Seerat-ul-Nabi 45

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – قریش کا تجارتیز قافلہ

حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ نماز حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی،یہ مسجد سے نکل کر راستے میں دو انصاریوں کے پاس سے گزرے…. وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اس وقت رکوع میں تھے-انہیں دیکھ کر عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے کہا:
“میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ابھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے-”
قبا والوں کو یہ خبر اگلے دن صبح کی نماز کے وقت پہنچی-وہ لوگ اس وقت دوسری رکعت میں تھے کہ منادی نے اعلان کیا:
“لوگو!خبردار ہوجاؤ!قبلے کا رخ کعبہ کی طرف تبدیل ہوگیا ہے-”
نماز پڑھتے ہوئے لوگ قبلے کی طرف گھوم گئے-اس طرح مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ بنا-
اسی سال یعنی3ہجری میں رمضان کے روزے اور صدقۂ فطر کا حکم نازل ہوا-پھر مسجد نبوی میں منبر نصب کیا گیا،جب تک منبر نہیں بنا تھا،آپ ﷺ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے اور خطبہ دیتے تھے،جب منبر بن گیا اور آپ ﷺ نے کھجور کے اس تنے کی بجائے منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا تو وہ تنا رونے لگا… اس کے رونے کی آواز ایسی بلند ہوئی کہ تمام لوگوں نے اس آواز کو سنا-آواز اس قدر دردناک تھی کہ ساری مسجد ہل گئی،وہ اس طرح رورہا تھا جیسے کوئی اونٹنی اپنے بچے کے گم ہونے پر روتی ہے-
اس کے رونے کی آواز سن کر آنحضرت ﷺ منبر پر سے اتر کر اس کے پاس پہنچے اور اسے اپنے سینے سے لگالیا،اس کے بعد اس میں سے ایک بچے کے سسکنے کی آوازیں آنے لگیں -حضور اکرم ﷺ نے اس پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور فرمایا:
“پرسکون اور خاموش ہوجا-”
تب کہیں جا کر اس کا رونا بند ہوا-اس کے بعد آپ ﷺ نے اس تنے کو منبر کے نیچے دفن کرنے کا حکم دیا-آپ ﷺ نے ایک بار ارشاد فرمایا:
“میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے-”
یعنی یہ مقام جنت ہی کا ایک مقام ہے-اللہ تعالٰی نے اس مقام کو جنت میں شامل کردیا ہے-
گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ قریش کے ایک تجارتی قافلے پر حملے کی غرض سے آپ ﷺ روانہ ہوئے تھے، لیکن جب آپ ﷺ عشیرہ کے مقام پر پہنچے تو قافلہ اس مقام سے گزرکر شام کی طرف روانہ ہوچکا تھا… چنانچہ آپ ﷺ واپس تشریف لے آئے تھے-پھر جب آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ وہ قافلہ شام سے واپس آرہا ہے اور اس سامانِ تجارت کا منافع مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوگا اس لیے آپ ﷺ نے حکم دیا:
“قریش کا تجارتی قافلہ آرہا ہے،اس میں ان کا مال و دولت ہے-تم اس پر حملہ کرنے کے لیے بڑھو-ممکن ہے، اللہ تمہیں اس سے فائدہ دے-”
ادھر اس قافلے کے سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ تھے… یہ قریش کے بھی سردار تھے-
(اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے، فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے) ان کی عادت تھی کہ جب ان کا قافلہ حجاز کی سرزمین پر پہنچتا تو جاسوسوں کو بھیج کر راستے کی خبریں معلوم کرلیتے تھے-انہیں آپ ﷺ کا خوف بھی تھا،چنانچہ ان کے جاسوس نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ اس تجارتی قافلے کو گھیرنے کے لیے روانہ ہوچکے ہیں -یہ سن کر ابوسفیان رضی اللہ عنہ خوف زدہ ہوگئے-انھوں نے فوراً ایک شخص کو مکہ کی طرف روانہ کیا اور ساتھ ہی اسے یہ ہدایات دیں :
“تم اپنے اونٹ کے کان کاٹ دو،کجاوہ الٹ دو،اپنی قمیص کا اگلا اور پچھلا دامن پھاڑ دو،اسی حالت میں مکہ میں داخل ہونا -انہیں بتانا کہ محمد (ﷺ)اپنے اصحاب کے ساتھ ان کے قافلے پر حملہ کرنے والے ہیں -” ایسا اس لیے کیا تاکہ مشرکین جلد مدد کو آجائیں –
وہ شخص بہت تیزی سے روانہ ہوا-اب ابھی یہ مکہ پہنچا نہیں تھا کہ وہاں عاتکہ بنت عبدالمطلب نے ایک خواب دیکھا-حضور نبی کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں -(یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بعد میں یہ اسلام لے آئی تھیں یا نہیں ،روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے… کچھ روایات کہتی ہیں ،ایمان لے آئیں تھیں ، کچھ میں ہے کہ انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) خواب بہت خوف ناک تھا،یہ ڈر گئیں -انھوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب سنایا… لیکن اس شرط پر سنایا کہ وہ کسی اور کو نہیں سنائیں گے… انھوں نے پوچھا:
اچھا ٹھیک ہے… تم خواب سناؤ، تم نے کیا دیکھا ہے؟”
عاتکہ بنت عبدالمطلب نے کہا:
“میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اونٹ پر سوار چلا آ رہا ہے-یہاں تک کہ وہ ابطخ کے پاس آکر رکا-(ابطخ مکہ معظمہ سے کچھ فاصلے پر ہے) وہاں کھڑے ہوکر اس نے پوری آواز سے پکار پکار کر کہا” لوگو! تین دن کے اندر اندر اپنی قتل گاہوں میں چلنے کے لیے تیار ہوجاؤ”پھر میں نے دیکھا کہ لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے ہیں ،پھر وہ وہاں سے چل کر بیت اللہ میں داخل ہوا-لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلے آرہے تھے-پھر وہ شخص اونٹ سمیت کعبہ کی چھت پر نظر آیا-وہاں بھی اس نے پکار کر یہ الفاظ کہے،اس کے بعد وہ ابوقبیس کے پہاڑ پر چڑھ گیا-وہاں بھی اس نے پکار کر یہ الفاظ کہے-پھر اس نے ایک پتھر اٹھا کر لڑھکایا- پتھر وہاں سے لڑھکتا پہاڑ کے دامن میں پہنچا تو اچانک ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا-پھر مکہ کے گھروں میں سے کوئی گھر نہ بچا جہاں اس کے ٹکڑے نہ پہنچے ہوں -”
یہ خواب سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:
“اللہ کی قسم عاتکہ!تم نے بہت عجیب خواب دیکھا ہے… تم خود بھی اس کا تذکرہ کسی سے نہ کرنا-”
حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے تو راستے میں انہیں ولید بن عتبہ ملا،یہ ان کا دوست تھا-عباس رضی اللہ عنہ نے خواب اس سے بیان کردیا اور وعدہ لیا کہ کسی کو بتائے گا نہیں -ولید نے جاکر یہ خواب اپنے بیٹے عتبہ کو سنا دیا-اس طرح یہ خواب آگے ہی آگے چلتا رہا،یہاں تک کہ ہر طرف عام ہوگیا-مکہ میں اس خواب پر زور شور سے تبصرہ ہونے لگا-آخر تین دن بعد وہ شخص اونٹ پر سوار مکہ میں داخل ہوا جسے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بھیجا تھا-وہ مکہ کی وادی کے درمیان میں پہنچ کر اونٹ پر کھڑا ہوگیا اور پکارا:
“اے قریش!اپنے تجارتی قافلے کی خبر لو،تمہارا جو مال و دولت ابوسفیان لے کر آرہے ہیں ،اس پر محمد(ﷺ) حملہ کرنے والے ہیں … جلدی مدد کو پہنچو-”
اس تجارتی قافلے میں سارے قریشیوں کا مال لگا ہوا تھا،چنانچہ سب کے سب جنگ کی تیاری کرنے لگے-جو مال دار تھے،انھوں نے غریبوں کی مدد کی… تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد جنگ کے لیے جائیں -جو بڑے سردار تھے، وہ لوگوں کو جنگ پر ابھارنے لگے-ایک سردار سہیل بن عمرو نے اپنی تقریر میں کہا:
“اے قریشیو!کیا یہ بات تم برداشت کرلو گے کہ محمد(ﷺ) اور ان کے بے دین ساتھی تمہارے مال اور دولت پر قبضہ کرلیں ، لہٰذا جنگ کے لیے نکلو… جس کے پاس مال کم ہو،اس کے لیے میرا مال حاضر ہے-”
اس طرح سب سردار تیار ہوئے،لیکن ابولہب نے کوئی تیاری نہ کی،وہ عاتکہ کے خواب کی وجہ سے خوف زدہ ہوگیا تھا،وہ کہتا تھا:
“عاتکہ کا خواب بالکل سچا ہے،اور اسی طرح ظاہر ہوگا-”
ابولہب خود نہیں گیا،لیکن اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو چار ہزار درہم دےکر جنگ کے لیے تیار کیا، یعنی وہ اس کی طرف سے چلا جائے-
ادھر خوب تیاریاں ہورہی تھیں ،ادھر آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے-مدینہ سے باہر بئر عتبہ نامی کنویں کے پاس لشکر کو پڑاؤ کا حکم فرمایا-آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کنویں سے پانی پینے کا حکم دیا اور خود بھی پیا-یہیں آپ ﷺ نے حکم فرمایا:
“مسلمانوں کو گن لیا جائے-”
سب کو گنا گیا،آپ ﷺ نے سب کا معائنہ بھی فرمایا-جو کم عمر تھے،انہیں واپس فرمادیا – واپس کیے جانے والوں میں حضرت اسامہ بن زید اور رافع بن خدیجہ،براء بن عازب،اسید بن زھیر،زید بن ارقم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم شامل تھے-
جب انہیں واپس چلے جانے کا حکم ہوا تو عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رونے لگے-آخر آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی،چنانچہ وہ جنگ میں شریک ہوئے-اس وقت ان کی عمر 16 سال تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں