66

سکھ فوجی75سال بعد اورکزئی کیوں آئے؟

سکھ فوجی75سال بعد اورکزئی کیوں آئے؟
سالوں میں پہلے برٹش سکھ فوجی وفد کی پاکستان آمد اور سرہ گڑی جنگ میں مارے جانے والے سکھ فوجیوں کو نذرانہ عقیدت۔
قیام پاکستان کے بعد پہلی بار برطانوی سکھ فوجیوں نے پاکستان کے قبائلی ضلعے اورکزئی کا دورہ کیا ہے اور وہاں 1897 میں مارے جانے والے برطانوی سکھ فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ضم اورکزئی ایجنسی کے علاقے سرہ گڑی میں سمانہ قلعہ کی چوکیوں پر 1897 میں انگریز افواج اور مقامی افغان قبائل کے مابین تاریخی لڑائی میں برطانوی فوج کی طرف سے لڑتے ہوئے برطانوی فوج کے مطابق سکھ رجمنٹ کے 21 سپاہیوں نے 10 ہزار سے زائد قبائلیوں کا مقابلہ کیا تھا۔
وفد نے بتایا کہ جب سے پاکستان بنا ہے یہ پہلا برطانوی سکھ فوجیوں کا وفد ہے جس نے سرہ گڑی کا دورہ کیا اور یہاں آ کر یادگاری تختیاں نصب کیں۔
برٹش سکھ فوجی وفد کے پاکستان آنے کی وجہ سرہ گڑی جنگ میں مارے جانے والے سکھ فوجیوں کو نذرانہ عقیدت پیش کرنا تھا۔
سکھ فوجیوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا میں ضم شدہ اورکزئی ایجنسی کے علاقے سرہ گڑی میں 1897 میں اس وقت کی برٹش انڈیا فوج میں بھرتی ہونے والے سکھ فوجیوں نے افغانستان کے قبائلیوں کے ساتھ لڑائی میں بہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے قلعے کی فوجی چوکیوں کا آخری سانس تک دفاع کیا اور مارے گئے۔

برطانوی سکھ فوجی وفد اپنے ساتھ سیمنٹ لے کر آیا تاکہ وہ خود یادگار تعمیر کرسکیں۔ نوجوان سکھ فوجیوں نے خود اینٹیں جمع کیں، سیمنٹ لگائی اور یادگار بنا کر اُس پر تختی نصب کرنے کے بعد پھول بھی چڑھائے۔ انہوں نے مذہبی رسومات کے ساتھ سوا سو برس قبل مارے جانے والے فوجیوں کو نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
سرہ گڑی میں کل شام بہت جذباتی مناظر تھے۔ پردیپ سنگھ نامی سکھ خاتون فوجی یونیفارم پہنے، لیکن سر پہ دوپٹہ لیے یادگار پر مذہبی رسومات ادا کر رہی تھیں۔ فوجی چوکی پر 125 سال پہلے ہونے والے واقعے کی یاد کی وجہ سے اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

پردیپ سنگھ نےبات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ بولا نہیں جا رہا کیوں کہ بہت جذباتی دن ہے۔ صرف اتنا ہی کہوں گی کہ پاکستان آرمی کا بھی شکریہ جنہوں نے ہمیں یہاں بلایا، اتنی مہمان نوازی کی اور یہ موقع فراہم کیا۔‘
پاکستان آنے والا برطانوی فوجی وفد 12 رکنی تھا جس کی قیادت میجر جنرل سیلیہ ہاروے نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ نو سکھ فوجیوں کو، جن میں ایک خاتون فوجی بھی شامل ہیں، لے کر وہ پہلی بار پاکستان آئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی آرمی چیف نے انہیں اس دورے کی دعوت دی اور انتظامات کیے۔ دورے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بہادر برطانوی سکھ فوجیوں کی قربانی کو نام دینے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مرنے والے سکھ فوجیوں نے 1897 میں سرہ گڑی چوٹی پر موجود رابطے کے فوجی ٹاور کا دفاع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پر بنیادی طور پر دو قلعوں کی فصیلیں تھیں۔

’میرے ایک طرف قلعہ گلستان اور دوسری جانب قلعہ لوکھارٹ ہے۔ اس رابطہ ٹاور پر اُن پر 10 ہزار قبائلیوں کی جانب سے حملہ ہوا تھا۔آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اکیس فوجیوں نے ٹاور کا دفاع کرتے ہوئے دس ہزار قبائلیوں کا مقابلہ کیسے کیا ہو گا؟ انہوں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے چھ سو کے قریب دشمنوں کو مارا اور آخری آدمی تک ٹاور کا دفاع کیا۔‘

میجر دلجندر سنگھ نےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس مقام پر واقعے کی کوئی یادگار نہیں تھی۔ ہم چاہتے تھے کہ یہاں آ کر کچھ بنا کر جائیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں میرے پیچھے، ایک یادگار بنا دی گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دو سال پہلے ایک پاکستانی فوجی افسر کی ہم سے برطانیہ میں بات ہوئی تھی وہ ہمارے ساتھ وہاں کورس پر تھے۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ سردار جی، کیوں نا آپ ننکانہ صاحب کے درشن کرائیں؟ تو بس وہ جو ہماری بات چیت دو سال پہلے ہوئی تھی۔ تو اب آج دو سال بعد ہم یہاں کھڑے ہیں۔‘
انہوں نے پاکستان کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’وہی پنجاب ہے جو اُس طرف ہے ویسا ہی اِدھر ہے، کھانا زبان اور کلچر بھی ایک ہی ہے۔ خوش قسمت ہیں کہ ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب پہ ماتھا ٹیکنے کا موقع ملا۔‘
ایک برطانوی سکھ فوجی اوپندرجٹ سنگھ اتوال نے بتایا کہ ’میرے پردادا بھی اسی سرزمین سے تھے اور میرے دادا کی پیدائش بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد وہ اُدھر (انڈیا) چلے گئے تھے۔ لیکن اُن کے ایک بھائی ابھی بھی اِدھر ہی ہیں۔ دیکھتے ہیں انہیں ڈھونڈتے ہیں اگر وہ مِل گئے۔‘
سمانہ فورٹ اور سرہ گڑی کی تاریخ کیا ہے؟
سطح سمندر سے تقریباً چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع سمانہ ضلع ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کا ایک چھوٹا سا سرحدی اور تاریخی گاؤں ہے۔ سیاحتی مقام کے ساتھ ساتھ اس کی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے۔ پاکستان بننے سے قبل یہ پہاڑی مقام انگریزوں کا ایک مسکن تھا جہاں سے برطانوی افواج نے افغانستان پر نظر رکھنے اور قبائل کو کنٹرول کرنےکے لیے تین بڑے بڑے تاریخی قلعے تعمیر کیے تھے جن کی تباہ شدہ عمارتیں آج بھی اسی طرح قائم ہیں۔ ان قلعوں میں سرہ گڑھی، فورٹ لوکارٹ اور گلستان شامل ہے۔ ان میں سے ایک قلعہ ختم ہوچکا ہے جبکہ دو قلعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔
سمانہ قلعہ کی تاریخ میں سکھ فوجیوں کا کردار کیا ہے؟
خیبر پختون خواہ میں ضم اورکزئی ایجنسی کے علاقے سرہ گڑی میں سمانہ قلعہ کی چوکیوں پر سنہ 1897 میں انگریز افواج اور مقامی افغان قبائل کے مابین ایک تاریخی لڑائی ہوئی تھی جس میں برطانوی انڈین آرمی کی طرف سے لڑتے ہوئے سکھ ریجمنٹ کے 21 سکھ سپاہیوں نے دس ہزار سے زائد قبائلیوں کا مقابلہ کیا تھا۔ جس کے بعد ہندوستان حکومت نے سنہ 1901 میں سکھ فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یادگار تعمیر کر کے وہاں تختی نصب کی جس پر اُن تمام سکھ فوجیوں کے نام اور رینک درج ہیں۔ معلومات کے مطابق سکھوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جو یادگار تیار کی گئی تھی اس میں وہی اینٹیں استعمال کی گئیں جو اُن فوجی چوکیوں اور ٹاور میں لگی ہوئی تھیں۔
جبکہ بعد ازاں ان 21 سکھ سپاہیوں کی بہادری اور آخری دم تک لڑنے پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں، ایک کتاب کا نام تھا ’بھولی ہوئی جنگ۔‘ بھارت نے اس موضوع پر فلم بھی بنائی۔
برٹش سکھ فوجیوں نے تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت اُن 21 سکھ فوجیوں نے قلعے کے ٹاور میں رہ کر اس کا دفاع کر کے جان گنوانا زیادہ مناسب سمجھا بجائے اس کے کہ وہ قلعے سے بھاگ کر اپنی جان بچاتے۔ اُن کے اس کارنامے کو تاریخ میں ہمیشہ بہادری کے نام سے یاد کیا گیا۔ جب آخری سکھ فوجی بھی دفاع کرتے ہوئے مارے گئے تو قبائلیوں نے اُن کمیونیکشن ٹاورز کو آگ لگا دی تھی۔ اب وہاں ٹوٹی ہوئی چوکیاں ہیں۔‘
سطح سمندر سے قریب چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کا درجہ حرارت بھی معتدل رہتا ہے اسی وجہ سے گرمیوں میں یہ مقام ارد گرد کے علاقوں کے لیے سیاحتی توجہ کا بھی مرکز ہے۔
سکھ برادری کے لیے حکومت پاکستان کے اقدامات
واضح رہے کہ اقلیتوں بالخصوص سکھ برادری کے حوالے سے یہ اقدامات پہلی بار نہیں بلکہ 2019 میں کرتار پور گردوارے کا بھی افتتاح کیا گیا تھا جس کی سنگ بنیاد 2018 میں رکھی گئی تھی۔
2018 انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے شرکت کی تھی جہاں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے انہوں نے کرتار پور راہداری کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے بیان میں اس بات کی تصدیق بھی کی تھی۔
نومبر 2019 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا اور 10 ماہ کے قلیل عرصے میں تعمیرات کروا کے دنیا بھر سے سکھ پیروکاروں کے لیے پاکستان آنے کا راستہ کھولا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پنجہ صاحب اور ننکانہ صاحب سالانہ اور سہ ماہی تقریبات میں شرکت کے لیے سارا سال ہی سکھ یاتریوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ اور دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی ویزوں کا اجرا کرتی رہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں