163

سبق آموز حکایتیں

سیاست اور کورونا کی باتیں تو بہت ہو رہی ہیں جنہیں سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں، یہ باتیں سن کر آپ کچھ سیکھ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے آج ایران کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب، فلسفی، مذہبی اسکالر جناب شیخ سعدی ؒ کے بیان کردہ چند قصّے کہانیاں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔

(1)کسی وزیر کا ایک بیٹا کُند ذہن تھا۔ اس نے اسے کسی دانشمند کے پاس بھیج دیا کہ تو اس کی تربیت کرتا رہے‘ ممکن ہے اس تربیت سے وہ عقلمند ہو جائے۔ اس دانشمند نے کچھ عرصے تک اس کی تعلیم و تربیت کی‘ لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ چنانچہ اس نے ایک آدمی اس وزیر کے پاس بھیجا کہ یہ عقلمند تو بن نہیں رہا البتہ اس نے مجھے دیوانہ کردیا ہے۔

ترجمۂ اشعار: جب کسی گوہر (یا بچے) کی اصل قابل ہو تو اس پر تربیت کا اچھا اثر پڑتا ہے، (لیکن) جس لوہے کی اصل ہی بد گوہر ہو (اچھی قسم کا نہ ہو) تو کوئی بھی صیقل اس کو اچھا نہ بنا سکے گا، تو کسی کتے کو (بے شک) دریائے ہفت گا (یا عظیم دریا) میں دھو لیکن وہ جتنا گیلا ہوتا جائیگا اتنا زیادہ پلید ہوجائیگا۔

(2)ایک دانا اپنے بیٹوں کو نصیحت کررہا تھا کہ ’’جانانِ پدر! (باپ کی جان) تم کوئی ہنر سیکھو، ملک، حکومت و دولتِ دنیا پر بھروسا مناسب نہیں، سفر میں سیم و زر تو خطرے میں ہیں، کیونکہ یا تو چور سارا سیم و زر اڑا لے جائے گا یا پھر مالک خود ہی تھوڑا تھوڑا کرکے کھا جائے گا (یعنی دولت آج کسی کے ہاتھ میں ہے تو کل کسی کے ہاتھ میں) جبکہ ہنر ایک دولتِ مستقل ہے، اگر ایک ہنرمند کے ہاتھ میں دولت نہیں رہتی تو اس کا کوئی غم نہیں، اس لئے کہ ہنر خود ایک دولت ہے۔ وہ (صاحب ہنر) جہاں کہیں بھی جائے گا، اس کی قدرومنزلت ہوگی اور اسے اونچی جگہ پر بٹھایا جائے گا جبکہ ایک بےہنر دوسروں کے لقمے حاصل کرتا اور سختیاں اٹھاتا ہے۔

ترجمۂ اشعار: جاہ و مرتبہ کے بعد دوسروں کا حکم ماننا بڑی تکلیف دہ بات ہے جس کی نازکی عادت رہی ہو، اس کے لئے دوسروں کی سختی و ظلم اٹھانا ٹھیک نہیں یا ناقابلِ برداشت ہے۔

ایک مرتبہ ملک شام میں کوئی فتنہ برپا ہوا جس کے باعث ہر کوئی اپنے گوشے سے بھاگ گیا۔ (جبکہ) کسانوں کے دانشمند بیٹے بادشاہ کے وزیر بن گئے یا بننے کیلئے گئے (اور اس کے برعکس) وزیر کے ناقص عقل؍ نادان بیٹے گداگری کرنے دیہات چلے گئے۔

(3)میں نے دیارِ مغرب میں ایک مدرسے کے استاد کو دیکھا جو ترش رو، تلخ گفتار، بدخصلت، مردم آزار (لوگوں کو دکھ پہنچانے والا) گدا فطرت اورناپرہیز گار (تقویٰ سے محروم) تھا۔ اسے دیکھ کر مسلمانوں کا عیش تباہ ہو جاتا، چند پاکیزہ لڑکے اور دوشیزہ (کنواری) لڑکیاں اس کی سختی کے ہاتھوں گرفتار تھیں۔ ان میں نہ تو ہنسنے کاحوصلہ تھا اور نہ بات کرنے کا یارا، اسلئے کہ وہ کبھی کسی کے تھپڑ مارتا اور کبھی کسی کو شکنجے میں کستا (سخت تکلیف دیتا) مختصر یہ کہ میرے سننے میں یہ بات آئی کہ لوگ اس کی کسی قدر خباثت نفس سے آگاہ ہو گئے، چنانچہ انہوں نے اسے پیٹا اور مدرسے سے نکال دیا، اور مدرسہ ایک مصلح (اصلاح کرنے اور نیکی کی طرف لانے والا) کے سپرد کردیا۔ وہ ایک برد بار پارسا، نرم طبع اور نیک آدمی تھا جو ضرورت کے بغیر بات نا کرتا اور اس کی زبان پر کوئی ایسے الفاظ نہ آتے جو دوسروں کے آزار کا باعث بنیں۔ (اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ بچوں؍طلباء کے سر سے پہلے استاد کی ہیبت جاتی رہی۔ دوسرے استاد کو انہوں نے فرشتوں کے سے اخلاق والا پایا۔ چنانچہ آہستہ آہستہ وہ شیطان ؍ شریر بنتے چلے گئے اور اس کی نرمی کے بھروسے پر تعلیم کے حصول میں لاپروا ہوگئے۔ وہ زیادہ تر وقت کھیل میں گزارنے لگے اور تختیاں ایک دوسرے کے سر پر مارتے:

ترجمہ شعر:جب تعلیم دینے والا استاد بے آزار ہو تو بچے بازار میں خرسک کا کھیل کھیلنے لگ جاتے ہیں۔

کوئی دو ہفتے بعد میرا اس مسجد میں جانا ہوا۔ وہاں میں نے پہلے والے معلم کو دیکھا جس سے لوگوں کے دل خوش ہو گئے۔ مجھے دکھ ہوا اور میں نے ’’لاحول‘‘ پڑھا کہ ابلیس (پہلے والا معلم) کو فرشتوں کا پھر کیوں استاد بنا دیا گیا ہے۔ ایک بوڑھے جہاندیدہ مرد ظریف نے کہا:

ترجمۂ اشعار: یک بادشاہ نے اپنا بیٹا مکتب میں بھیج دیا اور اس کی سیمین(چاندی کی یا سفید) تختی اس کے پہلو میں رکھ دی۔اس کی تختی پر سونے سے یہ لکھا ہوا تھا کہ ’’استاد کا ظلم وجبر بہتر ہے کہ باپ کی محبت‘‘ یعنی استاد کے سخت رویے کے باعث بچے تعلیم پر توجہ دیتے ہیں ورنہ کھیل کود میں لگے رہتے ہیں۔

(4)ایک پارسا زادے کو اپنے چچائوں کی وراثت سے بہت سی دولت ملی۔ (اس دولت کے ملنے پر) اس نے فسق و فجور (بدکاری) شروع کردیا۔ مختصر یہ کہ ایسا کوئی گناہ اور برا کام نہ تھا جو اس نے نہ کیاہو اورنشہ آور چیزیں نہ کھائی پی ہوں۔ ایک مرتبہ میں نے اس سے نصیحت کے طور پر کہا کہ ’’اے بیٹے! آمدنی (دولت) چلتے ہوئے پانی کی مانند ہے اور عیش چلتی ہوئی چکی کی مانند، یعنی حد سے زیادہ خرچ کرنا اسی کو زیب دیتا ہے یا اسی کیلئے مُسلم ہے جس کی مقررہ آمدنی ہو۔ ترجمۂ شعر: جب تیری کوئی آمدنی نہیں ہے تو تُوخرچ تھوڑا کر، اسلئے کہ ملاح یہ گایا کرتے ہیں کہ، اگر بارش پہاڑوں پر نہ برسے تو ایک سال میں دجلہ (جیسا بہت بڑا دریا) ایک خشک ندی بن جائے۔ تو عقل و ادب کو اختیار کر اور لہو و لعب کو چھوڑدے، اسلئے کہ جب دولت ختم ہوگئی تو تجھے سختی اٹھانا پڑے گی تو پشیمانی میں پڑ جائیگا‘‘۔

لڑکے نے اپنی لذت ناو نوش (کھانے پینےکی لذت) کے باعث میری اس بات پر کوئی توجہ نہ دی اور میرے قول پر اس نے اعتراض کیا اور بولا ’’فوری یا میسر راحت کو آنے والی تکلیف کی تشویش میں منغض کرنا عقلمندوں کی رائے کے خلاف ہے:

ترجمۂ اشعار:مقاصد والے اور خوش بختی کے حامل انسان سختی کے خوف سے سختی کھاتے ہیں (کیوں کہ اپنے آپ کو وقت سے پہلے سختی میں مبتلا کرلیتے ہیں،اے میرے دل افروز (دل کو روشن کرنے والے) دوست! جا خوشیاں منا، اس لئے کہ آج آنے والے کل کا غم کھانا مناسب یا اچھا نہیں۔

پھر میں بھلا ایسا کیوں سوچوں کہ میں مروت کی بلندی پر بیٹھا ہوں اور جوانمردی سے میں نے ناتا جوڑ رکھا ہے اور میرے انعام (یا میری دولت) کا چرچا لوگوں کی زبان پر ہے۔ یہ حکایتیں شیخ سعدیؒ مرحوم کی مشہور زمانہ کتاب گلستان سے لی گئی ہیں۔ ترجمہ محترم جناب ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی نے کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں