150

سعودیہ میں دجالی محل کے بعد دجالی شہر NEOM کا قیام، گریٹر اسرائیل کی طرف پہلا قدم.تحریر: چودھری صہیب طاہر

سعودیہ میں دجالی محل کے بعد دجالی شہر NEOM کا قیام، گریٹر اسرائیل کی طرف پہلا قدم

تحریر: چودھری صہیب طاہر

سعودیہ عرب کے نارتھ ویسٹ میں تبوک شہر کے ساتھ ایک نیا شہر آباد کیا جا رہا ہے۔ جس پر تقریبا 500 بلین ڈالر کی لاگات آئے گی اور یہ شہر تقریبا5 سے 7 سال میں مکمل تعمیر ہو جائے گا۔ امریکی ماہرین نے اس شہر کی تعمیر کے لیے 2300 صفحوں پر مشتمل ایک پرپوزل پیش کیا ہے جس میں اس شہر کا نام NEOM رکھا گیا ہے۔ اس شہر کا افتتاح سعودی شہرادہ محمد بن سلمان نے 2017 میں کیا اور بتایا کہ یہ شہر دنیا کا سب سے جدید ترین شہکار شہرہوگا۔ NEOM کا مطلب ہے جدید مستقبل ہے۔

اس شہر کے بارے میں بتانے سے پہلے آپکو بتاتا ہوں کہ اس دجالی شہرکی تعمیر سے پہلے سعودیہ میں مدینہ سے کچھ فاصلہ پر دجال کا محل بھی تعمیر کر دیا گیا۔ جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے 1400 سال پہلے فرما دیا تھاکہ دجال کا خروج مشروق کی جانب سے ہوگا، وہ نکلنے کے بعد زمین پر ہر ایک شہر میں جائے گا، لیکن وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہو پائے گا۔ اس وقت مدینہ کہ 7 دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دو فرشتے پہرا دیں گے جو اسے مدینہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔

ایک اور احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ زمانہ آخر میں جب دجال مدینہ میں داخل نہ ہو پائے گا تو وہ مدینہ سے باہر ایک پہاڑی پر قیام کرے گا اور مسجد نبوی کی جانب اشارہ کرکے اپنے ساتھیوں سے کہے گا کہ وہ دیکھوں احمد کا سفید محل۔

رسول اللہ ﷺ نے دجال کے قیام بارے جس پیاڑی کا زکر کیا ہے وہ آج جبلِ حبشی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اور اس مقام پر سعودی حکومت کی جانب سے ایک محل بھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔ جسے کنگڈم پیلس کا نام دیا گیا ہے۔ جس کی بناوٹ بلکل صہیونی طرظ کے مطابق ہے۔ لاکھ اختلافات کے باوجود سعودی حکومت نے نہ تو اس محل کی تعمیر روکی اور نہ ہی اسکی جگہ تبدیل کی گئی ہے۔ تعمیر کے بعد سے یہ محل اب تک ویران پڑا ہے اور اس محل کے علاوہ اس پہاڑی پر دور دور تک آبادی نہیں، اس محل کی جانب جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور یہاں کسی بھی شخض کو جانے کی اجازت نہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر لوگوں نے اس محل کو دجال محل کا نام دے رکھا ہے۔

اب بات کرتے ہیں اس شہر کی۔دراصل یہ ایک دجالی شہر اور قیامت کی نشانی ہے۔ جسکا افتتاح سعودی شہرادہ محمد بن سلمان 2017 میں کر چکے ہیں جو تقریبا 7 سال کے عرصہ میں مکمل ہوگا۔ یہ شہرRed Sea کے کنارے پر بنایا جائے گا جسکے ساتھ اردن، مصر اور اسرائیل کی سرحدیں لگتی ہیں۔ اس شہر میں ایسی کیا بات ہے جو اسے قیامت کی نشانی سے جوڑا جا رہا ہے یا دجال کے ساتھ اسکا کیا تعلق ہے اسے جاننے کے لیے ہمیں اس کو تعمیر کرنے والوں پر نظر ڈالنی ہوگی۔ آخر اتنی بڑی رقم سعودیہ کو دے کون رہا ہے۔ اس کا جواب یقینا اسرائیل ہی ہے۔ جی اسرائیل ہی اس شہر کی فنڈنگ اور تعمیر کر رہا ہے۔

یہ شہر سعودیہ میں ضرور بن رہا ہے مگر اسکا کنڑول اسرائیل کے ہاتھ میں ہوگا۔ دراصل اس وقت صہیونی طاقتیں سعودیہ عرب پر قبضہ کرنے کا سوچ رہی ہیں۔ آپ نے گریٹر اسرائیل کے بارے میں تو سن ہی رکھا ہوگا۔ جو صہیونیوں کا اجنڈا ہے جسے دجال کی آمد سے قبل پورا کرنا ہے یعنی اپنی سلطنت کو اتنی دور تک پھلانا جتنی حضرت سلیمان ؑ کے دور حکومت میں تھی۔ جس میں سعودیہ عرب، عراق، مصر، شام، اردن، فلسطین اور اسرائیل کا علاقہ بھی شامل تھا۔ یہودی سعودیہ عرب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کی چالوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ اسی اجنڈے پر عمل کرتے ہوئے اس شہر کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ شہر گریٹر اسرائیل کا اہم ترین شہر ہوگا اور سب سے بڑی بات اس شہر میں سعودیہ عرب کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوگا۔ اس شہر کا افتتاح کرنے والے سعودیہ ولی عہد شہزادہ سلمان اس وقت صہیونیوں کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں اور انکے بارے میں یہ بات بھی مشہور یہ کہ وہ اپنے کام میں رکاوٹ بننے والوں کو قید کر دیتے ہیں یا قتل کر دیتے ہیں۔ جن سعودی عہدیداروں نے اس شہر کی پالیسیوں پر اعتراض کیا تھا وہ آج بھی قید خانوں میں ہیں۔

اس حجاز مقدس پر جو ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ اور کئی نبیوں کی سرزمین ہے پر ایسا شہر آباد ہو رہا ہے جہاں ڈانس کلب، شراب خانے، فحاشی کے اڈے اور تمام قسم کے مغربی کلچر کی مکمل آزدی ہوگی۔ عورتیں جیسا مرضی لباس پہن کر آزادی سے اس شہر میں گھوم سکتی ہیں۔ جو پابندیاں سعودیہ میں خواتین پر لگائی جاتی ہے اس شہر میں خواتین کوانکی مکمل آزادی ہوگی۔ اس شہر کی تعمیر کے بعد یہاں کوئی اسلامی قانون لاگو نہیں ہوگا بلکہ یہ شہر اپنے قوانین میں بلکل آزاد ہوگا۔ یوں کہیں تو اس شہر کو سعودیہ کنٹرول نہیں کرے گا بلکہ صہیونیوں کے کنڑول میں ہوگا۔

اس شہر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ شہر ٹیکنالوجی کا شہکار ہوگا۔ اس شہر کا مکمل طور پر ربورٹس چلائیں گے اور ایسی سہولیات کا مالک ہوگا جو پوری دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ جیسے یہاں ہوا میں پرواز کرنے والی ٹیکسی، کلاؤڑ شیڈنگ، مضوعی بارش برسانا، جس سے سحرا میں بھی سبز ااگے گا یہ قیامت کی ایک اور نشانی کو پورا کردے گا۔ یعنی عرب کے سحرا سرسبزوشاداب ہو جائیں گے۔ یہاں ربورٹس نوکر ہونگے، مارشل آرٹس ربورٹک لڑائیاں ہونگی۔ اس شہر میں ایک جراسک پارک بھی بنایا جا رہا ہے جس میں ڈائناسور ربورٹس کی صورت میں گھوم پھر رہے ہونگے۔ اس شہر کا اپنا ایک مضنوعی چاند بھی ہوگا جو آسمان سے زمین پر تصویر بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ اس شہر میں جینیٹک انجنئیرنگ کو بھی مکمل فروغ دی جائے گی۔ اس شہر کا اپنا ایک ائیر پورٹ ہوگا۔ بڑے بڑے لکشری ریسورٹ اور عماتیں بنائی جائیں گی۔ یہ شہر 10200 سکیور میل کے رقبہ پر پھیلا ہوگا۔ اس شہر کو یہودی تجارت کا مرکز بنائے گے اور ایسی پالیسیاں بنائیں گے جس سے وہ سعودیہ کی معیشت کو کنٹرول کر سکیں گے۔ اس شہر کے تعمیر کے بعد صہیونی سعودیہ عرب کے کافی حصہ پر کنٹرول بھی حاصل کر لیں گے۔ رہی بات سعودی بادشاہوں کی تو وہ اس وقت یہودیوں کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔

سعودی شاہی خاندار وہی آل سعود ہے جس نے خلافت عثمانیہ توڑنے میں یہود ونصار کے ساتھ بہتریں کردار ادا کیا جس پر انعام کے طور پر انہیں سعودیہ میں بادشاہیت ملی۔یہ وجہ ہے کہ عراق، شام اور لبیا کی تباہی کے بعد بھی مسلم امہ کبھی اکھٹی نہ ہو سکی۔ الٹا سعودیہ نے اسلامی اطاعت کے نام پراپنے ہی مسلمان بھائییوں یمنی مسلمانوں کا بھی قتل عام کیا۔ دوسری طرف سعودیہ نے قطر پر بھی یہ کہ کر پابندیاں لگا دیں کہ یہ حماس کو سپورٹ کر رہا ہے۔ حماس وہ تحریک ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے لڑرہی ہے۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی سعودیہ نے نہتے کشمیریوں کے حق میں بولنے کے بجائے انکے قاتل مودی حکومت کو 75 ارب ڈالر کی امدار دے دی۔ ان سب حالات کو دیکھا جائے جہاں یہودیوں کے مظالم ہوں، یہودیوں کے ناجائز قبضہ ہوں یا فلسطینیوں کی بقاء کی جنگ ہو سعودیہ نے کھل کر اسرائیل کی ہی حمایت کہ ہے۔ اسکے علاوہ مشرق وسطی میں سعودیہ ایران جنگ کے بادل میں منڈلا رہے ہیں اور آ پ سبھی جانتے ہیں کہ دونوں جانب ایک دوسرے کے لیے شدیت نفرت پائی جاتی ہے۔ جس وقت قطر نے ایران کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اسکے بعد سعودیہ نے قطر کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس وقت تمام آل سعود و آل مسعود قطر کے خلاف میدان میں آگئے۔ جن میں سعودیہ عرب،مصر، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب ریاستیں شامل ہیں۔ عرب بادشاہوں کے یہ سب اعمال اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ بادشاہیت پر بیٹھے صرف یہودیوں کی نوکری کر رہے ہیں۔

اب نہایت دلچسپ حقائق بتاتا ہوں کہ صہیونی جس سرزمین پر گریٹر اسرائیل بنانا چائتے ہیں اس میں پانچ اسلامی ممالک آتے ہیں۔جن میں مصر، اردن، شام،اعراق اور آدھے سے زیادہ سعودیہ شامل ہے۔یہ وہ علاقہ ہے جسے ساتوں سمندر لگتے ہیں۔ دجال کی آمد سے قبل صہیونی ان علاقوں پر قبضہ دو صورت میں حاصل کرنا چائتے تھے۔ پہلا یہ کہ یہ مملک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر لیں جس میں ان مملک کی پالیسی صہیونی چلائیں گے مگر حکومت اس ملک کی ہوگی۔ دوسری آپشن جنگ کی تھی۔ اب تاریخ دیکھیں تومصر و عرب اور اسرائیل کی 1948 کے بعد تین جنگیں ہوئیں آخر میں اردن اور مصر نے اسرائیل کے آگے گٹنے ٹیک دیے اور امن معائدہ کر لیا ہے۔ شام اور اعراق نے امن معائدہ پر دستخط نہیں کئے جس کے نتیجہ میں ان پر امریکہ کے زریعہ بڑا حملہ کر تباہ کر دیا۔ پانچواں ملک سعودیہ خود ہے۔سعودیہ کے موجودہ رویہ سے یہ بات کھل کر نظر آ رہی ہے کہ سعودیہ بھی اسرائیل سے خفیہ امن معائدہ کر چکا ہے یا کرنے والا ہے۔اگر آپ موجودہ حالات اور عرب بادشاہوں کی اسرائیل کی طرف بھرتے قدموں پر نظر ڈالیں تو یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ جن علاقوں پر اسرائیل گریٹر اسرائیل بنانے جا رہا ان علاقوں پر کنٹرول اسرائیل کا ہی ہے چاہے وہ عرب بادشاہوں کی شکل میں ہو یا امن معائدہ کی شکل میں۔ اب بس ان علاقوں پر قبضہ کے جنگ شروع ہونا باقی ہے۔ جو کہ موجودہ دور میں ایران اور سعودیہ جنگ کی شکل میں نظر آرہی ہے۔

یہ یقینا وہی جنگ ہے جس کے بارے رسول اللہ ﷺ نے 1400 سال پہلے ہی فرما دیا تھا کہ تمام یہود و نصار اور کفار 80 جھنڈوں والا لشکر لے کر مسلمانوں پر حملہ کریں گے۔ یہ 80 جھنڈوں والا لشکر امریکہ اسرائیل اور انکے اتحادی نیٹو اور یورپی یونین ہی ہیں۔اس جنگ کا زکر یہودیوں اور عیسائیوں کی روایات میں بھی آتا ہے جسے جنگ ہرمجدون یا آرمگینڈن کے نام سے جانا جاتا۔ جس میں یہودی اور عیسائی مل کر مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کریں گے۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو اس جنگ کے متعلق یہودی صہیونیوں اور عیسائی صہیونیوں میں اتحاد بھی پایا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے مطابق اس جنگ کے بعد ہی انکا مسیحا آئے گا جو دنیا پر حکومت کرے گا۔۔صہیونیوں کے گریٹر اسرائیل کے بارے میں چار اہم مقاصد ہیں۔ پہلا جنگ ہرمجدون کا آغاز،دوسرا مسجد اقصٰی کو شہید کرکے تیسری بار ہیکل سلیمانی کی تعمیر،تیسرا مقصد گریٹر اسرائیل کا قیام ہے اور اسکے بعد دجال کو حضرت داؤد ؑ کے پتھر پر بیٹھا کر تاج پوشی کرنا۔ عیسائی اور یہودی صہیونیون میں اختلاق صرف ایک بات پر ہے یہودی صہیونی کہتے ہیں کہ دجال مسیحا بن کرآئے گا جبکہ عیسائی صہیونیوں کا عقیدہ ہو کہ حضرت عیسٰی ؑ مسیحا بن کر آئیں گے ۔

گریٹر اسرائیل اور اس جنگ میں صہیونیوں کے مقاصد کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے جس کی موجودگی میں یہ سب ممکن نہیں اس لیے یہودی چائتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت سے لمبے عرصہ کے لیے الجھا دیا جائے اور پیچھے عرب میں اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔دوسری بڑی رکاوٹ ترکی، قطراور ایران ہیں۔ تینوں مملک فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ترکی کے صد مسلمانوں کو جگانے کی بہت کوششیں کر رہے ہیں مگر انکے خلاف بھی عرب بادشاہوں اور صہیونیوں کی جانب سے سازشیں کی جا رہی ہیں۔2016 کی ترکی کی بغاوت بھی اسی کڑی کا حصہ تھا۔ قطر اور ایران بھی گریٹر اسرائیل کے سخت خلاف ہے یہی وجہ ہے کہ قطر اور یران کو بھی اقتصادی پابندیوں کا سامنہ ہوتا۔ آپ بہت جلد قرب قیامت کی نشانیوں کو پورا ہوتا دیکھیں گے۔ ایک طرف پاکستان بھارت سے غزوہ ہند لڑ رہا ہوگا۔ دوسری جانب تیسری جنگ عظیم یا جنگ ہرمجدون عرب پر نافظ کر دی جائے گی۔

صہیونی دجال کی آمد سے قبل سعودیہ کو گریٹر اسرائیل میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ یہ شہر بھی اسی مقصد کی خاطر بنایا جا رہا۔ صہیونی اس شہر کو تجارت کا مرکز بنانا چائتے ہیں۔اس شہر کے بننے سے یہودیوں کے قبضہ میں 26500 کلو میٹر کے علاقہ تک رسائی ہوگی۔جہاں وہ ایک بڑی بندرگاہ بنائیں گے جس سے وہ یورپ، افریقہ اور ایشیا میں بھی تجارت کر سکیں گے اور یہاں رہ کر سعودیہ کی معیشت کو بھی کنٹرول کریں گے۔ اس شہر میں دنیا کی سب سے بڑی عمارتیں بنائی جائیں گی۔ یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔اس وقت دنیا کی سب سے بڑی عمارت دبئی میں برج خلیفہ ہے جبکہ اس سے بھی بڑی عمارت سعودیہ میں جدہ ٹاور کے نام سے زیر تعمیر ہے جو دنیا کی سب سے اونچی عمارت ہوگی۔ آخر دنیا کی سب سے اونچی عمارتیں عرب میں ہی کیوں موجود ہیں؟
اس بات کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی قرب قیامت کے حوالے سے ایک احادیث پر روشنی ڈالتا ہوں کہ عرب کے بدھو جن کے پاس پہننے کے لیے کپڑے تک نہ تھے وہ قیامت سے قبل ایک دوسرے کے مقابلہ میں اونچی اونچی عمارتین بنائیں گے۔ یہ وجہ ہے کہ ایڈوانس ترین ٹیکنالوجی کے باوجود دنیا کی سب سے اونچی عمارتین عرب میں موجود ہیں۔

دجالی محل کی تعمیر کے بعد دجالی شہر کی تعمیر اس بات کی گوئی دے رہی ہیں کہ دور فتن کا آغاز ہوچکا ہے۔ جس کے بارے میں تمام مسلمانوں کو دجال اور اسکے فتنوں سے آگاہ کرنا لازم ہو چکا ہے تاکہ مسلمان خود کو دجال کے فتنوں سے بچا دسکیں۔

اللہ تعالیٰ مسلم امہ میں اتحاد پیدا کرے، امت مسلمہ کو دجال اور دجالیوں کے فتوں سے محفوظ رکھے اور امت مسلمہ کو ان فتنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ آمین

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں