شان اولیا کا مقام 76

شان اولیاء کامقام و مرتبہ. نازیہ عبد الستار

شان اولیاء کامقام و مرتبہ

نازیہ عبد الستار

اِنَّ اَوْلِیَآءَ ﷲِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ
’’بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے۔ ‘‘
(یونس، 10: 62)
اسی طرح حدیث مبارکہ ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲُ عنهما، قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ أَوْلِیَاءِ ﷲِ؟ فَقَالَ: الَّذِیْنَ إِذَا رُؤُوْا ذُکِرَ ﷲُ. رَوَاهُ النِّسَائِيُّ.
’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اولیاء اﷲ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جنہیں دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آجائے (وہ اولیاء اﷲ ہیں)۔ ‘‘
(اخرجه النسائی فی السنن الکبری، سورة یونس، 6/362، الرقم: 11235)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ:قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، أَيُّ جُلَسَائِنَا خَیْرٌ؟ قَالَ: مَنْ ذَکَّرَکُمُ ﷲَ رُؤْیَتُهُ وَزَادَ فِي عِلْمِکُمْ مَنْطِقُهُوَ ذَکَرَکُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ. رَوَاهُ أَبُویَعْلَی وَعَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ وَنَحْوَهُ أَبُو نُعَیْمٍ.
’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہماسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ہمارے بہترین ہم نشین کون ہے؟ فرمایا: وہ جس کا دیدارتمہیں اﷲ تعالیٰ کی یاد دلائے اور جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ ‘‘
(اخرجه أبو یعلی فی المسند، 4/326، الرقم: 2437)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ایسے لوگ ہونگے کہ جو نہ تو نبی ہونگے اور نہ شہید مگر اتنے اونچے مقام پر اللہ کے قرب میں بیٹھیں ہوں گے کہ جس پر قیامت کے دن نبی اور شہید بھی رشک کریں گے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے لیے ذرا ان کی وضاحت کیجئے، ان کی علامت بیان کریں، تاکہ ہم ان کو پہچان سکیں کہ وہ کون لوگ ہیں؟
یہ سوال سن کر آقا علیہ السلام کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا، پھر آقا علیہ السلام نے فرمایا:
’’وہ مختلف قبائل مختلف شہروں اور مختلف علاقوں سے ہونگے، ان کے درمیان خونی رشتہ داری نہ ہوگئی، وہ صفا قلب رکھتے ہونگے، اور قیامت کے دن جب وہ آئیں گے تو اللہ فرمائے گا کہ ان کے لیے نور کے صوفے، کرسیاں اور منبر بچھادو، اللہ پاک اپنے دست کرامت سے ان کو نور کی کرسیوں پر بیٹھائے گا۔ پھر اللہ ان کے چہرے کو نور کردے گا، اُن کے چہروں سے سورج کی طرح نور نکلے گا اور ان کے لباس نور ہوجائیں گے۔ ‘‘
ہر شخص قیامت کے دن جب تھر تھر کانپ رہا ہوگا، ان لوگوں کوکوئی خوف نہ ہوگا، لوگ غم زدہ ہونگے یہ غم زدہ نہ ہونگے، یہ سن کر صحابہ کرام ہیجان میں تھے کہ ابھی آگے بات کھلے کہ یہ کون ہیں تب آقا علیہ السلام نے پردہ اٹھایا اور آیت پڑھی:
اَ لَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ ﷲِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ.
’’خبردار! بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے۔ ‘‘
(یونس، 10: 62)
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اولیاء اللہ کی پیروی کرنے، ارادت رکھنے والے کو کیا ملے گا، آقا علیہ السلام نے وہ عقدہ بھی حل کردیا۔
ابو حازم روایت کرتے ہیں اور متفق علیہ حدیث ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا۔
پھر وہ اپنے تعلق والے کا ہاتھ پکڑ لیں گے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے گا، دوسراتیسرے کا، تیسرا چوتھے کا، چوتھا پانچویں گا، ہاتھوںکی زنجیر بنائیں گے۔ پہلا شخص اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھے گا، جب تک اس زنجیرکا آخری شخص جنت میں نہ چلا جائے۔
آقا علیہ السلام نے فرمایا اللہ نے میری امت میں ستر ہزار لوگ ہیں جن پر حساب وکتاب نہ ہوگا اور قیامت کے دن ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہونگے، اور وہ اپنے ساتھ ستر ستر ہزار لوگوں کو جنت میں لے جائیں گے۔ اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا! اللہ نے جب یہ دیا۔ توآپ نے زیادہ نہیں مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ یہ دے چکا میں نے مزید مانگا، میرے مولا میری امت کے لیے اور دے۔
اللہ نے کہا میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سارے اولیاء بغیر حساب وکتاب کے قطار اندر قطار جائیں گئے، مزید دیتا ہوں کہ ان میں سے ایک ایک ولی اپنے ساتھ ستر ستر ہزار لے کر جائے گا۔
(احمد بن حنبل، المسند، 1: 6، رقم: 22)
یہ لوگ اللہ کے ذکر کی چابی ہیں، اس لیے کہ وہ لاکھوں لوگوں کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے روشن کرتے ہیں۔
خواجہ غریب نوازکاایک قول ہے کہ مجھے میرے شیخ نے کہا کہ جس شخص کے اندر تین باتیں پیدا ہوجائیں، وہ خداکا ولی ہوجاتاہے۔
جس کے دل میں سمندوں جیسی سخاوت اور وسعت آجائے۔
یعنی سمندرپر جب کوئی پانی لینے کے لیے آتاہے تو وہ نہیں پوچھتا کہ مسلمان ہو، ہندو، یہودی، عیسائی، سکھ یا بدھ مت کے پیرو کار ہو، سمندر کامعنی یہ ہے کہ جو آئے اوربھرکے لے جائے۔ دلوں کی وسعت سمندوں جیسی ہوجائے اور بندہ لوگوں کی خطائیں اور غلطیاں نظرا نداز کرکے سمندر کی طرح سینہ کھول دے۔
جس کی شفقت آفتاب جیسی ہوجائے۔
اس سے مراد یہ ہے جب سورج نکلتا ہے، تو وہ اپنی شعاعیں ڈالنے کے لیے اپنے، پرائے میں تمیز نہیں کرتا، نہیں دیکھتا کہ یہ مسلمان کی زمین ہے لہذا یہاں اپنی روشنی کرے اور یہ ہندو کی زمین ہے یہاں نہ کرے، بلکہ اس کی روشنی سب کے لیے برابر ہوتی ہے۔
جس میں زمین جیسی تواضع ہو۔
زمین کی عاجزی یہ ہے کہ زمین پر برا آدمی چلے تو بھی بچھی رہتی ہے، نیک چلے تب بھی بچھی رہتی ہے، غرض ہندو، یہودی، مسلم، عیسائی، بدھ مت، سکھ جو بھی چلے حتی کہ وہ جو خدا کوہی نہیں مانتا، تب بھی زمین بچھی رہتی ہے تو اسی طرح ولی اچھے، نیک، برے سب کے سامنے تواضع میں رہتا ہے۔
جس آدمی میںتین خوبیاں پیدا ہوجائیں، فرمایا وہ اللہ کا ولی ہوجاتاہے مزید یہ کہ:
جو شخص ’’میں‘‘ اور ’’تُو‘‘ کے اختلاف سے نکل جاتا ہے، اور نفرتوں کی دیواریں گرا دیتا ہے، جس کے ذریعے نفس ایک دوسرے کو غصے پر اکساتا، لڑاتا، مارتا، قتل کرتا ہے، وہ شخص حقیقت میں اپنے نفس میں امن پا لیتا ہے، یہی تعلیم قرآن دیتا ہے۔ پھر فرمایا:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰهَاo وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَاo
’’بے شک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اس (نفس) کو (رذائل سے) پاک کر لیا (اور اس میں نیکی کی نشو و نما کی)۔ اور بے شک وہ شخص نامراد ہوگیا جس نے اسے (گناہوں میں) ملوث کر لیا (اور نیکی کو دبا دیا)‘‘۔
(الشمس، 91: 9-10)
خالق کائنات نے ساری مخلوق کو پیدا کرکے ان کے سامنے قربانی اور ایثارکی تعلیم رکھی۔
اور قرآن کی سورت کوثر بھی ایثار و قربانی کا درس دے رہی ہے، قرآن نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، خطاب کیا اورکہا۔
اِنَّااَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَo فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْo
’’بے شک ہم نے آپ کو (ہر خیر و فضیلت میں) بے انتہا کثرت بخشی ہے۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کریںاور قربانی دیا کریں (یہ ہدیۂ تشکرّہے)‘‘۔
(الکوثر، 108: 1-2)
ایثار سے کمزور طاقت ور ہوجاتا ہے۔
علاوہ ازیں ایک دوسرے کے لیے زندہ رہنا چاہئے، انسان کی زندگی دوسرے کو زندہ رکھنے کے لیے ہو، مارنے کے لیے نہ ہو، سب سے اونچا درجہ یہ ہے کہ دوسروں کے لیے زندہ رہے، قرآن کی تعلیم میں ہے کہ
وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ.
’’جو اُن (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے اور اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو‘‘۔
(الحشر، 59: 9)
ان کے پاس ایک ٹکرا بھی ہو اور منگتا آجائے اس کو زندہ رکھنے کے لیے خود بھوکا رہتے ہیں اس کو کھلا دیتے ہیں، اسی طرح سیدنا مولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا نے روزے رکھے، اور حسنین کریمین شفا یابی کے لیے محنت کرکے تھوڑے سے جو لائے، کھانا پکایااورشام کے وقت جو کی روٹی اورپانی سے افطار کرنے لگے ایک شخص آ گیا، اس نے کہا میں یتیم ہوں، میرے پاس کھانے کو نہیں، انہوں نے سب کچھ اٹھا کے اس کو دے دیا خود پانی سے افطارکرلیا، اگلے دن روزہ رکھا، جب افطار کا وقت آیا تو ایک اور شخص آگیا، اس نے کہا میں مسکین ہوں، کھانا اس کو دے دیا، اور خود پانی سے افطارکرلیا، تیسرے دن کھانے کاوقت آیا، ایک قیدی نے آواز لگائی کہ میں قیدی ہوں، قیدی غیر مسلم تھا، سارا کچھ اٹھا کے اس کو کھلا دیا، جب تین دن ایثار کیا اوردوسروں کو زندہ رکھنے کے لیے کھانا دیتے رہے، اللہ نے علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایثار کو قرآن میں بیان کردیا۔
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّهٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًاo
’’اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوُجود اِیثاراً) محتاج کو اوریتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں‘‘۔
(الانسان، 76: 8)
قرآن میں ہے کہ نفس امارہ کے خلاف جنگ کرو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌم بِالسُّوْٓء.
’’بے شک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے۔‘‘
(یوسف، 12: 53)
فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰهَاo
’’پھر اس نے اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری (کی تمیز) سمجھا دی۔‘‘
(الشمس، 91: 8)
جب انسان امارہ سے نکل کر نفس لوامہ سے بڑھ کر ملہمہ میں داخل ہوتا اور اپنے من میں امن اور شانتی پاتا ہے۔ اس کے بعد نفس، نفس مطمئن بن جاتا ہے، اور جب نفس کے اندر امن آجاتاہے، پھر مولا کی آواز آتی ہے:
یٰٓـاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُo ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًo
’’اے اطمینان پا جانے والے نفس۔ تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آ کہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی (گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب)‘‘۔
(الفجر، 89: 27-28)
امن وسکون کسی ایک اکیلے مذہب کی میراث نہیں ہے، ہر مذہب میں امن ہے، خواہ کوئی ہندو ہو، خواہ کوئی مسلم ہو جو قتل وغارت گری کرتا، ظلم کرتا، دوسرے کو مارتا ہے، وہ اپنے مذہب کے خلاف بغاوت کرتا ہے، لہذا ضرورت ہے کہ سب مل کر امن اور آشتی کا علم بلند کریں، جب محبت کو عام کریں گے تو اللہ کی محبت ہمارے من میں جگہ پا لے گئی، اللہ رب العزت ہمارے حال پہ کرم فرمائ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں