Seerat-ul-Nabi 61

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – بدر کی طرف روانگی

روحاء کے مقام پر آپ ﷺ نے لشکر کو گننے کا حکم دیا۔گننے پر معلوم ہوا مجاہدین کی تعداد 313 ہے۔آپ ﷺ یہ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا:
“یہ وہی تعداد ہے جو طالوت کے ساتھیوں کی تھی،جو ان کے ساتھ نہر تک پہنچے تھے۔”( طالوت بنی اسرائیل کے ایک نیک مجاہد بادشاہ تھے،ان کی قیادت میں 313 مسلمانوں نے جالوت نامی کافر بادشاہ کی فوج کو شکست دی تھی)
لشکر میں گھوڑوں کی تعداد صرف پانچ تھی۔اونٹ ستر کے قریب تھے۔اس لیے ایک ایک اونٹ تین تین یا چار چار آدمیوں کے حصے میں دیا گیا۔
آپ ﷺ کے حصے میں جو اونٹ آیا، اس میں دو اور ساتھی بھی شریک تھے۔آپ ﷺ بھی اس اونٹ پر اپنی باری کے حساب سے سوار ہوتے اور ساتھیوں کی باری پر انہیں سوار ہونے کا حکم فرماتے… اگرچہ وہ اپنی باری بھی آپ ﷺ کو دینے کی خواہش ظاہر کرتے… وہ کہتے:
“اے اللہ کے رسول!آپ سوار رہیں … ہم پیدل چل لیں گے۔”
جواب میں آپ ﷺ فرماتے:
“تم دونوں پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ مضبوط نہیں ہو اور نہ میں تمہارے مقابلے میں اس کی رحمت سے بےنیاز ہوں ۔”( یعنی میں بھی تم دونوں کی طرح اجر کا خواہش مند ہوں )۔
روحاء کے مقام پر ایک اونٹ تھک کر بیٹھ گیا۔آپ ﷺ پاس سے گزرے تو پتا چلا،اونٹ تھک کر بیٹھ گیا ہے اور اٹھ نہیں رہا۔آپ ﷺ نے کچھ پانی لیا۔اس سے کلی کی۔کلی والا پانی اونٹ والے کے برتن میں ڈالا اور اس کے منہ میں ڈال دیا۔اونٹ فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور پھر اس قدر تیز چلا کہ لشکر کے ساتھ جاملا۔اس پر تھکاوٹ کے کوئی آثار باقی نہ رہے۔
اس غزوے کے موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کووہ مدینہ منورہ ہی میں ٹھہرنے کا حکم فرمایا،وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کی زوجہ محترمہ اور آپ ﷺ کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں ۔آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
“تمہیں یہاں ٹھہرنے کا بھی اجر ملے گا اور جہاد کرنے کا اجر بھی ملے گا۔”
اس موقع پر آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنایا۔
طلحہ بن عبید اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو جاسوسی کی ذمے داری سونپی تاکہ یہ دونوں لشکر سے آگے جاکر قریش کے تجارتی قافلے کی خبر لائیں ۔نبی کریم ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ سے ہی روانہ فرمادیا تھا۔روحاء کے مقام سے اسلامی لشکر آگے روانہ ہوا۔عرق ظبیہ کے مقام پر ایک دیہاتی ملا۔اس سے دشمن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکا۔اب لشکر پھر آگے بڑھا۔اس طرح اسلامی لشکر ذفران کی وادی تک پہنچ گیا۔اس جگہ آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش مکہ ایک لشکر لے کر اپنے قافلے کو بچانے کے لیے مکہ سے کوچ کرچکے ہیں ۔
آپ ﷺ نے یہ اطلاع ملنے پر تمام لشکر کو ایک جگہ جمع فرمایا اور ان سے مشورہ کیا کیونکہ مدینہ منورہ سے مسلمان صرف ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لیے روانہ ہوئے تھے… کسی باقاعدہ لشکر کے مقابلے کے لیے نہیں نکلے تھے… اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باری باری اپنی رائے دی… حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول!آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے، اس کے مطابق عمل فرمایئے،ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔اللہ کی قسم!ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جاکر لڑ لیجئے،ہم تو یہیں بیٹھے ہیں …. بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ،ہم آپ کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لڑیں گے،آخر دم تک لڑیں گے۔
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا۔آپ ﷺ مسکرانے لگے۔حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو دعا دی۔حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی تقاریر کیں …. ان کی تقاریر کے بعد نبی کریم ﷺ نے انصاری حضرات کے طرف دیکھا،کیونکہ ابھی تک ان میں سے کوئی کھڑا نہیں ہوا تھا۔اب انصاری بھی آپ ﷺ کا اشارہ سمجھ گئے،چنانچہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول!شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے…. تو عرض ہے کہ ہم ایمان لاچکے ہیں ،آپ کی تصدیق کرچکے ہیں اور گواہی دے چکے ہیں ،ہم ہر حال میں آپ کا حکم مانیں گے،فرماں برداری کریں گے۔”
ان کی تقریر سن کر آپ ﷺ کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے،چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:
“اب اٹھو،کوچ کرو، تمہارے لیے خوش خبری ہے،اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ہمیں فتح دے گا۔”
ذفران کی وادی سے روانہ ہوکر آپ ﷺ بدر کے مقام پر پہنچے۔اس وقت تک قریشی لشکر بھی بدر کے قریب پہنچ چکا تھا۔آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قریش کے لشکر کی خبریں معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔انہیں دو ماشکی( پانی بھرنے والے)ملے… وہ قریشی لشکر کے ماشکی تھے۔ان دونوں سے لشکر کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں …. انہوں نے لشکر میں شامل بڑے بڑے سرداروں کے نام بھی بتادیئے… اس پر حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
“مکہ نے اپنا دل اور جگر نکال کر تمہارے مقابلے کے لیے بھیجے ہیں ۔”
یعنی اپنے تمام معزز اور بڑے بڑے لوگ بھیج دیئے ہیں ۔
اس دوران ابوسفیان رضی اللہ عنہ قافلے کا راستہ بدل چکے تھے اور اس طرح ان کا قافلہ بچ گیا…. جب کہ اس قافلے کو بچانے کے لیے جو لشکر آیا تھا،اس سے اسلامی لشکر کا آمنا سامنا ہوگیا۔ادھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ قافلہ تو اب بچ گیا ہے،اس لیے انہوں نے ابوجہل کو پیغام بھیجا کہ واپس مکہ کی طرف لوٹ چلو…. کیونکہ ہم اسلامی لشکر سے بچ کر نکل آئے ہیں لیکن ابوجہل نے واپس جانے سے انکار کردیا۔
قریشی لشکر نے بدر کے مقام پر اس جگہ پڑاؤ ڈالا،جس جگہ پانی نزدیک تھا۔دوسری طرف اسلامی لشکر نے جس جگہ ہٹاؤ ڈالا،پانی وہاں سے فاصلے پر تھا۔اس سے مسلمانوں کو پریشانی ہوئی۔تب اللہ تعالیٰ نے وہاں بارش برسادی اور ان کی پانی کی تکلیف رفع ہوگئی۔جب کہ اسی بارش کی وجہ سے کافر پریشان ہوئے۔وہ اپنے پڑاؤ سے نکلنے کے قابل نہ رہے…. مطلب یہ کہ بارش مسلمانوں کے لیے رحمت اور کافروں کے لیے زحمت ثابت ہوئی۔
صبح ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ نے اعلان فرمایا:
“لوگو! نماز کے لیے تیار ہوجاؤ۔”
چنانچہ صبح کی نماز ادا کی گئی… پھر جب آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“میں تمہیں ایسی بات کے لیے ابھارتا ہوں ،جس کے لیے تمہیں اللہ نے ابھارا ہے تنگی اور سختی کے موقعوں پر صبر کرنے سے اللہ تعالیٰ تمام تکالیف سے بچالیتا ہے اور تمام غموں سے نجات عطا فرماتا ہے۔”
اب آپ ﷺ لشکر کو لے کر آگے بڑھے… اور قریش سے پہلے پانی کے قریب پہنچ گئے۔مقام بدر پر پانی کا چشمہ تھا۔آپ ﷺ کو وہاں رکتے دیکھ کر حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول!قیام کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں ہے، میں اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہوں … آپ وہاں پڑاؤ ڈالیں جو دشمن کے پانی سے قریب ترین ہو۔ہم وہاں ایک حوض بناکر پانی اس میں جمع کرلیں گے۔اس طرح ہمارے پاس پینے کا پانی ہوگا… ہم پانی کے دوسرے گڑھے اور چشمے پاٹ دیں گے،اس طرح دشمن کو پانی نہیں ملے گا۔”
آپ ﷺ نے ان کی رائے کو بہت پسند فرمایا… ایک روایت کے مطابق اسی وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا پیغام لائے اور بتایا کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی رائے بہت عمدہ ہے۔
اس رائے کے بعد آپ ﷺ لشکر کو لے کر آگے بڑھے اور اس چشمے پر آگئے جو اس جگہ سے قریب ترین تھا جہاں قریش نے پڑاؤ ڈالا تھا۔مسلمانوں نے یہاں قیام کیا اور آپ ﷺ نے انہیں دوسرے گڑھے بھرنے کا حکم دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں