Seerat-ul-Nabi 3

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کا آغاز

مسلمان پتھروں سے بنیادیں بھرنے لگے – بنیادیں تقریباً تین ہاتھ(ساڑھے 4 فٹ) گہری تھیں – اس کے لیے اینٹوں کی تعمیر اٹھائی گئی – دونوں جانب پتھروں کی دیواریں بنا کر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت بنائی گئی اور کھجور کے تنوں کے ستون بنائے گئے – دیواروں کی اونچائی انسانی قد کے برابر تھی –
ان حالات میں کچھ انصاری مسلمانوں نے کچھ مال جمع کیا – وہ مال آپ ﷺ کے پاس لائے اور عرض کیا:
“اللہ کے رسول! اس مال سے مسجد بنائیے اور اس کو آراستہ کیجیے، ہم کب تک چھپر کے نیچے نماز پڑھیں گے -”
اس پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“مجھے مسجدوں کو سجانے کا حکم نہیں دیا گیا -”
اسی سلسلے میں ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
“قیامت قائم ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ لوگ مسجدوں میں آرائش اور زیبائش کرنے لگیں گے جیسے یہود اور نصارٰی اپنے کلیساؤں اور گرجوں میں زیب و زینت کرتے ہیں -”
مسجد نبوی کی چھت کھجور کی چھال اور پتوں کی تھی اور اس پر تھوڑی سی مٹی تھی – جب بارش ہوتی تو پانی اندر ٹپکتا… یہ پانی مٹی ملا ہوتا… اس سے مسجد کے اندر کیچڑ ہو جاتا – یہ بات محسوس کرکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ! اگر آپ حکم دیں تو چھت پر زیادہ مٹی بچھا دی جائے تاکہ اس میں سے پانی نہ رِسے، مسجد میں نہ ٹپکے -”
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“نہیں ! یونہی رہنے دو -”
مسجد کے تعمیر کے کام میں تمام مہاجرین اور انصار صحابہ نے حصہ لیا – یہاں تک کہ خود حضور نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے ہاتھوں سے کام کیا – آپ ﷺ اپنی چادر میں اینٹیں بھر بھر کر لاتے یہاں تک کہ سینہ مبارک غبار آلود ہو جاتا – صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آنحضرت ﷺ کو اینٹیں اٹھاتے دیکھا تو وہ اور زیادہ جانفشانی سے ایینٹیں ڈھونے لگے – (یہاں اینٹوں سے مراد پتھر ہیں -) ایک موقع پر آپ ﷺ نے دیکھا کہ باقی صحابہ تو ایک ایک پتھر اٹھا کر لا رہے ہیں اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو پتھر اٹھا کر لا رہے تھے تو ان سے پوچھا:
“عمار! تم بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک پتھر کیوں نہیں لاتے -”
انہوں نے عرض کیا:
اس لیے کہ میں اللہ تعالٰی سے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب چاہتا ہوں -”
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بہت نفیس اور صفائی پسند تھے – وہ بھی مسجد کی تعمیر کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے – پتھر اٹھا کر چلتے تو اس کو اپنے کپڑوں سے دور رکھتے تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں – اگر مٹی لگ جاتی تو فوراً چٹکی سے اس کو جھاڑنے لگ جاتے – دوسرے صحابہ دیکھ کر مسکرادیتے –
مسجد کی تعمیر کے بعد حضور اکرم ﷺ اس میں پانچ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے – اس کے بعد اللہ تعالٰی کے حکم سے قبلے کا رخ بیت اللہ کی طرف ہو گیا – مسجد کا پہلے فرش کچا تھا، پھر اس پر کنکریاں بچھا دی گئیں – یہ اس لیے بچھائی گئیں کہ ایک روز بارش ہوئی، فرش گیلا ہوگیا – اب جو بھی آتا، اپنی جھولی میں کنکریاں بھر کر لاتا اور اپنی جگہ پر ان کو بچھا کر نماز پڑھتا – تب نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ سارا فرش ہی کنکریوں کا بچھا دو –
پھر جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو نبی کریم ﷺ نے مسجد کو وسیع کرنے کا ارادہ فرمایا – مسجد کے ساتھ زمین کا ایک ٹکڑا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تھا، یہ ٹکڑا انہوں نے ایک یہودی سے خریدا تھا – جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مسجد کو وسیع کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے زمین کا یہ ٹکڑا جنت کے ایک مکان کے بدلے میں خرید لیں -”
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے زمین کا وہ ٹکڑا ان سے لے لیا – مسجد نبوی کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اگر میری یہ مسجد صنعا کے مقام تک بھی بن جائے(یعنی اتنی وسیع ہوجائے) تو بھی یہ میری مسجد ہی رہے گی، یعنی مسجد نبوی ہی رہے گی -”
اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ، آپ نے مسجد نبوی کے وسیع ہونے کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی اور ہوا بھی یہی – بعد کے ادوار میں اس کی توسیع ہوتی رہی ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا –
مسجد نبوی کے ساتھ ہی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو حجرے بنائے گئے – یہ حجرے مسجد نبوی سے بالکل ملے ہوئے تھے – ان حجروں کی چھتیں بھی مسجد کی طرح کھجوروں کی چھال سے بنائی گئی تھیں – مسجد نبوی کی تعمیر تک آپ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام پذیررہے – آپ ﷺ نے ان کے مکان میں نچلی منزل میں قیام فرمایا تھا، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نے آپ ﷺ سے درخواست کی تھی:
“حضور! آپ اوپر والی منزل میں قیام فرمائیں -”
اس پر آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا:
“مجھے نیچے ہی رہنے دیں … کیونکہ لوگ مجھ سے ملنے کے لیے آئیں گے، اسی میں سہولت رہے گی -”
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” ایک رات ہماری پانی کی گھڑیاں ٹوٹ گئی – ہم گھبرا گئے کہ پانی نیچے نہ ٹپکنے لگے اور آپ ﷺ کو پریشانی نہ ہو…تو ہم نے فوراً اس پانی کو اپنے لحاف میں جذب کرنا شروع کردیا… اور ہمارے پاس وہ ایک ہی لحاف تھا اور دن سردی کے تھے -”
اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے پھر آپ ﷺ سے اوپر والی منزل پر قیام کرنے کی درخواست کی… آخر آپ ﷺ نے ان کی بات مان لی –
ان کے گھر کے قیام کے دوران آپ ﷺ کے لیے کھانا حضرت اسعد بن زرارہ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے ہاں سے بھی آتا تھا –
اس تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت زید بن رافع رضی اللہ عنہما کو مکہ بھیجا تاکہ حضور اکرم ﷺ کے گھر والوں کو لے آئیں – حضور اکرم ﷺ نے انہیں سفر میں خرچ کرنے کے لیے 500 درہم اور دو اونٹ دئیے – رہبر کے طور پر ان کے ساتھ عبداللہ بن اریقط کو بھیجا – سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ اخراجات برداشت کیے – ان کے گھر والوں کو لانے کی ذمے داری بھی انہیں ہی سونپی گئی – اس طرح یہ حضرات مکہ معظمہ سے آپ ﷺ کی صاحب زادیوں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو، آنحضرت ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا، اور دایہ ام ایمن رضی اللہ عنہا( جو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں )اور ان کے بیٹے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو لے کر مدینہ منورہ آگئے۔حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی دایا کے بیٹے تھے اور آپ ﷺ کو حد درجے عزیز تھے۔
آپ ﷺ کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا چونکہ شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔اس لیے انہیں ہجرت کرنے سے روک دیا گیا۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بعد میں ہجرت کی تھی اور اپنے شوہر کو کفر کی حالت میں مکہ ہی چھوڑ آئی تھیں ۔ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ تھے۔یہ غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کے لشکر میں شامل ہوئے، گرفتار ہوئے، لیکن انہیں چھوڑ دیا گیا، پھر یہ مسلمان ہوگئے تھے۔
آپ ﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہلے ہی حبشہ ہجرت کرگئی تھیں ۔یہ بعد میں حبشہ سے مدینہ پہنچے تھے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والے بھی ساتھ ہی مدینہ منورہ آگئے۔ان میں ان کی زوجہ محترمہ حضرت ام رومان، حضرت عائشہ صدیقہ اور ان کی بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا شامل تھیں ۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ آئے۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا۔
“جس شخص کو جنت کی حوروں میں سے کوئی حور دیکھنے کی خواہش ہو، وہ ام رومان کو دیکھ لے۔”
ہجرت کے اس سفر میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے قبا میں ٹھہرنا پڑا۔ان کے ہاں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔بچے کی پیدائش کے بعد مدینہ پہنچیں اور اپنا بچہ آپ ﷺ کی گود میں برکت حاصل کرنے کے لیے پیش کیا – یہ ہجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں پہلا بچہ تھا – ان کی پیدائش پر مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی، کیونکہ کفار نے مشہور کر دیا تھا کہ جب سے رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین مدینہ آئے ہیں ، ان کے ہاں کوئی نرینہ نہیں ہوئی کیونکہ ہم نے ان پر جادو کردیا ہے – حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر ان لوگوں کی یہ بات غلط ثابت ہوگئی، اس لیے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی –
مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوگئی تو رات کے وقت اس میں روشنی کا مسئلہ سامنے آیا – اس غرض کے لیے پہلے پہل کھجور کی شاخیں جلائی گئیں – پھر حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو وہ اپنے ساتھ قندیلیں ، رسیاں اور زیتون کا تیل لائے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں