Seerat-ul-Nabi 228

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – لشکرِ اسامہ رضی اللہ عنہ

طوافِ وداع کے بعد آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے-واپسی کے سفر میں غدیرِ خم نامی تالاب کے مقام پر آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کو جمع فرمایا،ان کے سامنے خطبہ دیا-جس میں فرمایا:
لوگو!درحقیقت میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں اور بندہ ہوں -ممکن ہے،اب جلد ہی میرے رب کا ایلچی میرے پاس آجائے-(یعنی میرا بلاوا آجائے) اور میں اس کے آگے سرِ تسلیم خم کردوں ،میں بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں اور تم بھی جواب دہ ہو،اب تم کیا کہتے ہو؟”
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا:
“ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے تبلیغ کا حق ادا کردیا،اس میں پوری محنت فرمائی اور نصیحت تمام کردی-”
تب آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
“کیا تم اس کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ جنت،دوزخ اور موت برحق چیزیں ہیں اور یہ کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا برحق ہے اور یہ کہ قیامت آنے والی چیز ہے-اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ کہ اللہ تعالٰی ان لوگوں کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے گا جو قبروں میں پہنچ چکے ہیں ؟”
صحابہ کرام نے عرض کیا:
“بےشک ہم ان سب باتوں کی گواہی دیتے ہیں -”
اس پر حضور ﷺ نے فرمایا:
“اے اللہ!آپ گواہ رہیے گا-”
پھر فرمایا:
“لوگو!قرآن پر جمے رہنا-میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں -ایک اللہ کی کتاب،دوسرے اپنے گھر والے(جس میں ازواج مطہرات اور آپ ﷺ کی صاحبزادیاں سب آگئیں )… تم منتشر ہوکر پھوٹ مت ڈال لینا،یہاں تک کہ تم حوضِ کوثر پر میرے پاس جمع ہوجاؤ-”
اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ الفاظ فرمائے:
“میں جس کا مولی اور آقا ہوں علی بھی اس کے مولی اور آقا ہیں -اے اللہ جو علی کا مددگار ہو تو بھی اس کا مددگار ہوجا…اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ-جو اس سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ جو اس سے بغض رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ…جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کی اعانت کرے تو بھی اس کی اعانت فرما،جو بھی اسے رسوا کرے تو اسے رسوا فرما،یہ جہاں بھی ہو،تو حق اور صداقت کو اس کا ساتھی بنانے-”
لفظ مولا کے بہت سے معانی ہیں -یہاں آنحضرت ﷺ کی مراد یہ تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام اہلِ ایمان کے لیے بزرگ،سردار اور قابلِ احترام ہیں ،مولا کا ایک مطلب مددگار بھی ہے-غرض مولا کے بیس کے قریب معانی ہیں –
مشہور محدث امام نووی رحمۃاللہ علیہ سے پوچھا گیا:
“آنحضرت ﷺ کا یہ جو ارشاد ہے کہ جس کا میں مولا ہوں ،اس کے مولی علی بھی ہیں ، کیا اس ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ امامت کے زیادہ حق دار ہیں -”
اس سوال کے جواب میں امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا:
“اس حدیث سے یہ مطلب نہیں نکلتا بلکہ ان علماء کے نزدیک جو اس میدان میں نمایاں ہیں اور جن کی تحقیق پر اعتماد کیا جاسکتا ہے،اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس کا مددگار،آقا اور محبوب میں ہوں تو علی بھی اس کے مددگار،آقا اور محبوب ہیں -”
اس سفر سے واپسی پر آپ ﷺ نے راستے میں ذوالحلیفہ کے مقام پر رات بسر فرمائی-اور رات کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہونے کو پسند نہیں فرمایا-پھر جب آپ ﷺ کی نظر مدینہ منورہ پر پڑی تو تین مرتبہ تکبیر کہی اور یہ کلمات پڑھے:
اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ تنہا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ،حکومت اور تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،ہم توبہ کرتے ہوئے اور اپنے پروردگار کو سجدہ کرتے ہوئے اور اس کی تعریفیں کرتے ہوئے لوٹنے والے ہیں ،اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا-اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور سب گروہوں کو اس تنہا نے شکست دی-”
پھر صبح کے وقت آپ ﷺ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے-11ھ میں پیر کے دن جب کہ ماہِ صفر کی آخری تاریخیں تھی،آنحضرت ﷺ نے رومیوں کی عظیم سلطنت کے خلاف تیاری کا حکم فرمایا،اس سے اگلے روز آنحضرت ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا:
“اس مقام کی طرف بڑھو جہاں تمہارے والد شہید ہوئے تھے اور اس علاقے کو اسلامی شہسواروں سے پامال کرو،میں تمہیں اس لشکر کا امیر بناتا ہوں … نہایت تیزی سے سفر کرکے اپنی منزل کی طرف بڑھو تاکہ جاسوسوں کی اطلاعات سے پہلے دشمن کے سر پر پہنچ جاؤ…اگر اللہ تعالٰی تمہیں ان پر فتح عطا فرمائے تو ان لوگوں کے درمیان زیادہ دیر مت ٹھہرنا اور اپنے ساتھ جاسوس اور مخبر لے جانا-”
اگلے روز بدھ کے دن رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک میں درد شروع ہوگیا-اس کے بعد بخار بھی ہوگیا-جمعرات کے دن آپ ﷺ نے تکلیف کے باوجود اپنے دستِ مبارک سے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پرچم بنا کر دیا،پھر فرمایا:
“اللہ کا نام لے کر اس کے راستے میں جہاد کے لیے جاؤ اور جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ہے،ان سے جنگ کرو-”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اپنا پرچم لے کر اسلامی لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے-وہ اس وقت بالکل نوجوان تھے…اس نوجوانی کی حالت میں آنحضرت ﷺ نے انہیں لشکر کا سالار مقرر فرمایا تھا جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بڑے بڑے ممتاز اور تجربہ کار لوگ موجود تھے…اس بنیاد پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ حضرات نے اس بات کو محسوس کیا کہ جب اتنے بڑے اور تجربہ کار حضرات موجود ہیں تو ایک نوعمر کو سپہ سالار کیوں مقرر فرمایا گیا-جب آنحضرت ﷺ کو ان باتوں کی خبر ہوئی تو سخت ناراض ہوئے- یہاں تک کہ اسی وقت اپنے حجرہ مبارک سے باہر تشریف لائے…اس وقت آپ ﷺ کے سر مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھیbاور بدن مبارک پر ایک چادر تھی-آنحضرت ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور منبر پر تشریف لائے-اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی،پھر صحابہ کرام کو خطاب فرمایا:
“لوگو!یہ کیسی باتیں ہیں جو اسامہ کو امیر بنانے پر تم لوگوں کی طرف سے مجھ تک پہنچی ہیں ؟اس سے پہلے جب میں نے اسامہ کے والد کو امیر بنایا تھا تو اس وقت بھی اس قسم کی کچھ باتیں سننے میں آئی تھیں ، قسم ہے اللہ عزوجل کی کہ وہ یعنی زید بن حارثہ امیر بننے کے لیے موزوں ترین آدمی تھے اور اب ان کے بعد ان کا بیٹا امیر بننے کے لیے موزوں ترین ہے،یہ دونوں باپ بیٹے ایسے ہیں کہ ان سے خیر ہی کا گمان کیا جاسکتا ہے،لہٰذا اسامہ کے بارے میں خیر ہی کا گمان رکھو،کیونکہ وہ تم میں سے بہترین لوگوں میں سے ایک ہے-”
اب جو صحابہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں جہاد کے لیے جانے والے تھے،وہ آنحضرت ﷺ سے ملاقات کے لیے آنے لگے-اس وقت آپ ﷺ کی طبیعت کافی ناساز تھی،اس کے باوجود فرمارہے تھے،”اسامہ کے لشکر کو روانہ کردو…”اپنی طبیعت کی خرابی کے پیشِ نظر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لشکر کے ساتھ جانے سے روک دیا تھا اور انہیں حکم فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو نمازیں پڑھائیں –
اتوار کے روز آپ ﷺ کی تکلیف میں اضافہ ہوگیا…حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر ٹھہر گئے تھے- وہاں سے آپ ﷺ کی ملاقات کے لیے آئے… جب وہ آنحضرت ﷺ کے حجرہ مبارک میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ آنکھیں بند کیے نڈھال سی حالت میں لیٹے ہوئے تھے-حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آہستہ سے آپ ﷺ کا سر مبارک دبایا اور پیشانی کو بوسہ دیا-آپ ﷺ نے کوئی بات نہ کی،دونوں ہاتھ اوپر کی طرف اٹھائے اور ان کو اسامہ پر رکھ دیا-حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ آپ ﷺ ان کے لیے دعا فرمارہے ہیں -اس کے بعد اسامہ رضی اللہ عنہ پھر اپنے لشکر میں لوٹ آئے…لشکر اس وقت جرف کے مقام پر تھا-اسلامی لشکر روانہ ہونے کی تیاری کررہا تھا کہ مدینہ منورہ سے پیغام ملا:
“آنحضرت ﷺ کی طبعیت ناساز ہوگئی ہے…آپ نہ جائیں -”
اس طرح یہ لشکر روانہ نہ ہوسکا…طبیعت خراب ہونے سے پہلے ایک روز آنحضرت ﷺ آدھی رات کے وقت قبرستان بقیع میں تشریف لے گئے اور وہاں ہر مومن کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی-
قبرستان سے واپس لوٹے تو سر مبارک میں شدید درد شروع ہوگیا-حضور اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سر درد کے بارے میں بتایا،انھوں نے سر دبانا شروع کیا…سر درد کے ساتھ بخار بھی شروع ہوگیا-
مرض شروع ہونے کے بعد بھی آنحضرت ﷺ اپنی تمام ازواج کے ہاں باری کے مطابق تشریف لے جاتے تھے-جس دن آپ ﷺ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اس دن مرض میں شدت پیدا ہوگئی-تب آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواج کو بلایا اور ان سے اجازت لی کہ آپ کی تیمارداری حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہو-سب نے خوشی سے اس کی اجازت دے دی-
پھر حضور ﷺ پر غشی طاری رہنے لگی…بخار کی شدت زیادہ ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے مختلف کنووں سے،سات مشکیں پانی منگوائیں اور اپنے اوپر ڈالنے کا حکم فرمایا۔Top

اپنا تبصرہ بھیجیں