سلطان جلال الدین شاہ الخوارزم 78

سلطان جلال الدین شاہ الخوارزم کاقلعہ تلاجھہ وادی سون خوشاب۔ حصہ سوم. تحریر محمد شیر سیالوی

سلطان جلال الدین شاہ الخوارزم کاقلعہ تلاجھہ وادی سون خوشاب۔
حصہ سوم
محمد شیر سیالوی
طے شدہ پروگرام کے مطابق اس دن کا ہمارا ظہرانہ حضرت صاحبزادہ حافظ میاں محمد صفدر حسین سروری قادری صاحب کے پاس طے تھا ۔ میاں صفدر حسین صاحب کا خاندان صوفیاء چھپڑ شریف کا خاندان ہے اور صدیوں سے قال اللہ و قال رسول کی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے میاں صاحب کے آباء اجداد کو حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ سے ہی اجازت و خلافت عطا ہوتی چلی آ رہی ہے سو اس لحاظ سے اب برادرم میاں صاحب آستانہ عالیہ چپھڑ شریف کے سجادہ نشیں ہیں مذکورہ گاؤں صدیوں علم و عرفان کا مرکز رہا ہے، یہاں ایک اہم بات بھی بتاتا چلوں کہ شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمرالدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ یہاں چپھڑ شریف میں بھی پڑھتے رہے ہیں۔
بات طویل ہوگئ آئیۓ واپس تلاجھہ چلتے ہیں۔
جب ہم سب قلعہ کے اوپر عین وسط میں پہنچے تو رنگ برنگی زرک برک خوبصورت تتلیوں نے ہمارا استقبال کیا، بادلوں کا سایہ اور ٹھنڈی ہوائیں موجود تھیں بھادوں کی دھوپ اور گرمی کا ذرا بھر بھی احساس نہ تھا ،
پرانے مکانات کی خوبصورت مگر بھاری بھرکم پتھروں سے بنی دیواریں انسانی آبادی اور ذوق کا پتہ دیتی تھیں، بغیر چھت کے ایک پرشکوہ چار دیواری ایسی بھی موجود تھی جسکی بناوٹ اور رعب و دبدبہ سے غالب امکان ہے کہ یہ کسی سلطان کی اوتاک یعنی بیٹھک ہی ہو سکتی ہے۔
یہاں سب سے اہم چیز ایک مسجد کی موجودگی تھی بغیر چھت آدھی دیواروں میں اگر محراب نہ بنا ہوتا تو بالکل بھی نہ پتہ چلتا کہ یہ مسلمان مجاہدین کی مسجد رہی ہے ۔ دفعتاً اذان کی آواز گونجی جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو مفتی صاحب اذان پڑھ رہے تھے آواز میں کپکپاہٹ اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی تھی ۔
قارئین کرام تزئین و آرائش اور برقی قمقموں سے مزین مساجد میں تو اذانوں کی آواز گونجتی ہی ہے مگر یہاں عجیب سماں تھا کہ ویراں اور بوسیدہ مسجد سے صدیوں بعد پھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہو رہی تھی یہ سماں لفظوں میں بیاں نہیں ہو سکتا۔
یہاں پتھروں پہ مجاہدین کے گھوڑوں کے سموں کے نشانات سورت العادیات کی ابتدائی چند آیات کی گویا تفسیر پیش کر رہے ہوں۔
یہاں پانی کا پرانا کنواں بھی موجود ہے، سینکڑوں کی تعداد میں قبریں موجود ہیں قبور کے نظم و ضبط سے گمان ہوتا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والا شہداء کا قبرستان ہے۔ یہاں انڈر گراؤنڈ طویل ترین خفیہ رستہ بھی موجود ہے۔ یہاں بہت بڑی تعداد میں مختلف جڑی بوٹیاں اور خود رو جھاڑیاں بھی موجود ہیں ، انسانی آبادی اور گزرگاہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں محفوظ رہتی ہیں۔
اگرچہ ہمارا ظہرانہ میاں صاحب کے ہاں طے تھا لیکن دشوار گزار رستہ اور تھکاوٹ و ناسازسی طبعیت کی وجہ سے ہم بجائے ظہرانے کے عصرانے کے وقت پہنچے ۔ تصویر میں خوبصورت مینار والی مسجد آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مقام دادا گورڑہ کہلاتا ہے یہ جگہ ہمارے جد امجد حضرت سیدنا عبداللہ گورڑہ رحمۃ اللہ علیہ کا پہلا مدفن ہے یہاں سے آپکا جسد خاکی بعد ازاں بغداد شریف منتقل کیا گیا تھا اب آپ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے قدمین میں دفن ہیں ۔
اب یہاں میاں صاحب نے ایک خوبصورت مسجد تعمیر کر رکھی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے ایک عظیم دینی درسگاہ بھی قائم ہے جہاں دور دراز سے طلبا اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے آتے ہیں۔ بہت دیر سے پہنچنے کی وجہ سے ہم قبلہ صاحبزادہ صاحب کی شفقتوں سے محروم رہے پھر اگلے دن فون کرکے آپ سے معذرت کی۔
اب تک کے لیے اتنا ہی ان شاءاللہ چوتھا حصہ بعد میں اپنے قارئین کی نظر کرینگے ۔ تب تک کے لیے اللہ حافظ
محمد شیر سیالوی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں