Seerat-ul-Nabi 39

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – تلواروں کے سائے میں

دونوں کے درمیان کچھ دیر تک تلواروں کے وار ہوتے رہے،یہاں تک کہ دونوں زخمی ہوگئے۔اس وقت تک حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی الله عنہما اپنے اپنے دشمن( مقابل )کا صفایا کرچکےتھے۔لہذا وہ دونوں ان کی طرف بڑھے اور عتبہ کو ختم کردیا۔ پھر زخمی عبیدہ بن حارت رضی الله عنہ کو اٹھا کر لشکر میں لے آئے۔انہیں آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس لٹا دیا گیا۔ انہوں نے پوچھا:
” اے الله کے رسول!کیا میں شہید نہیں ہوں ؟ ”
آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” میں گواہی دیتا ہوں کہ تم شہید ہو۔”
اس کے بعد صفراء کے مقام پر حضرت عبیدہ بن حارث رضی الله عنہ کا انتقال ہوگیا۔انہیں وہی دفن کیا گیا، جب کہ حضور صلی الله علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ منوره کی طرف لوٹ روپے تھے۔
جنگ سے پہلے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ رضی الله عنہم کی صفوں کو ایک نیزے کے ذریعے سیدھا کیا تھا۔صفوں کو سیدھا کرتے ہوئے حضرت سواد بن غزیہ رضی الله عنہ کے پاس سے گذرے،یہ صف سے قدرے آگے بڑھے ہوئے تھے۔حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک تیر سے ان کے پیٹ کو چھوا اور فرمایا:
” سواد!صف سے آگے نہ نکلو،سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔”
اس پر حضرت سواد رضی الله عنہ نے عرض کیا:
” الله کے رسول!آپ نے مجھے اس تیر سے تکلیف پہنچائی۔آپ کو الله تعالیٰ نے حق اور انصاف دے کر بھیجا ہے لہذا مجھے بدلہ دے۔”
آپ نے فوراً اپنا پیٹ کھولا اور ان سے فرمایا:
” لو!تم اب اپنا بدلہ لے لو۔”
حضرت سواد آگے بڑھے اور آپ کے سینے سے لگ گئے اور آپ کے شکم مبارک کو بوسہ دیا۔اس پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے دریافت کیا:
“سواد! تم نے ایسا کیوں کیا؟ ”
انہوں نے عرض کیا:
” الله کے رسول!آپ دیکھ رہے ہیں ،جنگ سر پر ہے،اس لیے میں نے سوچا،آپ کے ساتھ زندگی کے جو آخری لمحات بسر ہوں ،وہ اس طرح بسر ہوں کہ میرا جسم آپ کے جسم مبارک سے مس کررہا ہو…( یعنی اگر میں اس جنگ میں شہید ہوگیا تو یہ میری زندگی کے آخری لمحات ہیں )۔
یہ سن کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ایک روایت میں آتا ہے،”جس مسلمان نے بھی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے جسم کو چھولیا،آگ اس جسم کو نہیں چھوئے گی۔”ایک روایت میں یوں ہے کہ”جو چیز بھی حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے جسم کو لگ گئی،آگ اسے نہیں جلائے گی۔”
پھر جب حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے صفوں کو سیدھا کردیا تو فرمایا:
“جب دشمن قریب آجائے تو انہیں تیروں سے پیچھے ہٹانا اور اپنے تیر اس وقت تک نہ چلاؤ جب تک کہ وہ نزدیک نہ آجائیں ۔( کیونکہ زیادہ فاصلے سے تیراندازی اکثر بے کار ثابت ہوتی ہےاور تیر ضائع ہوتے رہتے ہے)اسی طرح تلواریں بھی اس وقت تک نہ سونتنا جب تک کہ دشمن بالکل قریب نہ آجائے۔”
اس کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو یہ خطبہ دیا:
“مصیبت کے وقت صبر کرنے سے الله تعالیٰ پریشانیاں دور فرماتے ہیں ۔اور غموں سے نجات عطا فرماتے ہیں ۔”
پھر آپ صلی الله علیہ وسلم اپنے سائبان میں تشریف لے گئے۔اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے۔سائبان کے دروازے پر حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ کچھ انصاری مسلمانوں کے ننگی تلواریں لیے کھڑے تھے تاکہ دشمن کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی طرف بڑھنے سے روک سکیں ۔آپ ﷺ کے لیے وہاں سواریاں بھی موجود تھیں ۔تاکہ ضرورت کے وقت آپ سوار ہوسکیں ۔
مسلمانوں میں سب سے پہلے مہجع رضی الله عنہ آگے بڑھے۔یہ حضرت عمر رضی الله عنہ کے غلام تھے،عامر بن حضرمی نے انہیں تیر مارکر شہید کردیا۔
ادھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنے سائبان میں الله تعالیٰ کے حضور سجدے میں گرے کر یوں دعا کی:
“اے الله!اگر آج مومنوں کی جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔”
پھر حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم اپنے سائبان سے نکل کر صحابہ کے درمیان تشریف لائے اور انہیں جنگ پر ابھارنے کے لیے فرمایا:
” قسم ہے اس ذات کی،جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے،جو شخص بھی آج ان مشرکوں کے مقابلے میں صبر اور ہمت کے ساتھ لڑے گا،ان کے سامنے سینہ تانے جما رہے گا اور پیٹ نہیں پھیرے گا،الله تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ”
حضرت عمیر بن حمام رضی الله عنہ اس وقت کھجوریں کھا رہے تھے۔ یہ الفاظ سن کر کھجوریں ہاتھ سے گرادیں اور بولے:
” واہ واہ!تو، میرے اور جنت کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے کہ ان کافروں میں سے کوئی مجھے قتل کردے۔”
یہ کہتے ہی تلوار سونت کر دشمنوں سے بھڑ گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
حضرت عوف بن عفراء رضی الله عنہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا:
” اللہ کے رسول!بندے کے کس عمل پر الله کو ہنسی آتی ہے۔”( یعنی اس کے کون عمل سے الله تعالیٰ خوش ہوتے ہیں )۔
جواب میں آپ نے فرمایا:
” جب کوئی مجاہد زرہ بکتر پہنے بغیر دشمن پر حملہ آوار ہو۔”
یہ سنتے ہی انہوں نے اپنے جسم پر سےزرہ بکتر اتار کر پھینک دی اور تلوار سونت کر دشمن پر ٹوٹ پڑے،یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
حضرت معبد بن وہب رضی الله عنہ دونوں ہاتھوں میں تلوار لے کر جنگ میں شریک ہوئے۔یہ نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کے ہم زلف تھے یعنی ام المومنین حضرت سودہ رضی الله عنہ کی بہن کے خاوند تھے۔
جنگ کے دوران حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھائی اور مشرکوں پر پھینک دی۔ایسا کرنے کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا تھا۔
کنکریوں کو مٹھی میں پھینکتے وقت حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” یہ چہرے خراب ہوجائیں ۔”
ایک روایت کے مطابق یہ الفاظ آئے ہیں :
“اے اللہ!ان کے دلوں کو خوف سے بھردے،ان کے پاؤں اکھاڑ دیں ۔”
الله کے حکم اور
حضور صلی الله علیہ وسلم کی دعا سے کوئی کافر ایسا نہ بچا جس پر وہ کنکریاں نہ پڑی ہوں ۔ان کنکریوں نے کافروں کو بدحواس کردیا۔آخر نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شکست کھاکر بھاگے۔ مسلمان ان کا پیچھا کرنے لگے۔انہیں قتل اور گرفتار کرنے لگے۔
کنکریوں کی مٹھی کے بارے میں الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
“اور اے نبی!کنکریوں کی مٹھی آپ نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی۔”( سورہ الا نفال: آیت 17)
حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کافروں کے شکست کھا جانے کے بعد اعلان فرمایا:
“مسلمانوں میں جس نے جس کافر کو مارا ہے…اس کا سامان اسی مسلمان کا ہے اور جس مسلمان نے جس کافر کو گرفتار کیا،وہ اسی مسلمان کا قیدی ہے۔”
وہ کافر جو بھاگ کر نہ جاسکے،انہیں گرفتار کرلیا گیا۔اس جنگ میں حضرت ابو عبیدہ بن الجرح رضی الله عنہ نے اپنے باپ کو قتل کیا۔پہلے خود باپ نے بیٹے پر وار کیا تھا۔لیکن یہ وار حضرت ابوعبیدہ رضی الله عنہ بچاگئے اور خود اس پر وار کیا، جس سے وہ مارا گیا۔اس پر الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
“جو لوگ الله پر اور قیامت کے دن پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں ،آپ انہیں نہ دیکھیں گے کہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو الله اور رسول کے خلاف ہیں اگرچہ وہ ان کے بیٹے یا بھائی یا خاندان میں سے کیوں نہ ہوں ۔”( سورۃ المجادلتہ: 23 )
اس جنگ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے کو قیدی بنالیا۔اسلام سے پہلے مکہ میں یہ شخص حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ کا دوست رہا تھا…اور یہی وہ امیہ بن خلف تھا جو حضرت بلال رضی الله عنہ پر بے تحاشہ ظلم کرتا رہا تھا…حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ ان دونوں کو لیے میدان جنگ سے گذر رہے تھے کہ حضرت بلال رضی الله عنہ کی نظر امیہ بن خلف پر پڑگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں