Seerat-ul-Nabi 54

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مسجد نبوی کی تعمیر

جمعہ کی یہ پہلی نماز مدینہ منورہ کے محلے بنی سالم کی جس مسجد میں آپ نے جمعہ ادا کیا، اب اس مسجد کو “مسجد جمعہ” کہا جاتا ہے۔یہ قبا کی طرف جانے والے راستے کے بائیں طرف ہے۔اس طرح یہ پہلی نماز جمعہ تھی۔حضور ﷺ نے اس نماز سے پہلے خطبہ بھی دیا تھا۔اس پہلے خطبے میں جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کا کچھ حصہ یہ تھا۔
“پس جو شخص اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتا ہے تو ضرور بچالے۔چاہے وہ آدھے چھوہارے کے برابر ہی کیوں نہ ہو، جسے کچھ بھی نہ آتا ہو، وہ کلمہ طیبہ کو لازم کرلے، کیونکہ نیکی کا ثواب دوگنا سے لے کر سات سو گنا تک ملتا ہے اور سلام ہو اللہ کے رسول پر اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو۔”
نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ جانے کے لیے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑدی، یعنی اسے اپنی مرضی سے چلنے کی اجازت دی۔اونٹنی نے پہلے دائیں اور بائیں دیکھا، جیسے چلنے سے پہلے فیصلہ کررہی ہوکہ کس سمت میں جانا ہے، ایسے میں بنی سالم کے لوگوں ( یعنی جن کے محلے میں جمعے کی نماز ادا کی گئی تھی)نے عرض کیا۔
“اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ہاں قیام فرمایئے، یہاں لوگوں کی تعداد زیادہ ہے – یہاں آپ کی پوری حفاظت ہو گی… یہاں دولت بھی ہے، ہمارے پاس ہتھیار بھی ہیں … ہمارے پاس باغات بھی ہیں اور زندگی کی ضرورت کی سب چیزیں بھی موجود ہیں -”
آپ ﷺ ان کی بات سن کر مسکرائے، ان کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا:
“میری اونٹنی کا راستہ چھوڑدو، یہ جہاں جانا چاہے، اسے جانے دو، کیونکہ یہ مامور ہے -”
مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے اونٹنی خود چلے گی اور اسے اپنی منزل معلوم ہے – آپ ﷺ نے ان حضرات کو دعا دی:
“اللہ تعالٰی تمہیں برکت عطا فرمائے -”
اس کے بعد اونٹنی روانہ ہوئی – یہاں تک کہ بنی بیاصہ کے محلے میں پہنچی – یہاں کے لوگوں نے بھی آپ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے ہاں ٹھہریں ، آپ ﷺ نے انہیں بھی وہی جواب دیا جو بنی سالم کو دیا تھا – اسی طرح بنی ساعدہ کے علاقے سے گزرے – ان حضرات نے بھی یہ درخواست کی – آپ ﷺ نے یہی جواب فرمایا – اونٹنی آگے بڑھی – اب یہ بنی عدی کے محلے میں داخل ہوئی، یہاں آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب کی ننھیال تھی – ان لوگوں نے عرض کیا:
“ہم آپ کے ننھیال والے ہیں ، اس لیے یہاں قیام فرمایئے – یہاں آپ کی رشتہ داری بھی ہے، ہم تعداد میں بھی بہت ہیں – آپ کی حفاظت بھی بڑھ چڑھ کر کریں گے، پھر یہ کہ ہم آپ کے رشتہ دار بھی ہیں ، سو ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں -”
آپ ﷺ نے انہیں بھی وہی جواب دیا کہ یہ اونٹنی مامور ہے، اسے اپنی منزل معلوم ہے – اونٹنی اور آگے بڑھی اور اسی محلے میں ایک جگہ بیٹھ گئی – یہ جگہ بنی مالک بن نجار کے محلے کے پاس تھی اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے کے قریب تھی –
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا نام خالد بن زید نجار انصاری تھا – یہ قبیلہ خزرج کے تھے – بیعت عقبہ کے موقع پر موجود تھے – ہر موقع پر حضور ﷺ کے ساتھ رہے – حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بہت قریبی معاونین میں سے رہے – ان کی وفات یزید کے دور میں قسطنطنیہ کے جہاد کے دوران ہوئی –
اونٹنی بیٹھ گئی، ابھی آپ ﷺ اس سے اُترے نہیں تھے کہ وہ اچانک پھر کھڑی ہوگئی… چند قدم چلی اور ٹھہر گئی… آپ ﷺ نے اس کی لگام بدستور چھوڑے رکھی تھی – اونٹنی اس کے بعد واپس اس جگہ آئی جہاں پہلے بیٹھی تھی – وہ دوبارہ اسی جگہ بیٹھ گئی – اپنی گردن زمین پر رکھ دی اور منہ کھولے بغیر ایک آواز نکالی – اب نبی اکرم ﷺ اس سے اترے – ساتھ ہی فرمایا:
“اے میرے پروردگار! مجھے مبارک جگہ پر اتارنا اور تو ہی بہترین جگہ ٹھہرانے والا ہے -”
آپ ﷺ نے یہ جملہ چار مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا:
“ان شاء اللہ! یہی قیام گاہ ہوگی -”
اب آپ ﷺ نے سامان اتارنے کا حکم دیا – حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“کیا میں آپ کا سامان اپنے گھر لے جاؤں -”
آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی – وہ سامان اتار کر لے گئے – اسی وقت حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ آگئے – انہوں نے اونٹنی کی مہار تھام لی اور اونٹنی کو لے گئے، چنانچہ اونٹنی ان کی مہمان بنی –
بنی نجار کے ہاں اترنے پر ان کی بچیوں نے دف ہاتھوں میں لے لیے اور خوشی سے سرشار ہوکر ان کو بجانے لگیں اور یہ گیت گانے لگیں :
ترجمہ:”ہم بنی نجار کے پڑوسیوں میں سے ہیں ، کس قدر خوش قسمتی کی بات ہے کہ محمد ﷺ ہمارے پڑوسی ہیں -”
ان کی آواز سن کر نبی اکرم ﷺ باہر نکل آئے – ان کے نزدیک آئے اور فرمایا:
“کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟”
وہ بولیں :
“ہاں ! اے اللہ کے رسول -”
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :
“اللہ جانتا ہے، میرے دل میں بھی تمہارے لیے محبت ہی محبت ہے -”
آنحضرت ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر اس وقت تک ٹھہرے جب تک کہ مسجد نبوی اور اس کے ساتھ آپ ﷺ کا حجرہ تیار نہیں ہوگیا -آپ تقریباً گیارہ ماہ تک وہاں ٹھہرے رہے –
آپ ﷺ جب قبا سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو ساتھ اکثر مہاجرین بھی مدینہ منورہ آگئے تھے – اس وقت انصاری مسلمانوں کا جذبہ قابل دید تھا – ان سب کی خواہش تھی کہ مہاجرین ان کے ہاں ٹھہریں – اس طرح ان کے درمیان بحث ہوئی – آخر انصاری حضرات نے مہاجرین کے لیے قرعہ اندازی کی – اس طرح جو مہاجر جس انصاری کے حصہ میں آئے، وہ انہی کے ہاں ٹھہرے، انصاری مسلمانوں نے انہیں نہ صرف اپنے گھروں میں ٹھہرایا بلکہ ان پر اپنا مال اور دولت بھی خرچ کیا –
مہاجرین کی آمد سے پہلے انصاری مسلمان ایک جگہ باجماعت نماز ادا کرتے تھے – حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے تھے – جب آپ ﷺ تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد بنانے کی فکر ہوئی – آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دی – اونٹنی چل پڑی، وہ اس جگہ جاکر بیٹھ گئی جہاں آج مسجد نبوی ہے، جس جگہ مسلمان نماز ادا کرتے رہتے تھے، وہ جگہ بھی اس کے آس پاس ہی تھی، اس وقت وہاں صرف دیواریں کھڑی کی گئی تھیں … ان پر چھت نہیں تھی – اونٹنی کے بیٹھنے پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“بس! مسجد اس جگہ بنے گی -”
اس کے بعد آپ ﷺ نے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
“تم یہ جگہ مسجد کے لیے فروخت کردو -”
وہ جگہ دراصل دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی تھی اور اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ان کے سرپرست تھے – یہ روایت بھی آئی ہے کہ ان کے سرپرست معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے – آپ ﷺ کی بات سن کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“آپ یہ زمین لے لیں ، میں اس کی قیمت ان دونوں کو ادا کردیتا ہوں -”
آپ ﷺ نے اس سے انکار فرمایا اور دس دینار میں زمین کا وہ ٹکڑا خرید لیا – یہ قیمت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے ادا کی گئی (واہ! کیا قسمت پائی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہ قیامت تک مسجد نبوی کے نمازیوں کا ثواب ان کے نامہ اعمال میں لکھا جارہا ہے -)
یہ روایت بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ان دونوں یتیم لڑکوں کو بلوایا – زمین کے سلسلے میں ان سے بات کی – ان دونوں نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! ہم یہ زمین ہدیہ کرتے ہیں -”
آپ ﷺ نے ان یتیموں کا ہدیہ قبول کرنے سے انکار فرمادیا اور دس دینار میں زمین کا وہ ٹکڑا ان سے خرید لیا – حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں دس دینار ادا کردیں ، چنانچہ انہوں نے وہ رقم ادا کردی –
زمین کی خرید کے بعد آپ ﷺ نے مسجد کی تعمیر شروع کرنے کا ارادہ فرمایا، اینٹیں بنانے کا حکم دیا، پھر گارا تیار کیا گیا – آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پہلی اینٹ رکھی – پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ دوسری اینٹ وہ رکھیں – انہوں نے آپ ﷺ کی لگائی ہوئی اینٹ کے برابر دوسری اینٹ رکھ دی – اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا – انہوں نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اینٹ کے برابر تیسری اینٹ رکھی – اب آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا – انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اینٹ کے برابر چوتھی اینٹ رکھی – ساتھ ہی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“میرے بعد یہی خلیفہ ہوں گے -” (مستدرک حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے)
پھر حضور اقدس نے ﷺ نے عام مسلمانوں کو حکم فرمایا:
“اب پتھر لگانا شروع کردو -“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں