46

سانحہ داسو ڈیم اور FATF بھارتی سازشیں. مرزا اختربیگ

7 / 100

امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے مدنظر بھارت کو افغانستان میں اپنی کئی برسوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے اور وہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے مختلف حربے اختیار کررہا ہے جس میں بھارتی وزیر خارجہ کا FATF اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی سازش کا اعتراف قابل ذکر ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کئی کالموں میں ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ، مغربی طاقتیں اور بھارت FATF کے منی لانڈرنگ اور دہشت گرد فنانسنگ روکنے کے قوانین کی آڑ میں پاکستان پر دبائو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے حال ہی میں FATF کا معاملہ سیاسی بنانے کا اعتراف بھی کیا ہے کہ پاکستان، بھارت کی کوششوں سے گرے لسٹ میں شامل ہے۔ واضح رہے کہ بھارت FATF کے مشترکہ گروپ کی نمائندگی کررہا ہے جس پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ FATF کے صدر سے اپنی تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گرد فنانسنگ کی روک تھام کا ایک ادارہ ہے جس نے 29 جون 2018 کو اپنے پیرس اجلاس میں پاکستان کو ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کرتے ہوئے ایک 27 نکاتی ایکشن پلان پر 31 اکتوبر 2019 تک عملدرآمد کیلئے کہا تھا لیکن کورونا کے باعث FATF کا اجلاس اکتوبر 2019 کے بجائے ستمبر 2020 میں ہوا جس میں پاکستان کی 6 شرائط پر عملدرآمد کو FATF نے غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے 4 شعبوں میں مزید کام کرنے کیلئے فروری 2021 کا اضافی وقت دیا تھا مگر 22 سے 25 فروری 2021 کے FATF اجلاس میں پاکستان کو شدت پسندوں کی مالی امداد کی روک تھام کیلئے مزید 3 شعبوں میں جون 2021 تک اقدامات کرنے کو کہا جس کے تحت پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے عملی طور پر یہ ثابت کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور کالعدم تنظیموں کیلئے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کررہے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میں سزائیں دی جائیں۔ اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گردوں اور اُن کی مالی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد اُن کےاور اثاثے منجمد کئے جائیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے 21 سے 25 جون 2021 تک پیرس میں جاری رہنے والے اپنے حالیہ 5 روزہ ورچوئل اجلاس کے اختتام پر پاکستان کو کچھ عرصہ کے لئے مزید گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ FATF کے صدر مارکس پلیئر اور امریکہ نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گرد فنانسنگ کے حوالے سے پاکستان کے عملی اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے تعاون کو عالمی سطح پر تسلیم کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے FATF کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے جس کا اعتراف FATF کے صدر نے بھی کیا ہے لیکن FATF کے حالیہ پیرس اجلاس میں پاکستان کو ایک نیا 7 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا ہے جس پر ایک سال کے اندر عملدرآمد کرنا ہے۔

پہلے والے ایکشن پلان کا فوکس دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے تھا جبکہ نئے ایکشن پلان کا فوکس منی لانڈرنگ ہے۔ پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ میں رکھنے کے فیصلے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے فورم کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے جس کے باعث پاکستان شرائط پوری کرنے کے باوجود گزشتہ 3 برس سے گرے لسٹ سے نہیں نکل سکا لہٰذابھارت کو FATF فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔

بھارت پہلے دن سے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبے کا مخالف رہا ہے اور سی پیک منصوبے کے خلاف مسلسل کارروائیاں کررہا ہے تاکہ یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوجائے۔ 14 جولائی کو پاکستان کے علاقے کوہستان میں داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی بس میں بم دھماکے کے نتیجے میں 9 چینی باشندے ہلاک اور 28 زخمی ہوگئے۔ وزارتِ خارجہ نے اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ داسو ڈیم منصوبہ جس کی آپریٹر کمپنی واپڈا ہے، پر ِ5 چینی کمپنیوں کے 400 چینی باشندے اور 2000 پاکستانی ملازمین کام کررہے ہیں۔ خیبرپختونخوا صوبہ میں بجلی اور پانی کے داسو ڈیم منصوبے کی تعمیراتی لاگت 4.3 ارب ڈالر ہے جس سے 1.14 ملین ایکڑ فٹ پانی کے علاوہ دو مرحلوں میں مجموعی طور پر 4320 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی اور یہ منصوبہ جون 2025 تک مکمل ہوگا۔

داسو ڈیم واقعہ کے بعد چینی کمپنیوں نے پاکستانی ملازمین کو فارغ کردیا تھا جبکہ چین کی حکومت نے سیکورٹی امور پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان نے اپنے چینی ہم منصب کو فون پر یقین دہانی کرائی اور اس سلسلے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کیلئے چین کے دورے پر روانہ ہوگئے۔داسو ڈیم کا واقعہ سی پیک کیلئے ایک لٹمس ٹیسٹ ہے۔ ہمیں افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بناکر بھارت کی شرانگیزیوں سے ہوشیار رہنا ہوگا اور داسو ڈیم کے واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دینا ہوگی تاکہ چینی کمپنیوں اور دیگر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوسکے اور بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں