146

سیاسی سیلاب تحریر : مفتی گلزار احمد نعیمی

سیاسی سیلاب
تحریر : مفتی گلزار احمد نعیمی

پاکستان اپنی تاریخ کے نہایت کٹھن دورسے گزر رہا ہے۔تیزی سے بدلتی صورت حال پر حتمی رائے قائم کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔اس سیاسی اور حصول اختیارات کی جنگ میں کون کامیاب ہوگا، یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا.ایک طرف عمران خان کھڑا ہے تو دوسری طرف،موجودہ اتحادی حکومت مسابقت کی میں کوئی اپنا کردار ادا نہیں کررہی بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ وہ ایسٹیبلشمنٹ کے ایک مہرہ کے طور پر چلائی جارہی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ایسٹیبلشمنٹ کے سامنے عمران خان خم ٹھونک کے کھڑا ہے اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سیاست دانوں اور اداروں کا مقابلہ کر رہا ہے۔اب عمران خان اور ایسٹیبلشمنٹ کی کیفیت مغربی فلموں کے اس کردار کی طرح ہوگئی ہے جس میں دونوں مد مقابل ایک دوسرے پر گن تانے کھڑے ہوتے ہیں اور اگر ایک ذرا سی آنکھ جھپکتا ہے تو مدمقابل اس پر حملہ کر دیتا ہے۔
عمران بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور ایسٹیبلشمنٹ اختیارات کی.بلکہ اگر میں یوں کہوں کہ عمران سے لیکر مولانا فضل الرحمن تک ہر کوئی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے.لیکن اصل جنگ عمران خان اور ڈیپ سٹیٹ کے درمیان ہے.اگر عمران خان جیت گیا تو پھر ڈیپ سٹیٹ کا رول بالکل واضح ہوجائے گا کہ اس کا دائرہ اختیار کیا ہے اور وہ کہاں تک جاسکتی ہے،یہ جنگ بھی چل رہی ہے کہ عمران خان کیا ہے؟اور دنیا اسے کس نظر سے دیکھ رہی ہے.کیا وہ پرو اسلام ہے یا اینٹی اسلام؟بہت سی چیزیں واضح ہوچکی ہیں لیکن ابھی تک بہت سی چیزیں رہتی ہیں جو وضاحت طلب ہیں.ابھی مسلم لیگ کو بھی دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنی پرانی حیثیت میں کنزرویٹو یا بنیاد پرست ہے کہ مغرب نواز ہے.اب ایک سیلاب کی کیفیت بن گئی ہےاور ہر تیراک اپنی تیراکی کے ذریعے اپنی جان بچانے کی تگ ودو میں مصروف ہے۔اس سیلاب کے تھم جانے کے بعد پتہ چلے گا کہ عمران خان کس حیثیت میں سامنے آیا ہے کنزرویٹو یا سیکولر.یہ واضح ہوجائے گا کہ مذہبی کارڈ مولانا فضل الرحمن اور دیگر مذہبی جماعتوں کے پاس ہی رہے گا یا ان سے چھین لیا جائے گا.یہ بھی واضح ہونا ابھی باقی ہے کہ ڈیپ سٹیٹ اس سیلاب کے آگے بند باندھ لے گی یا یہ سیلاب اسے بھی اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔کیا اس سیلاب میں میڈیا ہاؤسز اور اینکرز بھی بہہ جائیں گے یا وہ اپنی حیثیت برقرار رکھ سکیں گے.میرے نزدیک اس سب کا تعلق موجودہ آرمی چیف کے دور کے اختتام پر نئے آنے والے چیف کے فرائض سنبھالنے کے ساتھ منسلک ہے.یہ بات بہت اہم ہوگی کہ نیا آرمی چیف جنرل باجوہ کی میراث کو اپناتا ہے یا اس سے لاتعلق ہوجائے گا یا اسے لا تعلق کردیا جائے گا.
اس بنیادی پس منظر کے بعد اب ہم تمام سٹیک ہولڈرز پر اختصار کے ساتھ تبصرہ کرتے ہیں تاکہ ہمارے سامنے صورت حال کچھ واضح ہوجائے اور ہمارے قارئین کسی مضبوط رائے کی جانب بڑھ سکیں.
سب سے پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس سیلاب میں مسلم لیگ ن اپنی حیثیت برقرار رکھ پائے گی کہ نہیں.اس کا بہت حد تک انحصار اس بات پر ہے کہ مستقبل میں یہ پارٹی شریف برادران کے زیر سایہ ہی رہے گی یا نہیں۔اس سے بھی بڑھ کر اس پارٹی کے مستقبل پر بھی اہم سوال اٹھایا جارہا ہے کہ یہ پارٹی اسی طرح متحد رہے گی یا بقول شیخ رشید ن سے ش نکلے گی۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اب یہ ایک خاندانی پارٹی بن گئی ہے۔اس کا ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ ابھی تک یہ پارٹی نوے کی دہائی سے باہر نہیں آسکی۔یہ جمود کی طرف جارہی ہے،پوری دنیا جانتی ہے کہ ابھی اسے اقتدار ایسٹیبلشمنٹ،پی پی پی ،جے یو آئی،ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں کی وجہ سے ملا ہے مگر تیرہ پارٹیز مل کر بھی اسے نہیں اٹھا سکیں۔اگر پارٹی کو کوئی عوامی لیڈر میسر نہ آیا تو یہ دیگر مسلم لیگوں کی طرح بے نشان ہوجائے گی۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے باوجود پنجاب جو اس کا اصل بیس کیمپ تھا اس میں یہ حکومت نہیں بنا سکی۔آئندہ انتخابات اگر “ان ڈاکٹرڈ” ہوئے تویہ پنجاب میں بالکل بے حیثیت ہوجائے گی.اس کی قیادت پر کرپشن اور بدعنوانی کہ ایسے مضبوط الزامات ہیں کہ جن کی تردید نہیں کی جاسکتی۔بلکہ نوازشریف اور مریم نواز پر تو جرم ثابت بھی ہوچکے اور سزا بھی ہوچکی ہے۔یہ پارٹی فوجی آمر کی پیداوار ہے لیکن عجب بات یہ ہے کہ یہ دو دفعہ آرمی چیف سے لڑائی کر چکی ہے جسکی وجہ سے اسکی حکومتیں ختم ہوئیں۔ڈان لیکس اور ایسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی کے منفی اثرات نے اسکی سیاسی پوزیشن کو بہت خراب کیا ہے۔پھر ووٹ کوعزت دو اور اس سے قبل قرض اتارو ملک سنوارو یہ بہت اچھے بیانیے تھے مگر ان بیانیوں کو خود ن نے ہی شکست دی ہے۔میرے خیال میں اب مین چسٹ بورڈ پر اسکو اسکی حیثیت سے زیادہ جگہ دے دی گئی ہے۔یہ اب علاقائی جاعت بننے کی طرف بہت تیزی سے گامزن ہے۔عمران خان کے ایسٹیبلشمنٹ کے اختلاف نے ایک دفعہ پھر اسے موقع دیا تھا مگر یہ موقع اس نے بری طرح گنوا دیا ہے۔نوازشریف کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے بھی اسے نقصان پہنچا ہے۔
گزشتہ دنوں معروف صحافی محترم سھیل وڑائچ نے نواز شریف کا انٹرویو کیا تھاجس میں نوازشریف نے کہا کہ وہ حکومت لینے کے حق میں نہیں تھے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ن نے حکومت صرف نیب کیس اور اوورسیز اور اے وی ایم سے متعلق قوانین ختم کرنے کے لیے لی تھی؟حالات و واقعات بتارہے ہیں کہ شریف فیملی مفاہمت کی سیاست کی طرف آرہی ہے۔شہباز شریف اہم امور سے متعلق فیصلہ لینے کے لیے لندن میں نوازشریف سے ابھی(11 نومبر 2022)تک چار ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ شہبازشریف کی لندن یاترا پاکستان کی سیاست پر مستقبل میں بہت اہم اثرات مرتب کرے گی۔
اس سیاسی سیلاب میں پاکستان پیپلز پارٹی اپنے آپ کو برقرار رکھ سکے گی؟یہ ایک اہم سوال ہے۔پی پی پی اب ایک صوبے کی پارٹی بن چکی ہے۔اس میں مرکزی قائدین کم وبیش ذوالفقار علی بھٹو دور کے ہیں جو اپنی طبعی عمریں گزار چکے ہیں۔پی پی سندھ میں ابھی تک سندھ کا استعمال کررہی ہے اور ابھی تک اس کے سامنے اس حوالہ سے کوئی بڑا چیلنج سامنے نہیں آیا۔ایم کیو ایم کی مرکزی طاقت کے شیرازے کے بکھرنے کےبعد وہ کافی حد تک مطمئن ہے۔لوٹ مار کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔عوام کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسکی مرکزی ختم ہو چکی ہے ایک بڑے جھٹکے کے بعد شاید وہ ناقابل ذکر ہو جائے گی۔
مذہبی سیاسی جماعتیں بھی اب پرو ایسٹیبلشمنٹ ہو گئی ہیں بلکہ وہ “پیسہ ڈال بے جا نال”پارٹیز بن گئی ہیں۔مغرب سے آنے والی تباہ کاری میں وہ بالکل غیر جانب دار نظر آتی ہیں۔مذہبی تعلیمات اور روایات کے تحفظ میں وہ نمائندہ حیثیت ختم کر چکے ہیں۔انکی وجہ سے مذہب کو بہت نقصان پہنچا ہے اور مزید ہہنچنے کے واضح امکانات ہیں۔عمران خان نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے ان سے مذہبی ایجنڈا چھین لیا ہے۔اب انکاصرف ایک mercinaries کا کردار رہ گیا ہے۔ان میں سے بعض کے پاس کچھ ایسے جذباتی جوان ہیں جن کے ذریعے یہ حکومتوں کو مشکلات سے دوچار کر دیتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی واضح ایجنڈا نہیں ہے اس لیے یہ بھی دیگر انتہاء پسند گروہوں کی طرح آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جن بڑی مذہبیجماعتوں نے ابھی تک نفاذ اسلام کو اپنی سیاست کا سہارا بنایا ہوا ہے ان کے بڑے رہنماؤں سے جبنفاذ اسلام کے حوالہ سے سوال کیا جائے تو وہ کوئی معقول بات کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔وہ معروضی حالات کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے کے طرز حکومت پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں اور یوں جان چھڑا کر بھاگنے کی کرتے ہیں۔اس کا واضح مطلب ہے کہ ان مذہبی جماعتوں نے نفاذ اسلام کے حوالہ اپنا ہوم ورک نہیں کیا۔میں سمجھتا ہوں قرآن وسنت آج بھی اسی طرح ہمارے مسائل کا حل رکھتے ہیں جیسے کئی صدیاں پہلے ان دو ھدایت کے سرچشموں نے ہمارے مسائل حل کیے تھے۔
اس سیاسی سیلاب میں سابق وزیر اعظم اور انکی پارٹی اپنی حیثیت برقرار رکھ سکے گی کہ نہیں۔میں اپنے قارئین کو گزارش کرونگا کہ میں اپنی بساط اور فہم و فراست کے مطابق اپنا تجزیہ پیش کرتا ہوں کسی کا اس سے متفق ہونا کوئی لازمی نہیں ہے۔جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے وہ ایک طلمساتی شخصیت کے حامل ہیں اور قسمت کے دھنی واقع ہوئے ہیں۔یہ دونوں چیزیں من جانب اللہ ہوتی ہیں ان کا کسب سے تعلق نہیں ہے۔اس کے باوجود کہ انکی شخصیت میں بھی بہت سی خامیاں ہیں اور ان خامیوں کی بنیاد پر وہ ہر وقت کردار کشی کی مہم کی زد میں رہتے ہیں۔اس کے مخالفین اس کے خلاف پروپگنڈا مہم میں بہت مبالغہ آرہی کرتے ہیں مگر اسکی شہرت کا گراف مسلسل اوپر ہی جارہا ہے۔اسکی قسمت ہر وقت اسکا ساتھ دیتی ہے اور قدرت نے بھی شاید ابھی اس سے کچھ کام لینے ہیں اس لیے وہ ہر مشکل سے سرخرو ہوکر نکل رہے ہیں ۔ان پر قاتلانہ حملہ ہو مگر یہ حملہ اس کے استقلال کو متزلزل نہیں کر سکا۔اس کی پارٹی میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو وکٹ کی دونوں جانب کھیل رہے ہیں۔مگر عمران خان ہر شخص کو آشکار کررہا ہے۔موافق اور مخالف دونوں ایکسپوز ہورہے ہیں۔جو عمران خان سے منافقت کرتا ہے وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہورہا ہے جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ اس کے مقابلے میں پسپا ہوجاتا ہے۔میں بہت شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب بھی الیکشن ہوئے عمران خان دوتہائی اکثریت سے واپس آئے گا بشرطیکہ کہ الیکشن صاف و شفاف ہوں کوئی انجیئرننگ نہ کی جائے۔
عمران خان نے بڑی کامیابی کے ساتھ پاکستانی عوام کو اس بیانیے پر متفق کردیا ہے کہ پی ڈی ایم کی تمام قیادت کرپٹ اور ملک دشمن اور عوام دشمن ہے۔اب عوام صرف اسی لیڈر کو اپنے کہنہ امراض کا مداوا اور مسیحا سمجھتے ہیں۔عمران خان کے خود مختاری کے نعرے نے عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔پاکستانی عوام اپنے ملک کو بیرونی مداخلت سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس بیانیے سے سر مو انحراف نہ کریں اور نہ ہی کوئی یوٹرن لیں۔
آخر میں اگر میڈیا پر بات نہ ہو بات ادھوری رہ جائے گی۔ اس سیاسی سیلاب کے تھم جانے کے بعد پاکستانی میڈیا کا قبلہ بھی کافی حد تک درست ہوجائے گا۔اگر عمران خان برسراقتدار آگیا جس کے امکانات بہت روشن ہیں تو بہت سے مغرب نواز چینلز اور صحافی اپنی سمت درست کر لیں گے۔
پاکستان کے لیے آنے والے چھ ماہ بہت اہم ہیں اور امید واثق ہے کہ پاکستان ترقی کی منازل پر دوبارہ رواں دواں ہو جائے گا۔ان شاء اللہ
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

اپنا تبصرہ بھیجیں