Seerat-ul-Nabi 100

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – سازش ناکام ہوگئی

بھائیوں کی بات کے جواب میں حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ بولے:
میں نے سوچا،اگر میں مدینہ منورہ میں مسلمان ہوگیا تو لوگ کہیں گے، میں قید سے گھبرا کر مسلمان ہوگیا ہوں -”
اب انہوں نے مدینہ منورہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے بھائیوں نے ان کو قید کردیا-حضور اکرم ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو ان کے لیے قنوت نازلہ میں رہائی کی دعا فرمانے لگے-آخر ایک دن ولید بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوگئے اور آپ ﷺ کے پاس مدینہ منورہ پہنچ گئے-
ایسے ہی ایک قیدی حضرت وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ(جو بعد میں اسلام لائے)نے بھی غزوہ بدر میں مسلمانوں سے جنگ کی تھی اور کافروں کی شکست کے بعد قیدی بنالیے گئے تھے-وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے والد کا نام عمیر تھا….ان کے ایک دوست تھے، صفوان (رضی اللہ عنہ)-ان دونوں دوستوں کا تعلق مکہ کے قریش سے تھا-دونوں اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے اور مسلمانوں کے بدترین دشمن تھے-ایک روز یہ دونوں حجر اسود کے پاس بیٹھے تھے-دونوں بدر میں قریش کی شکست کے بارے میں باتیں کرنے لگے… قتل ہونے والے بڑے بڑے سرداروں کا ذکر کرنے لگے،صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا:
“اللہ کی قسم!ان سرداروں کے قتل ہوجانے کے بعد زندگی کا مزہ ہی ختم ہوگیا ہے-”
یہ سن کر عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا:
“تم سچ کہتے ہو،خدا کی قسم!اگر مجھ پر ایک شخص کا قرض نہ ہوتا اور مجھے اپنے پیچھے بیوی بچوں کا خیال نہ ہوتا تو میں محمد (ﷺ)کے پاس پہنچ کر انہیں قتل کردیتا (معاذ اللہ)- میرے پاس وہاں پہنچنے کی وجہ بھی موجود ہے،میرا اپنا بیٹا وہب ان کی قید میں ہے،وہ بدر کی لڑائی میں شریک تھا…”
یہ سننا تھا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے وعدہ کرتے ہوئے کہا:
“تمہارا قرض میرے ذمہ ہے،وہ میں ادا کروں گا اور تمہارے بیوی بچوں کی ذمہ داری بھی میرے ذمے ہے، جب تک وہ زندہ رہیں گے،میں ان کی کفالت کروں گا-”
عمیر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر حضور ﷺ کے قتل کا پختہ عزم کرلیا اور کہا:
“بس تو پھر ٹھیک ہے،یہ معاملہ میرے اور تمہارے درمیان راز رہے گا…نہ تم کسی سے اس ساری بات کا ذکر کروگے،نہ میں -”
صفوان رضی اللہ عنہ نے وعدہ کرلیا-عمیر رضی اللہ عنہ نے گھر جا کر اپنی تلوار نکالی،اس کی دھار کو تیز کیا اور پھر اس کو زہر میں بجھایا-پھر مکہ سے مدینہ کا رخ کیا-
مسجد نبوی میں پہنچ کر عمیر رضی اللہ عنہ نے دیکھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کچھ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بیٹھے غزوہ بدر کی باتیں کررہے تھے- حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نظر ان پر پڑی تو فوراً اٹھ کھڑے ہوئے،کیونکہ انھوں نے عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ لی تھی،انھوں نے کہا:
“یہ خدا کا دشمن ضرور کسی بُرے ارادے سے آیا ہے-”
پھر وہ فوراً وہاں سے نبی اکرم ﷺ کے حجرۂ مبارک میں گئے اور عرض کیا:
“اللہ کے رسول!خدا کا دشمن عمیر ننگی تلوار لیے آیا ہے-”
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“عمر!اسے میرے پاس اندر لے آؤ-”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً باہر نکلے،تلوار کا پٹکا پکڑ کر انہیں اندر کھینچ لائے-اس وقت وہاں کچھ انصاری موجود تھے-حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا:
“تم لوگ بھی میرے ساتھ اندر آجاؤ…کیونکہ مجھے اس کی نیت پر شک ہے-”
چنانچہ وہ اندر آگئے-آنحضرت ﷺ نے جب دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمیر رضی اللہ عنہ کو اس طرح پکڑ کر لا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
” عمر!اسے چھوڑدو…عمیر!آگے آجاؤ-”
چنانچہ عمیر آپ ﷺ کے قریب آگئے اور جاہلیت کے آداب کی طرح صبح بخیر کہا-حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“عمیر!ہمیں اسلام نے تمہارے اس سلام سے بہتر سلام عنایت فرمایا ہے،جو جنت والوں کا سلام ہے…اب تم بتاؤ،تم کس لیے آئے ہو؟”
عمیر رضی اللہ عنہ بولے:
“میں اپنے قیدی بیٹے کے سلسلے میں بات کرنے آیا ہوں -”
اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“پھر اس تلوار کا کیا مطلب…سچ بتاؤ،کس لیے آئے ہو؟”
عمیر رضی اللہ عنہ بولے:
“میں واقعی اپنے بیٹے کی رہائی کے سلسلے میں آیا ہوں -”
چونکہ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے ارادے سے متعلق اللہ تعالٰی نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی پہلے سے بتادیا تھا،اس لیے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
نہیں عمیر!یہ بات نہیں …بلکہ بات یہ ہے کہ کچھ دن پہلے تم اور صفوان حجراسود کے پاس بیٹھے تھے اور تم دونوں اپنے مقتولوں کے بارے میں باتیں کررہے تھے، ان مقتولوں کی جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور جنہیں ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا تھا-اس وقت تم نے صفوان سے کہا تھا کہ اگر تمہیں کسی کا قرض نہ ادا کرنا ہوتا اور پیچھے تمہیں اپنے بیوی بچوں کی فکر نہ ہوتی تو میں جاکر”محمد(ﷺ) کو قتل کردیتا-اس پر صفوان نے کہا تھا،اگر تم یہ کام کرڈالو تو قرض کی ادائیگی وہ کردےگا اور تمہارے بیوی بچوں کا بھی خیال وہی رکھےگا،ان کی کفالت کرےگا-مگر اللہ تعالٰی تمہارا ارادہ پورا ہونے نہیں دیں گے-”
عمیر رضی اللہ عنہ یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے،کیونکہ اس گفتگو کے بارے میں صرف انہیں پتا تھا یا صفوان رضی اللہ عنہ کو،چنانچہ اب عمیر رضی اللہ عنہ فوراً بول اُٹھے:
“میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ،اور اے اللہ کے رسول!آپ پر جو آسمان سے خبریں آیا کرتی ہیں اور جو وحی نازل ہوتی ہے،ہم اس کو جھٹلایا کرتے تھے،جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے…تو اُس وقت حجر اسود کے پاس میرے اور صفوان کے سوا کوئی تیسرا شخص موجود نہیں تھا اور نہ ہی ہماری گفتگو کی کسی کو خبر ہے،کیونکہ ہم نے رازداری کا عہد کیا تھا- اس لیے اللہ کی قسم!آپ کو اللہ تعالٰی کے سوا اور کوئی اس بات کی خبر نہیں دےسکتا،پس حمدوثنا ہے اس ذاتِ باری تعالٰی کے لیے جس نے اسلام کی طرف میری رہنمائی کی اور ہدایت فرمائی اور مجھے اس راستے پر چلنے کی توفیق فرمائی-”
اس کے بعد عمیر رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگئے،تب حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
“اپنے بھائی کو دین کی تعلیم دو اور انہیں قرآن پاک پڑھاؤ اور ان کے قیدی کو رہا کرو-”
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فوراً حکم کی تعمیل کی-

اپنا تبصرہ بھیجیں