263

سلطان جلال الدین شاہ الخوارزم کا قلعہ دیکھنے کی تمنا۔ ڈاکٹر شیرمحمدسیالوی

سلطان جلال الدین شاہ الخوارزم کا قلعہ دیکھنے کی تمنا۔

تاریخ سے واقفیت رکھنے والوں کے لیے اسلام کے عظیم بہادر اور فقط 32 سالہ سلطان جلال الدین شاہ الخوارزم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ( سلطان کا مکمل تعارف ان شاءاللہ آگے کسی قسط میں آۓ گا)
پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد برادر مکرم مفتی گلزار احمد نعیمی صاحب کی گذشتہ دو سال سے قلعہ دیکھنے کی خواہش التوا کا شکار تھی جسے گذشتہ ہفتے کی نصف شب مفتی صاحب موصوف نے اچانک پایہ تکمیل تک پہنچانے کا مصمم ارادہ کرنے ساتھ ہی روانگی کا اعلان بھی کر دیا اور یوں اتوار علی الصبح ہم اسلام آباد سے براستہ کلرکہار روانہ ہو گۓ ۔ اچانک روانگی کے سبب کچھ خواہش مند دوست ہمارے ساتھ آنے سے رہ گۓ ۔
سفر کے ابتدائی چند کلومیٹر تک جمیعت علماء پاکستان کے رہنما صاحبزادہ سید صفدر گیلانی صاحب بھی ہمارے ہمراہ رہے جنکے ساتھ مختلف امور پہ تبادلہ خیال رہا۔
کلرکہار سے موٹروے کو خیرباد کہا اور خوشاب روڈ کٹھہ پہاڑی اتر کر ہم نہر مہاجر برانچ کے کنارے بنے کارپٹڈ روڈ سے یونین کونسل کنڈ کے صدر مقام خالق آباد جا پہنچے اور ہمارا رخ وادی سون کی طرف تھا ، جہاں کارپٹڈ روڈ کے ڈریعے ہماری گاڑی چند ہی لمحوں میں کنڈ موڑ ڈیرہ سکندرے والا پہ جا کر رکی جہاں پہ میرے اعزاء و اقرباء نے ہمارے مہمانوں کا بھرپور استقبال کیا۔
میرے برادر اصغر حافظ اللہ نواز اعوان ، محترم حوالدار ملک محمد فاضل ، عزیزم محمد اختر اعوان ، اور حافظ محمد رزاق اعوان نے بھرپور محبتوں اظہار کیا اور مہانوں کی بھرپور تواضح کی۔
تھوڑی ہی دیر میں یہاں میرے کزن پروفیسر محمد صلاح الدین اعوان اپنے ایک دوست کے ہمراہ ہمیں جوائن کر چکے تھے جو کہ پہلے قلعہ کا وزٹ کر چکے تھے لہٰذا انہوں نے خوب ہماری رہنمائی کی۔
کنڈ موڑ سے آگے کے تمام سفری انتظامات میرے عزیز محمد اختر اعوان نے اپنے ذمے لے رکھے تھے جنہوں نے خوب انداز میں اپنا کام نبھایا۔ اب تک کے لیے اتنا ہی
بقیہ احوال ان شاءاللہ اگلی قسط میں اپنے قارئین کی نظر کرینگے

قلعہ تلاجھہ کی سیر حصہ دوم

سکندرے والا کنڈ موڑ اپنے میزبان حضرات سے اجازت طلب کی اور قلعہ کی طرف روانہ ہو گۓ، نڑواڑی

گارڈن تک ہم اپنی گاڑی میں ہی رہے جسے راحیل شریف ڈرائیو کر رہے تھے ، واضح رہے کہ راحیل شریف ایک دم چاک و چوبند اور مستعد نوجوان ہیں جنہوں نے حال ہی میں جامعہ نعیمیہ اسلام آباد سے درس نظامی/ ایم اے کا امتحان پاس کیا ہے اس سفر میں راحیل پہ کئی اور بھی بھاری ذمہ داریاں تھیں مثلاً وہ ہمارے ڈرائیور ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کیمرہ مین بھی تھے اور ساتھ ہی اپنے استاد و مربی مفتی گلزار احمد نعیمی صاحب کی خدمت پہ بھی معمور رہے۔
نڑواڑی گارڈن سے آگے گاڑی اور ایک موٹر سائیکل کا انتظام ہمارے عزیز محمد اختر اعوان نے کر رکھا تھا سو یہاں سے گاڑی بدلی اور عازم قلعہ ہو گۓ، یہاں یہ بھی اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ ہمارے قافلے کا اگلا حصہ یعنی استاد صلاح الدین اعوان اپنے ساتھی محمد ابراہیم کے ہمراہ دربار بابا کچھی والا پہ پہنچ کر ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔
نڑواڑی گارڈن سے تقریباً چالیس منٹ کی مسافت کے بعد اچھالی سکیسر روڈ سے دائیں جانب جنگل بیابان پہاڑوں کے درمیان یہ دربار واقع ہے۔ گلہ بانی کرے والے لوگ جانوروں کی بیماری کے دوران اپنے جانور لیکر یہاں دربار بابا کچھی والا پہ منتقل ہوا کرتے تھے اور اللہ کریم اپنے ولی کامل کے پڑوسیوں کے جانوروں کو صحت و تندرستی عطا کیا کرتا تھا ۔
دربار پہ پہنچ کر آپکو قلعہ تلاجھہ تک تقریباً اڑھائی کلومیٹر کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا کافی اونچائی اور دشوار گزار رستہ ہے۔ البتہ اگر بہترین حالت میں موٹرسائیکل آپکے پاس ہو تو بھی کچھ آسانی ہو سکتی ہے۔
قلعہ کا دامن ایک ایسا مقام تھا کہ جہاں پہنچ کر بالآخر موٹرسائیکل نے بھی آگے چلنے سے انکار کر دیا۔
یہاں سے آگے بہت ہی دشوار گزار اور مشکل ترین رستہ شروع ہوا جو کہ ایک تنگ دروازے سے ہوتا ہوا عین قلعے کے اوپر بلکہ یوں کہیے گا کہ قلعہ کی چھاتی پہ جا کر اختتام پذیر ہوا
جہاں پرانے کھنڈرات، سلطان جلال الدین شاہ الخوارزم کی اوتاک ، ایک پرانی بوسیدہ مسجد اور بھی بہت کچھ ہمارے استقبال کے لیے تیار تھے ۔ قلعہ کے اوپر کے حالات، بوسیدہ مسجد میں اذان کس نے پڑھی، دوران اذان کیا منظر پیش نظر رہا، آٹھ سو سال پہلے کے مجاہدین کے گھوڑوں کے قدموں کے نشانات اور بہت کچھ آپ جان سکیں گے ان شاءاللہ حصہ سوم میں۔ تب تک کے لیے اللہ حافظ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں