Seerat-ul-Nabi 98

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺموت کے نرغہ میں

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺموت کے نرغہ میں
اللہ تعالٰی نے حضور ﷺ کی دعا قبول فرمائی۔ اس جنگ کے بعد جب ابن قمیہ اپنی بکریوں کے گلّے میں پہنچا تو انہیں لے کر پہاڑ پر چڑھا، وہ بکریوں اور مینڈھوں کو گھیر گھیر کر لے جارہا تھا کہ اچانک ایک مینڈھے نے اس پر حملہ کردیا، اس نے اسے اس زور سے سینگ مارا کہ وہ پہاڑ سے نیچے لڑھک گیا اور اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔
جب نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا اور خون بہنے لگا تو آپ ﷺ خون پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے:
“وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو اس لیے خون سے رنگین کردیا کہ وہ انہیں ان کے پروردگار کی طرف بلاتا ہے۔”
حضور اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک میں خود کی کڑیاں گھس گئی تھیں ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے ان کڑیوں کو کھینچ کھینچ کر نکالا، اس کوشش کے دوران ان کا اپنا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ بہرحال کڑی نکل گئی، پھر انہوں نے دوسری کڑی کو دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو ایک دانت اور ٹوٹ گیا…تاہم کڑی نکل گئی۔
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے سامنے کے دو دانت ٹوٹ جانے کے بعد ان کا چہرہ بدنما ہوجاتا۔ لیکن ہوا یہ کہ وہ پہلے سے زیادہ خوب صورت ہوگیا۔
جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ آپ ﷺ کو شہید کر دیا گیا ہے تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کو زندہ سلامت دیکھا اور پکارے:
“اے مسلمانو! تمہیں خوش خبری ہو، رسول اللہ ﷺ تو یہ موجود ہیں ۔”
جب مسلمانوں نے حضور ﷺ کو زندہ سلامت دیکھا تو پروانوں کی طرح آپ ﷺ کے ارد گرد جمع ہوگئے، آپ ﷺ ان سب کے ساتھ ایک گھاٹی کی طرف روانہ ہوئے، اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہم تھے۔
اس روز حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بھی زبردست ثابت قدمی دکھائی تھی اور آپ ﷺ کی حفاظت میں موت کی بیعت کی تھی، یعنی یہ عہد کیا تھا کہ آپ کی حفاظت میں جان تو دے دیں گے، لیکن ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
آپ ﷺ اپنے ان صحابہ کے ساتھ گھاٹی کی طرف بڑھ رہے تھے کہ عثمان بن عبداللہ ایک سیاہ اور سفید گھوڑے پر سوار آپ ﷺ کی طرف بڑھا، وہ لوہے میں پوری طرح غرق تھا، آپ اس کی آواز سن کر رک گئے، اسی وقت عثمان بن عبداللہ کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی، وہ ایک گڑھے میں گر گیا، ساتھ ہی حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف لپکے اور اپنی تلوار سے اس پر وار کیا، اس نے تلوار کا وار روکا…تھوڑی دیر دونوں طرف سے تلوار چلتی رہی، پھر اچانک حضرت حارث نے اس کے پیر پر تلوار ماری، وہ زخم کھا کر بیٹھ گیا…حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے ایک بھرپور وار کرکے اس کا خاتمہ کر دیا، اس پر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ کا شکر ہے جس نے اسے ہلاک کردیا۔”
اسی وقت عبداللہ بن جابر عامری نے حضرت حارث رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا، اس کی تلوار حضرت حارث رضی اللہ عنہ کے کندھے پر لگی، کندھا زخمی ہوگیا…ان لمحات میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جابر پر حملہ کر دیا اور اپنی تلوار سے اسے ذبح کر ڈالا۔
مسلمان حضرت حارث رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر لے گئے تاکہ ان کی مرہم پٹی کی جاسکے۔
پھر حضور نبی کریم ﷺ نے اس چٹان کے اوپر جانے کا ارادہ فرمایا جو گھاٹی کے اندر ابھری ہوئی تھی، لیکن زخموں سے خون نکل جانے اور زرہوں کے بوجھ کی وجہ سے آپ ﷺ چڑھ نہ سکے، یہ دیکھ کر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے اور آپ ﷺ کو کاندھوں پر بٹھا کر چٹان کے اوپر لے گئے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا:
“طلحہ کے اس نیک عمل کی وجہ سے ان پر جنت واجب ہوگئی۔”
ان کی ایک ٹانگ میں لنگڑاہٹ تھی، جب یہ آنحضرت ﷺ کو کندھوں پر اٹھا کر چلے تو چال میں لنگڑاہٹ تھی، اب ان کی کوشش یہ تھی کہ لنگڑاہٹ نہ ہو…تاکہ حضور اکرم ﷺ کو تکلیف نہ پہنچے، آپ ﷺ کو کندھوں پر اٹھا کر چلنے کی برکت سے ان کی لنگراہٹ دور ہوگئی۔
اس وقت تک جنگ کی یہ خبریں مدینہ منورہ میں پہنچ چکی تھیں ، لہٰذا وہاں سے عورتیں میدان احد کی طرف چل پڑیں ، ان میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ، انہوں نے آپ ﷺ کو زخمی دیکھا تو بے اختیار آپ سے لپٹ گئیں ، پھر انہوں نے آپ ﷺ کے زخموں کو دھویا، حضرت علی رضی اللہ عنہ پانی ڈالنے لگے، لیکن زخموں سے خون اور زیادہ بہنے لگا، تب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر جلایا، جب وہ جل کر راکھ ہو گیا تو وہ راکھ انہوں نے آپ ﷺ کے زخموں میں بھر دی، اس طرح آپ ﷺ کے زخموں سے خون بہنے کا سلسلہ رکا۔
حضور ﷺ جب اس چٹان پر پہنچے تو دشمن کی ایک جماعت پہاڑ کے اوپر پہنچ گئی، اس جماعت میں خالد بن ولید بھی تھے، حضور اکرم ﷺ نے دشمنوں کو دیکھ کر فرمایا:
“اے اللہ! ہماری طاقت اور قوت صرف تیری ہی ذات ہے۔”
اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ ان لوگوں کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے دھکیل کر پہاڑ سے نیچے اترنے پر مجبور کر دیا۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی، کمزوری کی وجہ سے یہ نماز بیٹھ کر ادا فرمائی۔
اس لڑائی میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تقریباً 70 زخم آئے، یہ نیزوں ، برچھوں اور تلواروں کے تھے، تلوار کے ایک وار سے ان کی انگلیاں بھی کٹ گئیں ، دوسرے ہاتھ میں ان کو ایک تیر آ کر لگا تھا، اس سے مسلسل خون بہنے لگا، یہاں تک کہ کمزوری کی وجہ سے ان پر بےہوشی طاری ہوگئی، اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، اس سے انہیں ہوش آیا تو فوراً پوچھا:
“رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟”
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
“خیریت سے ہیں ۔”
یہ سن کر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
“اللہ کا شکر ہے، ہر مصیبت کے بعد آسانی ہوتی ہے۔”
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے منہ پر ضرب لگی۔ اس ضرب سے ان کے دانت ٹوٹ گئے۔ اس کے علاوہ ان کے جسم پر بیس زخم تھے۔ ایک زخم ایک پیر پر بھی آیا تھا۔ اس سے وہ لنگڑے ہوگئے تھے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے جسم پر بھی بیس کے قریب زخم آئے تھے۔ غرض اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شدید زخمی ہوئے تھے۔
احد کی لڑائی شروع ہونے سے پہلے ایک شخص قزمان نامی بھی مسلمانوں کی طرف سے جنگ میں شریک ہوا تھا۔ اسے دیکھتے ہی حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ وہ احد کی لڑائی میں بہت بہادری سے لڑا، لڑائی شروع ہونے پر سب سے پہلا تیر بھی اسی نے چلایا تھا، لڑتے لڑتے وہ مشرکوں کے اونٹ سوار دستے پر ٹوٹ پڑا اور آٹھ دس مشرکوں کو آن کی آن میں قتل کرڈالا۔ بعض صحابہ نے اس کی بہادری کا تذکرہ آپ ﷺ سے کیا…اس تذکرے سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے تو اسے جہنمی فرمایا ہے اور وہ اس قدر دلیری سے لڑ رہا ہے…اس پر آپ ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا:
“یہ شخص جہنمی ہے۔”
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر بہت حیران ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں