182

سویڈن میں قرآن سوزی

سویڈن میں قرآن سوزی
تحریر :مفتی گلزار احمد نعیمی
عید قربان کے موقع پر یورپ کے ایک اہم ملک سویڈن کے دارالخلافہ سٹاک ہوم کی جامعہ مسجد کی پارک اور مسجد کے صدر دروازہ کے سامنے ایک عراقی نژاد سویڈن کے شہری سلوان مومیکا نے پہلے قرآن مجید کی توہین کا ارتکاب کیا اور پھر اسے نذر آتش کر دیا ۔ یہ توہین پر مبنی واقعہ باقاعدہ طور پر سٹاک ہوم کی عدالت کی اجازت سے ہوا۔ قرآن مجید کو آگ لگانے والے ملعون کی حفاظت کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ اس طرح یہ سانحہ مقامی عدالت اور حکومت کی سر پرستی میں ہوا۔ اس سے قبل بھی اس قسم کے دلخراش واقعات رونما ہو چکے ہیں۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق جنوری 2023میں سٹرام کرس نامی ایک بنیاد پرست گروپ نے اپنے ایک احتجاجی مظاہرے میں قرآن مجید کو نذر آتش کیا تھا۔ سٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے بھی اسی گروپ کے ایک رہنما راسموس پالوڈان نے کلام اللہ نذر آتش کیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ 2020میں بھی سویڈن میں اسی طرح کی قابل مذمت کوشش کی گئی۔ اس دفعہ عید الاضحی کے موقع پر اس قابل افسوس حرکت کی وجہ سے پورے عالم اسلام میں رنجیدگی اور حزن و ملال کی کیفیت پیدا ہوئی جو ابھی تک جاری ہے۔
پورے عالم اسلام یں اس مذموم حرکت کے خلاف ریلیاں اور جلوس نکل رہے ہیں ، پریس کانفرنس ، سمینار اور اجتماعات منعقد ہو کے جا رہے ہیں۔ بعض اسلامی ممالک نے بہت شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ اردن ، اسلامیہ جمہوریہ ایران اور مراکش نے اپنے سفیر واپس بلا لیے او آئی سی نے ہمیشہ کی طرح ایک ہومیو پیتھک سا بیان جاری کیا کہ قرآن حکیم کی توہین کو روکنے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ لیکن پوری دنیا میں ایک شر انگیز واقعہ پر مسلمانوں نے اپنی بساط کے مطابق شدید رد عمل دیا جو بہت قابل ستائش ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ چیرمین پی ٹی آئی نے سویڈن میں ہونے والے اس واقعہ کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی مگر چونکہ وہ آج کل زیر عتاب ہیں اس لیے اس آواز کو سوشل میڈیا پر ہی سنا گیا ۔ اس کے بعد جناب محترم شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان نے اس واقعہ کے خلاف کھل کر اظہار مذمت کیا اور جمعہ 7جولائی 2023کو یوم تقدیس قرآن کے طور پر منانے کی پورے پاکستان سے اپیل کی ۔ ملک بھر میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ ، یورپ اور شرق و غرب کے دیگر غیر اسلامی ممالک میں ایسے دل سوز واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں ؟ان کی مختلف وجوہات ہیں ۔ ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ نے جب سے مذہب کو اپنی اجتماعی حیات سے الگ کیا ہے تب سے ان معاشروں کو اضطراب اور غیر یقینی کی صورت حال نے جکڑ رکھا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان ممالک میں مادی ترقی اپنے عروج پر ہے ۔ مگر انسان صرف مادی حیثیت ہی نہیں رکھتا بلکہ اسکی روحانی حیثیت اسکی مادی حیثیت سے اہم تر ہے۔ جب یورپ کا انسان مذہب سے دور ہوا تو وہ ایک مضطرب انسان کی شکل اختیار کر گیا ۔ اس اضطراب کو صرف مذہب ہی دور کر سکتا ہے ۔ اس کے اپنے نظام حیات مذہب اور اسکی روایات ختم ہو چکی ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں نے وہاں بھی اپنی روایات کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنی مذہبی روایات کو ساتھ لیکر گئے ہیں۔ اگرچہ اب وہ بھی اپنی اولا دوں کے حوالہ سے پریشان ہیں کہ جو روایات وہ اپنے ساتھ لیکر گئے تھے انکا انعکاس آنے والی نسلوں میں نظر نہیں آتا تاہم اسلام بطور ایک ضابطہ حیات ان غیر اسلامی معاشروں میں اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ اسلام ایک مضبوط مذہب کے طور پر اہل یورپ و امریکہ کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ اس پر یورپ کے اہل فکر و دانش بہت مضطرب ہیں اور اسلام کے بارے میں اپنے عوام میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں ۔ وہ اپنی عوام کو خوف میں مبتلاء کر رہے ہیں کہ اگر اسلام یہاں نافذ ہو گیا تو تمہارے ہاتھ کاٹے جائیں گے تمہیں سولیوں پر لٹکایا جائے گا۔ یہی اسلاموفوبیا ہےجس کی وجہ سے یورپ اور امریکہ کے عوام اسلام دشمنی کا اظہار کر رہے ہیں قرآن اور صاحب قرآن جناب محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی توہین کا ارتکاب اسی خوف کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ یہ خوف بہت بددیانتی سے پھیلایاگیا ہے۔
یورپی راہنما مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی ہجرت اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافے سے بھی بہت پریشان ہیں ۔ کئی ممالک میں مسلمان اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہیں جو مغربی رہنمائوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ پاکستانی نژاد مسلمان حمزہ یوسف کااسکاٹ لینڈ کا سربراہ بن جانا یقینا ایک بہت بڑی بات ہے اسی طرح برطانیہ اور امریکہ میں بھی مختلف مسلم ممالک کے مسلمان جو بڑے سیاسی رہنما بن چکے ہیں وہ بھی بہر حال ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ ایک عمومی مخالفانہ تاثر یورپ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے لیے اہل یورپ میں پایا جاتا ہے کہ وہ ہماری معیشت پر قابض ہو رہے ہیں اور ہمارے وسائل اپنے نام کر رہے ہیں مسلمان بھی اس میں شامل ہیں اس لیے وہ ان پر عرصہ ء زندگی تنگ کر دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ ان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے ان کے مقدسات کی توہین کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے آبائی ممالک میں واپس چلے جائیں۔
ایک اور بہت ہی اہم مسئلہ جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہ خدا اور بے خدا تہذیب و تمدن کا فروغ ہے۔ مغرب کی مذہب سے دوری نے پوری دنیا کے انسانوں کو دو گرہوں میں تقسیم کر دیا ہے ایک وہ جو خدا کو ماننے والے ہیں اور دوسرا گروہ وہ ہے جو خدا کے مقابلے میں شیطان کا پیرو کار ہے۔ آئینی ریاستوں کے قیام کے بعد شیطانی گروہ بہت مضبوط ہو چکا ہے۔ اس گروہ نے اپنے شیطانی مکر و فریب او ر چالوں کے ذریعے سے کمزور ممالک اور معاشروں کو جکڑ لیا ہے۔ اس گروہ نے بڑی بڑی انجمنیں بنا کر اہل مذہب اور مذہبی طاقتوں کو مفلوج و مغلو ب کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ ہو کہ آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک ہو یا ایف اے ٹی ایف یہ سب شیطانی گروہ کے جال ہیں جو اس نے پوری دنیا میں پھیلائے ہوئے ہیں۔ ان جالوں کے ذریعے کمزور ممالک کے سیاست دانوں اور احکام سلطنت کو دام فریب میں گرفتار کرنا ہے۔ انہیں رشوتوں اور بہت سے دیگر مالی مفادات دے کر اپنے ساتھ ملاتا ہے ۔ جب ان ممالک کے بااثر لوگ اس شیطانی گروہ کے چنگل میں آجاتے ہیں تو پھر ان کے ذریعے اپنی مرضی کا ایجنڈا مسلط کر دیتا ہے۔
شیطانی گروہ کی یہ تحریک بظاہر تو ہمیں اسلام کے خلاف نظر آرہی ہے مگر درحقیقت یہ انسانیت کے خلاف ہے ۔ یہ انسانوں کے دلوں کی روشنی کو نکال کر انہیں شیطانی گروہ میں شامل کرنے کے لیے بے نور کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبیں کمزور ترین سطح پر کھڑی ہیں ۔ اسلامی تہذیب اپنی روایات کی بدولت مضبوط ترین سطح پر ہے۔ اس لیے سب سے زیادہ حملے یہ گروہ اسی پر کر رہا ہے۔ مگر وہ اسلام کو بھی شکست نہیںدے سکے گا ۔ ان شاءاللہ
طالب دعا
گلزار احمد نعیمی

اپنا تبصرہ بھیجیں