سوویت یونین کا انہدام 310

سوویت یونین کا انہدام

سوویت یونین کا انہدام
ڈاکٹر رمیش کمار وانکوان
یہ آج سے ٹھیک 28برس قبل کرسمس کی رات تھی جب دنیابھر میں ایک بڑی سپرپاور کے انہدام کی اطلاعات نہایت حیرانی اور غیریقینی کے عالم میں منظرعام پر آئیں، کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک دنیا پر راج کرنے والی لگ بھگ پندرہ ریاستوں پر مشتمل سوویت یونین کی عظیم الشان سلطنت یکدم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے جارہی ہے۔ گزشتہ صدی کی آخری دہائی تک سوویت یونین کو عالمی سطح پر ایک ایسی موثرسپر پاور سمجھاجاتا تھا جہاں کم از کم 100مختلف قومیتوں کے لوگ بستے تھے، سوویت یونین کا رقبہ زمین کا چھٹا حصہ تھا، سوویت بارڈر دنیا کی طویل ترین سرحدتھی، نظریاتی طور پر سوویت یونین کے زیر اثر دنیا دو بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی، نازی جرمنی کو شکست فاش دینے میں سوویت یونین کا اہم کردار تھا، جنگ عظیم دوئم کے بعدمدمقابل سپرپاور امریکہ کے ساتھ ہر محاذ پرمقابلہ کرنے کی ٹھانی، سوویت یونین جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میںہمیشہ آگے رہا، کلاشنکوف جیسے تباہ کن ہتھیار ایجاد کیے ،سوویت ریاستوں کا نظام تعلیم بہترین قرار دیا جاتا تھا،اس کی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت تھی، دنیا کے پہلے خلائی سیٹلائٹ اور خلاباز کا تعلق بھی سوویت یونین سے ہی تھا، سوویت یونین نے ویت نام، کیوبا اور مڈل ایسٹ کے مختلف انقلابات میں کلیدی کردار ادا کیا، آج بھی سوویت نظریات دنیابھر کے انقلابیو ں کومتاثر کرتے ہیں، سوویت یونین کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ جس علاقے کا رُخ کرلے، وہ مفتوح ہونے سے پھر نہیں بچ سکتا۔ سوویت یونین معاشی اور عسکری طاقت ہونے کے ساتھ کھیل، فنون لطیفہ اور سائنس کے میدان میں بھی بہت آگے تھا۔ پھر 25دسمبر 1991ء کا دن آگیا جب سوویت یونین کے آخری صدر میخائیل گورباچوف نے باضابطہ طورپر استعفیٰ دے دیا ، آخری مرتبہ کریملن پرسوویت یونین کا پرچم لہرایا گیا اور قومی ترانہ پڑھا گیا، دارالحکومت ماسکو میں قائم کردہ سرکاری ٹی وی نے سوویت یونین کے جھنڈے کی بجائے روس کا تین رنگوں کا پرچم نشر کردیا جو اس بات کی علامت تھا کہ1917ء میں قائم ہونے والا سوویت یونین74سال بعد اب قصہ ماضی بن چکا ہے۔بطور تاریخ کے طالب علم میں سمجھتا ہوں کہ سوویت انہدام کے دیگر تمام عوامل میں سب سے زیادہ اہم گوربا چوف کا برسراقتدارآجانا تھا، اس امر میںکوئی دو رائے نہیں کہ سوویت یونین کا نظام حکومت خوف و جبر پر مبنی تھا، آمرانہ طرز حکومت کی بدولت شہری اپنے جمہوری حقوق سے محروم تھے لیکن عظیم الشان سلطنت کا شیرازہ بکھرنے کی سب سے بڑی وجہ گوربا چوف کے دور اقتدار میں عوامی سطح پر وسیع پیمانے پر بے چینی تھی، افغانستان پرعسکری قبضہ سوویت یونین کو مہنگا پڑنے لگا تھا، یوکرائن سمیت کم و بیش دس سوویت ریاستوں نے خودمختاری کا اعلان کردیا تھا، اسی طرح رشیا، بیلاروس اور یوکرائن کے لیڈران نے ایک خفیہ ملاقات کے بعد سوویت یونین کے خاتمے پر اتفاق کرلیا تھا،گوربا چوف نے معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے نجی سیکٹر کی حوصلہ افزائی اور بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوششیں کیں جس سے سوویت یونین کی نظریاتی اسا س مزید متاثر ہوئی۔ آج مجھے سوویت یونین کا زوال ہمسایہ ملک بھارت کی غلط حکومتی پالیسیوں کی بنا پر بھی یاد آرہا ہے، ایک وقت تھا کہ بھارت کو سیکولرازم کی بنا پر دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، عدم تشدد (اہنسا)کے پرچارک مہاتما گاندھی جی نے انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد آزادی کی قیادت کی، ڈپلومیسی اور ڈیموکریسی کے میدان میں بھارت کی مثالیں دی جاتی تھیں، بھارت کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی تھی، بھارت کے آئی ٹی ماہرین دنیا بھر میں چھائے ہوئے تھے، بھارت معیاری ادویات سازی کی بنا پر میڈیکل کے شعبے میں ہمسایہ ممالک سے آگے تھا۔ آج بھارت کے متنازع قانون شہریت نے ملک بھر میں ہنگامے برپا کردیئے ہیں،لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے ہیں، گورباچوف کے نقش قدم پر گامزن موجودہ بھارتی قیادت اپنے عوام کی اقتصادی حالت کی بہتری کی بجائے عوام میں انتشار پھیلانے کا باعث بن رہی ہے، متعدد بھارتی ریاستیں نئے قانون شہریت کے نفاذ سے کھلم کھلا انکاری ہیں۔اسے حسن اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ سابق سوویت یونین اور موجودہ بھارت میں متعدد اقدار مشترک بھی ہیں، دونوں ممالک وسیع رقبے کے حامل اور عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں،سوویت یونین میں اندرونی انتشار قیام کے 73سال بعد شدت اختیار کرگیاتھا اور بھارت بھی آزادی کے 73ویں سال میں داخل ہورہا ہے،جس طرح سوویت یونین کو افغانستان لے ڈوبا، آج بھارت کو بھی کشمیر سمیت متعدد ریاستوں پر عسکری قبضہ برقرار رکھنا دشوار ہوتا جارہا ہے، آج کا بھارت بھی اپنی نظریاتی اساس کو ترک کرکے شدت پسندی کی طرف راغب ہے، گوربا چوف کے نقش قدم پر گامزن موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شدت پسندانہ پالیسیاں علاقائی سلامتی کے ساتھ خود بھارت کیلئے خطرہ بنتی جارہی ہیں، اسی طرح کشمیر کا دیرینہ تنازع آج بھی پاکستان کے ساتھ سرحدی تناؤ کی بڑی وجہ ہے۔ بھارتی قیادت کو سوویت یونین کے انہدام سے تاریخ کا یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ انسان کے کچھ غلط فیصلے اسے آسمان سے زمین پر پھینک سکتے ہیںبالخصوص لیڈر پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تاریخ پر کڑی نظر رکھے اور غلطیوں سے دور رہے۔ بھارت آزادی کے بعد ایک طویل عرصے تک سوویت یونین کا قریبی اتحادی رہا ہے، اسے یہ امر بخوبی سمجھنا چاہیے کہ اپنے عوام کو بے چینی کا شکار ، شہری حقوق کی پامالی اور متعصب پالیسیوں پر عمل پیرا حکومتیں خود اپنے ملک کے زوال کا باعث بنتی ہیں۔ سوویت یونین کاانہدام بلاشبہ جدید انسانی تاریخ کا ایک عبرت انگیز واقعہ ہے کہ کیسے طاقتور ملک اپنے غلط فیصلوں کی بناپر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں، بھارت کو کسی صورت ایسے متنازع فیصلے نہیں کرنے چاہئیں جس سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے اور عالمی امن خطرے میں پڑجائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں