Seerat-ul-Nabi 45

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مکہ کے غار ثور تک

ادھر حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
“تم میرے بستر پر سو جاؤ اور میری یمنی چادر اوڑھ لو۔”
پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
“تمہارے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔”
مشرکوں کے جس گروہ نے آپ ﷺ کے گھر کو گھیر رکھا تھا، ان میں حکیم بن ابوالعاص، عقبہ بن ابی معیط، نصر بن حارث، اسید بن خلف، زمعہ ابن اسود اور ابوجہل بھی شامل تھے۔ ابوجہل اس وقت دبی آواز میں اپنے ساتھیوں سے رہا تھا:
“محمد (ﷺ) کہتا ہے، اگر تم اس کے دین کو قبول کرلو گے تو تمہیں عرب اور عجم کی بادشاہت مل جائے گی اور مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی اور وہاں تمہارے لیے ایسی جنتیں ہوں گی، ایسے باغات ہوں گے جیسے اردن کے باغات ہیں ، لیکن اگر تم میری پیروی نہیں کرو گے تو تم سب تباہ ہو جاؤ گے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے تو تمہارے لئے وہاں جہنم کی آگ تیار ہوگی اس میں تمہیں جلایا جائے گا۔”
نبی اکرم ﷺ نے اس کے یہ الفاظ سُن لیے، آپ یہ کہتے ہوئے گھر سے نکلے:
“ہاں ! میں یقیناً یہ بات کہتا ہوں ۔”
اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنی مٹھی میں کچھ مٹی اٹھائی اور یہ آیت تلاوت فرمائی:
ترجمہ: یٰسن۔ قسم ہے حکمت والے قرآن کی، بے شک آپ پیغمبروں کے گروہ میں سے ہیں ، سیدھے راستے پر ہیں ۔ یہ قرآن زبردست اللہ مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ (پہلے تو) ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے سو اسی سے یہ بے خبر ہیں ، اُن میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہوچکی ہے، سو یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں ، پھر وہ ٹھوڑیوں تک اڑ گئے ہیں ، جس سے ان کے سر اوپر کو اٹھ گئے ہیں اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کر دی ہے اور ایک آڑ ان کے پیچھے کر دی ہے جس سے ہم نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا ہے سووا دیکھ نہیں سکتے۔”
یہ سورۃ یٰسین کی آیات 1 تا 9 کا ترجمہ ہے ۔ ان آیات کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے کفار وقتی طور پر اندھا کردیا۔ وہ آنحضرت ﷺ کو اپنے سامنے سے جاتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔
حضور صلی اللہ وعلیہ وسلم نے جو مٹی پھینکی تھی وہ ان سب کے سروں پر گری، کوئی ایک بھی ایسا نہ بچا جس پر مٹی نہ گری ہو۔
جب قریش کو پتا چلا کہ حضور ﷺ ان کے سروں پر خاک ڈال کر جا چکے ہیں تو وہ سب گھر کے اندر داخل ہوئے۔ آپ صل اللہ و علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ چادر اوڑھے سو رہے تھے۔ یہ دیکھ کر وہ بولے:
“خدا کی قسم یہ تو اپنی چادر اوڑھے سو رہے ہیں لیکن جب چادر الٹی گی تو بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نظر آئے۔ مشرکین حیرت زدہ رہ گئے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: “تمارے صاحب کہاں ہیں ؟”
مگر اُنھوں نے کچھ نہ بتایا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مارتے ہوئے باہر لے آئے اور مسجد حرام تک لائے، کچھ دیر تک انہوں نے انہیں روکے رکھا، پھر چھوڑ دیا۔
اب حضورصلی اللہ وعلیہ وسلم کو ہجرت کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ انہوں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا:
“میرے ساتھ دوسرا ہجرت کرنے والا کون ہوگا؟”
جواب میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا:
“ابوبکر صدیق ہونگے۔”
حضور ﷺ اس وقت تک چادر اوڑھے ہوئے تھے اسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ دروازے پر دستک دی تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے دروازہ کھولا اور حضور ﷺ کو دیکھ کر اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ آئے ہیں اور چادر اوڑھے ہوئے ہیں ۔
یہ سنتے ہی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بول اُٹھے:
” اللہ کی قسم! اس وقت آپ ﷺ یقیناً کسی خاص کام سے تشریف لائے ہیں ۔”
پھر انہوں نے آپ ﷺ کو اپنی چارپائی پر بٹھایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“دوسرے لوگوں کو یہاں سے اٹھا دو۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حیران ہو کر عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! یہ تو سب میرے گھر والے ہیں ۔”
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
“مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔”
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوراً بول اٹھے:
“میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا میں آپ کے ساتھ جاؤں گا؟”
جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“ہاں ! تم میرے ساتھ جاؤ گے -”
یہ سنتے ہی مارے خوشی کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے – حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، میں نے اپنے والد کو روتے دیکھا تو حیران ہوئی… اس لیے کہ میں اس وقت تک نہیں جانتی تھی کہ انسان خوشی کی وجہ سے بھی رو سکتا ہے –
پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان! آپ ان دونوں اونٹنیوں میں سے ایک لے لیں ، میں نے انہیں اسی سفر کے لیے تیار کیا ہے -”
اس پر حضور ﷺ نے فرمایا:
“میں یہ قیمت دے کر لے سکتا ہوں -”
یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان! میں اور میرا سب مال تو آپ ہی کا ہے -”
حضور ﷺ نے ایک اونٹنی لے لی –
بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اونٹنی کی قیمت دی تھی – اس اونٹنی کا نام قصویٰ تھا – یہ آپ ﷺ کی وفات تک آپ کے پاس ہی رہی – حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اس کی موت واقع ہوئی –
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ان دونوں اونٹنیوں کو جلدی جلدی سفر کے لیے تیار کیا – چمڑے کی ایک تھیلی میں کھانے پینے کا سامان رکھ دیا – حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر پھاڑ کر اس کے ایک حصے سے ناشتے کی تھیلی باندھ دی – دوسرے حصے سے انہوں نے پانی کے برتن کا منہ بند کردیا – اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالیٰ تمہاری اس اوڑھنی کے بدلے جنت میں دو اوڑھنیاں دے گا۔”
اوڑھنی کو پھاڑ کر دو کرنے کے عمل کی بنیاد پر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو ذات النطاقین کا لقب ملا یعنی دو اوڑھنی والی۔یاد رہے کہ نطاق اس دوپٹے کو کہا جاتا ہے جسے عرب کی عورتیں کام کے دوران کمر کے گرد باندھ لیتی تھیں ۔
پھر رات کے وقت حضور صلی اللہ ھو علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اور پہاڑ ثور کے پاس پہنچے۔ سفر کے دوران کبھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے آگے چلنے لگتے تو کبھی پیچھے انحضرت ﷺ نے دریافت فرمایا:
“ابوبکر ایسا کیوں کر رہے ہو؟”
جواب میں انہوں نے عرض کیا:
“اللہ کےرسول! میں اس خیال سے پریشان ہوں کہ کہیں راستے میں کوئی آپ کی گھات میں نہ بیٹھا ہو۔” اس پہاڑ میں ایک غار تھا۔ دونوں گار کے دھانے تک پہنچے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا:
“قسم اُس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا۔ آپ ذرا ٹھریے! پہلے غار میں داخل ہوں گا، اگر غار میں کوئی موذی کیڑا ہوا تو کہیں وہ آپ کو نقصان نہ پہنچا دے…”
چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غار میں داخل ہوئے۔ انہوں نے غار کو ہاتھوں سے ٹٹول کر دیکھنا شروع کیا۔ جہاں کوئی سوراخ ملتا اپنی چادر سے ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس کو بند کر دیتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں