33

سانحہ مری، ہوٹل مہنگے، انتظامیہ غائب، 2 سال سے سڑکوں کی مرمت ہوئی نہ برف ہٹانے کیلئے مشینری تھی،صبح 8 بجے حکومت نے ایکشن شروع کیا،ابتدائی رپورٹ

راولپنڈی ، لاہور (خبرایجنسی)سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ میں بتایاگیاہےکہ سانحے کے روز ہوٹل مہنگے اور انتظامیہ غائب تھی ،گاڑیوں میں بیٹھے 22 افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے،2سال سے سڑکوں کی مرمت ہوئی نہ برف ہٹانے کیلئے مشینری تھی، صبح 8بجے حکومت نے ایکشن شروع کیا جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ذمہ داروں کے تعین کیلئے 5رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی، TOR,sکا اعلان کردیاگیا، کمیٹی 7روز میں رپورٹ پیش کرے گی، لواحقین کیلئے فی کس 8لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیاگیا، سانحہ کے بعد مری پر نوازشات بھی دیکھنے کو ملیں، وزیراعلیٰ بزدار نے ملکہ کوہسار کو ضلع بنانے، رابطہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے فنڈز دینے، 2 پارکنگ پلازےاور 2نئے تھانے بنانے کا اعلان بھی کیا،عثمان بزدارنے اوورچارجنگ کرنیوالے ہوٹلوںاور غیر قانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کرنےکی ہدایت کی اور برفباری سے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ، گھڑیال سمیت دیگر علاقوں کا دورہ بھی کیا، پی ٹی اے کی ہدایت پر موبائل فون آپریٹروں نے گلیات کے علاقوں میں پھنسے ہوئے صارفین کو زیرو بیلنس ہونے پر اپنے نیٹ ورک کے نمبروں پرمفت کالوں کی سہولت فراہم کردی ہے۔سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی جس کےمطابق 7جنوری کو مری میں 16گھنٹے میں4 فٹ برف پڑی،3 جنوری سے7 جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزارگاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گاڑیوں میں بیٹھے 22 افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے، 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی، مری جانے والی 21 ہزارگاڑیاں واپس بھجوائی گئیں۔رپورٹ کے مطابق مری اور گرد و نواح میں موجود سڑکوں کی گزشتہ دو برس سے جامع مرمت نہیں کی گئی تھی اور گڑھوں میں پڑنے والی برف سخت ہونے کے باعث ٹریفک کی روان میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مری میں موجود ایک نجی کیفے کے باہر پھسلن ہونے کے باوجود کوئی حکومتی مشینری موجود نہیں تھی اور اسی پھسلن والے مقام پر مری سے نکلنے والوں کا مرکزی خارجی راستہ تھا، سیاحوں کے مری سے خارجی راستے پر برف ہٹانے کیلئے ہائی وے کی مشینری موجود نہیں تھی۔رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مری کے مختلف علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے ہوٹلز چھوڑ کر گاڑیوں میں رہنے کو ترجیح دی۔رات گئے ڈی سی راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کی مداخلت پر مری میں گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی اور مری کی شاہراہوں پر ٹریفک بند ہونے کے باعث برف ہٹانے والی مشینری کے ڈرائیورز بھی بروقت موقع پر نہ پہنچ سکے تاہم متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ٹریفک کی روانی یقینی بنانے موقع پر موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق مری میں ایسا کوئی پارکنگ پلازا موجود نہیں جہاں گاڑیاں پارک کی جاسکتیں، صبح 8 بجے برف کا طوفان تھمنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی، ذرائع نے بتایاکہ مری میں سیاحوں سے ہوٹلوں کا کرایہ 20 ہزار سے 50 ہزار روپے تکے وصول کیاگیا۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مری کے برفباری سے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیااور گھڑیال سمیت متاثرہ علاقوں کا3 گھنٹے طویل دورہ کیا اورمتاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سانحہ مری کی اعلیٰ سطح کی انکوائری کرانے کااعلان بھی کیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب کی سربراہی میں کمیٹی 7روز میں رپورٹ پیش کرے گی اورمری میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کے لئے ایک کروڑ 76لاکھ روپے مالی امداد کااعلان بھی کیا- وزیراعلی عثمان بزدار نے مری کو ضلع بنانے کی اصولی منظوری دے دی اور فوری طورپر ایس پی او رایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کی ہدایت بھی کی-گھڑیال میں وزیراعلی عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلی سطح کے اجلاس میں ریلیف کمشنر/سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور دیگر نے ریسکیو و ریلیف آپریشن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور مری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی- کمشنر راولپنڈی ڈویژن،سی پی او راولپنڈی او رڈپٹی کمشنر راولپنڈی،سی ٹی او راولپنڈی نے وزیراعلی عثمان بزدار کوالمناک واقعہ کے مختلف پہلوں سے آگاہ کیا اور ٹریفک مینجمنٹ پلان کے بارے میں بریفنگ دی- وزیراعلی عثمان بزدار نے اس موقع پر مری میں گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کی آمد پر شدید برہمی کااظہار کیا-وزیراعلی عثمان بزدار نے واضح کیاکہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دارو ں کے خلاف بلاامتیاز ایکشن لیا جائے گا- وزیراعلی عثمان بزدار نے کہاکہ مری کو ضلع بنانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اوراس ضمن میں چیف سیکرٹری اورسینئر ممبربورڈ آف ریونیو سے تجاویز طلب کرلی ہیں -پنجاب حکومت نے مری میں آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کیلئے سینئر افسران کو تعینات کرنے کافیصلہ کیاہے-مری میں فوری طورپر ایس پی او رایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے عہدوں کے افسروں کو تعینات کیاجائے گا-وزیراعلی عثمان بزدار نے مری میں 2نئے تھانوں کے قیام کی بھی منظوری دے دی-مری میں سیاحوں کے رش کو کنٹرول کرنے کیلئے سنی بینک اورجھیکا گلی میں 2پارکنگ پلازے بنائے جائیں گے – ان پارکنگ پلازوں سے شٹل سروس کے ذریعے سیاحوں کو مال روڈ تک لایا جائے گا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں