سیرت سیدنا علی بن عثمان الھجویری رحمہ اللہ. 139

سیرت سیدنا علی بن عثمان الھجویری رحمہ اللہ. محترمہ میمونہ اسلم پرنسپل جامعہ نقشبندیہ کنز الایمان منڈی بہاؤالدین

سیرت سیدنا علی بن عثمان الھجویری رحمہ اللہ
محترمہ میمونہ اسلم پرنسپل جامعہ نقشبندیہ کنز الایمان منڈی بہاؤالدین

ترجمان حق، داعی توحید ،راہ حق کے علمبردار، عالموں کے پیشوا، عارفوں کے مقتدا، طالب صحابہ، محب اہلبیت ،سید ہجویر ،مرشد لاہور ،سید علی ہجویری کی ولادت باسعادت، 400ھجری میں غزنی سے متصل ہجویر نامی علاقہ میں ہوئی
والد کا نام، سید عثمان ہجویری ہے
آپکا سلسلہ نسب حضرت زید کے واسطے سے امام حسن تک پہنچتا ہے
آپکی کنیت ابو الحسن ہے،آپکی ازدواجی زندگی مختصر اور ناخوشگوار گزری ہے، آپکی کوئی اولاد نہیں، آپکی یہ کنیت صفاتی ہے،آپ نے کشف المحجوب میں 28مرتبہ اپنا نام علی بن عثمان الجلابی لکھا ہے لیکن کنیت ایک بار بھی نہیں لکھی.
آپکے ایک شیخ مظفر بن احمد حمدان نے آپکو أبو الحسن کہہ کر مخاطب کیا، اور یہ آپکی کنیت ہوگئ، اس سے ثابت ہوتا ہے یہ کنیت وصفی تھی
فقہ میں آپکی تقلید امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے معروف ہے اور یہ بات کشف المحجوب میں مذکور میں آپکے القابات سے بھی ظاہر ہے
آپ نے جو القابات ذکر کیے ان میں امام اماماں،مقتدائے سنیاں،شرف فقہا ، اور عز العلماء ابو حنیفہ نعمان بن ثابت لکھا ہے.
آپکی بیعت سلسلہ جنیدیہ میں ہے، آپکے شیخ کا نام، سیدنا ابو الفضل محمد بن حسن الختلی ہے.
آپکے شیخ اعلی درجے کے ولی کامل تھے، آپ فرماتے ہیں ساری زندگی میں نے اتنا رعب و دبدبے والا بزرگ نہیں دیکھا، وہ دمشق کے ایک قصبہ میں مقیم تھے، آپ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ میں اپنے شیخ کو وضو کروا رہاتھا دل میں خیال ہوا، جب اللہ نے ہر چیز پہلے مقدر فرما دی ہے، توان نماز روزوں، ریاضتوں کا کیا فائدہ؟
پھر فرماتے ہیں میرے حضرت، میرے شیخ نے میرے دلی خدشات کو پالیا اور خود ہی فرمایا آپکے دل میں جو خیالات آ رہے ہیں، میں اس سے واقف ہوں.
اللہ جب کسی کو اپنے قرب سے نوازتا ہے تو توبہ کی توفیق عطا فرماتا ہے، پھر خدمت خلق میں لگادیتا ہے، تب وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے اور اسی طرح انعامات فرماتا رہتا ہے اور اعزازات حاصل کرتا رہتا ہے اور یہی نوشتہ تقدیر ہے.
داتا صاحب اپنے پیر و مرشد شیخ الحتلی رحمہ اللہ کے علاوہ اور بھی بہت سے ہم عصر مشائخ سے بھی فیض صحبت و شرف حاصل کرتے رہے جن میں، ابو القاسم امام قشیری رحمہ اللہ،شیخ احمد حماد سرخسی رحمہ اللہ جن کا تعلق ماوراء النہر سے وہ شامل ہیں
ابو جعفر محمد بن مصباح صیدلانی سے بھی ملتے رہے بلکہ ان کی تصانیف انکے ہی روبرو پڑھیں،
حضرت خضر علیہ السلام سے بھی استفادہ کیا.
جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ نے کشف المحجوب کے مقدمہ میں داتا صاحب کے حوالہ سے لکھا ہے، فرماتے ہیں کہ، مجھےخراسان میں تین سو اولیاء و صوفیاء سے مصافحہ و ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی
حضرت داتا صاحب کے نزدیک ولی شریعت کا تابع ہوتا ہے،. آپ فرماتے ہیں ایسے لوگ ملحد ہیں اور ان پر خدا کی لعنت ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ ولی شریعت کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے،
اور آپ نے بایزید بسطامی کا واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ آپکو کسی نے بتایا کہ فلاں شہر میں ایک ولی ہے، آپ فرماتے ہیں میں اسکی ملاقات کو پہنچا جب میں اسکے محلے کی مسجد میں پہنچا، تو دیکھا کہ اس نے مسجد میں تھوک پھینکی ہے، میں اسکی یہ حرکت دیکھ کر متنفر ہوگیا، اور پلٹ آیا اور دل میں آیا اگر یہ ولی ہوتا تو شریعت پر نگاہ رکھتا، خدا کے گھر کا احترام کرتا، پھر کہتے کہ اسی شب خواب میں دیدار مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نصیب ہوا
فرمایا بایزید جو کام تونے کیا اس میں اللہ تجھے برکت عطا فرمائے
اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری بھی آپکا معمول رہا ہے آپ فرماتے ہیں
ایک بار مؤذن رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مزار پر ملک شام حاضر ہوئے، وہاں خواب میں آقا کریم کے ساتھ حنفیوں کے پیشوا کی بھی زیارت سے بھی مشرف ہوئے
آپ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بار دینی مشکل پیش آئی میں بایزید رحمہ اللہ کے مزار پر حاضر ہوا، میری مشکل حل ہوگئ
مزید فرماتے ہیں،
ابو العباس قاسم بن مہدی کا مزار مرو میں ہے، لوگ وہاں مرادیں مانگنے جاتے ہیں اور مشکلات کے حل کے لیے ان سے امداد طلب کرتے ہیں، اور انکی امداد کی جاتی ہے اور یہ بات بہت مجرب ہے

آپ کی تصانیف
داتا صاحب کی دین کی تبلیغی خدمات کے ساتھ ساتھ تحریری خدمات بھی ہیں اور کشف و کرامات بھی،

آپ کی تصانیف میں
دیوان شعر،(صوفیانہ اشعار پر مشتمل ہے )
اور کسی شخص نے خیانت کرتے ہوئے آپکے نام کی جگہ اپنے نام سے بنا کر مشہور کر لی اسکے علاوہ
منہاج الدین
بحر القلوب
کتاب فناو بقا
اور کشف المحجوب شامل ہیں
آپکی تصانیف میں سے صرف کشف المحجوب ہی دستیاب ہے،
باقی تمام کتابیں مفقود ہیں،
داتا صاحب رحمہ اللہ نے یہ کتاب، اپنی آخری عمر میں لکھی اور آخری چوتھائی حصہ لاہور میں مکمل کیا.
آپ کشف المحجوب کی وجہ تسمیہ لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ، اس کا نام رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ نام ہی مقصد کو عیاں کر دے.
فارسی زبان میں یہ لکھی گئ یہ کتاب کسی گنجینہ سے کم نہیں
آپ کی کتاب کے متعدد تراجم کیے جاچکے ہیں اس پر مقالہ جات بھی لکھے جا رہے ہیں
عبادت کی ترغیب اور اسکی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ
مسلسل عبادت سے مقام کشف و مجاہدہ ملتا ہے.
عبادت کا مقصد رضا الہی ہے رضا کے متعلق آپ فرماتے ہیں
رضاکی دو قسمیں ہیں
بندے کا خدا سے راضی ہونا
خدا کا بندے سے راضی ہونا،
آپ مخلوق کی اصلاح کرتے ہوئے ان کو عمل صالح کی تلقین کرتے ہیں
آپ نباض امت ہیں، آپ فرماتے ہیں
سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں سے ہے،
حکمران جب بے علم ہوں،
علماء جب بے عمل ہوں،
اور فقیر جب بے توکل ہوں

وصال:
آپکا وصال پر ملال 20صفر المظفر 465ھ کو ہوا
آپکا مزار مبارک لاہور میں ہے،
979سال گزر جانے کے باوجود آپکا فیض تازہ جوبن پر اور رواں دواں ہے

میمونہ اسلم، منڈی بہاوالدین

اپنا تبصرہ بھیجیں