mufti gulzar ahmed naeemi 92

سحر کی حقیقت . مفتی گلزار احمدنعیمی

سحر کی حقیقت
مفتی گلزار احمدنعیمی
علامہ زبیدی نے کہا:تہذیب میں مذکور ہے کہ کسی چیز کو اس کی حقیقت سے دوسری حقیقت کی طرف پلٹ دیناسحر ہے۔ تاج العروس ج۳،ص۲۰۸،داراحیا ء التراب بیروت
ان منظور افریقی نے کہا:سحروہ عمل ہے جس میںشیطان کا تقرب حاصل کیا جاتاہے۔ اور اسکی مدد سے کوئی کام کیا جاتا ہے، نظر بندی کو بھی سحر کہتے ہیں۔ایک چیزکسی صورت میں دکھائی دیتی ہے حالنکہ وہ اسکی اصلی صورت نہیں ہوتی ۔ جیسے دور سے سراب پانی لگتا ہے اور تیز رفتار سواری پر بیٹھے ہوئے شخص کو ہر چیز دوڑتی لگتی ہے ۔ کسی چیز کی کیفیت کو پلٹ دینے کو بھی سحر کہتے ہیں۔کوئی بیمار کو درست کرد ے وغیرہ۔
(لسان العرب ج۴ ص ۳۴۸ملخصاً، مطبوعہ نشر ادب الحوذہ قم ایران)
علامہ راغب اصفہانی نے کہاکہ سحر کا کئی معانی پر اطلاق ہوتا ہے۔
۱۔ نظر بندی اور تخیلات جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جیسے شعبد ہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی سے لوگوں کی نظریں پھیر دیتا ہے ۔ قرآن کریم نے فرمایا: فلما القوا سحروا اعین الناسِ داستر ھبوھم۔تو جب انہوں نے ( لاٹھیاں اور رسیاں )ڈالیں تو لوگو ں کی آنکھوں پر سحر کردیا اور ان کو ڈرایا۔(الاعراف:۱۱۶)
فا ذا حبا لھم وعصیھم یُخَیّلُ اِلیہ من سحرم انھا تسعٰی (طٰہٰ:۶۶)۔تو اچانک کے جادو سے موسی کو خیال آیا کہ ان میں رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں ۔
۲۔ شیطان کا تقرب حاصل کر کے اسکی مدد سے کوئی غیر معمولی کام کرنا۔ قرآن مجید میں ہے۔ ولکن الشیٰطین کفروا یعلمون النا س السحر (البقرہ:۱۰۲)البتہ شیطانوں نے کفر کیا کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔
۳۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جادو سے کسی چیز کی ماہیت و صورت بدل جاتی ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت نہیں ہے۔
۴۔ سحر کسی چیز کو کُوٹ اورپیس کر باریک کرنے کو کہتے ہیں۔
سحر کا شرعی معنی: جس کام کو انسان خود نہ کرسکے وہ شیطان کی مدد اور تقرب کے بغیر پورا نہ اس کے لیے شیطان کے شر اور خبائث کے ساتھ مناسبت ضروری ہواسے سحر کہتے ہیں ۔
جو چیز مختلف حیلوں ، االات ، دوائوں اور ہاتھ کی صفائی سے عجیب و غریب کام کیے جاتے ہیں وہ سحر نہیں ہیں
(علامہ بیضاوی ، انوار التنزیل (درسی) ص ۹۴۔۹۵ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
سحر ایک حقیقت ثابتہ ہے اور اس کسے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے جیسے سورہ فلق ومن شر النفٰثٰت فی العقد۔
جمہور مسلمین کا اس پر اتفاق ہے کہ سورۃ فلق اس وقت نازل ہوئی جب لبید بن اعصم یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم پر سحر کیا تھا ۔امام بخاری نے آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم پر جادو کیے جانے کے حوالے سے ایک طویل حدیث حضرت عائشہ الصدیقہ سے روایت کی ۔اس میں لبدین اعصم کے آپ پر جادو کرنے کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم نے خود بیان کی۔ آپکی جو حیثیت بشر ہے اس کے تحت آپ پر اسکا اثر ہوا بحثیت نبی آپ پر کچھ اثر نہ ہوا۔آپ کے کار نبوت میں اس کی وجہ سے کوئی اثر نہیں پڑا۔
اور بھی روایات اس ایک باندی حضرت عائشہ ؓ پر سحر کیا ۔ امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ساحر مطلقاً کافر نہیں ہے۔ امام مالک اور احمد کہتے ہیں کہ سحر کفریہ عقائد اور کفریہ اقوال و افعال کے بغیر نہیں ہو سکتا اس لیے ساحر مطلقاً کافر ہے۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ سحر عام ہے یہ کفر کے ساتھ اور بغیر کفر کے بھی واقع ہو سکتا ہے۔اس لیے سحر مطلقاً کفر نہیں ہے ۔
سحر کا حکم شرعی:
حضرت ابو ھریرہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارصلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم نے فرمایا :اللہ کے ساتھ شریک کرنا،جادوکرنا،ناحق قتل،سود کھانا،یتیم کا مال کھانا، میدان جہاد سے بھاگنااور پاک دامن مسلمان عورت پر تہمت زنا لگانا۔ (بخاری ج۱ص۳۸۸)
حضرت عمر ،حضرت عثمان،حضرت ابن عمر، حضرت حفضہ کا قول ہے ساحر کو بطور حد قتل کیا جائے گا۔ حضرت جنید بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارصلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم نے فرمایاساحر کی حد اس کو تلوار سے مارنا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ہر ساحر کو قتل کر دو۔( ابو دائود)
سحر کا لفظ قرآن میں 60دفعہ آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں