40

روشن مستقبل کے لیے ایران سے بات چیت جاری رکھیں گے: سعودی عرب

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک امریکی میگزین سے انٹرویو میں کہا کہ بہتر ہے سعودی عرب اور ایران ایسے طریقے تلاش کریں جن سے وہ ایک ساتھ رہ سکیں۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب دونوں ممالک کے روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔
ولی عہد نے کہا کہ دونوں ممالک ’ہمیشہ سے پڑوسی‘ تھے۔ ’ہم ان سے اور وہ ہم سے چھٹکارا نہیں پا سکتے لہذا بہتر ہے کہ ہم دونوں ایسے طریقے تلاش کریں جن سے ہم ایک ساتھ رہ سکیں۔‘
شہزادہ محمد سلمان نے کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کے چار دور ہو چکے ہیں اور اس کے بعد مزید بات چیت ہوگی۔ ’امید ہے کہ ہم ایک ایسی پوزیشن پر پہنچ سکتے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے اچھی ہو اور میرے ملک اور ایران کے لیے روشن مستقبل پیدا کرتی ہو۔‘
امریکی میگزین دی اٹلانٹک کو دیے گئے ایک طویل انٹرویو میں ولی عہد نے امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات، مذہبی انتہا پسندی کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی ریاست کی بنیاد کے طور پر اسلام کے اہم کردار اور سماجی ترقی اور معاشی ترقی کے لیے سعودی عرب کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ مملکت کے امریکہ کے ساتھ ’طویل اور تاریخی تعلقات‘ ہیں اور اس کا مقصد اسے مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ :’ہمارے سیاسی، معاشی، سکیورٹی، دفاعی، تجارتی مفادات ہیں، ہمارے درمیان بہت کچھ ہے۔ یہ بہت بڑے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے مملکت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے دلیل دی کہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بے نتیجہ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دباؤ کام نہیں کرتا۔ ’تاریخ میں، یہ ہمارے ساتھ کبھی کامیاب نہیں ہوا۔ اگر آپ کے پاس صحیح خیال ہے، سوچنے کا صحیح طریقہ ہے تو بس کرتے رہیں۔
’اگر یہ صحیح بات ہے تو لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ اگر یہ غلط بات ہے تو پھر لوگ اپنے طرز فکر پر عمل کریں گے اور آپ کو اسے قبول کرنا ہوگا۔
’ ہم امریکہ میں آپ کی ثقافت کا احترام کرتے ہیں، ہم آپ کے طرز فکر کا احترام کرتے ہیں، ہم آپ کے ملک کی ہر چیز کا احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ آپ پر منحصر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی ایک جیسا سلوک کیا جائے۔ ہم بہت سی چیزوں سے متفق نہیں جن پر آپ یقین رکھتے ہیں، لیکن ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔
’ہمیں امریکہ میں آپ کو لیکچر دینے کا حق نہیں، چاہے ہم آپ سے اتفاق کریں یا اختلاف۔ یہی حال دوسری طرف بھی ہے۔‘
انٹرویو کے دوران اسرائیل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جی سی سی (خلیج تعاون کونسل) میں شامل ممالک کے درمیان معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی جی سی سی ملک ایسا کوئی سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اقدام نہیں اٹھائے گا جو دوسرے جی سی سی ممالک کے لیے نقصان دی ثابت ہو اور تمام جی سی سی ممالک نے اس پر کار بند ہیں۔
’اس سے قطع نظر، ہر ملک کو آزادی ہے کہ وہ اپنے نظریات کی بنیاد پر جو چاہیں کریں اور انہیں وہ سب کرنے کا حق ہے جو انہیں یو اے ای کے لیے مفید لگتا۔
’ہم امید کرتے ہیں کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع حل ہو جائے گا۔ ہم اسرائیل کو ایک دشمن کے طور پر نہیں دیکھتے، ہم انہیں بہت سے مفادات کے ساتھ ایک ممکنہ اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں، جنہیں مل کر آگے بڑھا سکتے ہیں لیکن ہمیں وہاں تک پہنچنے سے پہلے کچھ مسائل کو حل کرنا ہوگا۔‘
سعودی ثقافت اور اقدار کے حوالے سے مسلمانوں کے عقیدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شہزادہ محمد نے کہا کہ انتہا پسندوں نے اپنے بدنام مفادات کے حصول کے لیے اسلام کو ہائی جیک اور بگاڑ دیا اور سعودی عرب اس عمل کو الٹا رہا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا: ’میں اعتدال پسند اسلام کی اصطلاح استعمال نہیں کروں گا‘ کیونکہ اس اصطلاح سے انتہا پسند اور دہشت گرد خوش ہوں گے۔ تجویز یہ ہے کہ ہم سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک میں اسلام کو ایک نئی چیز میں تبدیل کر رہے ہیں جو کہ درست نہیں۔
’ہم اسلام کی حقیقی تعلیمات کی طرف لوٹ رہے ہیں، جس طریقے سے پیغمبر اسلام اور چاروں خلفا نے زندگی گزاری، جو آزاد اور پرامن معاشرے تھے۔
’ہم جڑوں کی طرف واپس جا رہے ہیں، خالص اسلام کی طرف، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سعودی عرب کی روح، اسلام پر مبنی، ہماری ثقافت، خواہ قبائلی ہو یا شہری، قوم کی خدمت، عوام کی خدمت، خطے کی خدمت کر رہی ہے۔ پوری دنیا اور ہمیں اقتصادی ترقی کی طرف لے جا رہی ہے۔‘
ولی عہد نے کہا کہ نتیجاتاً سعودی عرب ’دنیا کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا: ’آئندہ سال پوری معیشت میں تقریباً سات فیصد اضافہ ہونے والا ہے۔اور سعودی عرب کوئی چھوٹا ملک نہیں۔ یہ جی20 کا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ تو آج دنیا میں صلاحیت کہاں ہے؟ یہ سعودی عرب میں ہے۔‘
شہزادہ محمد سلمان نے کہا کہ یہ ترقی بنیادی سعودی اقدار کا احترام کرتے ہوئے منفرد سعودی انداز سے حاصل کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ:’ہم دبئی اور امریکہ کی طرح بننے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہم اپنے پاس موجود چیزوں، اقتصادی اثاثوں اور سعودی عوام کی صلاحیتوں، سعودی عرب کی ثقافت، اپنے پس منظر کی بنیاد پر ترقی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
’آپ اسے اب سعودی عرب میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے بہت کچھ کیا، اور ابھی کچھ کام کرنا باقی ہیں۔ اور ہم انہیں انجام دینے کے لیے کام کرنے کر رہے ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں