Seerat-ul-Nabi 95

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی رخصتی

اب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:”اے اللہ کے رسول!میں ہر وقت اس کوشش میں لگا رہتا تھا کہ اللہ کے اس نور کو بجھادوں اور جو لوگ اللہ کے دین کو قبول کرچکے ہیں ،انہیں خوب تکالیف پہنچایا کرتا تھا-اب میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ مجھے مکہ جانے کی اجازت دیں ،تاکہ وہاں کے لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤں اور اسلام کی دعوت دوں -ممکن ہے،اللہ تعالٰی انہیں ہدایت عطا فرمادیں -”
حضور اکرم ﷺ نے انہیں مکہ جانے کی اجازت دے دی،چنانچہ یہ واپس مکہ آگئے-ان کی تبلیغ سے ان کے بیٹے وہب رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہوگئے-
جب حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ عمیر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے ہیں تو وہ بھونچکا رہ گئے اور قسم کھا لی اب کبھی عمیر رضی اللہ عنہ سے نہیں بولیں گے-اپنے گھر والوں کو دین کی دعوت دینے کے بعد عمیر رضی اللہ عنہ صفوان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور پکار کہا:
“اے صفوان!تم ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار ہو،تمہیں معلوم ہے کہ ہم پتھروں کو پوجتے رہے ہیں اور اور ان کے نام پر قربانیاں دیتے رہے ہیں ،بھلا یہ بھی کوئی دین ہوا…میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں -”
ان کی بات سن کر صفوان رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہ دیا-بعد میں فتح مکہ کے موقع پر عمیر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے امان طلب کی تھی اور پھر یہ بھی ایمان لے آئے تھے-(ان کے اسلام لانے کا قصہ فتح مکہ کے موقع پر تفصیل سے آئے گا-ان شاء اللہ)-
اسی طرح ان قیدیوں میں نبی اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے- صحابہ کرام نے انہیں بہت سختی سے باندھ رکھا تھا- رسی کی سختی انہیں بہت تکلیف دے رہی تھی اور وہ کراہ رہے تھے-ان کی اس تکلیف کی وجہ سے حضور اکرم ﷺ بھی تمام رات بےچین رہے… جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ اس وجہ سے بےچین ہیں تو فوراً حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی رسیاں ڈھیلی کردیں …یہی نہیں !باقی تمام قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کردیں …پھر انھوں نے اپنا فدیہ ادا کیا اور رہا ہوئے،اسی موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے تھے مگر انھوں نے مکہ والوں سے اپنا مسلمان ہونا پوشیدہ رکھا-
قیدیوں میں ایک قیدی ابوعزہ جمحی بھی تھا-اس نے حضور نبی کریم ﷺ سے التجا کی:
“اے اللہ کے رسول!میں بال بچوں والا آدمی ہوں اور خود بہت ضرورت مند ہوں …میں فدیہ نہیں ادا کرسکتا…مجھ پر رحم فرمائیں -”
یہ شاعر تھا،مسلمانوں کے خلاف شعر لکھ لکھ کر آپ کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا-اس کے باوجود آپ ﷺ نے اس کی درخواست منظور فرمائی اور بغیر فدیے کے اسے رہا کردیا…البتہ اس سے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ مسلمانوں کے خلاف اشعار نہیں لکھے گا…اس نے وعدہ کرلیا،لیکن رہا ہونے کے بعد جب یہ مکہ پہنچا تو اس نے پھر اپنا کام شروع کردیا-مسلمانوں کے خلاف اشعار لکھنے لگا-یہ مکہ کے مشرکوں سے کہا کرتا تھا:
“میں نے محمد پر جادو کردیا تھا،اس لیے انھوں نے مجھے بغیر فدیے کے رہا کردیا-”
اگلے سال یہ شخص غزوہ احد کے موقع پر کافروں کے لشکر میں شامل ہوا اور اپنے اشعار سے کافروں کو جوش دلاتا رہا-اسی لڑائی میں یہ قتل ہوا-
بدر کے فتح کی خبر شاہِ حبشہ تک پہنچی تو وہ بہت خوش ہوئے-حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور کچھ دوسرے مسلمان اس وقت تک حبشہ ہی میں تھے-شاہِ حبشہ نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر یہ خوش خبری سنائی-
بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والے صحابہ بدری کہلائے- نہیں بہت فضیلت حاصل ہے-
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالٰی نے اصحابِ بدر پر اپنا خاص فضل و کرم فرمایا ہے اور ان سے کہہ دیا ہے کہ جو چاہو کرو،میں تمہارے گناہ معاف کرچکا……یا یہ فرمایا کہ تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے-”
مطلب یہ ہے کہ ان کے سابقہ گناہ تو معاف ہو ہی چکے ہیں ،آئندہ بھی اگر ان سے کوئی گناہ ہوئے تو وہ بھی معاف ہیں –
غزوہ بدر کے بعد آپ ﷺ نے اپنی چھوٹی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کردی-شادی سے پہلے آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ سے پوچھا:
“بیٹی تمہارے چچازاد بھائی علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے تمہارا رشتہ آیا ہے،تم اس بارے میں کیا کہتی ہو؟”
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں -گویا انہوں نے کوئی اعتراض نہ کیا-تب حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے پوچھا:
“تمہارے پاس کیا کچھ ہے؟”(یعنی شادی کے لیے کیا انتظام ہے؟)
انھوں نے جواب دیا:
“میرے پاس صرف ایک گھوڑا اور ایک زرہ ہے-”
یہ سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“گھوڑا تو تمہارے لیے ضروری ہے،البتہ تم زرہ کو فروخت کردو-”
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ زرہ چارسواسی درہم میں فروخت کردی اور رقم لاکر آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کردی-
اس سلسلے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پتا چلا کہ شادی کے سلسلے میں حضرت علی اپنی زرہ بیچ رہے ہیں تو انھوں نے فرمایا:
“یہ زرہ اسلام کے شہسوار علی کی ہے،یہ ہرگز فروخت نہیں ہونی چاہیے-”
پھر انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غلام کو بلایا اور انہیں چارسو درہم دیتے ہوئے کہا:
یہ درہم اس زرہ کے بدلے میں علی کو دے دیں -”
ساتھ ہی انھوں نے زرہ بھی واپس کردی…بہرحال اس طرح شادی کا خرچ پورا ہوا-حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا خطبہ پڑھا- پھر آپ ﷺ نے دونوں کے لیے دعا فرمائی-
غزوہ بدر کے بعد غزوہ بنی قینقاع پیش آیا-قینقاع یہودیوں کے ایک قبیلے کا نام تھا-یہودیوں میں یہ لوگ سب سے زیادہ جنگجو شمار ہوتے تھے-مدینہ منورہ میں آمد کے بعد نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ فرمایا تھا-معاہدے میں طے ہوا تھا کہ یہ لوگ کبھی آپ ﷺ کے مقابلے پر نہیں آئیں گے اور نہ آپ ﷺ کے دشمنوں کو کوئی مدد دیں گے-جن لوگوں سے معاہدہ ہوا۔ان میں یہ تین قبیلے شامل تھے-بنی قینقاع،بنی قریظہ اور بنی نظیر-
معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی دشمن مسلمانوں پر حملہ کرے گا تو یہ تینوں قبیلے مسلمانوں کی پوری پوری مدد کریں گے-ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے،لیکن ان لوگوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی-انھوں نے ایک مسلمان عورت سے بدتمیزی کی-ان کی بدتمیزی کو پاس سے گزرتے ہوئے ایک صحابی نے دیکھ لیا،انھوں نے اس یہودی کو قتل کردیا،یہ دیکھ کر محلے کے یہودیوں نے مل کر ان صحابی کو شہید کردیا-اس خبر کے پھیلنے پر وہاں اور مسلمان جمع ہوگئے-

اپنا تبصرہ بھیجیں