40

سازش تھی یا نہیں ڈی جی آئی ایس پی آر رائے دے سکتے ہیں فیصلہ نہیں عمران خان

سازش تھی یا نہیں ڈی جی آئی ایس پی آر رائے دے سکتے ہیں فیصلہ نہیں عمران خان
اسلام آباد / کراچی (نیوز ایجنسیز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سازش تھی یا نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر رائے دے سکتے ہیں فیصلہ نہیں، فیصلہ کروانا ہے تو صدر مملکت نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ تحقیقات کرائیں، سب نے مان لیا تھا مداخلت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے کیا جبکہ راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ‘انصاف کا نظام خطرے میں ہے ، جنہوں نے چوری پکڑنی ہے وہ خود کو بچارہے ہیں ‘پاکستان سری لنکاکے راستے پر نکل گیا‘پنجاب سیاسی انتشار کی زد میں ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارمز پر صارفین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ’کیا ڈی جی آئی ایس پی آر یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ سازش تھی یا نہیں۔ یہ ان کی رائے ہوسکتا ہے، وہ فیصلہ تو نہیں کرسکتے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر اس کا فیصلہ کروانا ہے تو صدر مملکت نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ آپ اس کی تحقیقات کرائیں، میں جب کابینہ میں تھا تو میں نے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور اب تک اس کی تحقیقات نہیں ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر یہ نہیں کہہ سکتے کہ سازش ہے یا نہیں ہے۔سب نے یہ تو مان لیا تھا کہ یہ مداخلت ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’مراسلے کے حقائق سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، جنھوں نے ان (موجودہ حکومتی اتحاد) کو ہم پر مسلط کیا وہ ملک کے دشمن ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کی کھلی سماعت کرائیں اور اس میں پتا چل جائے گا کہ صرف مداخلت تھی یا سازش بھی تھی۔ میں نے اور شوکت ترین نے نیوٹرلز کو اسی وقت بتا دیا تھا کہ اگر اس وقت حکومت گرائی جاتی ہے تو معیشت سنبھل نہیں سکے گی اور ملک کو بہت زیادہ مالی نقصان ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ساڑھے تین سال میں سیکھا شروع میں اگر بڑی اصلاحات کر دیں تو آگے آسانی ہوتی ہے۔ حکومتی اتحاد کو کبھی کوئی بلیک میل کرتا ہے تو کبھی کوئی۔ اب پتا ہے کہ شروع میں کون سی اصلاحات کرنی ہیں، ہماری قیادت اب انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن سے آ رہی ہے۔ پاکستان میں لیڈرشپ کا بہت بڑا خلا ہے‘۔ قبل ازیں بدھ کو راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان سری لنکا کے راستے پر نکل گیاہے ‘ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہوچکی ‘انصاف کا نظام خطرے میں ہے‘ جنہوں نے چوری پکڑنی ہے وہ سب خود کو بچا رہے ہیں‘ ایک ادارہ بچا ہوا ہے وہ عدلیہ ہے‘ہمیں صرف الیکشن نہیں صاف شفاف الیکشن چاہئیں‘الیکشن کمیشن شفاف الیکشن نہیں کراسکتا ‘پنجاب میں حکومت کہیں دکھائی نہیں دیتی‘ہرطرف مجرم مافیا دندناتا دکھائی دے رہا ہے ۔ وزیراعظم کا کرپٹ بیٹا ڈھونگ انتخاب سے پنجاب میں اقتدارپرقابض ہوا، پاکستان کاسب سے زیادہ آبادیوالا صوبہ مکمل سیاسی انتشار کی زد میں ہے، لوگ مشکلات کا شکار ہیں،کسانوں کی فصلیں بھی خطرے سے دوچار ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کی جتنی بھی ترقی تھی وہ اشتہاروں میں تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی دو سال میں وہ ترقی ہوئی تھی جو 30 سال میں نہیں ہوئی تھی،شہباز شریف نے نوکروں کے نام پر 16 ارب روپیہ لیا، پہلی باری چپڑاسی گلزار کی آئی وہ اللّٰہ کو پیارا ہوگیا،دوسرے کی باری آئی وہ بھی اللّٰہ کو پیارا ہوگیا، تیسری غلام شبیرکی باری آئی تو وہ بھی دل کا دورہ پڑنے سے گیا، مقصود چپڑاسی کو غلام شبیر پیسے ٹرانسفر کرتا تھا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ بڑے بڑے ڈاکوؤں سے سب ڈریں گے، کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا، صرف ایک ادارہ بچا ہوا ہے وہ عدلیہ ہے، اگر سپریم کورٹ سماعت کرتی ہے تو یہ اس پر حملہ کردیتے ہیں، بلیک میل مافیا کو جہاں سے خطرہ ہوگا اس کو ڈرائے دھمکائے گا، یہ ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے‘ میں کال دینے والا ہوں، سب نے پورا زور لگا کر میرے ساتھ نکلنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں