25

سپریم کورٹ کا فیصلہ: حزب اختلاف کا جشن، پی ٹی آئی مایوس

سپریم کورٹ کی جانب سے اسمبلی بحال کرنے کے فیصلے کے بعد حزب اختلاف کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جب کہ پی ٹی آئی اس فیصلے پر ناخوش نظر آرہی ہے۔ سپریم کورٹ کے باہر ن لیگ کے وکلا اور کارکنان نے زبردست نعرے بازی کی۔
عدالت میں کارروائی کے موقع پر پی پی پی کے رہنما رضا ربانی، نیر بخاری، شیری رحمان، ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے۔
حزب اختلاف کی خوشی
جمعیت علما اسلام کے رہنما محمد جلال الدین ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اب یوم احتجاج کی بجائے، یوم تشکر منائے گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی فتح ہے اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نظریہ ضرورت دفن ہو گیا ہے۔ ہم جمعے کو اس حوالے سے یوم تشکر منائیں گے۔‘‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سلیکڈڈ راج کے خاتمے کا جشن منائیں، ”فیصلہ حزب اختلاف کے حق میں نہیں، آئین کے حق میں ہے، جیسے سنہری حریفوں سے لکھا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔ سابق صد زرداری نے کہا کہ آئین ہی محترم اور آئین ہی مقدس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کے کارکنان گاؤں گاؤں گھر گھر اس کا جشن منائیں۔
‘نظریہ ضرورت دفن ہو گیا‘
ن لیگ کے رہنما شہباز شریف نے ایک مقامی ٹیلی وژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج نظریہ ضرورر دفن ہو گیا ہے۔ مریم نواز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قوم کو آئین کی سر بلندی مبارک ہو۔
مایوس کن فیصلہ
تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ فیصلہ مایوس کن ہے۔ پارٹی کے رہنما اور وزیر اعظم کے سابق مشیر برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے اپنے مختصر سے تبصرے میں اسے مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یقینا پارٹی کے حلقوں میں مایوسی ہے کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ ملک نئے انتخابات کی طرف جائے گا۔ لیکن پارٹی نے صورت حال پر صلاح مشورے شروع کر دیے ہیں اور اگر ہم نے حزب اختلاف کی نشستوں پر بیھٹنے کا فیصلہ کیا تو عمران خان ن لیگ اور دوسری جماعتوں کے ان دعوؤں کی قلعی کھولے گا، جنہوں نے مہنگائی اور معیشت کو بہتر کرنے کے حوالے سے کیے تھے۔
جمشید چیمہ کے مطابق پی ٹی آئی کو کے پی کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں اکثریت حاصل ہے، ”اگر ان جماعتوں نے وہاں ہماری اکثریت ختم کرنے کی کوشش کی تو ہم پر زور مزاحمت کریں گے۔‘‘
پارٹی کے دوسرے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہمارے خیال میں یہ نامناسب فیصلہ ہے۔ لیکن کیسے بھی حالات ہوں پوری پارٹی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم اس پر لبیک کہیں ہے۔‘‘
مشاورت شروع ہو گئی ہے
جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے اس صورت حال پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پارٹی اسمبلی سے اجتماعی استعفے نہیں دے گی بلکہ حالات کا مقابلہ کرے گی۔ سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ فیصلے میں بہت سی خامیاں ہیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے
عدالت نے صدر مملکت عارف علوی کے حکم کو بھی کالعدم قرار دیا اور کہا کہ ان کا حکم آئین کے منافی تھا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم آئین کی آرٹیکل اٹھاون کے پابند ہیں اور اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تھے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ہفتے کے دن قومی اسمبلی کے اجلاس کو بلایا جائے، کسی بھی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہ جائے اور اجلاس اس وقت تک ملتوی نہ کیا جائے جب تک عدم اعتماد کی تحریک نمٹ نہ جائے اور عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیر اعظم کا الیکشن کرایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں