس میں کوی زیادتی اور اضافہ ہوسکے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ فرما چکے ہیں کہ ًًالیوم اکملت لکم دینکمً

یعنی آج ہم نے تمھارے لیے دین کو مکمل کردیا۔لہذا دین میں کمی بیشی کرنے والا اس آیت میں کمی بیشی کرنے والا بن گیا۔تو معلوم ہوا کہ ہمارے دین میں کمی کرنے والا شخص معتبر ہے نہ اضافہ کرنے والا شخص۔لہذا صرف اس شخص کی بات معتبعر ہو گی جو ان دونوں یعنی افراط تفریط سےخالی ہو۔اور وہ بات صرف و صرف اس طریقے میں ہوگی جو اللہ اور انکے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا اور انکےاصحاب کا راستہ ہے۔لہذا جو بھی ان کے راستے سے انحراف کرے گا وہ بدعت کرنے والا ہوگا۔اور حضور علیہ السلام کی حدیث ہے کہ کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار ۔﴿سنن النسائ ١۵٦۰ ﴾

یعنی دین میں ہر نئ چیز﴿اپنی جانب سے گڑھی ہوئ﴾ بدٕعت ہے اور ہر بدعت میں گمراہی ہے اور گمراہی آگ میں ﴿لیجاتی﴾ہے۔تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور انکے اصحاب کا طریقہ ہمارا لیے ایک پیمانہ ہے۔اور جو چیز بھی ہمارے اس ہیمانے پر پورا اترتی ہے وہ جائز ہے اور جو نہیں اترتی وہ بدعت ہوگی۔

١۔ لہذا اب سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں حلوے کا ،حدیث کی موضوع یعنی اپنے سے گڑھی ہوئ حدیث میں بھی ہمیں اس حلوے کا ذکر نہیں ملتا کہ اس رات حلوہ ضرور پکے۔لہذا حلوہ پکانا بلکل سخت بدعت ہے اگر پکانا ہی ہے تو کسی اور دن پکا لیا جائے۔اس دن کے ساتھ قطعا مختص نہ کیا جائے۔

۲۔چراغاں کرنا نہ قران کریم میں ہمیں اس چیز کا حکم ملتا ہے اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے بعد آنے والے کسی بھی شخص سے یہ بات ثابت ہے کہ چراغاں کرنا لازم ہے۔لہذا یہ بات بھی بدعت ہے۔اور ایسی قوم جسکے پاس پہلے ہی اتنے وسائل نہیں ہیں اس پر ایسا مصرف کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔اور اس میں بدعت کے ساتھ ساتھ بہت بڑا گناہ اسراف بھی داخل ہوجاتا ہے۔

۳۔آتش بازی کرنا۔خاص طور پر ہمارے ہاں ایک بہت ھی بیہودہ چیز چل پڑی ہے یہ پچھلے چند سالوں سے۔اس کا بھی ثبوت مقرر کیے ہوئے ہیمانے سے نہیں ملتا۔بلکہ یہ تو ہماری ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہے۔

خدارا یہ کام تو کسی صحابی نے کسی بذرگ نے نہیں کیا، تو ہماری قوم کو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

ہمیں اپنے ارد گرد موجود بچوں پر خصوصی طور پر اس معاملے میں نظر رکھنی چاہیے۔

۴۔قبرستان جانا سنت ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ جانا ثابت ہے۔لہذا اس سے کوئی بھی فرض ثابت نہیں ہوتا۔اور یہ صرف مردوں کا جانا سنت ہے عورتوں کا قطعا یہ حکم نہیں ہے۔عورتوں کو مکمل طور پر دور رہنا چاہیے۔

۵۔حضور علیہ السلام سے کوئی بھی اجتماعی عبادت ثابت نہیں ہے۔بلکہ ہر شخص الگ الگ رہ کر یہ عبادت کرتا تھا۔لہذا خصوصآ اس کے لیے اکھٹے ہونا درست نہیں ہے۔

٦۔اس رات میں عبادت کے لیے خصوصا مسجد میں آنا یہ بات بھی نبی علیہ السلام سے ثابت نہیں ہے۔حضور علیہ السلام کےحجرے کا مسجد تک فاصل صرف وصرف ایک دیوار کا تھا مگر حضور علیہ السلام حجرے میں ہی عبادت کیا کرتے تھے۔لہذا ہمیں اس سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔

۷۔مسجد میں لاٴوڈ سپیکر کے ذریعے نعتیں پڑھنا اور قران کریم پڑھنا بھی کسی صحابی سے اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ہم یہ بدعت بھی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ بیچارے بوڑھے افراد اور بیمار افراد جن کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لیے سخت تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

۸۔اس رات میں کوئی خاص طریقہ نماز یا عبادت منقول نہیں ہے۔بلکہ نوافل وغیرہ یا تلاوت کسی بھی طریقے سے عبادت کی جاسکتی ہے۔

بحر کیف ہمارے لیے یہ پیمانہ ہی سب سے موزون پیمانہ ہے ہم اپنی ہر عبادت کو اس پیمانے پر ناپ کر عبادت کرنی چاہیے۔جن حضرات کو نہیں معلوم اس پیمانے کا وہ کسی بھی بڑے عالم سے معلوم کرلیں مگر اس بدعت کی ظلمت سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس شب میں درست عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

وما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں