57

سیلابی ریلے پنجاب میں داخل دریاؤں کے کنارے آبادیوں کے انخلا کا حکم

سیلابی ریلے پنجاب میں داخل دریاؤں کے کنارے آبادیوں کے انخلا کا حکم
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ (خبر ایجنسیاں) سیلابی ریلے پنجاب میں داخل ،KP سے زمینی راستہ منقطع، چارسدہ میں دریا کنارے آبادیاں ڈوب گئیں، لاکھوں بے گھر، پشاور موٹروے پر پناہ لے لی، سندھ میں 250 دیہات ڈوب گئے، ٹانک کا90فیصد حصہ تباہ، شاہراہِ قراقرم پر گلگت بلتستان کو اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر زیریں علاقوں سے ملانے والے پل کو خطرہ،سیلاب سے متاثرہ آبادی کی تعداد 3کروڑ 30 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ،سندھ میں نئے سیلاب کا خطرہ، دریائوں کے کنارے آبادیوں کے انخلا کا حکم دیدیا گیا۔تفصیلات کےمطابق سوات اور نوشہرہ میں تباہی مچانے کے بعد سیلابی ریلے پنجاب میں داخل ہوگئے، ادھر میانوالی میں سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،دریائے سندھ پر بنے جناح بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 7لاکھ 37ہزار کیوسک تک جاپہنچی ہے، دریا کے قریب کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سیلاب سے 47موضع جات متاثر ہوسکتے ہیں، انتظامیہ نے الڑت رہنے کا حکم دیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں کچے کے علاقوں سے بھی نقل مکانی ہوئی ہے، راجن پور کے قریب دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔پہلے سے سیلاب میں ڈوبے راجن پور میں دوسرے سیلاب کا خدشہ سامنے آیا ہے جبکہ دریائے چناب میں طغیانی کے باعث لیاقت پور میں کچے کے علاقے ڈوب گئے ہیں۔آئندہ 48گھنٹوں میں راجن پور کے مقام پر دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ڈیرہ غازی خان میں پہاڑی ندیوں سے سیلابی ریلے آنا رک گئے ہیں لیکن پہلے سے موجود سیلابی پانی سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں، قبائلی علاقوں کا زمینی راستہ اب تک بحال نہ ہوسکا۔میانوالی میں جناح اور چشمہ بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ لیہ کے مقام پر دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔دوسری طرف بھکر میں بھی دریائے سندھ کے کنارے آباد بستیوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔خیبرپختونخوا کا علاقہ چارسدہ ایک ریلے کی تباہی سے سنبھلا نہیں کہ دوسرا درپہ آنے کو تیار ہے۔انتظامیہ نے گزشتہ روز سیلاب کے بعد علاقے سے جان بچاکر نکلنے والوں کو واپس نہ جانے کی ہدایت کی ہے،چار سدہ میں دریا کنارے آبادیاں اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، ایک لاکھ 80ہزار افراد بے گھر ہیں جب کہ نئے ریلے سے مزید نقصانات کا اندیشہ ہے۔ ڈی سی چارسدہ کا کہنا ہے کہ دریائے سوات میں خیالی کےمقام پردوبارہ بڑاسیلابی ریلاگزرےگا، ریلاپہلےآنے والےسیلابی ریلوں سےکم ہےتاہم دوبارہ بڑھ سکتا ہے، شکارپور کا 800گھروں پرمشتمل فقیر گوٹھ سیلاب نے اجاڑ ڈالا، گوٹھ ہر طرف سے دلدل اور کیچڑ سے بھرا ہوا ہے، سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گیا جس کے باعث متاثرین کے لیے گاؤں سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں رہا۔ بدین میں نوکوٹ کو جھڈو سے ملانے والا پل بھی سیلابی پانی میں ڈوب گیا جس سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا اور عوام بے بسی کی تصویر بنے حکومتی امداد کے منتظر ہیں، این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب کے باعث ملک بھر کے 149پلوں کو سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں کوئٹہ کراچی نیشنل ہائی وے لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔ڈیرہ غازی خان لورالائی شاہراہ پر بھی ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔ گلگت بلتستان میں نلتر،غذر ،شندور اور ششپر ویلی کی سڑکیں سیلاب کی وجہ سے بند ہیں۔خوازہ خیلہ سے بشام اور جھل کٹ تک نیشنل ہائی وے کو بند کیا گیا ہے۔ پنجاب میں این55فاضل پورسے راجن پور تک بند ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث2ہزار328کلومیٹر سڑک کو نقصان پہنچا، بلوچستان میں ایک ہزار کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں۔ شاہراہِ قراقرم پر گلگت بلتستان کو اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر زیریں علاقوں سے ملانے والا پل اس وقت خطرے کی زد میں ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلع کوہستان کے علاقے میں واقع کیہال پل جوگلگت بلتستان کو اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر زیریں علاقوں سے ملانے والا پل اس وقت خطرے کی زد میں ہے۔حکام کے مطابق اس پل کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے فوری مرمت کی ضرورت ہے جس کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو لکھ دیا گیا ہے۔طوفانی بارشوں اور سیم نالوں کے پانی کے اخراج کرنے والی نہر کے گیٹ گراکر شہر کو ڈبونے کی کوشش ناکام بنادی گئی ،گجراواہ نہر کو بند کرنے والوں کو پولیس اور رینجرز نے منتشر کردیا، قینچی پل پر رینجرز تعینات کردی گئی ۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح ضلع سکھر میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے باعث ریلوے سکھر ڈویژن میں ٹرینوں کی آمد و رفت کا شیڈول تاحال متاثر ہے اور محکمہ ریلوے کی جانب سے ٹریک کی خستہ حالت کو دیکھتے ہوئے کراچی آنے اور جانے والی اپ اور ڈاؤن کی متعدد ٹرینوں کا آپریشن مطل کیا گیا ہے کچھ ٹرینیں چل رہی ہیں تو وہ بھی گھنٹوں تاخیر کا شکار نظر آتی ہیں ٹرین آپریشن معطل ہونے پر سکھر اور روہڑی ریلوئے اسٹیشن سمیت دیگر اسٹیشن اور پلٹ فارم ویران دکھائی دیتے ہیں، ٹرین شیڈول معطل ہونے کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔سکھر بیراج سے اونچے درجے کا سیلابی ریلہ کوٹری بیراج کی جانب بڑھ رہا ہے اور سکھر بیراج پر پانی میں مسلسل کمی آرہی ہے، آئندہ 24گھنٹوں میں سکھر بیراج پر بھی درمیانے درجے کی سیلابی صورت حال ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں