56

سائفر کیس: بانیٔ پی ٹی آئی، شاہ محمود کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے زبانی مختصر فیصلہ سنایا۔

فیصلہ سنانے کے وقت بانیٔ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

اس موقع پر بانیٔ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 342 کا بیان کمرۂ عدالت میں ریکارڈ کرنے کے لیے سوالنامہ دیا گیا۔

بانیٔ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے بیان دیا کہ ہمارے وکلاء موجود نہیں ہم کیسے بیان ریکارڈ کرائیں گے؟

جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے بانیٔ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے کہا کہ آپ کے وکلاء حاضر نہیں ہو رہے، آپ کو اسٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی۔

وکلائے صفائی نے سوال کیا کہ ہم جرح کر لیتے ہیں۔

جج نے وکلائے صفائی سے کہا کہ آپ نے مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کو جرح کا موقع دیا تھا۔

فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر کون کون موجود تھا؟
فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی، اسٹیٹ کونسل، بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنیں، شاہ محمود قریشی کے اہلِ خانہ، میڈیا کے نمائندے اور عام افراد بھی کورٹ روم میں موجود تھے۔

سائفر معاملہ کیا ہے؟
چیئرمین پی ٹی آئی نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفر کو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جا چکی ہے۔

اس کے علاوہ سائفر سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کے سابق سیکریٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں سابق وزیرِ اعظم کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔

اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کی تھی۔

اعظم خان پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری تھے اور وہ وزیرِ اعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔

سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں