35

سیلاب و بارش متاثرین کیلئے 37 ارب مختص

سیلاب و بارش متاثرین کیلئے 37 ارب مختص
اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب متاثرین کے 15 لاکھ خاندانوں میں 25 ہزار فی خاندان کے حساب سے 37 ارب روپے تقسیم کئے جائینگے، ان خاندانوں کے مجموعی افراد کی تعداد 90 لاکھ بنتی ہے، ان خاندانوں کو یہ امداد بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے شفاف طریقہ سے فراہم کی جائیگی، امداد فراہمی کا آغاز جھل مگسی سے ہو چکا ہے، حالیہ بارشوں اور سیلاب سے شدید تباہی ہوئی ہے، صوبہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، ہم سب کو ملکر اس چیلنج سے نمٹنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو شدید بارشوں اور سیلاب متاثرین میں نقد مالی امداد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج پھر طوفانی بارشیں شروع ہوئی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اندرون سندھ میں شدید بارشیں ہو رہی ہیں، اسی طرح بلوچستان میں بھی شدید بارشیں ہو رہی ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کو حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کیلئے زراعت، صنعت اور آئی ٹی کے شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں، مسئلہ کشمیرکے حل تک عوام امن کے ثمرات سے مستفید نہیں ہو سکتے، پاکستان اور چین ہر آزمائش پر پورا اترنے والے دوست ہیں ، سی پیک سے ہمارے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں، بھارت اور پاکستان ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ہم اپنی فوج پر سرحدوں کی حفاظت کیلئے خرچ کرتے ہیں جارحیت کیلئےنہیں، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا بھارت اور پاکستان کے عوام امن کے ثمرات سے مستفید نہیں ہو سکتے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کے طلبہ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے ان سے ملاقات کی، وفاقی وزراء احسن اقبال، مریم اورنگزیب، معاونین خصوصی احد چیمہ، سید فہد حسین، جہانزیب خان، وزیر اعظم کے کوآرڈی نیٹر بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایچ ای سی رانا احسان افضل اور متعلقہ محکموں کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیر اعظم نے طلبہ کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کو درپیش عصری چیلنجز کے بارے میں واضح گفتگو کی، پاکستان کی معیشت اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا معاشی بحران حالیہ دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام کیساتھ ڈھانچہ جاتی مسائل کی وجہ سے ہے ، معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے تمام کوششیں اور وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں