Seerat-ul-Nabi 244

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – حجۃ الوداع کے لیے روانگی

10ھ میں آنحضرت ﷺ نے حج کا ارادہ فرمایا۔اس حج کو حجتہ الوداع کہا جاتا ہے۔
آنحضرت ﷺ 24 ذی قعدہ 10ھ جمعرات کے دن مدینہ منورہ سے حجتہ الوداع کے لیے روانہ ہوئے۔روانگی دن کے وقت ہوئی۔روانہ ہونے سے پہلے بالوں میں کنگھا کیا،سر مبارک میں تیل لگایا، مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں ادا فرمائ۔
اس سفر میں آنحضرت ﷺ کی تمام ازواج مطہرات بھی ساتھ تھیں ۔ان کی تعداد اس وقت نو تھی۔انہوں نے اونٹوں پر ہودجوں میں سفر کیا۔
آنحضرت ﷺ اپنی اونٹنی قصوی پر سوار تھے۔یہ اونٹنی جب آپ ﷺ کو لے کر اٹھی تو آپ ﷺ اس وقت احرام میں تھے۔قصوی پر اس وقت ایک پرانا کجاوہ تھا جو چار درہم قیمت کا رہا ہوگا اور آپ ﷺ کے اوپر چادر بھی معمولی سی کی تھی۔اس وقت آپ ﷺ یہ دعا پڑھ رہے تھے۔
ترجمہ:”اے اللہ!اس حج کو مقبول بنادے اور ایسا بنادے جس میں نہ تو ریاکاری اور دھوکا ہو اور نہ دکھاوا اور ظاہرداری ہو۔”
سفر کے دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا:
آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں ۔یہ حج کا شعار ہے۔
چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کو ایسا کرنے کا حکم فرمایا۔انہوں نے بلند آواز میں تلبیہ شروع کردیا۔راستے میں آنحضرت ﷺ نے ذو طوی کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔رات وہیں قیام فرمایا۔ صبح کی نماز پڑھ کر وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ مکہ کے سامنے پہنچ گئے اور وہیں قیام فرمایا۔پھر دن میں چاشت کے وقت مکہ معظمہ میں داخل ہوئے،باب عبد مناف سے خانہ کعبہ میں داخل ہوئے۔یہ دروازہ باب سلام کے نام سے مشہور ہے۔بیت اللہ پر نظر پڑتے ہی آپ ﷺ نے ان الفاظ میں دعا فرمائی :
ترجمۃ:اے اللہ !تو خود سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی آتی ہے۔ پس اے ہمارے پروردگار تو ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ اور اس گھر کی عزت اور دبدبہ میں اضافہ ہی اضافہ فرما۔
پھر بیت اللہ کے گرد طواف کیا،سات چکر لگائے،طواف کی ابتدا آپ ﷺ نے حجر اسود سے کی۔پہلے اسکے پاس گئے اور اسکو چھوا۔اس وقت آپ ﷺ کی آنکھون میں آنسوں آگئے،طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل فرمایا یعنی سینہ تان کر تیز رفتار سے چکر لگائے،باقی چار چکروں میں معمولی رفتار سے لگائے،طواف سے فارغ ہونے کے بعد حجر اسود کو بوسہ دیا،اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھے اور انکو چہرہء مبارک پر پھیرا۔طواف سے فارغ ہونے کے بعد آنحضور ﷺ نے مقام ابراھیم پر دو رکعت نماز پڑھی پھر آب زم زم نوش فرما۔
اب آپ ﷺ صفا پہاڑی کی طرف چلے۔اس وقت آپ ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے۔
ترجمۃ:” بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں ۔”(سورۃ البقرہ)
حضور اکرم ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔یہ دو پہاڑیاں ہیں ان کے درمیاں چکر لگانے کو سعی کرنا کہتے ہیں ۔ پہلے تین پھیروں میں آپ تیز تیز اور باقی چار میں عام رفتار سے چلے، جب صفا پر چڑھتے اور کعبہ کی طرف منہ کرلیتے تو اس وقت اللہ کی توحید یوں بیان فرماتے:
ترجمۃ:”اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ،اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ تن تنہا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کردیا،اپنے بندوں کی مدد کی اور اسنے تن تنہا متحدہ لشکروں کو شکست دی۔”
مروہ پر پہنچ کر بھی حضور ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی۔صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو احرام کھولنے کا حکم فرمایا جن کےساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے۔ جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے۔انھیں حکم فرمایا کہ وہ احرام کو برقرار رکھیں ۔
8 ذی الحجہ کو حضور ﷺ منیٰ کیلئے روانہ ہوئے۔منیٰ کی طرف روانگی سے پہلے ان تمام لوگوں نے احرام باندھ لئے جو پہلے احرام کھول چکے تھے۔منیٰ میں آنحضرت ﷺ نے ظہر،عصر،مغرب اور عشا کی نمازیں ادا فرمائیں ، رات وہیں گزاری ۔وہ جمعہ کی رات تھی۔ صبح کی نماز بھی آپ ﷺ نے منیٰ میں پڑھی۔سورج طلوع ہونے کے بعد وہاں سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ میرے لئے اونٹ کے بالوں کا ایک قبہ بنا دیا جائے ۔ میدان عرفات میں حضور اکرم ﷺ اس قبے میں ٹہرے یہاں تک کہ زوال کا وقت ہو گیا۔اس وقت حضور ﷺ نے اپنی اونٹنی قصویٰ کو لانے کا حکم فرمایا۔ قصویٰ پر سوار ہوکر آپ ﷺ وادی کے اندر پہنچے اور اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے ہی مسلمانوں کے سامنے خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں آنحضور ﷺ نے فرمایا:
“لوگو!میری بات سنو۔دیکھو میں جانتا نہیں کہ اس سال کے بعد اس جگہ میں تم سے کبھی ملوں گا یا نہیں ۔لوگو!سن لو،تمہارے خون (یعنی تمہاری جانیں )اور تمہارے اموال ایک دوسرے پر اپنے رب سے ملنے تک(یعنی زندگی بھر)اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے لئے یہ دن اور یہ مہینہ قابل احترام ہے۔دیکھو تم(مرنے کے بعد )عنقریب اپنے رب سے ملوگے،وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق سوال کرےگا اور میں (ہر عمل کے متعلق ) تمام احکام تمہیں پہنچا چکا ہوں ،پس جس کے پاس(کسی کی )امانت ہو، اسے چاہئے کہ وہ اس امانت کو مانگنے پر اسی شخص کے حوالے کردے جس نے امانت دار سمجھ کر امانت رکھوائی تھی۔
دیکھو ہرقسم کا سود(جو کسی کا کسی کے ذمے تھا ) ساقط کردیا گیا،البتہ تمہارا اصل مال تمہارے لئے حلال ہے۔نہ تم زیادتی کروگے اور نہ تمہارے ساتھ زیادتی کی جائے گی۔اللہ تعالی نے فیصلہ کردیا ہے کہ اب کوئی سود جائز نہیں اور عباس بن عبد المطلب کا سارا سود ساقط کر دیا گیا۔اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں جو بھی قتل کا مقدمہ تھا،وہ بھی ختم کردیا گیا(اب اسکا انتقام نہیں لیا جائےگا)اور سب سے پہلے جو قتل کا بدلہ میں ختم کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا قتل ہے اور ابن ربیعہ نے بنو لیث میں دودھ پیا تھا،ہذیل نے اسے قتل کردیا تھا۔پس یہ پہلا قتل ہے جس سے میں معافی کی ابتداء کر رہا ہوں ۔
لوگو!غور سے سنو،شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے اب اس سر زمین میں کبھی اسکی عبادت کی جائےگی،لیکن اگر اسکی اطاعت کروگے تو وہ تمہارے ان گناہوں سے جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو،راضی ہو جائے گا۔ اسلئے تم لوگ دین کے معاملے میں شیطان سے بچتے اور ڈرتے رہو۔
لوگو!غور سے سنو!تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے اور تم پر ان عورتوں کا حق ہے۔ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور بھلائی کرتے رہو کیوکہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں ۔تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے ۔لوگو!میری بات سمجھنے کی کوشش کرو،میں نے تو(ہر حکم)پہنچا دیا اور تمہارے اندر وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا، تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ کھلی ہوئی چیز ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ –
لوگو!میری بات سن کر غور کرو،خوب سمجھ لو کہ ہر مسلمان دوسرے دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں ،لہٰذا کسی بھی آدمی کے لیے اپنے بھائی کی کوئی چیز(بلا اجازت)حلال نہیں ،ہاں مگر اس وقت جب وہ دل کی خوشی سے کوئی چیز خود دے دے-پس تم لوگ اپنے آپ پر کسی بھی حالت میں ظلم مت کرنا-لوگو!بتاؤ میں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا؟ ”
لوگوں نے جواب میں کہا” یقیناً یقیناً”اس پر آپ ﷺ نے آسمان کی طرف رخ کیا اور شہادت کی انگلی اٹھاکر فرمایا:
” اَللّهُمَّ اشْهَدْ،اَللّهُمَّ اشْهَدْ،اَللّهُمَّ اشْهَدْ. (اے اللہ آپ گواہ رہیے گا،اے اللہ آپ گواہ رہیے گا،اے اللہ آپ گواہ رہیے گا) -”
خطبے سے فارغ ہوکر آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا- اذان کے بعد ظہر کی تکبیر کہی گئی اور نماز ادا کی گئی- پھر عصر کی نماز کے لیے تکبیر کہی گئی اور نماز ادا کی گئی-یعنی دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں – دونوں نمازوں کے لیے اذان ایک کہی گئی،اور تکبیریں الگ الگ ہوئیں –
عرفات میں ایک جماعت خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی-انھوں نے پوچھا:
“حج کس طرح کیا جاتا ہے؟”
آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“حج دراصل وقوفِ عرفات کا نام ہے، یعنی عرفات میں ٹھہرنا حج کرنا ہے-عرفات کا پورا میدان وقوف کی جگہ ہے-”
اب آپ ﷺ مشعر الحرام یعنی مزدلفہ کے لیے روانہ ہوئے-اس وقت آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا-آپ ﷺ لوگوں کو اطمینان سے چلنے کا حکم فرماتے رہے-اس طرح مزدلفہ پہنچے-یہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا فرمائیں -یہ دونوں نمازیں عشاء کے وقت پڑھی گئیں -عورتوں اور بچوں کے لیے آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ آدھی رات کے ایک گھنٹے بعد ہی مزدلفہ سے منی روانہ ہوجائیں تاکہ وہاں ہجوم ہونے سے پہلے شیطان کو کنکریاں مارسکیں –
فجر کا وقت ہوا تو آنحضرت ﷺ نے مزدلفہ میں منہ اندھیرے ہی نماز پڑھائی-پھر سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے منی کی طرف روانہ ہوئے- جمرہ عقبہ(بڑے شیطان) پر پہنچ کر آپ ﷺ نے سات کنکریاں ماریں -شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے عمل کو رمی کہتے ہیں -یہ کنکریاں مزدلفہ سے چن لی جاتی ہیں -ہر کنکری مارتے وقت آپ ﷺ اللہ اکبر فرماتے رہے-اس وقت بھی آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے-حضرت بلال اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے پاس تھے-حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑ رکھی تھی اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے اوپر کپڑے سے سایہ کیے ہوئے تھے-اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو خطبہ دیا-اس میں ایک دوسرے کے مال اور عزت کو حرام قرار دیا-آپ ﷺ نے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو حرمت کا دن قرار دیا اور فرمایا:
“اے لوگو!تمہارا خون،تمہارا مال اور تمہاری عزت اور ناموس تمہارے درمیان ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ دن تمہارے لیے حرمت کا دن ہے جس طرح اس شہر کی حرمت ہے اور جس طرح اس مہینے کی حرمت ہے-”
یہ الفاظ کئی بار فرمائے…آخر میں دریافت فرمایا:
“اے لوگو!کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا-” لوگوں نے اقرار کیا-
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“اب تم میں سے جو موجود ہے،وہ غائب تک یہ تبلیغ پہنچادے…میرے بعد تم کفر کی تاریکیوں میں لوٹ نہ جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو-”
حضور اکرم ﷺ نے لوگوں سے یہ بھی فرمایا کہ وہ مجھ سے حج کے مناسک (ارکان) سیکھ لو-کیونکہ ممکن ہے اس سال کے بعد مجھے حج کا موقع نہ ملے-
(اور ایسا ہی ہوا…کیونکہ اس حج کے صرف تین ماہ بعد حضور اکرم ﷺ کی وفات ہوگئی تھی-)
اس کے بعد آپ ﷺ منی میں قربانی کی جگہ تشریف لائےاور 63 اونٹ قربان فرمائے- یہ سب جانور آپ ﷺ مدینہ منورہ ہی سے لائے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرمائے-گویا اپنی عمر کے ہر سال کے بدلے ایک جانور قربان فرمایا-
قربانی کے گوشت میں سے آپ ﷺ کے لیے کچھ گوشت پکایا گیا اور آپ ﷺ نے تناول فرمایا-باقی اونٹوں کو ذبح کرنے کے لیے آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا-کل سو اونٹ تھے-اس طرح 37 اونٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذبح فرمائے-
حضور اکرم ﷺ نے ان جانوروں کا گوشت اور دوسری چیزیں لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم فرمایا-منی کا تمام مقام قربانی کرنے کی جگہ ہے… اس کے کسی بھی حصے میں جانور قربان کیا جاسکتا ہے-
قربانی سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے سر منڈوایا-سر مبارک کے بال صحابہ کرام میں تقسیم کیے گئے-اس وقت حضور اکرم ﷺ نے دعا فرمائی:
ترجمہ:”اے اللہ!سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما-”
سر منڈوانے کے بعد حضور اکرم ﷺ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو لگائی-
اب حضور اکرم ﷺ مکہ جانے کے لیے سواری پر تشریف فرما ہوئے-مکہ پہنچ کر ظہر سے پہلے طواف کیا-یہ طوافِ افاضہ تھا جو حج میں فرض ہے – اس کے بغیر حج نہیں ہوتا-پھر حضور اکرم ﷺ نے زم زم کے کنوئیں سے زم زم نوش فرمایا-کچھ پانی اپنے سر مبارک پر بھی چھڑکا-پھر آپ ﷺ منی واپس تشریف لے گئے-وہیں ظہر کی نماز ادا کی-
آپ ﷺ منی میں تین دن ٹھہرے- تین دن تک رمئ جمرات کی،یعنی شیطانوں کو کنکریاں ماریں – ہر شیطان کو سات سات کنکریاں ماریں -منی کے قیام کے بعد حضور اکرم ﷺ مکہ تشریف لائے اور صحابہ کرام کو حکم فرمایا:
“لوگو!اپنے وطن لوٹنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرلو-”
اسے طوافِ وداع کہتے ہیں ،یعنی رخصت ہوتے وقت کا طواف…اور یہ ہر حاجی پر واجب ہے۔Top

اپنا تبصرہ بھیجیں