Seerat-ul-Nabi 60

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مدینہ منورہ میں آمد

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“ایک برتن لاؤ -”
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا ایک برتن اٹھا لائیں … وہ اتنا بڑا تھا کہ اس سے آٹھ دس آدمی سیراب ہوسکتے تھے – غرض حضور ﷺ نے بکری کا دودھ نکالا – اس کے تھنوں میں دودھ بہت بھر گیا تھا – آپ ﷺ نے وہ دودھ پہلے اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کو دیا – انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا، اس کے بعد ان کے گھر والوں نے پیا – آخر میں نبی کریم ﷺ نے خود دودھ نوش فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا:
“قوم کو پلانے والا خود سب سے بعد میں پیتا ہے -”
سب کے دودھ پی لینے کے بعد آپ ﷺ نے پھر بکری کا دودھ نکال کر اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور وہاں سے آگے روانہ ہوئے –
شام کے وقت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کے شوہر ابو معبد رضی اللہ عنہ لوٹے، وہ اپنی بکریوں کو چرانے کے لیے گئے ہوئے تھے – خیمے پر پہنچے تو وہاں بہت سا دودھ نظر آیا – دودھ دیکھ کر حیران ہوگئے، بیوی سے بولے:
“اے آُمّ معبد! یہ یہاں دودھ کیسا رکھا ہے… گھر میں تو کوئی دودھ دینے والی بکری نہیں ہے؟”
مطلب یہ تھا کہ یہاں جو بکری تھی، وہ تو دودھ دے ہی نہیں سکتی تھی – پھر یہ دودھ کہاں سے آیا؟
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا بولیں :
“آج یہاں سے ایک بہت مبارک شخص کا گزر ہوا تھا -”
یہ سن کر حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ اور حیران ہوئے، پھر بولے:
“ان کا حلیہ تو بتاؤ -”
جواب میں اُمّ معبد رضی اللہ عنہا نے کہا:
“ان کا چہرہ نورانی تھا، ان کی آنکھیں ان کی لمبی پلکوں کے نیچے چمکتی تھیں ، وہ گہری سیاہ تھیں ، ان کی آواز میں نرمی تھی، وہ درمیانے قد کے تھے – (یعنی چھوٹے قد کے نہیں تھے) – نہ بہت زیادہ لمبے تھے، ان کا کلام ایسا تھا جیسے کسی لڑی میں موتی پرو دئیے گئے ہوں ، بات کرنے کے بعد جب خاموش ہوتے تھے تو ان پر باوقار سنجیدگی ہوتی تھی – اپنے ساتھیوں کو کسی بات کا حکم دیتے تھے تو وہ جلد از جلد اس کو پورا کرتے تھے، وہ انہیں کسی بات سے روکتے تھے تو فوراً رک جاتے تھے – وہ انتہائی خوش اخلاق تھے، ان کی گردن سے نور کی کرنیں پھوٹتی تھیں ، ان کے دونوں ابرو ملے ہوئے تھے – بال نہایت سیاہ تھے – وہ دور سے دیکھنے پر نہایت شاندار اور قریب سے دیکھنے پر نہایت حسین و جمیل لگتے تھے – ان کی طرف نظر پڑتی تو پھر دوسری طرف ہٹ نہیں سکتی تھی – اپنے ساتھیوں میں وہ سب سے زیادہ حسین و جمیل اور بارعب تھے – سب سے زیادہ بلند مرتبہ تھے -”
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کا بیان کردہ حلیہ سن کر ان کے شوہر بولے:
“اللہ کی قسم! یہ حلیہ اور صفات تو انہی قریشی بزرگ کی ہے، اگر میں اس وقت یہاں ہوتا تو ضرور ان کی پیروی اختیار کرلیتا اور میں اب اس کی کوشش کروں گا -”
چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت اُمّ معبد اور حضرت ابومعبد رضی اللہ عنہما ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تھے اور انہوں نے اسلام قبول کیا تھا –
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کی جس بکری کا دودھ آپ ﷺ نے دوہا تھا، وہ بکری حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے تک زندہ رہی –
ادھر مکہ میں جب قریش کو نبی کریم ﷺ کا کچھ پتہ نہ چلا تو وہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے – ان میں ابوجہل بھی تھا – دروازے پر دستک دی گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا باہر نکلیں – ابوجہل نے پوچھا:
“تمہارے والد کہاں ہیں ؟”
وہ بولیں :
“مجھے نہیں معلوم -”
یہ سن کر ابوجہل نے انہیں ایک زوردار تھپڑ مارا – تھپڑ سے ان کے کان کی بالی ٹوٹ کر گرگئی –
اس پر بھی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے انہیں کچھ نہ بتایا – ابوجہل اور اس کے ساتھی بڑبڑاتے ہوئے ناکام لوٹ گئے –
ادھر مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ اللہ کے رسول مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے ہیں … اب تو وہ بے چین ہوگئے – انتظار کرنا ان کے لیے مشکل ہوگیا – روزانہ صبح سویرے اپنے گھروں سے نکل پڑتے اور حرہ کے مقام تک آجاتے جو مدینہ منورہ کے باہر ایک پتھریلی زمین ہے – جب دوپہر ہوجاتی اور دھوپ میں تیزی آجاتی تو مایوس ہوکر وآپس لوٹ آتے – پھر ایک دن ایسا ہوا… مدینہ منورہ کے لوگ گھروں سے مقام حرہ تک آئے – جب کافی دیر ہوگئی اور دھوپ میں تیزی آگئی تو وہ پھر وآپس لوٹنے لگے – ایسے میں ایک یہودی حرہ کے ایک اونچے ٹیلے پر چڑھا – اسے مکہ کی طرف سے کچھ سفید لباس والے آتے دکھائی دئیے – اس قافلے سے اٹھنے والی گرد سے نکل کر جب آنحضرت ﷺ واضح طور پر نظر آئے تو وہ یہودی پکار اٹھا :
“اے گروہِ عرب! جن کا تمہیں انتظار تھا، وہ لوگ آگئے -”
یہ الفاظ سنتے ہی مسلمان وآپس دوڑے اور حرہ کے مقام پر پہنچ گئے – انہوں نے حضور اقدس ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو ایک درخت کے سائے میں آرام کرتے پایا –
ایک روایت میں ہے کہ پانچ سو سے کچھ زائد انصاریوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا –
وہاں سے چل کر حضور اقدس ﷺ قبا تشریف لائے – اس روز پیر کا دن تھا – آپ ﷺ نے قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کلثوم بن معدم رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا – بنی عمرو کا یہ گھرانہ قبیلہ اوس میں سے تھا – ان کے بارے میں روایت ملتی ہے کہ آپ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے –
قبا میں حضور ﷺ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی – اس کا نام مسجد قبا رکھا – اس مسجد کے بارے میں ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص نے مکمل طور پر وضو کیا، پھر مسجد قبا میں نماز پڑھی تو اسے ایک حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا… حضور اقدس ﷺ اکثر اس مسجد میں تشریف لاتے رہے – اس مسجد کی فضیلت میں اللہ تعالٰی نے سورۃ التوبہ میں ایک آیت بھی نازل فرمائی –
قبا سے آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے – جونہی آپ کی آمد کی خبر مسلمانوں کو پہنچی، ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی – حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ والوں کو آنحضرت ﷺ کی آمد پر جتنا خوش دیکھا، اتنا کسی اور موقع پر نہیں دیکھا… سب لوگ آپ ﷺ کے راستے میں دونوں طرف آکھڑے ہوئے اور عورتیں چھتوں پر چڑھ گئیں تاکہ آپ کی آمد کا منظر دیکھ سکیں – عورتیں اور بچے خوشی میں یہ اشعار پڑھنے لگے:
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّهِ دَاعِ
أَيُّهَا الْمَبْعُوْثُ فِيْنَا
جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ
ترجمہ:”چودھویں رات کا چاند ہم پر طلوع ہوا ہے – جب تک اللہ تعالٰی کو پکارنے والا اس سر زمین پر باقی ہے، ہم پر اس نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے – اے آنے والے شخص جو ہم میں پیغمبر بناکر بھیجے گئے ہیں آپ ایسے احکامات لےکر آئے ہیں جن کی پیروی اور اطاعت واجب ہے -”
راستے میں ایک جگہ حضور ﷺ بیٹھ گئے – حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس کھڑے ہوگئے – حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوچکے تھے جب کہ حضور اقدس ﷺ جوان نظر آتے تھے – حضور اقدس ﷺ کے بال سیاہ تھے، اگرچہ آپ ﷺ عمر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دو سال بڑے تھے –
اب ہوا یہ کہ جن لوگوں نے پہلے آپ ﷺ کو نہیں دیکھا تھا، انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں خیال کیا کہ اللہ کے رسول یہ ہیں اور گرم جوشی سے ان سے ملنے لگے – یہ بات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوراً محسوس کرلی… اس وقت تک دھوپ بھی حضور اکرم ﷺ پر پڑنے لگی تھی، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے حضور اکرم ﷺ پر سایہ کردیا – تب لوگوں نے جانا اللہ کے رسول یہ ہیں –
پھر نبی کریم ﷺ اس جگہ سے روانہ ہوئے – آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے اور ساتھ ساتھ بہت سے لوگ چل رہے تھے – ان میں سے کچھ سوار تھے تو کچھ پیدل – اس وقت مدینہ منورہ کے لوگوں کی زبان پر یہ الفاظ تھے:
“اللہ اکبر! رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے -”
راستے میں آپ کی خوشی میں حبشیوں نے نیزہ بازی کے کمالات اور کرتب دکھائے… ایسے میں ایک شخص نے پوچھا:
“اے اللہ کے رسول! آپ جو یہاں سے آگے تشریف لے جارہے ہیں تو کیا ہمارے گھروں سے بہتر کوئی گھر چاہتے ہیں ؟”
اس کے جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“مجھے ایک ایسی بستی میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو دوسری بستیوں کو کھالے گی -”
اس کا مطلب یہ تھا کہ دوسری بستی کے لوگوں پر اثر انداز ہوجائے گی یا دوسری بستیوں کو فتح کرلے گی –
یہ جواب سن کر لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کا راستہ چھوڑ دیا – اس بستی کے بارے میں سب کو بعد میں معلوم ہو گیا کہ وہ مدینہ منورہ ہے –
مدینہ منورہ کا پہلا نام یثرب تھا – یثرب ایک شخص کا نام تھا – وہ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا – مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی آمد جمعہ کے روز ہوئی، چنانچہ اس روز پہلا جمعہ پڑھا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں