Seerat-ul-Nabi 64

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – حضرت اُمّ معبد کے خیمے پر

نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی آپ کے دعا فرماتے ہی حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑی کے پاؤں زمین سے نکل آئے ۔
گھوڑی کے پاؤں جونہی باہر آئے، سراقہ رضی اللہ عنہ پھر اس پر سوار ہوئے اور آپ ﷺ کی طرف بڑھے – آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
“اے اللہ! ہمیں اس سے باز رکھ -”
اس دعا کے ساتھ ہی گھوڑی پیٹ تک زمین میں دھنس گئی – اب انہوں نے کہا:
“اے محمد! میں قسم کھا کر کہتا ہوں … مجھے اس مصیبت سے نجات دلادیں … میں آپ کا ہمدرد ثابت ہوں گا -”
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اے زمین! اسے چھوڑ دے -”
یہ فرمانا تھا کہ ان کے گھوڑی زمین سے نکل آئی… بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ سراقہ رضی اللہ عنہ نے سات مرتبہ وعدہ خلافی کی… ہر بار ایسا ہی ہوا… بعض روایات میں ہے کہ ایسا تین بار ہوا… آخر حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے وہ آپ ﷺ تک نہیں پہنچ سکتے… چنانچہ انہوں نے کہا:
“میں اب آپ کا پیچھا نہیں کروں گا… آپ میرے سامان میں سے کچھ لینا چاہیں تو لے لیں … سفر میں آپ کے کام آئے گا۔”
حضور صلی الله علیہ وسلم نے ان سے کچھ لینے سے انکار کردیا اور فرمایا:
” تم بس اپنے آپ کو روکے رکھو اور کسی کو ہم تک نہ آنے دو۔”
آپ صلی الله علیہ وسلم نے سراقہ رضی الله سے یہ بھی فرمایا:
” اے سراقہ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔”
سراقہ رضی اللہ عنہہ یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے:
” آپ نے کیا فرمایا… کسریٰ بادشاہ کے کنگن مجھے پہنائے جائیں گے۔”
ارشاد فرمایا:
“ہاں ! ایسا ہی ہوگا۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی یہ حیرت انگیز پیشن گوئی تھی… کیونکہ اس وقت ایسا ہونے کا قطعاً کوئی امکان دور دور تک نہیں تھا، لیکن پھر ایک وقت آیا کہ حضرت سراقہ رضی الله عنہ مسلمان ہوئے۔ حضرت عمر رضی الله عنہہ کے دور میں جب مسلمانوں کو فتوحات پر فتوحات ہوئیں اور ایران کے بادشاہ کسریٰ کو شکست فاش ہوئی تو اس مال غنیمت میں کسریٰ کے کنگن بھی تھے۔ یہ کنگن حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے حضرت سراقہ رضی الله عنہہ کو پہنائے، اور اس وقت سراقہ رضی الله عنہہ کو یاد آیا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کے وقت ارشاد فرمایا تھا:
” اے سراقہ! اس وقت تک تمہارا کیا حال ہوگا، جب تمہیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔”
اپنے ایمان لانے کی تفصیل سراقہ رضی الله عنہہ یوں بیان کرتے ہیں :
” جب رسول کریم صلی الله علیہ وسلم حنین اور طائف کے معرکوں سے فارغ ہوچکے تو میں ان سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ ان سے میری ملاقات جعرانہ کے مقام پر ہوئی۔میں انصاری سواروں کے درمیان سے لشکر کے اس حصے کی طرف روانہ ہوا جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے۔ میں نے نزدیک پہنچ کر عرض کیا:
” اے الله کے رسول! میں سراقہ ہوں ۔”
ارشاد فرمایا:
“قریب آجاؤ۔”
میں نزدیک چلا آیا اور پھر ایمان لے آیا۔ حضرت عمر صدیق رضی الله عنہہ نے کسریٰ کے کنگن مجھے پہناتے ہوئے فرمایاتھا:
” تمام تعریفیں اس ذات باری تعالٰی کے لیے ہیں جس نے یہ چیزیں شاہ ایران کسریٰ بن ہرمز سے چھین لیں جو یہ کہا کرتا تھا، میں انسانوں کا پروردگار ہوں ۔”
یہ سراقہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے معافی ملنے کے بعد واپس پلٹے اور راستے میں جو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کی تلاش میں آتا ہوا انہیں ملا، یہ اسے یہ کہہ کر لوٹاتے رہے۔
“میں اس طرف ہی سے ہوکر آرہا ہوں … ادھر مجھے کوئی نہیں ملا… اور لوگ جانتے ہی ہیں مجھے راستوں کی کتنی پہچان ہے۔”
غرض اس روز یہ قافلہ تمام رات چلتا رہا… یہاں تک کہ چلتے چلتے اگلے دن دوپہر کا وقت ہوگیا۔ اب دور دور تک کوئی آتا جاتا نظر نہیں آرہا تھا۔ ایسے میں سامنے ایک چٹان ابھری ہوئی نظر آئی۔ اس کا سایہ کافی دور تک پھیلا ہوا تھا۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس جگہ پر پڑاﺅ ڈالنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سواری سے اترے اور اپنے ہاتھوں سے جگہ کو صاف کرنے لگے تاکہ آپ صلی الله علیہ وسلم چٹان کے سائے میں سوسکیں ، جگہ صاف کرنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے اپنی پوستین وہاں بچھادی اور عرض کیا:
” الله کے رسول! یہاں سوجائے… میں پہرہ دوں گا… ”
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سوگئے۔ ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے ایک چرواہے کو چٹان کی طرف آتے دیکھا… شاید وہ بھی سائے میں آرام کرنا چاہتا تھا۔
ابوبکر صدیق رضی الله عنہہ فوراً اس طرف مڑے اور اس سے بولے:
” تم کون ہوں ؟ ”
اس نے بتایا:
” میں مکہ کا رہنے والا ایک چرواہا ہوں ۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ بولے:
” کیا تمہاری بکریوں میں کوئی دودھ والی بکری ہے۔”
جواب میں اس نے کہا: ” ہاں ہے” پھر وہ ایک بکری سامنے لایا۔ اپنے ایک برتن میں دودھ دوہا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کو دیا۔ وہ دودھ کا برتن اٹھائے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے جوکہ اس وقت سورہے تھے۔انہوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو جگانا مناسب نہ سمجھا، دودھ کا برتن لیے اس وقت تک کھڑے رہے، جب تک کہ آپ صلی الله علیہ وسلم جاگ نہیں گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے دودھ میں پانی کی دھار ڈالی تاکہ وہ ٹھنڈا ہوجائے، پھر خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا:
” یہ دودھ پی لیجئے۔”
آپ صلی الله علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا، اور پوچھا:
” کیا روانگی کا وقت ہوگیا۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے عرض کیا:
” جی ہاں ! ہوگیا ہے۔”
اب یہ قافلہ پھر روانہ ہوا… ابھی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ ایک خیمہ نظر آیا۔ خیمے کے باہر ایک عورت بیٹھی تھی۔یہ ام معبد رضی الله عنہا تھیں ۔ جو اس وقت تک اسلام کی دعوت سے محروم تھیں ۔ ان کا نام عاتکہ تھا۔ یہ ایک بہادر اور شریف خاتون تھیں ۔
انہوں نے بھی آنے والوں کو دیکھ لیا۔اس وقت ام معبد رضی الله عنہا کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ چھوٹا سا قافلہ کن ہستیوں کا ہے۔ نزدیک آنے پر حضور صلی الله علیہ وسلم کو ام معبد رضی الله عنہا کے پاس ایک بکری کھڑی نظر آئی… وہ بہت ہی کمزور اور دبلی پتلی سی بکری تھی۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے ام معبد رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا:
” کیا اس کے تھنوں میں دودھ ہے؟ ”
اُمّ معبد رضی اللہ عنہہ نے بولیں ؛
” اس کمزور اور مریل بکری کے تھنوں میں دودھ کہا سے آئے گا۔”
آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” کیا تم مجھے اس کو دوہنے کی اجازت دوگی۔”
اس پر اُمّ معبد رضی الله عنہا بولیں :
” لیکن یہ تو ابھی ویسے بھی دودھ دینے والی نہیں ہوئی… آپ خود سوچیئے، یہ دودھ کس طرح دے سکتی ہے… میری طرف سے اجازت ہے، اگر اس سے آپ دودھ نکال سکتے ہیں تو نکال لیجئے۔”
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ اس بکری کو حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس لے ائے۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کی کمر اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی:
” اے الله! اس بکری میں ہمارے لیے برکت عطا فرما۔”
جونہی آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی‌… بکری کے تھن دودھ سے بھر گئےاور ان سے دودھ ٹپکنے لگا۔
یہ نظارہ دیکھ کر اُمّ معبد رضی الله عنہا حیرت زردہ رہ گئیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں