Seerat-ul-Nabi 54

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ – اللہ ہمارے ساتھ ہے

اس طرح انہوں نے تمام سوراخ بند کردیے مگر ایک سوراخ رہ گیا اور اسی میں سانپ تھا ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سوراخ پر اپنی ایڑی رکھ دی ۔اس کے بعد آنحضرت ﷺ غار میں داخل ہوئے ۔ادھر سانپ نے اپنے سوراخ پر ایڑی دیکھی تو اس پر ڈنک مارا ۔
تکلیف کی شدت سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے لیکن انہوں نے اپنے منہ سے آواز نہ نکلنے دی، اس لیے کہ اس وقت آنحضرت ﷺ ان کے زانو پر سر رکھ کر سورہےتھے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے سانپ کے ڈسنے کے باوجود اپنے جسم کو ذرا سی بھی حرکت نہ دی…نہ آواز نکالی کہ کہیں حضور ﷺ کی آنکھ نہ کھل جائے، تاہم آنکھ سے آنسو نکلنے کو وہ کسی طرح نہ روک سکے…وہ حضور ﷺ پر گرے ۔ان کے گرنے سے حضور ﷺ کی آنکھ کھل گئی ۔آپ ﷺ نےحضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو پوچھا:
ابوبکر کیا ہوا؟
انہوں نے جواب دیا:
آپ پر میرے ماں باپ قربان ۔مجھے سانپ نے ڈس لیا ہے ۔
آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن سانپ کے کاٹے کی جگہ پر لگادیا۔اس سے تکلیف اور زہر کا اثر فوراﹰ دور ہوگیا ۔
صبح ہوئی، آنحضرت ﷺ کو حضرت ابوبکر رضی الله کے جسم پر چادر نظر نہ آئی ۔تو دریافت:
ابوبکر! چادر کہاں ہے؟
انہوں بتادیا:
اللّٰہ کے رسول! میں نے چادر پھاڑ پھاڑ کر کر اس غار کے سوراخ بند کیے ہیں ۔آپ ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور اور فرمایا:
اے اللّٰہ ابوبکر کو جنت میں میرا ساتھی بنانا ۔
اسی وقت الله تعالٰی نے وحی کے ذریعے خبر دی کہ آپ کی دعا قبول کرلی گئی ہے ۔
ادھر قریش کے لوگ نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں اس غار کے قریب آپہنچے ۔ان میں سے چند ایک جلدی سے آگے بڑھ کر غار میں جھانکنے لگے ۔غار کے دہانے پر انہیں مکڑی کا جالا نظر آیا ۔ساتھ ہی دو جنگلی کبوتر نظر آئے ۔اس پر ان میں سے ایک نے کہا: اس غار میں کوئی نہیں ہے ۔ایک روایت میں یوں آیا ہے ان میں امیہ بن خلف بھی تھا، اس نے کہا: اس غار کے اندر جاکردیکھو:
کسی نے جواب دیا:
غار کے اندر جاکر دیکھنے کی کیا ضرورت ہے، غار کے منہ پر بہت جالے لگے ہوئے ہیں ..اگر وہ اندر جاتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے، نہ یہاں کبوتر کے انڈے ہوتے،
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب ان لوگوں کو غار کے دہانے پر دیکھا تو آپ رو پڑے اور دبی آواز میں بولے:
اللّٰہ کی قسم! میں اپنی جان کے لیے نہیں روتا میں تو اس لیے روتا ہوں کہ کہیں یہ لوگ آپ کو تکلیف نہ پہنچائیں -”
اس پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“ابوبکر! غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے -”
اسی وقت اللہ تعالٰی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل کو سکون بخش دیا – ان حالات میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پیاس محسوس ہوئی – انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا… تو آپ نے ارشاد فرمایا:
“اس غار کے درمیان میں جاؤ اور پانی پی لو -”
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اٹھ کر غار کے درمیان میں پہنچے – وہاں انہیں اتنا بہترین پانی ملا کہ شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبو والا تھا – انہوں نے اس میں سے پانی پیا، جب وہ واپس آئے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا:
“اللہ تعالی نے جنت کی نہروں کے نگراں فرشتے کو حکم فرمایا کہ اس غار کے درمیان میں جنت الفردوس سے ایک چشمہ جاری کردیں تاکہ تم اس میں سے پانی پی سکو -”
یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حیران ہوئے اور عرض کیا:
“کیا اللہ کے نزدیک میرا اتنا مقام ہے -”
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“ہاں ! بلکہ اے ابوبکر! اس سے بھی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے پیغام کے ساتھ نبی بناکر بھیجا ہے، وہ شخص جو تم سے بغض رکھے، جنت میں داخل نہیں ہوگا -”
غرض قریش مایوس ہوکر غار ثور سے ہٹ آئے اور ساحلی علاقوں کی طرف چلے گئے – ساتھ ہی انہوں نے اعلان کردیا:
“جو شخص محمد یا ابوبکر کو گرفتار کرے یا قتل کرے، اسے سو اونٹ انعام میں دیے جائیں گے -”
آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اس غار میں تین دن تک رہے – اس دوران ان کے پاس حضرت ابوبکر رضی الله عنہہ کے بیٹے عبداللہ رضی الله عنہہ بھی آتے جاتے رہے۔ یہ اس وقت کم عمر تھے مگر حالات کو سمجھتے تھے۔ اندھیرا پھیلنے کر بعد یہ غار میں آجاتے اور منہ اندھیرے فجر کے وقت وہاں سے واپس آجاتے، اس سے قریش یہ خیال کرتے کہ انہوں نے رات اپنے گھر میں گزاری ہے۔ اس طرح قریش کے درمیان دن بھر جو باتیں ہوتیں ، یہ ان کو سنتے اور شام کو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر بتادیتے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہہ کے ایک غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی الله عنہہ تھے۔ یہ پہلے طفیل نامی ایک شخص کے غلام تھے۔ جب یہ اسلام لے آئے تو طفیل نے ان پر ظلم ڈھانا شروع کیا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی الله عنہہ نے اس سے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ یہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔
یہ بھی ان دنوں غار تک آتے جاتے رہے۔ شام کے وقت اپنی لکڑیاں لے کر وہاں پہنچ جاتے اور رات کو وہیں رہتے۔ صبح منہ اندھیرے حضرت عبداللہ رضی الله عنہ کے جانے کے بعد یہ بھی وہاں سے اپنی بکریاں اسی راستے سے واپس لاتے تاکہ ان کے قدموں کے نشانات مٹ جائیں ۔ ان تین راتوں تک ان کا برابر یہی معمول رہا۔ یہ ایسا حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہہ کی ہدایت پر کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ نے ہی یہ حکم دیا تھا کہ وہ دن بھر قریش کی باتیں سنا کریں اور شام کو انہیں بتایا کریں ۔ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو بھی ہدایت تھی کہ دن بھر بکریاں چرایا کریں اور شام کو غار میں ان کا دودھ پہنچایا کریں ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی بیٹی اسماء رضی الله عنہا بھی شام کے وقت ان کے لیے کھاناپہنچاتی تھیں ۔
ان تین کے علاوہ اس غار کا پتہ کسی کو نہیں تھا۔ تین دن اور رات گزرنے پر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی الله عنہا سے فرمایا:
” اب تم علی کے پاس جاؤ، انہیں غار کے بارے میں بتادو اور ان سے کہو، وہ کسی رہبر کا انتظام کردیں ۔ آج رات کا کچھ پہر گزرنے کے بعد وہ رہبر یہاں آجائے۔”
چنانچہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سیدھی حضرت علی رضی الله عنہ کے پاس آئیں ۔ انہیں آپ صلی الله علیہ وسلم کا پیغام دیا۔حضرت علی رضی اللہ نے فوراً اجرت کا ایک راہبر کا انتظام کیا۔ اس کا نام اریقط بن عبداللہ لیثی تھا۔ یہ راہبر رات کے وقت وہاں پہنچا۔ نبی اکرم ﷺ نے جونہی اونٹ کی بلبلانے کی آواز سنی، آپ فوراً ابوبکرصدیق رضی الله عنہہ کے ساتھ غار سے نکل آئے۔ اور راہبر کو پہچان لیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ اونٹوں پر سوار ہوگئے۔
اس سفر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی الله عنہ کے ذریعے اپنے گھر سے وہ رقم بھی منگوالی تھی جو وہاں موجود تھی… یہ رقم چار پانچ ہزار درہم تھی۔ جب صدیق اکبر رضی الله عنہ مسلمان ہوئے تھے تو ان کے پاس چالیس پچاس ہزار درہم موجود تھے۔ گویا یہ تمام دولت انہوں نے الله کے راستے میں خرچ کردی تھی۔ جاتے وقت بھی گھر میں جو کچھ تھا، منگوالیا… ان کے والد ابوقحانہ رضی الله عنہ اس وقت تک مسلمان نہيں ہوئے تھے۔ ان کی بینائی ختم ہوگئی تھی… وہ گھر آئے تو اپنی پوتی حضرت اسماء رضی الله عنہا سے کہنے لگے؛
” میرا خیال ہے، ابوبکر اپنی اور اپنے مال کی کی وجہ سے تمہیں مصیبت میں ڈال گئے ہیں (مطلب یہ تھا کہ جاتے ہوئے سارے پیسے لے گئے ہیں )۔”
یہ سن کر حضرت اسماء رضی الله عنہا نے کہا:
” نہیں بابا! وہ ہمارے لیے بڑی خیروبرکت چھوڑگئے ہیں ۔”
حضرت اسماء کہتی ہیں : ” اس کے بعد میں نے کچھ کنکر ایک تھیلی میں ڈالے اور ان کو طاق میں رکھ دیا۔ اس میں میرے والد اپنے پیسے رکھتے تھے۔ پھر اس تھیلی پر کپڑا ڈال دیا اور اپنے دادا کا ہاتھ ان پر رکھتے ہوئے میں نے کہا:
“یہ دیکھیے! روپیے یہاں رکھے ہیں ۔”
ابوقحانہ رضی الله عنہ نے اپنا ہاتھ رکھ کر محسوس کیا اور بولے:
” اگر وہ یہ مال تمہارے لیے چھوڑ گئے ہیں تب فکر کی کوئی بات نہیں ، یہ تمہارے لیے کافی ہے۔”
حالاں کہ حقیقت یہ تھی کہ والد صاحب ہمارے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑ گئے تھے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں