34

سلطنت دہلی (حصہ اول)

سلطنت دہلی (حصہ اول)

(1206 تا 1290)

تعارف:

1206 عیسوی میں غزنوی سلطنت کا خاتمہ کر کے شہاب الدین غوری (معزالدین محمد بن سام) نے نہ صرف اس حکومت کو غزنی سے مٹا دیا بلکہ ہندوستان کے وہ علاقے جو مسلمانوں کے کنٹرول میں آ چکے تھے اب وہ غوریوں کے زیر قبضہ میں چلے گئے ۔اس مرتبہ اہم بات یہ ہوئی کہ شہاب الدین غوری نے محمود غزنوی کے مخالف ہندوستان کو مکمل فتح کر کے اسے افغانستان کا باقاعدہ حصہ بنا یا ۔ اُس نے شمال مغربی ہندوستان کو مکمل فتح کیا ۔جب کہ اس کے بعد آنے والے سلاطین دہلی نے پایہ تخت کو لاہور یا دیگر علاقوں سے مستقل طور پر دہلی کومنتقل کر دیا جو صدیوں تک مسلمانوں کا دارلخلافہ بنا رہا۔ شہاب الدین غوری کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی لیکن اس کے ترک غلاموں کی کثیر تعداد اس کے ساتھ ہندوستان آئی جن میں قابل منتظم، بہادر سپہ سالار اور امراء ہندوستان آئے جو اس کی وفات کے بعد صوبے دار، گورنر اور سپہ سالار بنے ۔

ان کو مملوک سلاطین، خاندان غلاماں اور دہلی سلاطین کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا دور حکومت 1206 عیسوی سے شروع ہوکر 1290 عیسوی تک رہاجس کا خاتمہ ایک اور مسلمان پٹھان خاندان خلجی نے کیا ۔ مملوک سلاطین کے کل گیارہ بادشاہ گزرے(شہاب الدین غور ی کو نہ شامل کر کے) اور انہوں نے تقریبا تمام ہندوستان کو اپنی قلم رو میں شامل کیا۔ زیر نظر سطور میں ہندوستان کے مملوک فرمانرواؤں کے مختصر حالات زندگی، ان کے کارنانے اور ان کے ادوار حکومت کے اہم واقعات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

دہلی شہر کے نام کی وجہ تسمیہ:

چونکہ دہلی کو ہندوستان میں مسلم اقتدار میں اہم مقام حاصل رہا ہے لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر پر روشنی ڈالتے ہوئے سلاطین دہلی پر بات کی جائے۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہے:-

307 ہجری میں ایک راجپوت فرمانروا “واد پتہ “نے ایک نیا شہر اندر پت کے پہلو میں بسا یا۔ اس شہر کی مٹی اتنی نرم تھی کہ اس میں آئینی میخیں نصب نہیں کی جا سکتی تھیں۔اس لئے اس شہر کو دہلی کا نام دیا گیا۔ ہندوستان کے تورانیوں کے آٹھ بادشاہوں نے یہاں سے حکومت کی۔ پھر اس شہر کی باگ دوڑ چوہانوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ اس خاندان کے چھ بادشاہوں نے حکومت کی جن کے چھٹے فرمانروا کا نام پرتھوی راج چوہان تھا۔ اس ہندو سورما راجہ کاشہاب الدین غوری جیسے بہادر اور مستقل مزاج مسلمان سلطان سے پالا پڑ گیا۔ دونوں کے درمیان تر ائن کے مقام پر دو دیومالائی جنگیں ہوئیں ۔پہلی جنگ میں شہاب الدین غوری کو شکست ہوئی جب کہ دوسری جنگ میں افغان پوری تندہی سے دوبارہ اسی مقام پر دوبارہ صف آراء ہوئے اور شہاب الدین غوری نے بہادر پر تھوی راج چوہان کو شکست دی اور اس کو جنگ میں قتل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی شہاب الدین غوری نے دہلی پر قبضہ کر لیا ۔

سلاطین غور کا شجرہ نسب :

غوری خاندان کی ہندوستان میں بہت اہمیت ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی مستقل حکومت کا قیام اسی خاندان کا مرہون منت ہے۔ لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس خاندان پر تفصیل سے بات کی جائے ۔ سلاطین غور کے بارے میں تمام مورخین متفق ہیں کہ اس قوم کا تعلق ایران کے ” ضحاک بادشاہ “سے تھا۔کہا جاتا ہے کہ جب فریدوں بادشاہ ایران نے ضحاک پر فتح پائی تو اس قبیلے کے لوگ مارے گئے اور جو بچ گئے وہ گمنام زندگی گزارنے لگے۔اس قوم کے دو بھائی سام اور سوری فرار ہونےکے بجائے بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو کر امان حاصل کر نے میں کامیاب ہوگئے اور بادشاہ کے کار مملکت میں ہاتھ بٹانے لگے۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد دونوں بھائی ایک رات اپنے چند خیرخواہوں کے ساتھ نہاوند کی طرف بھاگ گئے ۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر اپنے محور و مرکز کو مضبوط کیا۔ سوری بڑا بھائی ہونے کی وجہ سے قبیلے کا سردار بنا ۔جب کہ سام کے حصے میں فوج کی کمان آئی۔ دونوں بھائی ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت سے رہنے لگے اور مزید یگانگت پیدا کرنے کے لئے سور ی کی بیٹی کی شادی سام کے فرزند شجاع سے کر دی گئی۔

کچھ ہی دنوں میں سام کا انتقال ہو گیا اور سوری اپنے بھتیجے شجاع کی ہر طرح خاطر داری کرنے لگا ۔لیکن بعض شر پسند عناصر نے سوری کا دل اپنے بھتیجے سے کٹھا کر دیا ۔ سوری نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنی بیٹی کو شجاع سے الگ کر کے بھتیجے کو ملک بدر کر دے۔ سوری نے اپنے عزائم کااظہار اپنی بیٹی سے کیا جو اپنے بچوں اور خاوند کی وفادار تھی۔ اس نے اپنے شوہر کو بتا دیا۔ شوہر نے فوری کاروائی کرتے ہوئے دس گھوڑے اور اونٹ ساتھ لئے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ غورستان کی طرف فرار ہوگیا۔ اس نے پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی جگہ منتخب کی جہاں اس نے مستقل ڈیرے ڈال دئیے۔ اس کے منہ سے نکلا “زدمندیش” یعنی اس چیز سے مت ڈرو۔ اس کے بعد اس بستی کا نام زدمندیش پڑ گیا۔

شجاع نے اس علاقے میں مضبوط قعلے بنائے اور کچھ عرصہ تک تو وہ ایرانیوں سے مقابلہ کرتا رہا لیکن بعد ازاں اس نے فریدوں کی اطاعت قبول کر لی جس سے اس کو استحکام نصیب ہوا۔اس کے پاس ان کے جد امجد ضحاک کی اولاد ملک کے چپے چپے سے جمع ہونے لگی۔ یوں وہ غورستان کے علاقے زدمندیش میں ایک طاقت بن گئے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سردار شنسب مسلمان ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شنسب کو اپنے ہاتھ سے فرمان حکومت لکھ کر دیا۔ غوریوں کا قبیلہ شنسب کے نام سے مشہور ہوگیا کیونکہ وہ پہلا سردار تھا جو مسلمان ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بنی امیہ کے دور میں اس قبیلے نے شان علی و حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں کبھی گستاخی نہ کی۔ بعد میں اس قبیلے نے ابو مسلم خراسانی کی اولاد علی کو اقتدار میں لانے کی پوری معاونت کی۔ سلطان محمودغزنوی کے دور حکومت میں محمد بن سوری نامی سردار اس کا معاصر تھا جو اس کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ محمد نے محمود کی حکومت سے سرکشی کی تو محمود نے اسے قید کر دیا ۔اس کے بیٹے ابو علی کو سردار بنایا۔ لیکن غوری کب نچلا بیٹھنے والے تھے انہوں نے سرداری محمد کے بھتیجے عباس بن شنسب بن محمد کو سپرد کر دی۔ وہ ظالم شخص تھا ۔اس لئے اللہ کی طرف سے غور میں قحط نازل ہوا اور سات سال تک بارش نہ برسی اور لوگ بھوک وپیاس سے مرنے لگے۔عباس بن محمد نے غزنوی حکمران ابراہیم کے خلاف سر اٹھایا تو ابراہیم نے اسے گرفتار کر کے نظر بند کردیا۔

غزنویوں اور غوریوں کے درمیان طویل کشمکش:

غوری خاندان میں اس زمانے میں محمد کا ایک بیٹا قطب الدین ہوا جو غوریوں (شنسبیوں) کا جد امجد کہلایا۔ کہا جاتا ہے کہ قطب الدین اپنے دشمن کے خلاف برسرپیکار تھا کہ فتح کے قریب جا کر دشمن کاتیر اس کی آنکھ میں جا لگااور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ یوں غورستان کے مشہور قلعوں پر غزنویوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس افراتفری میں اس کا بیٹا سام ہندوستان کی جانب جان بچا کر بھاگا۔ اس نے وہاں پہنچ کر تجارت شروع کی اور کچھ ہی عرصہ میں اس کو اپنا وطن یاد آنے لگا۔ اس نے اہل عیال کے ساتھ واپس ہجرت کا فیصلہ کیا اور جانے کے لئے کشتی کا سفر منتخب کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی کشتی جیسے دریا میں ڈالی ،دریا میں سخت طغیانی آگئی اور اس کی کشتی دریابرد ہوگئی۔ اس کا اہل وعیال دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ خوش قسمتی سے وہ ایک تختے سے لٹک گیا جس پر ایک شیر بھی اس کے ساتھ تھا۔

دونوں دریائی موجوں سے لڑتے ہوئے کسی نہ کسی طرح ایک جنگل میں دریا کنارے جا لگے۔ شیر تو جنگل میں گم ہو گیا لیکن اعزالدین(سام) جان بچاتا ہوا واپس غور کی طرف جانے لگا کہ بدقسمتی سے راستے میں ڈاکوؤں کے ایک منظم گروہ کے ہاتھ چڑھ گیا جنہوں نے اسے اپنے جتھے میں شامل کر لیا۔ کچھ دن بعد سلطان ابراہیم غزنوی کی فوج نے ڈاکوؤں کے گروہ کو قید کر دیا اور جلاد کو حکم ہوا کہ تمام ڈاکوؤ ں کی گردن مار دی جائے۔جیسے ہی جلاد اس کے پاس آیا تو سام نے دھائی دی اور کچھ ایسے جذباتی فقرے ادا کئے کہ جلاد نے اس کی جان بخشی کر دی اور سارا ماجرا سلطان ابراہیم کے گوش گزار کیا۔ سلطان ابراہیم نے اس کو دربار میں بلایا اور اس کی غم ناک کہانی سن کر اسے دربار میں ملازمت دے دی۔ شاہ ابراہیم نے اپنے ایک عزیز کی بیٹی اس کے نکاح میں دے دی۔ سلطان ابراہیم کی وفات کے بعد اس کےبیٹا مسعود بن ابراہیم تخت نشین ہوا تو اس نے اعزالدین (سام )کے مناصب میں مزید اضافہ کیا اور اس کو غور کا حاکم بنا یا ۔

اعزالدین کے سات بیٹے تھے ان میں سے قطب الدین نے غزنوی سلطان بہرام شاہ کی بیٹی سے شادی کی اور غور میں طاقتور حکمران بنا۔ اس پر بہرام شاہ نے اسے غزنی طلب کیا اور دھوکے سے قلعے میں نظربند کردیا۔ اسی دوران سلطان کے حکم پر اسے زہر دے کر ہلاک کردیا گیاجس سے غزنویوں او ر غوریوں کے درمیان عداوت کا بیج بویا گیا۔ غوری امیروں میں بعد میں سیف الدین غوری وہ سردار تھا جس نے سلطان بہرام شاہ پر لشکر کشی کی اور غزنی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ سیف الدین نے بہرام کو ہندوستان بھگا دیالیکن سردیوں کے موسم میں غزنی پلٹ کر وپس آئے اور انہوں نے سیف الدین کو بے دردی سے قتل کردیا۔

اب بہاول الدین نے غور سے پلٹ کر غزنی پر اپنے بھائی کا انتقام لینے کے لئے لشکر کشی کی لیکن وہ زہریلے پھوڑے کی وجہ سے انتقال کر گیا۔اس کے دوسرے بھائی علاوالدین نے کمان سنبھالی جس نے دن رات محنت اور بہادری سے غوریوں کے نام کو چار چاند لگا دئیے۔ اس نے بہرام شاہ کو عبرت ناک شکست دی اور آل سبکتگین کے تمام بادشاہوں (محمود،مسعود اور ابراہیم کو چھوڑ کر) تمام کی قبروں سے ہڈیاں نکال کر جلا دیں ۔علاوالدین شاہ اس سفاکی کے بعد غور آیا اور اس نے اپنے دو بھتیجوں غیاث الدین اور شہاب الدین کو (جو کہ بہاوالدین کے بیٹےتھے) کو حکومت عطا کی۔ یہ دونوں بھائی بعد میں غوری سلطنت کے بانی اور انڈیا میں مملوک سلطانوں کے جد امجد بنے۔

غیاث الدین کا تاج وتخت پر قبضہ:

اس خاندان کی آزمائشوں کا دور آخڑ کار ختم ہوا۔ کچھ ہی عرصہ میں علاؤالدین اپنے دونوں بھتیجوں (غیاث الدین و شہاب الدین) سے بدظن ہو گیا اور انہیں جرجستان کے قلعے میں نظر بند کر دیا۔ علاؤالدین ایک ظالم شخص تھا ۔اس نے سلطان سنجر سے ٹکر لیتے ہوئے بلخ اور ہرات پر قبضہ کر لیا اور اس کو خراج دینا بھی بند کر دیا۔ اس پر سنجر نے لشکر کشی کی اور علاؤالدین کو عبرتناک شکست دے کر اس کو اپنے ساتھ لے گیا جہاں وہ پاگل ہوگیا اور کچھ عرصہ بعد اس سے قول و قرار لے کر واپس اپنے منصب پر بحال کر دیا۔ علاؤالدین 551 ہجری میں انتقال کرگیا۔اس پر اس کا بیٹا سیف الدین تخت پر بیٹھا۔ اس نے فوری طور پر جرجستان کے قلعے سے اپنے دونوں بھائیوں کو رہا کیا اور وہ خود غزنی پر حملہ کرنے چلا گیا جہاں اپنے ہی ایک سپاہی کے تیر سے قتل ہوا۔ اب غوریوں میں سرداری کا خلاء پیدا ہوچکا تھاجسے فوری طور پر، پرُ کر نے کے لئے سلطان غیاث الدین غوری فیروز کوہ پہنچا۔ اس نے حکومت پر قبضہ کیا اور اپنے چھوٹے بھائی معزالدین (شہاب الدین غوری) کو سپہ سالار نامزد کیا۔ غیاث الدین نے تھوڑے ہی عرصے میں خراسان اور ہندوستان فتح کئے اور اپنے نام کا سکہ جاری کیا ۔ غیاث الدین محمد غوری نے 599 ہجری میں وفات پائی ۔

سلطان شہاب الدین غوری:

سلطان معزالدین ابومظفرالمعروف شہاب الدین غوری 1149 میں غور (اس وقت خراسان کا شہر) میں پیدا ہوا۔ اس کے بڑے بھائی کانام سلطان غیاث الدین محمد بن سام تھا جو شہاب الدین کی زندگی میں ریاست غور کا حکمران رہا۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی شہاب الدین غوری کو ہندوستان کا حکمرانی مقرر کیا۔

سلطان معزالدین (شہاب الدین غوری) نے غزنی،ہرات ، بلخ اور اردگرد کے علاقوں پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے بعد ہندوستان کی طرف اپنی توجہ مبذول کی اور 571 ہجری میں ملتان کو قرامطیوں کے تسلط سے آزاد کروایا۔ پھر غزوں کی بغاوت کو کچلنے کے بعد 574ہجری میں اوچ اور ملتان کے راستے نہروالہ پر حملہ کیا مگر وہاں کے ہندو راجہ بھیم دیو کے بھاری لشکر کے ہاتھوں شکست کھائی اور واپس افغانستان لوٹ گیا۔ 575 ہجری میں اس نے لاہور پر یلغار کی تو غزنوی حکمران خسرو ملک نے مقابلے کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے بیٹے اور بائیس خوبصورت ہاتھی اس کو دئیے اور امان پائی۔ وہ کثیر مال غنیمت کے ساتھ واپس گیا لیکن اگلے سال 580ہجری میں پھر لاہور آیا تو سیالکوٹ پر عزالدین حسین بن خرمیل کو والی بنایا ۔ اس کے واپس جانے پر خسرو ملک نے سیالکوٹ پر یلغار کی لیکن نامراد واپس لوٹا ۔اس پر سلطان معزالدین سام نے 582 ہجری میں خسرو ملک کی بد عہدی کی وجہ سے لاہور پر حملہ کیا اور خسرو ملک کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گیا۔ اس نے خسرو ملک کو اپنے بھائی غیاث الدین کے پاس فیروز کوہ بھیج دیا ۔ 587 میں دونوں باپ بیٹے کو دوران قید قتل کردیا گیا ۔ اس طرح غزنوی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔

ترائن کی پہلی جنگ :

سلطان معزالدین سام سرہند جانب بڑھا اوراس نے عبدالسلام تولکی کو سرہند کا حاکم بنایا اور خود واپس جا ہی رہا تھا کہ اسے خبر ملی کہ پرتھوی راج چوہان ( پتھورا) جو کہ حاکم دہلی اور اجمیر تھا ؛نے سلطان کا راستہ روک لیا ہے جس پر دونوں طرف سے زبردست جنگ چھڑ گئی۔اس خوفناک جنگ میں کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ جنگ نے جب زور پکڑا تو شہاب الدین غوری نے نیزہ مار کر پتھورا کے بھائی کھانڈے رائے کوشدید زخمی کر دیا لیکن کھانڈے رائے نے جوابی وار کر کے سلطان کو بھی شدید زخمی کردیا۔ قریب تھا کہ سلطان گھوڑے سے گر کر جاں بحق ہو جاتا ایک خلجی سپاہی ” اچک کراس” کے گھوڑے کے پیچھے بیٹھا جو اسے کمال بہادری سے میدان جنگ سے نکال باہر لے گیا۔ سلطان کا لشکر اس کے زخمی ہونے کے بعد مقابلے کی تاب نہ لاتے ہوئے پسپا ہو کر غور کی طرف بھاگ گیا۔ پرتھوی راج سرہند کی طرف بڑھا اور اس نے قلعہ 13 ماہ کی جانفشانی کے بعد مسلمانوں سے قلعہ سرہند واپس لے لیا۔

ترائن کی دوسری جنگ:

غور واپسی پر سلطان معزاالدین سام بہت مغموم رہا ۔اس دوران اس نے اپنے اوپر کھانا پینا اور بیوی سے ہمبستری حرام کئے رکھا تھا ۔اس نے ان غوری سرداروں سے بات چیت بھی بند کر دی تھی جو پرتھوی راج چوہان سے خوف زدہ ہو کر بھاگ گئےتھے۔ 1193 عیسوی میں اس نے شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی راہ لی۔ اس کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار کے قریب تھی۔ پتھورا نے ایک مرتبہ پھر ترائن کے میدان میں ڈیرے ڈالے ۔دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے۔اس دفعہ غوری نے جنگ کی حکمت عملی تبدیل کی اور بجائے ٹک کر لڑنے کے مسلمان ٹکریوں میں ہندوؤں پر حملہ کرتے اورغائب ہوجاتے ۔ یوں دن بھر یہ آنکھ مچولی ہوتی رہی۔ جب دیکھا دشمن تھک ہار چکا ہے تو ایک زبردست ہلہ بول دیا جس سے پیتھورا کی صفیں درہم برہم ہوگئیں۔ رائے پتھوار ہاتھی سے اتر کر گھوڑے پر بیٹھا اور فرار ہونے لگا لیکن دریائے سرستی پر پہنچا اور پکڑا گیا اور موقع پرہی قتل کر دیاگیا۔ اس کا دوسرا بھائی کھانڈے رائے میدان جنگ میں مارا گیا۔ اس جنگ کے بعد اجمیر کے تمام علاقے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے ۔ فتح کے بعد اس نے اپنے قابل بھروسہ ،دوراندیش اور بہادر غلام قطب الدین ایبک(جو بعد میں ہندوستان کا سلطان بنا) کہرام کے قلعہ میں بٹھا کر غور واپس چلا گیا۔

سلطان غیاث الدین کی وفات:

سلطان شہاب الدین کے بڑے بھائی سلطان غیاث الدین محمد سام نے 11 فروری 1203 میں ہرات کے مقام پر وفات پائی۔ سلطان معزالدین محمد سام خراسان سے بادغیس کے راستے ہرات پہنچا اور بھائی کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ پھر اس نے افغانستان کے علاقے اپنے بھانجوں اور بھتیجوں میں تقسیم کئے اور خود غزنی لوٹ آیا۔ اس نے 601 ہجری میں خورازم شاہ پر حملہ کیا جس نے سخت جنگ کے بعد شکست کھائی ۔ادھر خورازم شاہ کی فوج پسپا ہوتے ہوئے” قراسو نہر ” کے کنارے پر اس کے خلاف ڈٹ گئی۔شہاب الدین کی فوج تعداد میں کم اور سامان رسد سے بالکل عاری تھی۔اس کی فوج تعداد میں کم اور تھکی ہاری تھی۔ایسے میں رات ہوگئی اور سلطان راتوں رات چپکے سے اپنے پانچ ہزار سوار وں کے ہمراہ دریائے جیحوں کے کنارے کنارے بلخ کو واپس لوٹا۔وہ اپنے سواروں کے ہمراہ جزواں پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا ۔اس دوران دشمن سر پر پہنچ گیا ۔غوری ان مشکل اور کٹھن حالات میں بھی جم کر لڑا اور دشمن پر اپنی کمزوری ظاہر نہ ہونے دی۔ جب وہ دشمن کے گھیرے میں آیا تو اس کے ایک ترکی غلام “اور بیہ جوکی “سلطان کے ساتھ سوار ہو گیا اور گھوڑے کو اورخوند کے قلعے میں پہنچا دیا۔ دوسرے روز ملک عثمان سمر قندی اور دوسرے افراسیابی سردرداروں نے صلح کروا دی اور قرہ خطائی کافر واپس چلے گئے ۔اس دوران وہ غزنی واپس لوٹ گیا اور حکم دیا کہ تین سال تک ترکمانستان پر یلغار کی مسلسل تیاری کی جائے۔

شہاب الدین غوری کی شہادت:

سلطان محمود غزنوی 1206 عیسوی بمطابق 602 (3 شعبان ) ہجری ہندوستان میں جہلم ،سوہاوہ اور کوہستان نمک کے گکھڑوں اور کھوکھروں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے ہندوستان پہنچا۔ وہ بغاوت کچلنے کے بعد واپس غزنی جا رہا تھا کہ جہلم میں( دھمیاک گاؤں قریب سوہاوہ) ایک فدائی (باطنی) نے اس کے خیمے میں اس وقت حملہ کر دیا جب وہ اپنے خیمے میں آرام کر رہا تھا۔ یوں سلطان کے جسم پر خنجر کے 22 وار کئے گئے اور اس نے موقع پر ہی شہادت پائی۔

1994 ء میں پاکستان کے ایٹمی سائنسدان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سلطان شہاب الدین غوری کے جائے شہادت پر ایک مقبرہ تعمیر کیا۔ یہ کہنا کہ سلطان غوری دھمیاک گاؤں میں مدفون ہے درست نہیں ہے ۔ دراصل سلطان کی لاش کو اس کا لشکر بامیان کے راستے غزنی لے گیا ۔ جاتے ہوئے ان کو راستے میں 21 دن لگے ۔ اسی طرح بعض روایات میں ہے کہ سلطان کو بیس گکھڑوں نے شہید کیا جن کے رشتہ داروں کو سلطان نے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ اس طرح دو روایات ملتی ہیں کہ سلطان کو یا تو گکھڑوں نے شہید کیا تھایا پھر فدائیوں(باطنیوں ) نے۔ اسی طرح دھمیاک گاؤں سلطا ن شہاب الدین غوری کی جائے شہادت ضرور ہے قبر کا مقام نہیں ۔ سراج منہاج جوزجانی اور ابوالقاسم فرشتہ کی روایت کے مطابق سلطان کی لاش کو محافے میں لپیٹ کر انتہائی عزت و احترام کے ساتھ 22 شعبان کو غزنی پہنچائی گئی۔

سلطان قطب الدین ایبک:

سلطان قطب الدین ایبک سلطان شہاب الدین غوری کا غلام تھا۔اس کو بچپن میں ترکستان سے نیشاپور لایا گیا۔ اس کونیشا پور کے قاضی فخرالدین بن عبدالعزیز کوفی نے خرید ا۔ خریدار حضرت امام ابو حنیفہ کی نسل سے تھے۔ ایبک نے قاضی کے گھر میں پرورش پائی اور ان کے بیٹوں کے ساتھ قرآن پڑھا۔ جب وہ جوان ہوا تو تاجروں کے ساتھ غزنی آیا جہاں سلطان شہاب الدین غوری نے اسے خرید لیا۔ وہ پسندیدہ اخلاق اور دل کا سخی اور تلوار کا دھنی تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک دن سلطان شہاب الدین غور ی نے اپنے غلاموں کو انعام دیا جن میں ایبک بھی شامل تھا۔ ایبک نے دربار کے باہر آکر تمام رقم درباری ملازمین میں بانٹ دی۔ اس کی اطلاع جب سلطان کو ملی تو وہ بے حد متاثر ہوا اور اس کو اپنے خاص مقربین میں شامل کر لیا۔ وہ ترقی کرتے کرتے امیر آخور مقرر کیا گیااور بعد میں سپہ سالار کے عہدے پر فائز ہوا۔ جب سلطانی لشکر خراسان میں شاہ خوارزم کے مقابل ڈیرے ڈالے ہوئے تھا تو قطب الدین ایبک شاہی فوج کے نرغے میں آکر گرفتار ہو گیا۔ اس پر دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی جس میں خراسانی شکست کھا گئے ۔ سلطان نے غزنی پہنچتے ہی ہندوستان کی حکومت اس کے سپر کردی۔

قطب الدین ایبک کی فتوحات:

ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت اگرچہ بہت سے مسلم فاتحین کی مرہون منت ہے لیکن اگر ہم کسی ایک شخص کو اس کا حقیقی بانی قرار دیں تو وہ قطب الدین ایبک ہے جس کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ ایبک نے شہاب الدین غوری کے ساتھ اور اس کی واپسی پر ہندوستان کے علاقوں پر تابڑ توڑ حملے کئے اور ان معرکوں میں قلیل سپاہ کے ساتھ داد شجاعت دی۔ اس نے فتوحات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا جو بالاخر دہلی میں مسلمان حکمرانی کے 800 سو سے زاہد سالوں پر محیط ہوا۔1193عیسوی میں قطب الدین ایبک نے میرٹھ اور دہلی فتح کئے۔ اسی سال اس نے علی گڑھ (اس وقت کول) پر قبضہ کیا۔ اسی سال شہاب الدین غوری پھر ہندوستان آیا اور جے چند والی ءقنوج کو ایسی شکست دی کہ مسلمانوں نے بنارس تک اقتدار قائم کر لیا۔ 1194 میں قطب الدین ایبک نے نہروالہ( انہلواڑہ) تھنکر(بیانہ) قلعہ گوالیار اور بدایوں تک کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔اس نے تاج الدین یلدوز کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا۔ ہندوستان کے وسیع وعریض علاقے فتح کرنے پر اسےسلطان غیاث الدین کی طرف سے چتر اور علم سلطانی عطا ہوا۔ ملک اعزالدین بختیار خلجی نے اس کی زیر قیادت بہار،میرٹھ اور ندیا کے علاقے فتح کئے۔ یہاں تک مشرق میں اسلامی حکومت بنگال تک پہنچ گئی۔

وفات: جب وہ غزنی میں تاج الدین یلدوز کو شکست دے کر واپس لاہور پہنچا تو ایک دن چوگان کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر اور زین کا اوپر ی کنار ا ،اس کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ اس زخم سے اس نے انتقال کیا ۔ انتقال کے وقت اس کی مدت حکومت بحیثیت خود مختار حکمران چار سال اور کچھ ماہ جب کہ دہلی پر شہاب الدین غوری کی قیادت میں کل بیس سال حکمرانی کی۔ وہ 26 جون 1206 بروز منگل لاہور کے تخت پر بیٹھا اور 1210 عیسوی کو انتقال کر گیا۔ اس کا مقبرہ لاہور انارکلی میں واقع ہے۔

سلطان آرام شاہ:

سلطان قطب الدین ایبک کا ایک بیٹا اورتین بیٹیا ں تھیں۔ اس کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے ناصر الدین قباچہ سے بیاہی گئیں۔ اس کی تیسری بیٹی کی شادی شمس الدین سے ہوئی ۔سلطان قطب الدین نے ملک شمس الدین میں اعلیٰ اوصاف دیکھ کر اسے اپنا بیٹا بنا یااور اسے بدایوں کی حکمرانی سونپ دی۔ ایبک کی اچانک وفات پر شمس الدین اس وقت چونکہ بدایوں اور ناصر الدین قباچہ ملتان گیا ہوا تھا، لہذاامراء نے اس کے نالائق بیٹے آرام شاہ کو تخت پر بٹھا دیا۔ بعدازاں تمام امرائے دہلی نے شمس الدین کو بدایوں سے بلا کر تخت حکومت پر بٹھایا۔ اس دوران آرام شا ہ کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی ریاست چا ر حصوں میں تقسیم ہو گئی:۔

1۔ سندھ پر ناصر الدین قباچہ نے قبضہ کر لیا۔

2۔ دہلی اور اس کے مضافات کے علاقوں پر شمس الدین نے قبضہ جمایا۔

3۔ بنگال پر خلجی حکمران ہوئے۔

4۔ لاہور پر تاج الدین یلدوز نے قبضہ کیا۔ تاہم لاہور شمس الدین ، تاج الدین یلدوز اور ناصر الدین قباچہ کے درمیان کشمکش کی وجہ رہا۔

شمس الدین التمش:

قطب الدین ایبک کا سب سے لائق اور بہادر غلام سلطان شمس الدین کے والد کا نام ایل خان یا ایلم خان تھا۔ ایلم خان ایک صاحب حیثیت اور عالی مرتبت سردار تھا۔ ہوا یوں کہ اس کے بھائیوں نے اس کی خوبصورتی اور خوب سیرت سے جلتے ہوئے اسے گھوڑوں کا گلہ دکھانے کے بہانے ایک تاجر کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس تاجر نے اسے بخارا کے صدر جہاں پر بیچ دیا۔ اس کا بچپن اسی خاندان میں گزرا۔ اس کو ایک اور تاجر “چست قبا “نےخریدلیا۔ وہ اسے فروخت کرنے کے لئے غزنی لایا۔ اس وقت سلطان شہاب الدین غوری نے اس کے اوصاف حمیدہ دیکھ کر اسے خرید نا چاہا لیکن تاجر نے اس کی جوڑی ایک اور غلام سے بنائی ہوئی تھی اور دونوں کی کل رقم ایک ہزار دینا رکھی جس پر سلطان نے اس کی فروخت پر غزنی میں پابندی لگا دی۔ اس دوران ایبک دہلی سے غزنی آیا تو اس کی نظر شمس الدین التمش پر پڑی ۔

اس نے اپنے پسندیدگی کا ذکر سطان سے کیا جس پر اسے سلطان نے کہا کہ غزنی میں وہ پابندی کی وجہ سے نہیں خرید سکتا البتہ وہ اس کو دہلی لے جائے۔ تاج الدین تاجر جب قطب الدین کے حکم پر اسے دہلی لایا تو اس نے دونوں غلاموں کو ایک لاکھ جیتل میں خرید لیا۔ دوسرا غلام “طمغاج ایبک “تھا جو بعد میں سرہند کا نامی گرامی امیر بنا۔ بعد میں اس نے تاج الدین یلدوز کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ شمس الدین، سلطان قطب الدین ایبک کی فوج کا سپہ سالار بنایا گیا۔سلطان ایبک نے اس کی اچھی عادات کی وجہ سے اس کو اپنا بیٹا بنا دیا اور اس کا رتبہ آہستہ آہستہ بلند کر تا گیا۔ یہاں تک کہ اس کو بدایوں کی ریاست کا امیر مقرر کر دیا ۔

جب سلطان معز الدین سام(شہاب الدین غوری) نے کھوکھروں کے خلاف لشکر کشی کی تو شمس الدین نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور جہلم کے نزدیک دریائے جہلم کے ایک جزیرے میں چھپے کھوکھروں کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کی جنگ کو سلطان غوری نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے قطب الدین ایبک سے آزاد کروا کر خلعت فاخرہ سے نوازا۔

سلطان قطب الدین ایبک کی وفات پر اسے امیر داؤد ، علی اسماعیل اور دوسرے نامور سرداروں نے بدایوں سے بلا کر تخت پر بٹھا یا۔ مگر امرائے ترک نے دہلی کے مضافات میں جمع ہو کر اس کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ وہ اپنے معتمد امراء اور سپاہیوں کے ساتھ دہلی سے نکلا اور ترک امراء کی فوج کو شکست دے کر تمام باغیوں کوتہ تیغ کیا۔ اس نے اودھ، بنارس، بدایوں اور سوالک پر قبضہ کر لیا ۔ بعد میں جب تاج الدین یلدوز سلطان خوارزم شاہ کے ہاتھوں شکست کھا کر لاہور کی طرف آیا تو دونوں میں سرحدی تنازعہ پیدا ہوا جس پرسلطان شمس الدین نے اس پر لشکر کشی کی اور اسے گرفتا ر کر کے دہلی لے آیا اور پھر بعد میں اسے بدایوں بھیج دیا ۔ سلطان تاج الدین یلدوز بدایوں میں مدفون ہے۔ 1222 ء میں سلطان خوارزم شاہ نے تاتاریوں سےشکست کھائی تو اس نے ان کے خوف سے ہندوستان کی راہ لی ۔ ادھر شمس الدین التمش نے تاتاریوں کی یلغار روکنے کے لئے ایک لشکر لاہور روانہ کیا ۔دوسری طرف انتہائی چالاکی سے سلطان خوارزم کے لشکر کا رخ سندھ کی طرف موڑ دیا۔

وہ سندھ سے ہوتا ہوا سیوستان کی جانب چلا گیا۔ 622 ہجری میں اس نے بنگال پر لشکر کشی کی جس پر خلجی حاکم غیاث الدین نے اس کی اطاعت کی اور اڑتیس ہاتھی اور اسی لاکھ روپے نذر کئے اور خطبے میں سلطان شمس الدین کا نام شامل کر کے جان بچائی۔ سلطان نے 1222 ء میں قلعہ رنتھبور فتح کیا جو اس سے پہلے ہندوستان کے ستر حکمران نہیں کر سکے تھے۔ 1223 ء میں اس نے تین ماہ کی جنگ کے بعدقلعہ اوچ فتح کیا۔ کچھ دن بعد ناصر الدین قباچہ بھکر سے فرارہوتے ہوئے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا جب کہ اس کا بیٹا بہرام شاہ پہلے ہی سلطان کے دربار میں پہنچ چکا تھا۔ یوں پورا سندھ سلطان کے قبضے میں آگیا۔ دیول اور سندھ کا والی سنان الدین “جینسرو “دربار شمسی میں آگیا۔ 18 جنوری 1229 ء کو عباسی خلیفہ مستنصر بااللہ نے اس کے لئے خلعت فاخرہ بھیجی ۔ اس موقع پر دہلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور شہر بھر میں جشن نشاط منا یا گیا۔ اسی زمانے میں سلطان کے بڑے بیٹے ناصرالدین محمود کے انتقال کی خبرملی۔ بلکا خلجی بن حسام الدین نے بنگال میں بغاوت کی۔ اس نے بلکا پر لشکر کشی کی اور بغاوت کو کچلنے کے بعد دہلی واپس ہوا۔ 1232 میں قلعہ گوالیار فتح کیا۔

1233 میں سلطان نے دہلی سے مالوہ کا قصد کیا۔ پہلے بھیلسہ کا مضبوط قلعہ فتح کیا جہاں تین سو سال پرانا بت رکھا ہوا تھا جس کی بلندی ا یک بیس گز تھی۔ سلطان وہاں سے اجین نگری پہنچا جو چندر گپت ثانی کا دارلخلافہ تھا۔ اور مہاکان دیو کے بت خانے سے بکر ماجیت کے بت سمیت بعض برنجی بت اور مہاکان دیو کی لاٹھی دہلی لے آیا۔ 633 ہجری کوسلطان اپنے لشکر سمیت بنیان گیا لیکن بیماری اور ضعف کی وجہ سے 10 اپریل 1236 ءکو عماری میں بیٹھ کر دہلی میں داخل ہوا۔ 20 اپریل 1236 ءبروز پیر اس کا انتقال ہوا۔

فتوحات : اس کی نامور سلطان کی فتوحات کچھ یوں ہیں ۔ فتح بدایوں، فتح بنارس، فتح قلعہ رنتھبور، فتح قلعہ مند، فتح بھکر، فتح ملتان، فتح سیوستان، فتح اجین نگری، فتح بھیلسہ، فتح گوالیار، تاج الدین یلدوز پر فتح، ناصرالدین قباچہ پر فتح، فتح لاہور، فتح سرہند، فتح سرسوتی و کہرام، فتح بنگال، فتح ترہٹ، فتح قنوج، قلعہ تھنکر بیانہ پر قبضہ، فتح جاج نگر، فتح جھجھر، فتح قلعہ نندنہ، فتح سیالکوٹ۔

شخصیت: سلطان التمش ایک عادل، رعایا پرور، دانشمند اور بہادر حکمران تھا۔ وہ زبردست شان و شوکت اور رعب دبدبہ رکھتا تھا۔ اس کے بادشاہ بننے سے انڈیا میں مسلمانوں کو قوت نصیب ہوئی اور ان کی دھاک بیٹھ گئی۔ وہ فیاضی میں ثانی نہیں رکھتا تھا۔

رکن الدین فیروز شاہ:

سلطان شمس الدین التمش کے سب سے بڑے صاحب زادے کا نام ملک ناصر الدین محمود تھا جو انتہائی قابل ، بہادر، خوش شکل اور باپ سے زیادہ دانشمند تھا لیکن جوانی میں ہی اس کا انتقال ہونے پر اس کے چھوٹے بھائی کو 30 اپریل 1236 ء میں تاج وتخت دہلی پر بٹھایا گیا۔

رکن الدین فیروز شاہ نہایت نرم خو، حلیم، فیاض اور خوبصورت بادشاہ تھا۔ اس کی والدہ جہان ترکان خاتون ایک ترک کنیز تھی ۔ رکن الدین فیروز شاہ کو شاہی چتر اور خلعت فاخرہ عطا ہوئی ۔ جب اس کو تخت پر بٹھایا گیا تو دہلی میں جشن منایا گیا لیکن رکن الدین فیروز شاہ بہت جلد ہی عیش و عشرت میں پڑ گیا اور خزانہ عامرہ کو لٹانے لگا۔ سلطنت میں افراتفری پھیل گئی۔ ترکان خاتون براہ راست احکامات و فرامین جاری کرنے لگی اور حرم کی دوسری خواتین کو مصیبتوں کا تختہ مشق بنا یا جانے لگا۔کئی ایک کو مروا دیا اس پر اعمال حکومت پریشان ہوگئے کہ اسی اثنا میں سلطان رکن الدین اور ترکان خاتون نے سلطان مرحوم کے ایک لائق و ہونہار بیٹے قطب الدین کی آنکھوں میں سلائی پھروا کر قتل کر دیا۔ اس پر اکثر سردار اور احکام مخالفت پر اتر آئے۔ سلطان مرحوم کے ایک اور بیٹے غیاث الدین محمد شاہ نے اودھ میں علم بغاوت بلند کر دیا اور بنگال سے جو خزانہ دلی آرہاتھا اس پر قبضہ کر لیا۔ اور کئی قصبوں کو بھی لوٹا۔

اسی طرح عزالدین محمد سالاری جاگیردار بدایوں بھی باغی ہو گیا۔ ملک علاوالدین جانی حاکم لاہور ، ملک کبیر خانی والی ملتان، ملک سیف الدین کوچی جاگیردار ہانسی نے بھی متحد ہو کر بغاوت کر دی۔ سلطان رکن الدین بغاوتوں کو کچلنے کے لئے لشکر لے کر دلی سے باہر نکلا تو وزیر سلطنت نظام الملک محمد جنیدی کیلو کھڑی سے نکل کر علی گڑھ کی طرف چلا گیا اور ملک عزالدین سالاری سے جا ملا۔ اور پھر دونوں ملک علاؤالدین جانی اور ملک سیف الدین کوچی سے جاملے۔ سلطان رکن الدین فوج لے کر کہرام کی طرف چلا۔ اس کے خاص غلاموں نے جو قلب میں تھے ترائن اور منصور پور کی حویلی میں تاج الملک محمود دبیر مشرف الممالک، بہاؤالملک اشعری ، کریم الدین زاہد، نظام الدین شیر خانی اور کئی دوسرے سرداروں اور تاجک اعمال کی ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا۔

ادھر ربیع الاول 634 ہجری میں التمش کی بڑی بیٹی رضیہ اور ترکان خاتون میں کشمکش شروع ہوگئی۔رکن الدین یہ خبر پا کر دلی لوٹا۔ ترکان خاتون نے سازش کرکے رضیہ کو قتل کرا دینا چاہا لیکن اس پر شہر کے لوگ بھڑک اٹھے ۔شاہی محل پر ہلہ کر ترکان خاتون کو گرفتار کر لیا اس وقت رکن الدین کیلو کھڑی پہنچ چکا تھا۔ ترک امیر الگ ہو کر شہر میں چلے گئے اور رضیہ سلطانہ کو تخت پر بٹھا کر اس بیعت کر لی۔ رضیہ نے تخت نشین ہوتے ہی ترک امراء کے ذریعے رکن الدین کو گرفتار کرایا اور دلی لا کر قید کر دیا۔ قید میں ہی20 نومبر 1236 ءمیں اس کا انتقال ہوگیا۔ رکن الدین کی مدت حکومت چھ ماہ اور اٹھائیس دن تھی۔ سلطان رکن الدین نے خزانہ عامرہ بے دریغ لٹایا ۔وہ ہوس رانی اور عیش نشاط میں مصروف رہتا تھا۔ گویوں ،مسخروں اور ہیجڑوں کو بڑے بڑے انعامات سے نوازتا تھا۔بدمستی و مد ہوشی ہاتھی پر سوار ہو کر شہر سےگزرتا اور خالص سونے کے تنکے دائیں بائیں لٹا تا چلا جاتا۔اس کی ایسی ہی حرکات اس کی حکومت کے زوال کا باعث بنیں۔

رضیہ سلطانہ :

رضیہ سلطانہ بہت جلیل القدر حکمران تھی۔ وہ دانش مند، عادل، کریم اور رعیت پرور خاتون تھی۔ لشکر کشی اور حملہ آوری کی صلاحیت رکھتی تھی۔ سلطان شمس الدین کی زندگی میں اسے بڑی عظمت حاصل ہوئی۔ فرمان جاری کرتی رہی کیونکہ شاہی محل میں اپنی ماں ترکان خاتون کے ساتھ رہتی تھی جسے حرم کی خواتین میں سب سے اونچا مقام حاصل تھا۔ سلطان شمس الدین نے اس کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے باوجود اس کے کہ وہ پردے میں رہتی تھی، فتح گوالیار کے بعد تاج الملک محمود دبیر اعلیٰ کو حکم دیا کہ رضیہ کی ولی عہدی کی دستاویز تیار کی جائے اور یوں اس کو ولی عہد مقر رکر دیا گیا۔

بعض مقرب امراء نے اس تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تو سلطا ن نے کہا میرے بیٹے عیش و عشرت کے دلدادہ ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی سلطنت کو نہیں سنبھال سکے گا۔ میرے بعد میرے فیصلے کی اصابت واضح ہو جائے گی۔ سلطان رکن الدین کے بعد رضیہ سلطانہ تخت نشین ہوئی تو معاملات معمول پر آگئے لیکن وزیر جنید نے اس کی سلطانی سے اتفاق نہ کیا پھر ملک جانی ، ملک کوچی، ملک کبیر خان ، ملک سالاری اور وزیر جنید نے اطراف دلی میں جمع ہو کر رضیہ سلطانہ کی مخالفت شروع کر دی۔

ادھر ملک نصرۃالدین تالیسی معزی حاکم اوودھ رضیہ کی مدد کے لئے لشکر لے کر دلی کی طرف روانہ ہوا لیکن جب اس نے گنگا کو عبور کیا تو مخالفین رضیہ اچانک اس کے مقابلے کے لئے جا پہنچے اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔اسی اثنا میں بیماری نے اس پر غلبہ پا یا اور اس کا انتقال ہو گیا۔ رضیہ سلطانہ آخر مخالفین سے فیصلہ کرنے کے لئے خود شہر سے باہر نکلی اور دریائے جمنا کے کنارے خیمہ زن ہو گئی ۔ اس کے حامی ترک امراء اور مخالفین میں کئی لڑائیاں ہوئیں۔ آخر صلح ہو گئی ۔ ملک سیف الدین کوچی اور اس کا بھائی ملک فخر الدین پکڑے گئے اور آگے چل کر قید ہی میں ہلاک ہو گئے۔ ملک علاؤالدین جانی فرار کے دوران میں نکوان(پٹیالہ) میں مارا گیا۔ نظام الملک جنیدی کوہستان سرمور کوچلا گیا اور کچھ مدت بعد وہیں وفات پائی۔ ملک سالاری اور ملک کبیر خان نے اطاعت قبول کر لی۔

جب سلطنت کے معاملات درست ہوگئے تو رضیہ نے وزارت کا منصب خواجہ مہذب کو دے کر نظام الملک اور لشکر کی نیابت ملک سیف الدین ایبک بھتو کے سپر د کر کے اسے قتلغ خان کا لقب دیا۔ ملک کبیر خان کو لاہور کی جاگیر پر مقرر کر دیا اور علاقہ لکھنوتی سے دیول تک تمام مملوک امراء نے فرمانبرداری قبول کر لی۔ ملک سیف الدین ایبک کی وفات پر نیابت کا عہدہ ملک قطب الدین حسن غوری کو دے دیا گیا۔ اور اسے قلعہ رنتھبور کی پیش قدمی کرنے کاحکم ملا کیونکہ سلطان مرحوم کے بعد ہندو کا فی عرصے سے اس کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ملک قطب الدین غوری رنتھبور پہنچا۔

مسلمانوں کو قلعے سے نکالا اور قلعہ فصیل دونوں تباہ کرکے واپس آیا۔ اسی زمانے میں ملک اختیار الدین ایتگین کو امیر حاجب کا عہدہ اور جلال الدین یا قوت کوداروغہ اصطبل اورقرب سلطانی مل گیا۔ اس پر ترک امراء کے دلوں میں حسد پیدا ہو گیا۔ رضیہ سلطانہ نےپردہ ترک کر کے مردانہ لباس اختیار کیا اور ہاتھی پر سوار ہو کر باہر نکلنے لگی۔ رضیہ سلطانہ کی ابتدائی عہد حکومت میں ہندوستان کے مختلف حصوں سے قرامطی ملحدین خفیہ طور پر دلی میں جمع ہوئے اور نور ترک نامی شخص کی قیادت میں 6رجب 634 ہجری کو بوقت جمعہ اچانک جامع مسجد میں گھس آئے اور تلواریں سونت کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ کتنے ہی مسلمان شہید و زخمی ہوئے لیکن چیخ و پکار سن کر بہادر وہاں آگئے اور جامع مسجد میں جمع مسلمانوں کے ساتھ مل کر قرامطی ملحدوں کا صفایا کر دیا۔ 637 ہجری میں ملک اعزالدین کبیر خان حاکم لاہور نے دوبارہ س رضیہ سلطانہ کی مخالفت شروع کر دی ۔رضیہ اپنے لشکر کے ساتھ لاہور کی جانب نکلی ۔

آخر صلح ہو گئی۔ وہ دربار میں حاضر ہو ا تو اسے علاقہ ملتان پر مقرر کر دیا گیا۔ پھر ملک اختیار الدین التونیہ حاکم تبرہندہ(سرہند) نے بغاوت اختیار کی ۔ رضیہ سلطانہ 9 رمضان 637 ہجری کو فوج خاص کے ساتھ دلی سے تبرہندہ کی طرف روانہ ہوئی لیکن ترک امیروں نے جو ملک التونیہ سے خفیہ روابط رکھتے تھے عین میدان جنگ میں بے وفائی کی۔ ملک جلالالدین یاقوت حبشی کو قتل کر دیا اور رضیہ سلطانہ کو گرفتار کر کے قلعہ تبرہندہ میں بھیج دیا۔ آخر ملک اختیار التونیہ نے اس سے نکاح کر لیا۔ پھر دونوں لشکر لے کر دلی کی جانب بڑھے تا کہ سلطان معزالدین کو جو تخت دلی پر بیٹھ گیا تھا شکست دے کرسلطنت دلی پر دوبارہ قبضہ کیا جائے۔ ربیع الاول 638 ہجری بمطابق ستمبر 1240 عیسوی میں جنگ ہوئی ملک التونیہ اور رضیہ سلطانہ شکست کھا کر کیتھل پہنچے ۔لشکری بھی ادھر ادھر بکھر گئے ۔ہندوؤ ں نے دونوں کو پکڑ کر شہید کر دیا۔ یہ واقعہ 25 ربیع الاول 638 بمطابق 1240 کا ہے۔ رضیہ نے 3 سال 6 دن حکومت کی۔

سلطان معز الدین بہرام :

سلطان معزالدین بہرام شال حد درجہ سادگی پسند، اور ہر قسم سے تکلفات سے پاک، بہادر ، بے باک لیکن خونریز حکمران تھا۔ رضیہ سلطانہ کی تبرہندہ میں نظر بندی کے بعد امرائے دربار نے 27 رمضان 637 ہجری بمطابق 21 اپریل 1240 عیسوی کو سلطان کو تخت پر بٹھایا اور 15 شوال کو اس کی سلطنت کے لئے عام بیعت لی گئی۔ ملک اختیار ایتگین کو نیابت کا منصب دیا گیا لیکن اس نے سلطنت کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا اور وزیر نظام الملک مہذ ب اور محمد عوض مستوفی سے مل کر تمام کاروبار مملکت خود سنبھا ل لیا۔ نیز ہمشیرہ سلطان نے قاضی نصیر الدین کے بیٹے سے خلع حاصل کر لیا تھا ، ملک ایتگین نے اس شہزادی سے شادی کر لی۔ اپنے دروازے پر ایک ہاتھی مقرر کیا اور تین مرتبہ نوبت بجانے کاحکم دیا ۔ یہ صورت حال سلطان معزالدین کو بہت گراں گزری ۔ اس نے 8محرم 637 ہجری کو قصر سفید میں ایک مجلس وعظ منعقد کرنے کا حکم دیا۔ جب واعظ ہو چکا تو بالائی حصے سے دو ترک فدائی دیوان حضور کے چبوترے کے سامنے وارد ہوئے اور انہوں نے اختیار ایتگین کو چھر یاں مار کر ہلاک کر دیا اور نظام الملک مہذب نے زخمی حالت میں بھاگ کر جان بچائی۔

سلطان معزالدین کے عہد میں تاتاریوں کا ایک لشکر خراسان و غزنی کی طرف سے لاہو ر کےباہر وارد ہوا تو حاکم لاہور ملک قراکش نے جو بہادر اور جنگ آزما تھا ،ان کے مقابلے کا فیصلہ کیا لیکن جب اہل لاہور نے ساتھ دینے سے پہلو تہی کی تو رات کے اندھیرے میں اپنے لشکر کے ساتھ دلی کا رستہ لیا۔ تاتاریوں نے 16 جمادی آخر 639 ہجی بمطابق 24 دسمبر 1241 عیسوی کو شہر میں داخل ہو کر قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی پھر بہت سے خواتین اور بچوں کو گرفتار کر ساتھ لے گئے۔ سلطان کو خبر ملی تو اس نے ملک قطب الدین حسین کو وزیر امراء الملوک اور لشکر کے ساتھ لاہور جانے کے لئے نامزد کیا۔ یہ لشکر ابھی دریائے بیاس پر ہی تھا کہ وزیر نظام المک نے جو سلطان سے بدلہ لینے کی فکر میں تھا ،ایک سازش کے ذریعے سلطان کو ترک امراء سے بدظن کر کے یہ فرمان منگوا لیا کہ جیسے ہی ممکن ہو قطب الدین حسین اور تمام ترک امراء کو قتل کر وا دو ۔ وزیر نے یہ فرمان سب امراء کو دکھا کر سلطان نے کے خلاف منظم کر لیا اور لشکر دلی کی طرف روانہ ہوگیا۔

سلطان کی طرف سے شیخ الاسلام سید قطب الدین حقیقت حال کی وضاحت اور صلح کے لئے آیا لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ قاضی منہاج السراج اور دوسرے بزرگ علماء نے بھی مصالحت کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ باغی لشکر 19 شعبان 639ہجری بمطابق 27 فروری 1242 عیسوی کو شہر دلی کے دروازے پر پہنچا اور ذی قعدتک جنگ اور محاصرہ جاری رہا جن میں دونوں طرف سے بہت سے لوگ مارے گئے۔ ان دنوں سلطان کے مزاج پر فراشوں کا ایک سرپنچ حاوی ہوگیا۔ وہ کسی بھی صورت میں صلح نہیں ہونے دیتا تھا۔ 7 ذی قعد کو اوباشوں کا ایک گروہ شہر میں داخل ہو گیا اور اسی رات ا میروں اور ترکوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ اسی روز 10 مئی 1242 عیسوی کو شہر پر ان کا قبضہ ہو گیا۔ سلطان کو قید میں ڈال دیا گیا۔ مبارک شاہ فراش کے اعضاء کاٹ کر قتل کیا گیا ۔پھر 13 ذی قعد کو سلطان بہرام شاہ کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس کی مدت حکمرانی 2سال اور ڈیڑھ ماہ تھی۔

علاؤالدین مسعود شاہ:.

سلطان علاؤالدین مسعود شاہ بن سلطان رکن الدین فیروز شاہ نیک کردار اور کریم و نیک گمان حکمران تھا۔ 8 ذی قعد 639 ہجری کو سلطان معزالدین دلی میں گرفتاری کے فور اَبعد دلی میں موجود سردار اور امراء سلطان خاندان کے تینوں شہزادوں سلطان نصرالدین محمود بن التمش، ملک جلال الدین اور ملک علاؤالدین کو قید سے نکال کر قصر فیروز میں لے گئے ۔ اولذکر دونوں کو قید رکھا اور ملک علاؤالدین کو متفقہ طور پر بادشاہ منتخب کیا اور ملک اعزالدین بلبن جس کی بادشاہی کی منادی شہر میں ہو چکی تھی کی جگہ مسند شاہی پر بٹھایا۔ رجب 643 ہجری میں تاتاری لشکر منکو تہ کی سرداری میں اوچ کی طر ف آیا لیکن جیسے ہی سلطانی دلی سے چل کر دریائے بیاس کے کنارے پہنچا تو تاتاری لشکر اوچ خالی کر کے خراسان کی طرف چلا گیا۔ اسی سفر میں بعض ناپسندیدہ افراد نے سلطان کی طبیعت میں دخل حاصل کر لیا ۔وہ عیش و عشرت اور لہو و لہب کی طرف راغب ہو گیا ۔ جب کہ بعض امراء کے خلاف اس کے کان بھرے گئے اس پر امراء نے باہم اتفاق کر کے سلطان ناصر الدین محمود کو خفیہ خطوط لکھ کر بھڑائچ سے دلی بلایا اور 24 محرم 644 ہجری بمطابق 10 جون 1247 عیسوی کو سلطان علاؤالدین کو قید کر دیا۔ اس کی مدت حکمرانی 4 سال 1 ماہ1 دن تھی۔ اس نے قید ہی میں وفات پائی۔

ناصر الدین محمود:

سلطان ناصر الدین محمود 626 ہجری بمطابق 1229 عیسوی کو قصر باغ دلی میں پیدا ہوا۔ سلطان شمس الدین کا بڑا فرزند سلطان ناصر الدین چونکہ کچھ عرصہ قبل انتقال کر چکا تھا اس لئے نومو لود کو مرحوم شہزادے کا نام اور لقب دے دیا گیاا ور والدہ کے ساتھ قصبہ لونی (نواح دلی) کے قصر شاہی میں بھیج دیا گیا تا کہ اس کی پرورش کھلی فضا میں ہو سکے۔ناصر الدین کو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام اوصاف عطا کئے تھے جو جہانداری اور جہانبانی کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بلند بخت، چندے آفتاب ، چندے مہتاب دانا و بینا ، بارعب ، پرسکون ، پروقار ، ثابت قدم اور فیاض و سخی انسان تھا۔ ناصر الدین کو اللہ نے اولیا ء کے اوصاف اور اچھے اخلاق عطا کئے تھے۔ مثال کے طور پر تقویٰ ، دین داری ، برائیوں سے حفاظت ، شفقت، مراحمت ، احسان ، عدل،انعام ، حکومت ، حیا ، صاف دلی اور پاک دامنی ، ثابت قدمی ، وقار ، وضح داری اور راتوں کو ادائے نماز کے لئے قیام ، تلاوت کلام پاک، سخاوت ،کم آزاری ، انصاف ، بردباری ، علماء سے محبت ، مشائخ سے دوستی اور دیگر پسندید ہ خوبیاں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔

اس کے دور میں ہندوستان میں امن و امان قائم ہو ا اور سلطنت دلی میں استحکام پیدا ہوا۔ اس کے لائق وزیر غیاث الدین بلبن نے ملک کا نظام استوار کیا اور بادشاہت کا وقار دوبارہ بحال کیا۔ اس کے دور کی خاص بات ترک غلام غیاث الدین بلبن کا عروج تھا۔ سلطان ناصر الدین کی زندگی میں ہی امور سلطنت کی باگ دوڑ اس کے باہمت وزیر بلبن کے ہاتھ میںچلی گئی اور جب اس نے وفات پائی تو امرائے سلطنت نے تخت پر الغ خان(غیاث الدین بلبن ) کو بٹھادیا۔ اس نے 20 سال اور چند ماہ حکومت کے بعد 1286 عیسوی میں وفات پائی۔

غیاث الدین بلبن کا حسب نسب :

الغ خان جسے تاریخ میں خان معظم ،بہاول حق و دین الغ اعظم المعروف غیاث الدین بلبن کے نام سے یاد رکھتی ہے ترکستان کے نامور البری قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا دادا البری خان تھا جس کے ماتحت دس ہزار کنبےتھے۔ گردش زمانہ کی وجہ سے وہ بچپن میں منگولوں کے ہاتھ قید ہو ا اور بغداد پہنچا اور غلام بن کر فروخت ہوا ۔وہاں سے گجرات لایا گیا ۔ جہاں جمال الدین بصری نے خریدا اور بیٹوں کی طرح پالا ۔ 630 ہجری بمطابق 1233 عیسوی میں اسے دلی لایا گیا اور کئی دوسرے ترک غلاموں کے ساتھ سلطان التمش کی بارگاہ میں پیش کیا گیا۔

کہتے ہیں کہ سلطان نے اس کی شان اور مردانگی کی بدولت تمام غلام خرید لئے اور اسے تخت سلطانی سے متعلق ایک عہدہ دے دیا گیا۔ پھر اسے خاصہ دار سلطانی اسلحہ کا عامل مقرر کر دیا اور شمسی خاندان کے پورے عہد میں وہ اسی خدمت پر معمور رہا ۔ یہاں اس کا چھوٹا بھائی کشلی خان مل گیا جو بعد میں امیر حاجب ہوا اور دونوں بھائیوں نے مل کر سلطان التمش اور اس کے بعد کے بادشاہوں کی خوب خدمت کی۔

تاتاریوں کی سرکوبی:

643 ہجری بمطابق 1245 عیسوی میں تاتاری سالار منکوتہ نے طالقان و قندوز سے لشکر لے کر سندھ پر یورش کی اور قلعہ اوچ کا محاصرہ کر لیا ۔اس وقت جب کہ تمام امراء تاتاریوں کے مقابلے میں آنے سے گریزاں تھے خان اعظم کو تاتاریوں کی سرکوبی کا حکم ملا۔ وہ تیز رفتاری سے قلعہ اوچ کی طرف روانہ ہوا اور ہر روز ڈیڑھ منزل سے زیادہ کا سفر کرتا ہوا لاہور جاپہنچا جہاں سے اس نے قلعہ اوچ کے محصوروں کی حوصلہ افزائی کے لئے خطوط بھیجے اور ہر اول دستے کو تیزی سے اوچ کی طرف روانہ کیا۔ منگول اس کے لشکر کی تاب نہ لا کر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گئے اور اس کے بعد انہوں نے کبھی بھی ہندوستان پر لشکر کشی کی جرات نہ کی اور ہندوستان منگولوں کی دسترس سے محفوظ رہا ۔اس کا سارا سہرا غیاث الدین بلبن کو جاتا ہے۔

اطراف ہند پر لشکر کشی:

شمالی سرحدوں کی طرف سے اطمینان ہوجانے کے بعد شعبان 645 ہجری کوبلبن نے سلطان کو ہندوستان کے دورافتادہ علاقوں میں لشکر کشی مشورہ دیا تاکہ آزاد قبائل اور سرکش حکمرانوں کی گوشمالی اور تاتاریوں کے خلاف لشکر کی تیاری کے لئے روپیہ حاصل ہو سکے۔ چنانچہ سلطان اور فوج نے ہندوستان کی طرف کوچ کیا اور گنگا و جمنا کے دوآبے میں قلعہ تلسندہ علاقہ قنوج کو تسخیر کیا۔ اس کے بعد کالنجر اور کڑہ کے علاقوں کو فتح کر کے سلطنت کا حصہ بنایا۔

بیٹی کی شادی:

سلطان ناصر الدین محمود غیاث الدین بلبن کی دوراندیشی ، تدبیر ، فتح مندی اور وفاشعاری سے اس قدر متاثر ہوا کہ غیاث الدین بلبن کی بیٹی سے شادی کی۔ اور غیاث الدین کا مرتبہ مزید بڑھ گیا۔

مالوہ اور کالنجر :

25 شعبان 649 ہجری بمطابق 12 نومبر 1251 عیسوی کوسلطانی لشکر نے غیاث الدین کی قیادت میں کالنجر اور مالوہ کی طرف پیش قدمی کی تاکہ رانا جاہرہ جاری جو اس علاقے میں نہایت مضبوط اور سب سے بڑا حکمران تھا کی سرکوبی کی جائے ۔ غیاث الدین بلبن کا مشن کامیاب رہا اور رانا کی ولایت ختم ہو گئی۔

امراء کا حسد :

دنیا میں قابل اور وفاشعار لوگوں کا ہر کس و ناکس دشمن بن جاتا ہے ۔کچھ ایسا ہی بلبن کے ساتھ ہوا۔ چنانچہ 12 شوال 650 ہجری بروز دوشنبہ شمالی علاقوں یعنی دریائے بیاس کی جانب پیش قدمی کی۔ ملک بلبن حاکم بدایوں اور ملک قتلغ خان حاکم بیانہ اپنے اپنے دستوں سمیت اس لشکر میں شامل تھے لیکن جیسے ہی لشکر نے دریائے بیاس کے پاس پہنچا، عما دالدین ریحان طے شدہ منصوبے کے تحت دوسرے سرداروں کو ساتھ لے کر سلطان کی خدمت میں حاضر ہو ا او ر بلبن سے سلطان کو پوری طرح بدظن کر دیا۔ سلطان نے کم اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیاث الدین بلبن کو اس کی جاگیر ہانسی پربھیج دیا تاہم اس کی جان بخشی کر دی۔

اس سازش کا سرغنہ ملک عمادالدین ریحان تھا جس نے بلبن کی جگہ لے لی ۔تاہم اس نے امرائے سلطنت کے ساتھ غلط رویہ رکھا اور ملک میں رشوت کا دور دورہ شروع ہوگیا۔ کچھ ہی عرصہ میں سلطان کو بلبن کی یاد ستانے لگی اور سازشیوں کی ساری منصوبہ بند ی اس پر عیاں ہو گئی تو اس نے بلبن کو ہانسی سے واپس بلایا جس پر قتلغ خان اور وزیر عماالدین ریحان بغاوت پر اتر آئے ۔چنانچہ دونوں کو شکست فاش ہوئی اور بالآخر دونوں بلبن کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔یوں حکومت پر بلبن کی گرفت مضبوط ہوئی اور اس کی بادشاہی کی راہ ہموار ہوئی۔

منگولوں کے فتنے کے خلاف اقدام :

اوائل دسمبر 1257 عیسوی میں منگول لشکر “ساری نویان ” کی قیادت میں انڈیا پر حملہ آور ہوئے۔ ملک کشلی خان بلبن مجبوراَ ان کے استقبال کے لئے بڑھا ۔منگول لشکر نے قلعہ ملتان زمین بوس کر دیا تاکہ آئندہ یہ قلعہ رکاوٹ نہ بنے ۔دلی یہ خبر پہنچی تو غیاث الدین بلبن کے مشورے پر 2 محرم 656 ہجری کو سلطانی خیمہ شہر سے باہر نصب کیا گیا اور اطراف وجوانب کے تمام سرداروں کو پوری تیاری کے ساتھ بارگاہ سلطانی میں پیش ہونے کے احکامات جاری کئے گئے۔منگولوں کو جب ان تیاریوں کی خبر ملی تو انہیں سرحدی علاقوں سے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ ہوا اور وہ واپس لوٹ گئے۔ اسی دوران بلبن نے مسلمان باغی سرداروں کی گوشمالی کا فیصلہ کیا ۔ ان سرداروں کے نام تاج الدین ارسلان اور سنجر اور قلیج خان مسعود خانی تھے۔ وہ ان کے تعاقب میں کڑہ مانک تک جا پہنچا اور دونوں پر ایسی ہیبت ڈالی کہ دونوں بعد میں دلی پہنچے اور سلطان کی بیعت کی۔ بلبن نے ان کو معاف کر کے ایک کو بنگال کا حاکم جب کہ دوسرے کو کڑہ کا حاکم بنا کر بھیج دیا۔

مفسدوں کی سرکوبی:

صفر 658 ہجری میں بلبن اطراف دلی کے کوہستانی علاقوں کی جانب ڈاکوؤں اور مفسدوں کی گوشمالی کے ارادے سے نکلا کیونکہ ان لٹیروں نے مرکز کےگردوپیش ہریانہ ،سوالک، اور بیانہ کے دیہات کو لوٹ مار اور قتل و غارت گری سے پریشان کر رکھا تھا۔ جب تین سال قبل ؛سلطان لشکر اطراف ملتان دریائے بیاس کے کنارے منگولوں کی یلغار کے خلاف مصروف عمل تھا ان مفسدوں نے بہت لوٹ مار کی۔ اب بلبن نے ان کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا آغاز کیا اور کوہستانی علاقے میں حملے کرتا دور دور چلا گیا اور دشمنوں کا صفایا کردیا۔

منگول سفیروں کی آمد:

اس مہم سے فارغ ہونے کے بعد بلبن نے منگول سفیروں کو بارگائے عالی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ۔ دلی اور آس پاس کے تمام سپاہیوں کو مرکز پہنچنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ دو لاکھ مسلح پیادے اور پچاس ہزار سوار جوہر قسم کے سامان جنگ سے لیس تھے حاضر ہوئے۔ شہر کے لوگ اس کے علاوہ تھے۔ غیاث الدین بلبن نے اس طرح ترتیب دیا کہ کیلو کھڑی کے نئے شہر سے لے کر دلی کے اندر قصر شاہی تک بیس صفیں اس طرح آگے پیچھے کھڑی تھیں جس طرح باغ کی روشنیوں پر درختوں کی شاخیں باہم جکڑی ہوئی ہیں۔ سلطانی شان و شوکت اور ہیبت وہول کا عجب منظرتھا۔ ہاتھیوں کی چنگاڑ، گھوڑوں کی ہنہاہٹ اور لشکریوں کے نعروں نے ایسا پر ہیبت منظر پیش کیا کہ منگول مارےخوف کےتھر تھر کانپنے لگے اور کچھ ڈر سے گھوڑوں سے گر پڑے ۔ انہوں نے واپس جا کربلبن کے رعب و دبدبے کا خوب چرچا کیا جس کے بعد منگولوں کو ہندوستان پر حملے کی جرات نہ ہوئی۔

شخصیت:

غیاث الدین بلبن؛ ناصرالدین محمود کے پندرہ سالہ دور حکومت میں وزیر اعظم اورسپہ سالار رہا بادشاہ کے انتقال پر اسے متفقہ طور پر ہندوستان کا سلطان منتخب کیا گیا اور 20 سال تک وہ سلطان کے منصب پر فائز رہا ۔ وہ ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کا سب سے عظیم ب اور مضبوط دل ادشاہ تھا۔ اس نے عدل و انصاف کی ترویج کا سختی سے اہتمام کیا۔ جن امراء نے غریبوں پر ظلم کئے ان کوسخت سزائیں دیں۔ وہ پابند صوم صلواۃ اور تہجد گزار تھا۔ ہمیشہ باوضو رہتا تھا۔کھانے پر علماو مشائخ کو مدعو کرتا اور ان سے دینی مسائل پر تبادلہ خیال کرتا تھا۔

مختصر یہ کہ وہ ایک منصف مزاج، معاملہ فہم ، باتدبیر اور قابل بادشاہ تھا لیکن بڑے بیٹے سلطان محمد عرف خان شہید کی شہادت نے اس کی کمر توڑ دی کہ ساری امیدیں اس سے وابستہ تھیں۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ دن بھر تمام امور مملکت میں مصروف رہتا اوراپنا درد کسی پر ظاہر نہ کرتا لیکن راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتا، پھر یہ کہ دوسرے بیٹے بغرا خان کی بے رخی نے صحت کو اور بھی تباہ کر دیا۔ اور آخر یہی دکھ اس کی موت کا باعث ہوا اور 1286 عیسوی میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد بغرا خان کا بیٹا معزالدین محمد کیقباد جانشین ہو ا لیکن وہ عیش و عشرت کا دلدادہ تھا ۔اپنے باپ بغرا خان کی نصیحت کے باوجود وہ لہو ولہب سے تائب نہ ہوا ۔آخر کارکثرت شراب نوشی اورعیاشی نے اسے مرض فالج میں مبتلا کر دیا۔ پھر ایک رات 1290 عیسوی میں بعض ترک امراءنے اس کا کام تمام کردیا ۔یوں سلطنت دہلی پر شمسی مملوک کی حکمرانی ختم ہوئی اور ملک جلال الدین خلجی تخت نشین ہوا۔

سلاطین دہلی کے کارنامے:

مملوک سلاطین سلطان شہاب الدین غوری کے نامور ترک غلام اور ان کی اولاد تھے جنہوں نے کمال بہادری ، ہمت اور دور اندیشی سے انڈیا میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی جس کا رقبہ پچاس لاکھ سے زائد مربع کلو میٹر تھا۔ ان کی تلوار کے سائے تلے اسلام نہ صرف محفوظ طریقے سے پھلا پھولا بلکہ اس آفاقی مذہب کو استحکام بھی نصیب ہوا اور مقامی مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ ان سلاطین کے دور میں نامور مشائخ اور علمائے کرام نے ہندوستان میں تبلیغ دین کا کام شروع کیا۔ ان سلاطین کے دور میں دنیا میں منگول یورش کا آغاز ہو ا تھالیکن ہندوستان اس دوران منگولوں کے حملوں سے محفوظ رہا اور دنیا بھر سےفنکار، ماہر تعمیرات، ماہر علم نجوم، ماہر ریاضی دان اور بہترین منتظمین نے ہندوستان کی راہ لی۔ چنانچہ 1206 سے لیکر 1290 تک تقریبا 84 سال کے طویل عرصے میں ہندو سوسائٹی مسلم کلچر کے رنگ میں ڈھل گئی اور مسلمانوں نے یہاں بلند و بالا قلعے، مساجد ، مدرسے، عجائب گھر اور مسافرخانے تعمیر کئے۔ دہلی کا قطب مینار اسی دور کی ایک نادر یادگار ہے۔ مسلمانوں نے اس دور میں ہندوستان میں منظم فوج کی بنیاد ڈالی، مالیہ اور لگان کا نظام نافذ کیا، غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے لئے فلاح و بہود کے لئے لنگرخانے بنائے۔ مسلمانوں کے بہترین طرز عمل سے ہندوؤں اور دیگرمذاہب کے لوگوں نے اسلام بخوشی قبول کیا۔ شہاب الدین غوری، قطب الدین ایبک ، التمش اور بلبن مجاہد سلاطین تھے ۔ وہ جہاں گئے اسلام کی دعوت کو مقدم رکھا۔

دہلی سلطنت کے زوال کے اسباب:

دہلی سلطنت کے زوال کے کئی اسباب تھے جن میں چیدہ چیدہ یہ ہیں۔ محلاتی سازشیں، جانشینی کے مسلسل جھگڑے ، بعض بادشاہوں کا آرام پسند ہونا، ترک غلاموں کی اکثر یت کا صوبوں اور پرگنو ں میں بادشاہ کے خلاف بغاوت کرنا، بعض بادشاہوں کا لہو ولہب میں ڈوب کر میدان جنگ کے بجائے قصر شاہی میں داد عیش دینا۔اس دوران مقامی ہندو راجاؤں کی بغاوتیں اور خلجیوں کا عروج مملوک بادشاہوں کے زوال کے اہم اسباب بنے۔

خلاصہ:

ہندوستان میں ترک غلاموں کے ہاتھ اسلام کو جو تقویت ملی اور جس طرح انہوں نے پورے ہندوستان کو اپنے زیر قبضہ لایا اس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی ۔ غزنویوں کے برعکس ان سلاطین نے دیار غیر اور گرم و مرطوب علاقوں میں مخالف عوام کے باوجود اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ۔ ان ہی کی بدولت پاکستان کی ریاست معرض وجود میں آئی کیونکہ ہندوستان میں نہ صرف مسلمان دیگر ممالک سے آکر آباد ہونا شروع ہوئے بلکہ مقامی آبادی نے بھی کثرت سے اسلام قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کا نازک موڑ آیا تو انگریز بہادر مسلمانوں کے وجود اور ایک الگ ریاست کے قیام سے انکار نہ کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں