Seerat-ul-Nabi 10

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – کامیابی کی ابتدا

حج کے دنوں میں مکہ میں دور دور سے لوگ حج کرنے آتے تھے، یہ حج اسلامی طریقے سے نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں کفریہ اور شرکیہ باتیں شامل کر لی گئی تھیں ، ان دنوں یہاں میلے بھی لگتے تھے۔نبی کریم ﷺ اسلام کی دعوت دینے کے لیے ان میلوں میں بھی جاتے تھے. آپ ﷺ وہاں پہنچ کر لوگوں سے فرماتے تھے۔
کیا کوئی شخص اپنی قوم کی حمایت مجھے پیش کر سکتا ہے،کیونکہ قریش کے لوگ مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ منی کے میدان میں تشریف لے جاتے۔لوگوں کے ٹھکانے پر جاتے اور ان سے فرماتے۔
لوگو،اللہ تعالٰی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔
نبی کریم ﷺ کا تعاقب کرتے ہوئے ابو لہب بھی وہاں تک پہنچ جاتا اور ان لوگوں سے بلند آواز میں کہتا۔
لوگو، یہ شخص چاہتا ہے تم اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دو۔
نبی کریم ﷺ ذو الحجاز کے میلے میں تشریف لے جاتے اور لوگوں سے فرماتے۔
لوگو!لا الہ الا اللہ کہہ کر بھلائی کو حاصل کرو۔
ابو لہب یہاں بھی آ جاتا اور آپ کو پتھر مارتے ہوئے کہتا۔
لوگو!اس شخص کی بات ہرگز نہ سنو، یہ جھوٹا ہے۔
نبی کریم ﷺ قبیلہ کندہ اور قبیلہ کلب کے کچھ خاندانوں کے پاس گئے۔ان لوگوں کو بنو عبداللہ کہا جاتا تھا۔آپ ﷺ نے ان سے فرمایا۔
لوگو!لا الہ الا اللہ پڑھ لو….فلاح پا جاؤ گے۔
انہوں نے بھی اسلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔آپ ﷺ بنو حنیفہ اور بنو عامر کے لوگوں کے پاس بھی گئے۔ان میں سے ایک نے آپ ﷺ کا پیغام سن کر کہا۔
اگر ہم آپ کی بات مان لیں ،آپ کی حمایت کریں اور آپ کی پیروی قبول کر لیں پھر اللہ تعالٰی آپ کو آپ کے مخالفوں پر فتح عطا فرما دے تو کیا آپ کے بعد یہ سرداری اور حکومت ہمارے ہاتھوں میں آ جائے گی۔
یعنی انہوں نے یہ شرط رکھی کہ آپ کے بعد حکمرانی ان کی ہوگی۔جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
سرداری اور حکومت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے سونپ دیتا ہے۔
اس کے بعد اس شخص نے کہا۔
تو کیا ہم آپ کی حمایت میں عربوں سے لڑیں ،عربوں کے نیزوں سے اپنے سینے چھلنی کرا لیں اور پھر جب آپ کامیاب ہو جائیں تو سرداری اور حکومت دوسروں کو ملے۔نہیں ، ہمیں آپ کی ایسی حکومت اور سرداری کی کوئی ضرورت نہیں ۔
اس طرح ان لوگوں نے بھی صاف انکار کر دیا۔بنو عامر کے یہ لوگ پھر اپنے وطن لوٹ گئے۔وہاں ان کا ایک بہت بوڑھا شخص تھا۔بوڑھا ہونے کی وجہ سے وہ اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ ان کے ساتھ حج کے لیے نہیں جا سکا تھا۔جب اس نے ان لوگوں سے حج اور میلے کے حالات پوچھے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کا بھی ذکر کیا اور اپنا جواب بھی اسے بتایا۔
بوڑھا شخص یہ سنتے ہی سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور افسوس بھرے لہجے میں بولا۔
اے بنی عامر۔تم سے بہت بڑی غلطی ہوئی….کیا تمہاری اس غلطی کا کوئی علاج ہو سکتا ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسماعیل علیہ السلام کی قوم میں سے جو شخص نبوت کا دعوٰی کر رہا ہے،جھوٹا نہیں ہو سکتا۔وہ بالکل سچا ہے، یہ اور بات ہے کہ اس کی سچائی تمہاری عقل میں نہ آ سکے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بنو عبس، بنو سلیم، بنو غسان، بنو محارب، بنو فزارہ، بنو نضر، بنو مرہ اور بنو عذرہ سمیت کئی قبیلوں سے بھی ملے، ان سب نے آپ ﷺ کو اور بھی برے جوابات دیے، وہ کہتے۔
آپ کا گھرانہ اور آپ کا خاندان آپ کو زیادہ چاہتا ہے، اسی لیے انہوں نے آپ کی پیروی نہیں کی۔
عرب قبیلوں میں سب سے زیادہ تکلیف یمامہ کے بنو حنیفہ سے پہنچی۔مسیلمہ کذاب بھی اسی بد بخت قوم کا تھا جس نے نبوت کا دعوٰی کیا تھا۔اسی طرح بنو ثقیف کے قبیلے نے بھی آپ ﷺ کو بہت برا جواب دیا۔
ان تمام تر ناکامیوں کے بعد آخر کار اللہ تعالٰی نے اپنے دین کو پھیلانے، اپنے نبی ﷺ کا اکرام کرنے اور اپنا وعدہ پورا کرنے کا ارادہ فرمایا۔آپ ﷺ حج کے دنوں میں گھر سے نکلے۔وہ رجب کا مہینہ تھا۔عرب حج سے پہلے مختلف رسموں اور میلوں میں شریک ہونے کے لیے مکہ پہنچا کرتے تھے۔ چنانچہ اس سال بھی آپ ﷺ مختلف قبیلوں سے ملنے کے لیے نکلے تھے۔آپ ﷺ عقبہ کے مقام پر پہنچے۔
عقبہ ایک گھاٹی کا نام ہے۔جس جگہ شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔یہ گھاٹی ادی مقام پر ہے۔مکہ سے منی کی طرف جائیں تو یہ مقام بائیں ہاتھ پر آتا ہے۔اب اس جگہ ایک مسجد ہے۔
وہاں آپ ﷺ کی ملاقات مدینہ کے قبیلے خزرج کی ایک جماعت سے ہوئی۔اوس اور خزرج مدینہ منورہ کے مشہور قبیلے تھے۔یہ اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔یہ بھی دوسرے عربوں کی طرح حج کیا کرتے تھے۔یہ حضرات تعداد میں کل چھ تھے،ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد آٹھ تھی۔آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کے قریب تشریف لے گئے۔ان سے فرمایا۔
میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔
وہ بولے۔
ضرور کہیں ۔
فرمایا۔
بہتر ہوگا کہ ہم لوگ بیٹھ جائیں ۔
پھر آپ ﷺ ان کے پاس بیٹھ گئے۔ان لوگوں نے جب آپ کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہاں سچائی ہی سچائی اور بھلائی ہی بھلائی نظر آئی…. ایسے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
میں آپ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ….میں اللہ کا رسول ہوں ۔
یہ سنتے ہی انہوں نے کہا۔
اللہ کی قسم..آپ کے بارے میں ہمیں معلوم ہے۔یہودی ایک نبی کی خبر ہمیں دیتے رہے ہیں اور ہمیں اس سے ڈراتے رہے ہیں (یعنی وہ کہتے رہے ہیں کہ ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں ) آپ ضرور وہی ہیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے پہلے وہ آپ کی پیروی اختیار کرلیں ۔
اصل میں بات یہ تھی کہ جب بھی یہودیوں اور مدینے کے لوگوں میں کوئی لڑائی جھگڑا ہوتا تو یہودی ان سے کہا کرتے تھے۔
بہت جلد ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے،ان کا زمانہ نزدیک آ چکا ہے۔ہم اس نبی کی پیروی کریں گے اور ان کے جھنڈے تلے اس طرح تمہارا قتل عام کریں گے جیسے قوم عاد اور قوم ارم کا ہوا تھا۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم تمہیں نیست و نابود کر دیں گے۔اسی بنیاد پر مدینے کے لوگوں کو آپ ﷺ کے ظہور کے بارے میں معلوم تھا….اور اسی بنیاد پر انہوں نے فوراً آپ ﷺ کی بات مان لی،آپ ﷺ کی تصدیق کی اور مسلمان ہو گئے۔
پے در پے ناکامیوں کے بعد یہ بہت زبردست کامیابی تھی….اور پھر یہ کامیابی تاریخی اعتبار سے بھی بہت بڑی ثابت ہوئی۔اس بیعت نے تاریخ کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا،گویا اللہ تعالٰی نے ان کے ذریعے ایک زبردست خیر کا ارادہ فرمایا تھا۔اسلام قبول کرتے ہی انہوں نے عرض کیا۔
ہم اپنی قوم اوس اور خزرج کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ ان کے درمیان زبردست جنگ جاری ہے، اس لیے اگر اللہ تعالٰی آپ کے ذریعے ان سب کو ایک کر دے تو یہ بہت ہی اچھی بات ہو گی۔
اوس اور خزرج دو سگے بھائیوں کی اولاد تھے۔پھر ان میں دشمنی ہو گئی۔لڑائیوں نے اس قدر طول کھینچا کہ ایک سو بیس سال تک وہ نسل در نسل لڑتے رہے، قتل پر قتل ہوئے….
اس وقت انہوں نے اپنی دشمنی کی طرف اشارہ کیا تھا،لہذا انہوں نے کہا۔
ہم اوس اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دیں گے۔ہو سکتا ہے اللہ تعالٰی آپ کے نام پر انہیں ایک کر دے۔اگر آپ کی وجہ سے وہ ایک ہو گئے،ان کا کلمہ ایک ہو گیا تو پھر آپ سے زیادہ قابل عزت اور عزیز کون ہوگا۔
حضور اکرم ﷺ نے ان کی بات کو پسند فرمایا۔پھر یہ حضرات حج کے بعد مدینہ منورہ پہنچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں