48

سیلاب فوج ہر ممکن مدد کرے

سیلاب فوج ہر ممکن مدد کرے
اسلام آباد، راولپنڈی(خبر ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےہدایت دیتے ہوئے کہاہےکہ سیلاب متاثرین کی فوج ہرممکن مدد کرے ،مصیبت کی گھڑی میں ہر متاثرہ فرد تک پہنچنا ضروری ہے جس پر کورکمانڈرز نےمتاثرین کی تکالیف کم کرنے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے پر اتفاق کیا،ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے لندن کا دورہ منسوخ کرکےسیلاب کی صورتحال اور امدادی کارروائیوں سے متعلق3 گھنٹے اجلاس کیا ،وزیر اعظم آج سندھ کا دورہ بھی کرینگے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدگان کی مدد کے لئے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ساتھ اہم اجلاس بھی ہوا جس سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس پر عالمی اداروں نے 50 کروڑ ڈالرز امداد کا اعلان بھی کیا، ریلیف فنڈ میں کابینہ کے ارکان اور فوج کے جنرل آفیسرز ایک ماہ کی تنخواہ دینگے۔ادھر وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہاہےکہ بارش و سیلاب سے3کروڑ افراد بے گھر ہوئے،ہلاکتوں کی تعداد 913 ہوگئی ،پاکستان اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کریگا،دوسری جانب جنرل قمر جاویدباجوہ نے فارمیشن کمانڈرز کو ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کوششیں اور آپریشنل تیاریاں برقرار رکھیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں 250ویں کور کمانڈرز کانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی فارمیشنز نے سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیا اور سیلاب، بارشوں سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور املاک کے نقصانات پردکھ کا اظہار کیا جبکہ امدادی اور ریلیف کے کاموں میں پاک فوج کے جوانوں کے کردار کو سراہا۔ فورم نے غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے وسیع نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کا عزم کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فارمیشنز نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آرمی فارمیشنز سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد یقینی بنائیں، ہر ایک متاثرہ شخص تک پہنچا جائے، آرمی چیف نے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مکمل آپریشنل تیاری رکھی جائے۔ جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سےجاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر لندن کا دورہ منسوخ کر دیا، وزیراعظم شہباز شریف نے حمزہ شہباز کی بیٹی اور اپنی پوتی کی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے قطر سے لندن جانا تھا لیکن ملک میں سیلاب کی صورتحال کے باعث وزیراعظم نے فوری وطن واپسی کا فیصلہ کیا ۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اجلاس، 3گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیلئے اہم فیصلے لیے گئے،وزیرِ اعظم نے سیلاب متاثرین کی امداد کو مزید تیز اور منظم کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں،وفاقی وزراء اور اتحادی رہنماؤں کی سربراہی میں پینے کے صاف پانی، خیموں، مچھر دانیوں، ادویات و طبی امداد اور راشن پر علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں،کمیٹیاں تمام صوبوں میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مزکورہ اشیاء کی فوری فراہمی یقینی بنائیں گی،وزیرِ اعظم نے BISP کو 2 ستمبر تک فلڈ ریلیف کیش پروگرام کے تحت 25 ہزار فی متاثرہ خاندان پہنچانے کی دو ٹوک ہدایات کر دیں،وزیراعظم نے کہاکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی فوری طور پر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپنی تمام تر مشینری متاثرہ علاقوں میں بھیجے۔وزیرِ اعظم نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کیلئے کشتیوں کی یقینی فراہمی کے حوالے سے ڈی جی ایم او اور نیول چیف سے رابطے کی فوری ہدایت کردی۔جمعرات کو ہی سیلاب زدگان کی مدد کے لئے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ساتھ اقتصادی امور ڈویژن میں اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئےوزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کے حالات پر انتہائی دکھ ہے، حکومت جلد سے جلد ہر متاثرہ پاکستانی تک پہنچے گی، بین الاقوامی ادارے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگےآئیں،تنہا حکومت متاثرہ علاقوں میں مکمل بحالی کا کام نہیں کر سکتی،اجلاس میں ورلڈ بینک، ایشائی ترقیاتی بینک، عالمی مالیاتی اداروں ، بین الاقوامی ڈیولپمنٹ، ڈونرز سمیت چین، امریکا اور یورپی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے ، وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو ملک بھر میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا،وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں، مرکزی و صوبائی محکموں کے اشتراک عمل سے کام کر رہی ہے، فوری طور پر 5 ارب روپے جاری کئے گئے، ہر جاں بحق کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی جاری ہے، 25 ہزار روپے کی سیلاب متاثرین کو فوری نقد ادائیگی کی جارہی ہے جس پر 80 ارب خرچ ہوں گے، مجموعی طور پر 37 ارب روپے سے زائد رقم سیلاب متاثرین پر خرچ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کر سکتیں، عالمی اداروں، تنظیموں، ممالک اور مالیاتی اداروں کا ہنگامی تعاون درکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں