15

سول و عسکری قیادت کا اہم اجلاس

7 / 100

ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک اہم اجلاس پیر کو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز میں ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان کو افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار، علاقائی و ملکی صورتحال اور اندرونی و بیرونی سیکورٹی کے معاملات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کی اہمیت اس امر سے واضح ہے کہ سول قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے علاوہ وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات بھی موجود تھے جبکہ عسکری قیادت کی نمائندگی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ندیم رضا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، فضائیہ و بحریہ کے سربراہان اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کر رہے تھے۔ سرکاری طور پر تو اس بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس انتہائی اہم بریفنگ کا اہتمام افغانستان کی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا تھا۔ وہ اس اجلاس کو افغان امن عمل میں پیش آمدہ رکاوٹوں، افغانستان کی بگڑتی صورتحال اور خاص طور پر امریکہ کے اس دعوے کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکی موجودگی برقرار رکھنے میں مدد دینے کیلئے فضائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ دعویٰ انڈو پیسیفک افیئرز کے نائب امریکی وزیر دفاع ڈیوڈ ایف ہیلوے نے گزشتہ ہفتے امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں کیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اگرچہ اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ائیر لائن اور گراؤنڈ لائن کمیونیکیشن کا معاہدہ ضرور ہے مگر اس معاہدے کے تحت کوئی نیا سمجھوتہ نہیں کیا گیا لیکن امریکہ کو افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد پاکستان کی طرف سے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینے کی افواہوں کا معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پہنچ گیا ہے اور اپوزیشن نے حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ایم این اے احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان سے اسٹریٹجک تعلقات رکھنا چاہتا ہے تو دیکھنا ہوگا کہ اس معاملے میں ہمارے مفادات کو ملحوظ رکھا گیا ہے یا نہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے تو صاف کہا ہے کہ ہمیں امریکہ کو زمینی یا فضائی اڈے بالکل نہیں دینے چاہئیں۔ وزیر مملکت برائے سیاسی اُمور علی محمد خان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں وزیر خارجہ قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیں گے۔ افغان صورتحال پر ایک اہم پیش رفت جنیوا میں بھی ہوئی ہے جہاں پاکستان اور امریکہ کے مشیران قومی سلامتی کی ملاقات ہوئی اور دونوں نے اس معاملے میں عملی تعاون پر اتفاق کیا۔ ادھر لندن میں اتوار کی شام تقریباً دو سو افغان مظاہرین نے وطن کے نام سے ایک گروپ کی اپیل پر پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے افغانستان میں قتل و غارت کے خلاف مظاہرہ کیا اور یاداشت بھی پیش کی۔ کچھ شر پسندوں نے پولیس کی موجودگی میں ہائی کمیشن کی عمارت پر پتھراؤ کیا اور پانی کی بوتلیں پھینکیں۔ اُنہوں نے قطر کے سفارتخانے پر بھی احتجاج کیا۔ قطر میں بین الافغان مذاکرات ہورہے ہیں جو اب تک ناکامی سے دوچار ہیں۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی صورتحال ایک بار پھر قابو سے باہر ہورہی ہے۔ کابل حکومت کو خدشہ ہے کہ امریکی فوج کے چلے جانے کے بعد طالبان ہفتوں کے اندر اقتدار پر قبضہ کر لیں گے۔ اس لئے وہ چاہتی ہے کہ یا تو طالبان موجودہ حکمرانوں کے ماتحت اقتدار میں شریک ہوجائیں یا ایسے حالات پیدا کردیے جائیں کہ موجودہ حکومت کو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا تحفظ حاصل رہے۔ پاکستان کے خلاف کابل حکومت کی پراپیگنڈہ مہم اسی ایجنڈے کا حصہ ہے اور پاکستان اور امریکہ کے مذاکرات بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کو اس مشکل مرحلے میں سوچ سمجھ کر قوم کے مفاد میں دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں