سیدناحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 67

سیدناحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Hazrat Abu Bakr (R.A)

سیدناحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
تعارف:
نبی آخرالزماں آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کے دست راست، قریبی رفیق، مشیرِ خاص اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور شروع سے لیکر آخر تک نبی ﷺ کے ساتھ دین حق کی سربلندی کے لئے ڈٹے رہے۔ آپﷺ نے ہجرت مدینہ کے وقت حضرت ابوبکرﷺکے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی اور ’’یار غار‘‘ کہلائے۔ انہوں نے نازک مواقع پر اسلام کے لئے اپنا تما م مال وقف کردیا۔ نبی پاکﷺ کے وصال کے بعد انہوں نے منکرین زکوۃ اور منحرفین اسلام سے جہاد کیا اور ان کو سیدھے راستے پر دوبارہ لایا۔ انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد نبیﷺ کی ایک ایک نصیحت پر ہو بہو عمل کیا۔ دو سال کی حکومت کے بعد جب انہوں نے وفات پائی تو مسلمان اب ایک لاچار قوم نہیں بلکہ دنیا کی مضبوط ترین طاقت بن چکے تھے۔
ابتدائی زندگی:
سیدناحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 573 میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ کا نام عبداللہ،کنیت ابو بکر ،لقب صدیق اور عتیق تھا۔ آپؓ کے کسی بیٹے کا نام ’’ بکر ‘‘ نہ تھامگر آ پؓ اپنی کنیت ابو بکر سے ہی معروف ہوئے۔ آپؓ کے والد کانام عثمان اور کنیت ابو قحافہ تھی۔والدہ کا نام سلمیٰ اور کنیت ام الخیر تھی۔ آپؓ کا تعلق قریش کی شاخ بنو تمیم سے تھا۔قبل از اسلام مکہ کی ریاست میں خون بہا کی امانت داری اسی قبیلے کے سپرد تھی۔ آپؓ کا شجرہ نسب چھٹی پشت میں جا کر رسولﷺ سے مل جاتاہے۔آپؓ کی چار پشتوں کو صحابہ اور صحابیات ہونے کا شرف حاصل ہے۔یعنی آپؓ کے والدین ، آپؓ خود،تمام اولاد اور آپؓ کے نواسے وغیرہ سب صحابہ کرام میں شامل تھے۔
شخصیت:
آپؓ کم گو، سنجیدہ مزاج، باوقاراور حسین و جمیل شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ہمیشہ سچ بولتے اور اپنی سچی اور شیریں گفتگو سے ہر ایک کا دل موہ لیتے تھے۔ ان کا قد موزوں، جسم دبلا، بال گھنگھریالے اور چہرہ مبارک حسین تھا۔آپؓ کے مشورے فہم وفراست پر مبنی ہوتے تھے لہٰذالوگ اکثر مسائل وجھگڑوں میں آپؓ سے رجوع کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو قلب سلیم کی دولت عطا کی تھی۔یہی وجہ تھی کہ اپنی قوم کے اکثر گمراہ کن اعتقادات اور عادات وغیرہ سے اپنے آپ کو دور رکھتے تھے ۔ آپؓ کے اخلاق و کردار کے حوالے سے ابن ہشام فرماتے ہیں: ’’ ابو بکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)اپنی قوم میں بہترین نسب والے تھے۔ قریش کے انساب کا انہیں تمام قریش سے زیادہ علم تھااور ان کی اچھائی برائی کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔ خوش مزاج تھے۔ حسن معاملات کے سبب قوم کے تمام افراد آپؓ کے پاس آتےاورآپؓ سے تعلقات رکھتے تھے۔‘‘
قبول اسلام:
سیدنا ابو بکرؓ کا تلاش حق کے طویل ایمانی سفر کا نتیجہ اسلام تھا۔آپ ؓ کو شروع ہی سے دین حق کی تلاش تھی جو آپؓ کی فطرت سلیمہ اور دور رس بصیرت سے موافقت رکھتا تھا۔ چنانچہ جب رسولؐ کی بعثت ہوئی تو آپ ؓ فوراً ایمان لے آئے اور رسولؐ کی رسالت کی تصدیق کی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کو مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہے۔
اسلام کے لئے کوششیں:
حضرت ابو بکر صدیقؓ نے قبول اسلام کے بعد لوگوں کو اسلام کی تبلیغ شروع کر دی اور اسلام کی اشاعت کے لئے کوشش کرنے لگے۔سب سے پہلے آپؓ نے اپنے بھروسے والے افراد کواسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ چونکہ آپؓ لوگوں میں ہر دل عزیز تھے اور لوگوں کے دلوں میں آپؓ کی بے حد عزت و محبت تھی اس لئے آپؓ کی کوشش سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ آپؓ کی ابتدائی تبلیغ اور کوششوں سے جن بلند مرتبہ لوگوں نے آپؓ کی دعوت حق پر لبیک کہا ان کا شمار عشرہ مبشرہ صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپؓ کی کوششوں سے حضرت عثمانؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت طلحہؓ جیسی شخصیات نے دعوت حق کو قبول کیا۔ آپؓ ان سب کو ساتھ لے کر بارگاہ اقدسؐ میں حاضر ہوئے ۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جن شخصیات نے اسلام قبول کیا انہیں بے انتہا مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ کفار نے ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا اور کوشش کی کہ یہ لوگ دین اسلام سے پھر جائیں۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنی ہمت و کوشش اور ایمانی جذبے کی پختگی سے کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے بہت سے مسلمانوں کو رہا کروایا۔حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا مکہ مکرمہ میں دستور تھا کہ بوڑھے مردوں اور بوڑھی عورتوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد خرید کر آزاد کر دیتے تھے۔ ایک دن آپؓ کے والد نے کہا: ’’اے بیٹے! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بوڑھے لوگوں کو خرید کرآزاد کر رہے ہو، اگر تم بوڑھوں کی بجائے قوی اور جوان لوگوں کو آزاد کرواؤ تو وہ تمہارا ساتھ دیں گے ،تم کو نقصان سے محفوظ رکھیں گے اور تمہاری مدافعت بھی کریں گے‘‘۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا: ’’ اے والد محترم ! اس سے میرا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی ہے ‘‘۔ قبول اسلام کے بعد مشرکین مکہ آپؓ کو کسی بھی قسم کی تکلیف دینے سے باز نہ آتے تھے لیکن وہ اپنی تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ۔حضرت ابو بکر صدیقؓ ہر قدم پر حضور اکرمﷺ کے محافظ بنے رہے اور انہیں مشرکین مکہ کے چنگل چھڑا لیتے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ حضورؐ کے سچے جانثار تھے اور انہوں نے جرأت وبہادری سے ہر موقع پر اپنی جانثاری کی مثالیں قائم کیں۔
ہجرت حبشہ:
حضورﷺ نے جب دیکھا کہ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہاہو گئی ہے تو آپؐ نے مسلمانوں کو حبشہ کی سر زمین کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیاکہ وہاں کے بادشاہ کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا تھا۔ مسلمان کفار کے ظلم و ستم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئےحبشہ کی سر زمین کی طرف چل پڑے۔ یہ پہلی ہجرت تھی جو اسلام میں ہوئی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ بھی اس ہجرت میں شامل تھے۔
ہجرت مدینہ:
ہجرت حبشہ کے بعد ہجرت مدینہ کا وقت آیا توسب مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خوش نصیبی دیکھئے کہ ہجرت مدینہ کے لئے حضورؐ نے انہیں اپنے ساتھی کے طور پر منتخب کیا ۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے آپؐ کے ساتھ یہ ہجرت کی۔اور غار ثور میں آپؐ کے ساتھ تین دن اور تین راتیں قیام کیاجس بنا پرآ پؓ کو ’’یار غار‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ہجرت مدینہ کے پورے سفر کے دوران حضرت ابو بکر صدیقؓ نے آپ ؐ کا بھر پور ساتھ دیا اور ہر طرح سے آپؐ کی حفاظت کی۔جس وقت مشرکین مکہ رسول ؐ کو تلاش کرتے ہوئے غار ثور کے قریب پہنچ گئے اور ابو بکرؓ کو آپؐ کی فکر ہونے لگی تو آپؐ نے حضرت ابو بکرؓکو اطمینان دلایااور اللہ تعالیٰ کی مدد کا یقین دلایا۔
غزوات میں شرکت:
حضورؐ ، مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے۔اپنے وصال تک حضورؐ کو مسلسل دس برس حالت جنگ میں رہنا پڑا۔ اس دوران جو بھی غزوات ہوئے،ان سب میں حضرت ابو بکر صدیقؓ بنفس نفیس شریک ہوئے۔اس کے علاوہ آپؓ نے ایک مشیر کے فرائض بھی انجام دیئے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو اللہ تعا لیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی تھی کہ دین کی نصرت اور کامیابی و کامرانی کے لئے جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیااور کفرو اسلام کا پہلا معرکہ غزوہ بدر سے لے کر آپؐ کے وصال تک ہونے والے تمام غزوات میں آپؐ کے ساتھ شریک رہے۔ سیدنا سلمہ ابن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں: ’’ میں نے سات غزوات میں نبیؐ کے ساتھ شرکت کی،اسکے علاوہ دیگر نو جنگی مہمات میں جنہیں رسولؐ روانہ فرمایا کرتے تھے، شرکت کی، کبھی سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے امیر ہوتے اور کبھی سیدنا اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘‘ ۔ہجرت کے دوسرے سال جب کفار اور مسلمانوں کے درمیان پہلا معرکہ ( غزوہ بدر) ہواتو حضرت ابو بکر صدیقؓ اس معرکہ میں رسولؐ کے ساتھ پیش پیش تھے۔غزوہ بدر میں جو قیدی گرفتار ہوئے، ان کے بارے میں رسولؐ نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سے مشورہ لیاکہ ان کے ساتھ کیا معاملہ طے کیا جائے۔ حضرت ابو بکرؓ نے فدیہ لینے کی تجویز پیش کی اور حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ ان کو ہمارے حوالے کر دیا جائے، ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ سیدنا عمرؓ کہتے کہ آپؐ نے حضرت ابو بکرؓ کی رائے قبول کی اور میری رائے کو نظر انداز کر دیا۔معرکہ احد میں حضرت ابو بکر صدیقؓ حضوراکرمؐ کے ساتھ شریک تھے اور کفار کا سردار ابو سفیان اس حقیقت کا اعتراف کرتا تھا کہ اسلام کے ستون رسولؐ ،ابو بکراؓ ور عمرؓ ہیں۔ غزوہ خیبر کے موقع پر جب خیبر کا محاصرہ کیا گیاتو ابو بکرؓ نے جھنڈا پکڑا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ غزوہ خیبر کے موقع پر پہلے علمبردار تھے۔غزوہ حنین کے موقع پر حضرت ابو بکر صدیقؓ رسولؐ کے شانہ بشانہ تھے۔سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کو یہ سعادت حاصل تھی کہ رسولؐ کی موجودگی میں لوگوں سے خطاب کرتے اور مختلف مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کا موقف اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپؓ حق کو حق کہنے اور حق کا دفاع کرنے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے۔غزوہ تبوک کے موقع پر کٹھن سفر اور مشکلات کی وجہ سے رسولؐ نے صحابہ کو انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی اور ان کو اجر عظیم کی بشارت دی۔ اس موقع پر حضرت ابو بکرؓ کا کردار بے مثال ہے۔غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت ابو بکرؓ نے اپنے گھر کا سارے کا سارا مال پیش کر دیااور حضورؐ کے پوچھنے پر فرمایا : ’’ میں نے اپنے گھر والوں کے لئے اللہ اور اس کا رسول چھوڑا ہے ‘‘۔ اسلام کی ان تمام خدمات کے بدلے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ پر اللہ کی نعمت پوری ہوئی اور فتح مکہ کے موقع پر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے والد ابو قحافہ نے اسلام قبول کرلیا۔ انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر سیدنا ابو بکرؓ اپنے والد محترم کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے خدمت اقدسؐ میں حاضر ہوئے اور انہیں رسولؐ کے سامنے بٹھا دیا تو رسولؐ نے ابو بکرؓ سے فرمایا: ’’ اگر تو اپنے بزرگ باپ کو اپنے گھر میں رہنے دیتا اور ہم ان کے پاس آ جاتے(تو یہ تمہارے لئے باعث عزت وتکریم ہوتا)۔ یہ بات آپؐ نے سیدنا ابو بکرؓ کے اکرام میں ارشاد فرمائی۔ یوں فتح مکہ کے موقع پر آپؓ کے والد ابو قحافہ نے اسلام قبول کر لیا۔
صدیق اکبرؓ کے چند امتیازات:
سیدنا ابو بکرؓ کی پوری زندگی ہی فضائل سے بھری پڑی ہے۔ چند ایک کا ذکر درج ذیل ہے۔
راز نبوی کے محافظ:
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حفصہؓ بیوہ ہوئیں تو میں نے حضرت عثمانؓ کو حفصہؓ سے شادی کی پیشکش کی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا ۔پھر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ کو شادی کی پیشکش کی ، حضرت ابو بکرؓ حاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت عمرؓ کو حضرت ابو بکرؓ پر بہت غصہ آیا۔ پھر رسولؐ نے حضرت حفصہؓ کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو حضرت حفصہؓ کا نکاح آپؐ سے ہو گیا۔کچھ دن بعد حضرت ابو بکر اؓ ور حضرت عمرؓ کی ملاقات ہوئی تو ابو بکرؓ نے فرمایا: ’’ شاید آپؓ مجھ پر خفا ہوں کہ جب آپؓ نے مجھ سے حفصہؓ کے نکاح کی بات کی تومیں نے آپؓ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا ‘‘۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’بالکل ہوں ‘‘۔ ابو بکرؓ نے فرمایا: ’’ میں نے تمہاری پیشکش کا جواب صرف اس لئے نہیں دیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ رسولؐ ، حفصہ کا ذکر کر رہے تھے۔ لہٰذا میں رسولؐ کا راز افشاں نہیں کرنا چاہتا تھا۔اگر آپؐ ارادہ ترک کر دیتے تو میں حفصہؓ سے شادی کر لیتا‘‘۔
رسولؐ کا ابو بکرؓ سے غرور کی نفی فرمانا:
رسولؐؐ نے فرمایا: ’’ جو شخص غرور اور تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا اٹھائے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا ‘‘۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا : ’’ میرا کپڑا چلنے سے ایک طرف لٹک جاتا ہے، سوائے اس کے کہ میں اسکا خوب خیال رکھوں ‘‘۔ تو رسولؐ نے فرمایا: ’’ بے شک تو غرور اور تکبر کی وجہ سے ایسا نہیں کرتا ( یعنی اگر بے خیالی میں ایسا ہو تو وہ تکبر نہیں)‘‘۔
سیدنا ابو بکرؓ کا تقویٰ:
سیدنا عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا ایک غلام جو ان کے لئے روزانہ کچھ مال کما کر لاتا تھا۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا تو ابو بکرؓ نے اس میں سے کچھ کھا لیا۔ غلام نے پوچھا: کیا آپؓ کو معلوم ہے کہ یہ کیسی کمائی ہے؟ سیدنا ابو بکرؓ نے دریافت کیا: ’’ کیسی کمائی ہے؟ ‘‘ غلام نے جواب دیا ’’ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لئے کہانت کی تھی، حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھا، لیکن اتفاق سے وہ بات پوری ہو گئی، آج وہ شخص مجھے ملا تو اس نے اس کی اجرت میں مجھے یہ چیز دی تھی، جس میں سے آپؓ نے کھایا ہے ‘‘۔حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: ’’ تو سیدنا ابو بکرؓ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالااور پیٹ کی ہر چیز قے کر کےباہر نکال دی ‘‘ ۔
مہمان نوازی:
حضرت ابو بکر صدیقؓ بے حد مہمان نواز تھے۔ کبھی اللہ کی راہ میں دینے سے ہاتھ نہ روکا تھا۔ ہر موقع پر مہمان کی مہمان نوازی کرنا خوش نصیبی سمجھتے تھے، چاہے خود فاقے سے ہی کیوں نہ ہوں۔
رسول اکرمؐ ، حضرت ابو بکرؓ کے حمایتی:
صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ آپؐ ، حضرت ابو بکر صدیقؓ کی نصرت و تائید کرتے تھے اور لوگوں کو آپؓ سے جھگڑنے اور آپؓ کی مخالفت کرنے سے منع فرماتے تھے۔چنانچہ سیدنا ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبیؐ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ابو بکرؓ آئے، وہ اپنے تہ بند کاایک کونا اٹھائے ہوئے تھے، یہاں تک کہ ان کے گھٹنے سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ نبی کریمؐ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: ’’ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے صاحب (ابو بکرؓ) کسی سے لڑ کر آ رہے ہیں۔‘‘ سیدنا ابو بکرؓ نے آکر سلام کیا اور عرض کی: ’’ اے اللہ کے رسول! مجھ میں اور ابن خطاب میں کچھ تکرار ہو گئی ہے۔ میں نے جلد بازی میں انھیں کچھ سخت لفظ کہہ دیے، پھر میں شرمندہ ہوا اور ان سے معافی چاہی، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ اب میں آپؐ کے پاس آیا ہوں ( آپؐ انھیں سمجھائیں)‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ ابو بکر اللہ تجھے بخشے ‘‘۔ تین بار یہی فرمایا، پھر سیدنا عمرؓ شرمندہ ہوئے اور ابو بکرؓ کے گھر آئے اور پوچھا: ’’ ابو بکر ہیں ؟ ‘‘ گھر والوں نے کہا : ’’ نہیں ‘‘۔ وہ نبی کریمؐ کے پاس آئے اور سلام کیا تو نبیﷺ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا، یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر ڈر گئے( کہ نبیؐ ، سیدنا عمرؓ پر خفا نہ ہو جائیں) دو زانو ہو کر بیٹھ گئے اور عرض کی: ’’اے اللہ کے رسولؐ ! اللہ کی قسم ! غلطی میری ہی تھی ۔‘‘ دو دفعہ یہی کہا، پھر نبیؐ نے فرمایا: ’’ لوگو! اللہ نے مجھے تمھاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا، لیکن تم نے کہا: تو جھوٹ بولتا ہے۔ ‘‘ اور ابو بکر نے کہا: ’’آپ نے سچ فرمایا ‘‘ اور اس نے اپنی جان اور اپنے مال سے میری مدد کی ، تو کیا تم میری خاطر میرے دوست کو اذیت پہنچانا چھوڑ سکتے ہو؟ ‘‘ دو دفعہ یہی فرمایا، پھر اس کے بعد ( صحابہ میں سے ) ابو بکر کو کسی نے نہیں ستایا۔ ‘‘
ابو بکرؓ سے نبیؐ کی محبت:
سیدنا عمر بن العاصؓفرماتے ہیں : ’’ نبیؐ نے ذات السلاسل کی لڑائی میں حضرت ابو بکرؓ کو اسلامی لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجا تو میں آپؐ کے پاس آیا اور سوال کیا:’’ اے اللہ کے رسولؐ! آپؐ کو مردوں میں سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ ‘‘آپؐ نے فرمایا: ’’ ابو بکر صدیق سے۔ ‘‘ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی عظمت کا اندازہ رسولﷺ کے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے: ’’ اگر میں کسی کو خلیل بناتا توابو بکر کو بناتا،لیکن وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہے ۔‘‘
خلافت:
جماعت صحابہ میں سے خاص طور پر وہ ہستیاں جنھوں نے آپؐ کے بعد اس امت کی باگ ڈور سنبھالی، امور دنیا اور نظام حکومت چلانے کے لئے ان کے اجتہادات اور فیصلوں کو اسلامی شریعت میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیقؓ سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار و قربانی اور صبر و استقامت کا مثالی نمانہ تھے۔ انھوں نے فتنہ ارتداد، مانعین زکوٰۃ اور جھوٹے مدعیان نبوت جیسے فتنوں کا قلع قمع کیا۔ ان کے فہم و فراست اور بصیرت و حکمت پر مبنی فیصلوں نے نو خیز خلافت و امارت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ ان کا نظامِ حکومت اور عہد زریں دنیا کے لئے مشعل راہ ہے۔
ان کا دو ر حکومت دو سال چند ماہ پر مشتمل تھا۔ اس دور میں مسلمانوں نے اردگرد کے کئی علاقے فتح کئے۔ ان کے دور میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت عمر بن العاصؓ اور حضرت ابوہریرہؓ جیسے نامور صحابہ کرام کے ساتھ ملکر عراق، شام ،بحرین ، یمن کے علاقے فتح کئے۔ ان کے دور میں جنگ قادسیہ اور جنگ یرموک ہوئیں جن سے دو عالمی طاقتیں یعنی فارس اور روم مسلمانوں کے سامنے سرنگوں ہوگئیں۔انہوں نے اسلام کا حقیقی نفاذ کر کے ایک عظیم الشان ریاست کی بنیاد رکھی۔
تاریخی خطبہ خلافت:
خلیفہ منتخب ہو نے کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ آپؓ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے لوگو! میں تم پر والی مقرر کیا گیا ہوں، لیکن تم میں سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کام کروں تو میرے ساتھ تعاون کرو اور اگر میں کج روی اختیار کروں تومجھے سیدھا کر دو۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے، تمھارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک طاقتور شخص ہے جب تک میں دوسروں سے اس کا حق نہ دلوا دوں اور تمھارا قوی شخص بھی میرے نزدیک ضعیف ہے، یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق وصول نہ کر لوں۔یاد رکھو! جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے اللہ اس قوم کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اگر میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کروں تو تم میری اطاعت کرواور اگر میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں۔ اللہ تم سب پر رحم فرمائے، نماز کے لئے کھڑے ہو جاؤ( یعنی نماز قائم کرو)۔ ‘‘
وصال:
22 جمادی الثانی13 ہجری بمطابق 23 اگست634 ء کو آپؓ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ اپنی وفات سے پہلے آپؓ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ حضرت عمرؓ کو خلیفہ تسلیم کر لیں۔ لوگوں نے آپؓ کی ہدایت پر حضرت عمرؓ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ وفات کے وقت حضرت ابو بکرؓ نے وہ تمام رقم جو انہوں نے اپنی خلافت کے دوران بیت المال سے بطور وظیفہ لی تھی ،اپنی وراثت سے بیت المال کو واپس کر دی۔آپؓ کی مدت خلافت دو سال تین ماہ اور گیارہ دن تھی۔ زندگی میں جو عزت واحترام آپؓ کو ملا ، وصال کے بعد بھی آپؓ اسی کے مستحق ٹھہرے اور حضور نبی کریمﷺ کو پہلو میں دفن ہوئے۔ آپؓ کی لحد مبارک رسولؐ کے دائیں جانب اس طرح بنائی گئی ہے کہ آپؓ کا سر رسول اکرمؐ کے شانہ مبارک تک آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں