Seerat-ul-Nabi 59

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – یہودیوں کے سوالات

جونہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان گونجی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے وہ جلدی سے چادر سنبھالتے ہوئے اُٹھے اور تیز تیز چلتے مسجد نبوی میں پہنچے- مسجد میں پہنچ کر انہیں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے عرض کیا :
” اے اللہ کے رسول اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے٬میں نے بھی بالکل یہی خواب دیکھا ہے”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی خواب کی تصدیق سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
“اللّٰہ کا شکر ہے ”
اب پانچوں وقت کی نمازوں کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے ان پانچ نمازوں کے علاوہ کسی موقع پر لوگوں کو جمع کرنا ہوتامثلاً سورج گرہن اور چاند گرہن ہوجاتا یا بارش طلب کرنے کے لیے نماز پڑھنا ہوتی تو وہ “الصلاۃ جامعۃ ” کہہ کر اعلان کرتے تھے
اس طرح نبی اکرم ﷺ کے زمانے تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ موذن رہے- ان کی غیر موجودگی میں حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے-
آنحضرت ﷺ کے ظہور سے پہلے مدینہ منورہ کے یہودی قبیلۂ اوس اور قبیلۂ خزرج کے لوگوں سے یہ کہا کرتے تبھے :
” بہت جلد ایک نبی ظاہر ہوں گے ان کی ایسی ایسی صفات ہوں گی(یعنی حضور ﷺ کی نشانیاں بتایا کرتے تھے) ہم ان کے ساتھ مل کر تم لوگوں کو سابقہ قوموں کی طرح تہس نہس کردیں گے- جس طرح قوم عاد اور قوم ثمود کو تباہ کیا گیا-ہم بھی تم لوگوں کو اسی طرح تباہ کردیں گے ”
جب نبی پاک ﷺ کا ظہور مبارک ہوگیا تو یہی یہود حضور پاک ﷺ کے خلاف ہوگئے اور سازشیں کرنےلگے-
جب اوس اور خزرج کے لوگ اسلام کے دامن میں آگئے تو بعض صحابہ نے ان یہودیوں نے کہا:
” اے یہودیو! تم تو ہم سے کہا کرتے تھے کہ ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں ان کی ایسی ایسی صفات ہوں گی-ہم ان پر ایمان لاکر تم لوگوں لو تباہ و برباد کردیں گے لیکن اب جبکہ ان کا ظہور ہوگی ہے تو تم ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے-تم تو ہمیں نبی کریم ﷺ کا حلیہ تک بتایا کرتے تھے-
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جب یہ بات کہی تو یہودیوں میں سلام بن مشکم بھی تھا- یہ قبیلہ بنی نضیر کے بڑے آدمیوں میں سے تھا اس نے ان کی یہ بات سن کر کہا :
” ان میں وہ نشانیاں نہیں ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے تھے ”
اس پر اللّٰہ تعالٰی نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 89 نازِل فرمائی-
ترجمہ : اور جب انہیں کتاب پہنچی(یعنی قرآن) جو اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اس کی بھی تصدیق کرنے والی ہے جو پہلے سے ان کے پاس ہے یعنی تورات٬ حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (اس نبی کے وسیلے سے) کفار کے خلاف اللّٰہ سے مدد طلب کرتے تھے٬پھر وہ چیز آپہنچی جس کو وہ خود جانتے پہچانتے تھے (یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی نبوت)تو اس کا صاف انکار کر بیٹھے بس اللہ کی مار ہو ایسے کافروں پر-
اس بارے میں ایک روایت میں ہے کہ ایک رات حضور نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کے ایک بڑے سردار مالک بن صیف سے فرمایا:
“میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسی علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی،کیا تورات میں یہ بات موجود ہے کہ اللہ تعالٰی موٹے تازے”حبر” یعنی یہودی راہب سے نفرت کرتا ہے،کیونکہ تم بھی ایسے ہی موٹے تازے ہو،تم وہ مال کھا کھا کر موٹے ہوئے جو تمہیں یہودی لا لا کر دیتے ہیں -”
یہ بات سن کر مالک بن صیف بگڑ گیا اور بول اٹھا:
“اللہ تعالٰی نے کسی بھی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری-”
گویا اس طرح اس نے خود حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب تورات کا بھی انکار کردیا…اور ایسا صرف جھنجھلاہٹ کی وجہ سے کہا- دوسرے یہودی اس پر بگڑے-انھوں نے اس سے کہا:
“یہ ہم نے تمہارے بارے میں کیا سنا ہے-”
جواب میں اس نے کہا:
محمد نے مجھے غصہ دلایا تھا…بس میں نے غصہ میں یہ بات کہہ دی-”
یہودیوں نے اس کی اس بات کو معاف نہ کیا اور اسے سرداری سے ہٹادیا-اس کی جگہ کعب بن اشرف کو اپنا سردار مقرر کیا-
اب یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ کو تنگ کرنا شروع کردیا،ایسے سوالات پوچھنے کی کوشش کرنے لگے جن کے جوابات ان کے خیال میں آپ ﷺ نہ دے سکیں گے-مثلاً ایک روز انھوں نے پوچھا:
عبداللّہ فارانی”اے محمد(ﷺ)آپ ہمیں بتائیں ،روح کیا چیز ہے؟-”
آپ ﷺ نے اس سوال کے بارے میں وحی کا انتظار فرمایا،جب وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے-”
یعنی آپ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی:
ترجمہ:”اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں ،آپ فرمادیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے -“(سورۃ بنی اسرائیل:آیت85)
پھر انھوں نے قیامت کے بارے میں پوچھا کہ کب آئے گی-آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے…اس کے وقت کو اللّہ کے سوا کوئی اور ظاہر نہیں کرےگا-“(سورة الأعراف)
اسی طرح دو یہودی آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا:
آپ بتائیے!اللّہ تعالٰی نے موسی علیہ السلام کی قوم کو کن باتوں کی تاکید فرمائی تھی-
جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“یہ کہ اللّہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، بدکاری نہ کرو،اور حق کے سوا(یعنی شرعی قوانین کے سوا) کسی ایسے شخص کی جان نہ لو جس کو اللہ تعالٰی نے تم پر حرام کیا ہے،چوری مت کرو، سحر اور جادوٹونہ کرکے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ،کسی بادشاہ اور حاکم کے پاس کسی کی چغل خوری نہ کرو، سود کا مال نہ کھاؤ، گھروں میں بیٹھنے والی(پاک دامن) عورتوں پر بہتان نہ باندھو-اوراے یہودیو! تم پر خاص طور پر یہ بات لازم ہے کہ ہفتے کے دن کسی پر زیادتی نہ کرو،اس لیے کہ یہ یہودیوں کا متبرک دن ہے -”
یہ نو ہدایات سن کر دونوں یہودی بولے:
“ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی ہیں -”
اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“تب پھر تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے؟”
انھوں نے جواب دیا:
“ہمیں ڈر ہے،اگر ہم مسلمان ہوگئے تو یہودی ہمیں قتل کرڈالیں گے-”
دو یہودی عالم ملک شام میں رہتے تھے-انہیں ابھی نبی کریم ﷺ کے ظہور کی خبر نہیں ہوئی تھی-دونوں ایک مرتبہ مدینہ منورہ آئے-مدینہ منورہ کو دیکھ کر ایک دوسرے سے کہنے لگے:
“یہ شہر اس نبی کے شہر سے کتنا ملتا جلتا ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہونے والے ہیں -”
اس کے کچھ دیر کے بعد انہیں پتا چلا کہ آنحضرت ﷺ کا ظہور ہوچکا ہے اور آپ ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے اس شہر مدینہ منورہ میں آچکے ہیں -یہ خبر ملنے پر دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے- انھوں نے کہا:
“ہم آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں ،اگر آپ نے جواب دےدیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے-”
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“پوچھو!کیا پوچھنا چاہتے ہو؟”
انھوں نے کہا:
“ہمیں اللہ کی کتاب میں سب سے بڑی گواہی اور شہادت کے متعلق بتایئے-”
ان کے سوال پر سورۂ آل عمران کی آیت 19 نازل ہوئی-آپ ﷺ نے وہ ان کے سامنے تلاوت فرمائی-
ترجمہ:اللہ نے اس کی گواہی دی ہے کہ سوائے اس کی ذات کے کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی گواہی دی ہے اور وہ اس شان کے مالک ہیں کہ اعتدال کے ساتھ انتظام کو قائم رکھنے والے ہیں -ان کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں ،وہ زبردست ہیں ،حکمت والے ہیں -بلاشبہ دین حق اور مقبول،اللہ تعالٰی کے نزدیک صرف اسلام ہے-”
یہ آیت سن کر دونوں یہودی اسلام لے آئے-اسی طرح یہودیوں کے ایک اور بہت بڑے عالم تھے-ان کا نام حصین بن سلام تھا-یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے-ان کا تعلق قبیلہ بنی قینقاع سے تھے- جس روز آپ ﷺ ہجرت کرکے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں رہائش پذیر ہوئے،یہ اسی روز آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے-جونہی انھوں نے آپ ﷺ کا چہرۂ مبارک دیکھا،فوراً سمجھ گئے کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہوسکتا-پھر جب انہوں نے آپ ﷺ کا کلام سنا تو فوراً پکار اُٹھے:
“میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں اور سچائی لے کر آئے ہیں -”
پھر ان کا اسلامی نام آپ ﷺ نے عبداللہ بن سلام رکھا-اسلام قبول کرنے کے بعد یہ اپنے گھر گئے-اپنے اسلام لانے کی تفصیل گھر والوں کو سنائی تو وہ بھی اسلام لے آئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں