61

’’سچ تو یہ ہے!انصارعباسی

تاریخ کو اپنی مرضی سے مسخ کرنے کا رواج عام ہے اور اس سلسلے میں ایسے منافقوں، سازشیوں اور شرارتیوں کی بھی کمی نہیں جو قائد اعظم اور تاریخ پاکستان سے متعلق حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔ ایسے افراد بھی بہت ہیںجن کی اپنی نیت خراب نہیں لیکن وہ مسخ شدہ تاریخ پڑھ کر اُس پر یقین کر بیٹھتے ہیں اور پھر یوں ایک ایسا سلسلہ چل نکلتا ہے کہ جھوٹ سچ کو چھپا دیتا ہے۔

ایسے افراد اب بہت کم ہیں جو ریسرچ کر کے تاریخی حوالوں کا کھوج لگا کر سچ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ سچ کوسامنے لایا جائے اور تاریخ کو مسخ ہونے سے بچایاجائے ۔

محترم ڈاکٹر صفدر محمود انہی چند شخصیات میں سے ایک ہیں اور اُن کی سب سے بڑی دلچسپی قائد اعظم، تاریخ پاکستان، علامہ اقبال اور ہر وہ فرد ، جس کا پاکستان کے قیام میں کسی حد تک بھی کردار رہا، سے ہے۔

ڈاکٹر صاحب انہی موضوعات پر کئی کتابیں لکھ چکے لیکن اب اُنہوں نے بڑی تحقیق کے بعد ایک نئی کتاب ’’سچ تو یہ ہے!‘‘ تصنیف کی جس کا بنیادی مقصد نوجوان نسل، میڈیا اور پڑھے لکھے طبقہ کو اُس سچ سے تاریخی حوالوں کے ساتھ آگاہ کرنا ہے جس کو ایک طبقہ جان بوجھ کر مسخ کرتا ہے تاکہ پاکستان اور اسلام کو جدا کیا جا سکے۔ 1948 کو عید میلادالنبی کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے استقبالیہ میں تقریر کرتے ہوے قائد اعظم نے کہا:

’’ میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکا جو جان بوجھ کر شرارت کر رہے ہیں اور یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہو گی۔ ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح 1300 سال پہلے ہوتا تھا۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا اس لیے کسی کو بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘

ڈاکٹر صاحب قائد اعظم کی تقاریرکا حوالہ دیتے ہوے لکھتے ہیں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں رکھی جائے گی وہ سازشی اور منافق ہیں اور آخر میں (قائد نے) یہ کہہ کر تمام شکوک و شبہات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہو گا اور اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔

قائد اعظم کو سیکولر بنا کر پیش کرنے والوں کے جھوٹ کو بھی اس کتاب میں خوب فاش کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ قائد کی سیکڑوں تقریروں میں کسی ایک میں بھی سیکولرزم کے حق میں بات نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اسلام ہی اُن کی تقریروں کا محور رہا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے1939میں منعقد ہونے والے اجلاس میں قائد کی تقریر کے چند فقرے پڑھیے تاکہ آپ کو اُس اصل جناح کا سراغ مل سکے جو بظاہر انگریزی بولتا، مغربی لباس پہنتا اور مغربی طور طریقوں پر عمل کرتا تھا۔ قائد کے الفاظ تھے:

’’مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا۔ دولت، شہرت، اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔

میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم تک میرا اپنا دل، ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح نے مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا۔ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بیشک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں اسلام کو سربلند رکھتے ہوے مسلمان مرے۔‘‘

نومبر 1945 میں قائد اعظم نے پشاور میں کہا: ’’آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان میں کون سا قانون ہو گا۔ مجھے آپ کے سوال پر سخت افسوس ہوا۔ مسلمانوں کا ایک خدا، ایک رسولﷺ اور ایک کتاب ہے۔ یہی مسلمانوں کا قانون ہے اور بس۔ اسلام پاکستان کے قانون کی بنیاد ہو گا اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہو گا۔‘‘

ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں کہ 11اگست 1947 کی تقریر جسے دین بیزار اور سیکولر حضرات دن رات اچھالتے ہیں اور اُن کی کسی دوسری تقریر کا ذکر ’’حرام‘‘ سمجھتے ہیں، اُس میں بھی قائد نے پاکستانی قوم سے لسانی، نسلی، علاقائی اور صوبائی شناختوں کو دفن کر کے پاکستانی بننے کی تلقین کی تھی۔

ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ سیکولر دانشوروں کی ایک منظم لابی کو قائد اعظم کی اسلامی ریاست کے بیانیے سے چڑ ہے اور اُن کا ایجنڈا پاکستان کو صرف ایک سیکولر جمہوری ملک بناکر اسے ہر قسم کی اخلاقی و اسلامی قدروں سے بے نیاز اور اسلامی اصولوں کی گرفت سے آزاد کرنا ہے تاکہ یہاں مغرب کی مانند مادر پدر آزاد معاشرہ قائم کیا جا سکے اور نائو نوش سے لے کر جسم فروشی تک ہر قسم کی آزادی حاصل ہو۔

بظاہر یہ حضرات سیکولرزم کی آڑ میں اقلیتوں کے حقوق کی وکالت کرتے ہیں حالانکہ اسلامی ریاست اقلیتوں کو برابر کے شہری حقوق دیتی ہے اور مذہبی آزادی کی ضمانت مہیا کرتی ہے۔

اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے اس سیکولر لابی کے اُس جھوٹ کو بھی بے نقاب کیا جس میں وہ دوسرے کئی تاریخی واقعات کو مسخ کرنے کے علاوہ کبھی جگن ناتھ آزاد سے پاکستان کا قومی ترانہ لکھواتے ہیں، کبھی قرارداد پاکستان کو چوہدری ظفراللہ خان کا کارنامہ قرار دیتے ہیں، کبھی قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کا من پسند مفہوم نکالتے ہیں تو کبھی قرارداد مقاصد کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں۔

میری ذاتی رائے میں حکومت اور دوسرے ریاستی ذمہ داروں کو چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب کی اس کتاب کو تعلیمی ادارو ں، سول سروس و فوجی اکیڈمیوں اور ملک بھر کی لائبریریوں میں سرکاری طور پرفراہم کرے۔

میڈیا ہاوسز اور اینکر پرسنز کو بھی اس کتاب سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کی اسلامی اساس، دو قومی نظریہ، قائد اعظم اور دوسرے اہم تاریخی واقعات کے بارے میں منافقوں، شرارتیوں اور سازشیوں کے ایجنڈے سے اپنی نئی نسل کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں