55

روس اور چین کی قربت انڈیا کے لیے مشکل پیدا کر سکتی ہے؟

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے 2 فروری کو لوک سبھا میں کہا تھا کہ مودی حکومت کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے چین اور پاکستان ساتھ ہو گئے ہیں۔
راہول گاندھی نے مودی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں ‘غلط حکمت عملی’ کی وجہ سے چین، پاکستان اکٹھے ہو گئے ہیں اور حکومت نے ملک کے عوام کے خلاف بڑا جرم کیا ہے۔
اب کہا جا رہا ہے کہ یوکرین کا بحران روس اور چین کو بھی نزدیک لے آیا ہے۔
چین اور پاکستان کی نزدیکیاں انڈیا کے لیے پہلے ہی اچھی خبر نہیں۔ انڈیا کے دونوں ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں اور دونوں کے ساتھ انڈیا کی جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔
روس کو روایتی طور پر انڈیا کا دوست اور حلیف سمجھا جاتا ہے لیکن یوکرین کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی صورتحال میں چین روس کے لیے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
انڈیا چین کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا۔ ایسے میں چین اور روس کی قربت بڑھنا فطری سمجھا جارہا ہے۔
پیر کو نئی دہلی میں رائسینا ڈائیلاگ سیشن کی سالانہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی صدر اُرسلا وون نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان دوستی کی کوئی حد نہیں ہے۔
جب اُرسلا یہ کہہ رہی تھیں تو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی وہاں موجود تھے۔
انڈیا کے لیے مشکل صورتحال
ورپی یونین کی سربراہ نے چین اور روس کے درمیان تعلقات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘دونوں ممالک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی دوستی کی کوئی حد نہیں ہے۔’ رواں برس فروری میں ہی انھوں نے کہا تھا کہ ایسا کوئی شعبہ نہیں ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون نہ ہو۔ اس کے بعد روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا، ہم نئے بین الاقوامی تعلقات میں ان دونوں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں، جب کہ دونوں نے اپنے اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں۔’
انھوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے میں یورپ کی حکمتِ عملی کامیاب نہیں رہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ روس پر پابندیاں لگانا اس مسئلے کا واحد حل نہیں ہے۔
جب روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی، اس وقت یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ حالات انڈیا کے لیے مشکل صورت حال پیدا کریں گے۔
تشویش ظاہر کی جا رہی تھی کہ یوکرین کے بحران میں روس اور چین کی دوستی مزید گہری ہو جائے گی، جو انڈیا کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یوکرین کے بحران نے روس کو چین کے قریب کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا نے اسی خوف سے یوکرین کے بحران میں خود کو غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کی۔
یوکرین کے حوالے سے اقوام متحدہ میں روس کے خلاف جتنی بار ووٹنگ ہوئی انڈیا نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔انڈیا نے روس کا نام لے کر یوکرین پر حملے کی مذمت تک نہیں کی۔
انڈیا نے مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود روس کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیل نہیں کی۔ لیکن کیا انڈیا کی یہ حکمت عملی چین اور روس کو قریب آنے سے روکنے میں کامیاب ہو گی؟
انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے بین الاقوامی ایڈیٹر رضا الحسن کا کہنا ہے کہ ‘انڈیا کے لیے اس وقت یہ بہت مشکل صورتحال ہے، یوکرین پر روس کے حملے سے لے کر اب تک دیکھا جائے توانڈیا کا موقف اور بیانات بدلے ہیں۔ شروع میں انڈیا نے تمام فریقین کے سیکیورٹی خدشات پر بات کی، پھر تشدد کی مذمت کی لیکن روس کا نام نہیں لیا۔‘
رضا الحسن کا کہنا ہے کہ ‘چین اور روس کا مشترکہ بیان روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے آیا تھا۔ اسی بیان میں کہا گیا تھا کہ روس اور چین کی دوستی کی کوئی حد نہیں ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دونوں ممالک قریب آ گئے ہیں۔روس کے ساتھ چین کا تعاون مزید بڑھ گیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ انڈیا کے لیے زیادہ اچھی خبر نہیں ہے۔ چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی جاری ہے۔ انڈیا اب بھی روسی ہتھیاروں پر منحصر ہے۔ ایسے میں اگر چین کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے تو روس اور چین کا اتحاد انڈیا کے حق میں نہیں ہوگا۔‘
کیا روس کی چین کے ساتھ شراکت داری بھی انڈیا کے خلاف ہو سکتی ہے؟
اس سوال کے جواب میں رضا الحسن کہتے ہیں کہ ‘میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا کے لیے صورتحال انتہائی حساس ہے، انڈیا کو توازن کے موقف پر قائم رہنا پڑے گا۔‘
انڈیا اور روس بہت گہرے دوست ہیں، لیکن روس کو ابھی کے حالات میں چین کی ضرورت ہے اور چین کو بھی امریکہ کے خلاف روس کی ضرورت ہے۔
روس کا چین پر بڑھتا ہوا انحصار
چین اور روس کے درمیان تعلقات گزشتہ 30 سالوں میں بڑھے ہیں۔ گزشتہ سال 28 جون کو چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک ورچوئل سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔
یہ سربراہی اجلاس اچھے ہمسائے اور دوستانہ تعاون کے معاہدے کی 20ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا۔ سربراہی اجلاس کے بعد صدر پوتن اور شی جن پنگ کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ‘سرد جنگ کے دوران جس طرح کے فوجی اور سیاسی اتحاد تھے ویسا ہمارے درمیان نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس سے بڑھ کر ہیں۔ ہمارا تعلق موقع پرستی سے بالاتر ہے اور ہم ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔
روس اور چین کے تعلقات سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سوویت دور سے ہی سرحدی تنازع چلا آ رہا تھا۔
1969 میں سوویت یونین اور چین سرحدی تنازع پر بھی ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ تاہم 2001 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا۔ شی جن پنگ اور پوتن کے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان قربتیں بڑھیں۔
روس اور چین کے درمیان تعلقات کو تقویت دینے میں اکثر چار اہم عوامل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 4200 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ سرحد پر امن قائم رہے۔ 1989 سے روسی رہنما میخائل گورباچوف اور چینی رہنما ڈین ژیاؤپنگ نے سرحدی تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی۔ 2006 میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع ختم ہوا اور دو طرفہ تعلقات میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو گئیں۔
معیشت اور کاروبار
دونوں ممالک کی معیشت بھی جڑی ہوئی ہے۔ روس قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اسے ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں چین روس کا مددگار بن رہا ہے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2060 تک اپنی معیشت کو کاربن فری بنا دے گا۔
لیکن اس کے لیے اسے کوئلے سے قدرتی گیس کی طرف جانا پڑے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان 2001 میں تجارت 10.7 ارب ڈالر تھی جو 2021 میں بڑھ کر 140 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ دونوں ملک کئی منصوبوں پر مل کر کام کر رہے ہیں۔
سائبیریا گیس پائپ لائن 36 ارب کیوبک میٹر سالانہ مکمل صلاحیت سے کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سائبیریا ٹو بھی ہے جس کی گنجائش 50 ارب کیوبک میٹر سالانہ ہے۔
چین زمینی راستے سے روس تک اپنی رسائی کو یقینی بنانے میں مصروف ہے، اس لیے روس یورپی منڈی پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔
دونوں ملکوں کے سیاسی اور حکومتی نظام میں کوئی مماثلت نہیں ہے، لیکن دونوں ملکوں میں طرز حکمرانی ایک شخصیت پر مرکوز ہے۔ روس میں پوتن اور چین میں شی جن پنگ کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے گھریلو معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ نہ تو چین روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی قید پر بات کرتا ہے اور نہ ہی روس چین کے صوبہ سنکیانگ کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرتا ہے۔ پیوتن اور جن پنگ کے درمیان تعلقات میں ذاتی سطح پر اعتماد کی بات کہی جا سکتی ہے۔
دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی مسائل پر مل کر کام کرتے ہیں۔ دونوں ممالک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقوام متحدہ میں ایک پیج پر ہیں۔
دونوں ملک ہتھیاروں کی تیاری پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان فوجی مشقوں میں بھی توسیع ہوئی ہے۔ دونوں ممالک مغرب کے خلاف ہم آواز ہیں۔ امریکہ اور یورپ کی بڑھتی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے روس کا چین پر انحصار بڑھ گیا ہے۔
کیا روس اور چین کی دوستی سرحدوں سے آگے ہے؟
کیا روس اور چین کی دوستی واقعی سرحدوں سے پار ہے؟ الیگزینڈر گابوئے کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینیئر فیلو ہیں۔ انھوں نے گزشتہ سال 31 دسمبر کو لکھا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گہرائی کے باوجود اس کی بھی حدود ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ ‘سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملک اپنی سٹریٹجک خود مختاری کے بارے میں کافی حساس ہیں، اس لیے دونوں ملک اپنے درمیان سیکیورٹی گارنٹی کے نظام پر معاہدہ نہیں کر سکتے جیسے امریکہ نے نیٹو جیسا اتحاد بنایا ہے۔ بحرالکاہل میں سلامتی کی ضمانتوں پر بھی ایک اتحاد ہے۔ دونوں ممالک کے عالمی سلامتی کے مفادات بھی مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر چین نے کرائمیا پر روس کی حمایت نہیں کی۔ شام اور افریقہ میں روس کی فوجی کارروائیوں کو بھی چین نے تعاون نہیں دیا تھا۔ روس تائیوان کے معاملے میں بہت جارحانہ انداز میں چین کی حمایت نہیں کرتا۔‘
الیگزینڈر گابیو کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی محاذ پر بھی تعلقات کی حدود ہیں۔ انھوں نے لکھا ‘تاریخی طور پر روس میں چینی کمپنیوں کی جانب سے کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے۔ روس میں سرمایہ کاری کا ماحول بھی ایسا نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھ رہی ہے، تب بھی صورتحال یہی ہے۔’
عالمی ہتھیاروں کی برآمدات
یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ چین اور روس کی دوستی برابر نہیں ہے۔ روس کی بین الاقوامی تجارت میں چین کا حصہ 2013 میں 10.5 فیصد تھا جو 2021 میں بڑھ کر تقریباً 20 فیصد ہو گیا۔
آنے والے دنوں میں مغربی ممالک کی پابندیوں کی وجہ سے چین کا حصہ مزید بڑھے گا۔ دوسری طرف روس پر چین کا معاشی انحصار بہت معمولی ہے۔
2021 کے آخر تک چین کی تجارت میں روس کا حصہ صرف 2.4 فیصد تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ روس کو چین کی زیادہ ضرورت ہے اور چین کو روس کی کم ضرورت ہے۔
چین کے ساتھ انڈیا اور ویت نام کے تعلقات اچھے نہیں ہیں لیکن روس کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ روس کے انڈیا اور ویتنام کے ساتھ تعلقات سوویت دور سے ہی اچھے رہے ہیں۔
گزشتہ پانچ سالوں میں انڈیا کو روسی ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2016 اور 2020 کے درمیان روس کی کل عالمی ہتھیاروں کی برآمدات میں انڈیا کا حصہ 23 فیصد تھا۔ اس کے علاوہ، 1990 کی دہائی سے ویتنام کو روسی ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔
الیگزینڈر نے لکھا کہ ‘تاریخی لحاظ سے انڈیا اور ویتنام کو روسی ہتھیار ملنے کی وجہ سے چین بے چینی کا شکار رہا ہے۔ بدلتے ہوئے سیکیورٹی نظام میں چین روس پر انڈیا اور ویتنام کو ہتھیار دینے کے معاملے میں دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ابھی چین اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ روس کو انڈیا کو اسلحہ دینے سے روکے لیکن مستقبل میں ایسا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں وسطی ایشیا میں چین کی موجودگی تیزی سے بڑھی ہے۔ وسطی ایشیا کی مارکیٹ میں چینی مارکیٹ پھیل رہی ہے اور یہ روس کے لیے تشویشناک ہے۔’
انڈیا کیا کرے گا؟
دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سینٹر فار سینٹرل ایشیا اینڈ رشین اسٹڈیز کی سربراہ ارچنا اپادھیائے کا کہنا ہے کہ روس چین کے لیے انڈیا کو نہیں چھوڑ سکتا اور نہ ہی انڈیا مغرب کے لیے روس کو چھوڑ سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں ‘روس اور چین کی دوستی بھی سرحدوں سے پار نہیں ہے۔ ماضی قریب میں دونوں ملکوں کے تعلقات گہرے ہوئے ہیں، لیکن دونوں کی ضروریات بھی آپس میں ٹکراتی ہیں۔ گلوان وادی میں چین کے ساتھ انڈیا کی جھڑپ ہوئی جس میں چین اور انڈیا دونوں کے فوجی مارے گئے لیکن روس نے ہتھیاروں کی سپلائی بند نہیں کی، روس نے انڈیا کو کبھی نہیں چھوڑا اور مجھے لگتا ہے کہ آگے بھی نہیں چھوڑے گا۔’
ارچنا اپادھیائے کا کہنا ہے کہ مغرب کی نظریں انڈیا کے بازار پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ‘مغرب انڈیا کے ہتھیاروں کی ضروریات میں روس کے کردار کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن انڈیا یہ نہیں بھولے گا کہ کس طرح مغرب نے جوہری تجربات پر پابندیاں لگائیں۔ کس طرح امریکا نے پاکستان کی حمایت کی اور انڈیا میں دہشت گردی پر کیسے دوہری پالیسی اختیار کی تھی۔روس ہمارا پرکھا ہوا ساتھی ہے انڈیا اسے کسی دباؤ میں نہیں چھوڑ سکتا۔روس قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور آنے والے دنوں میں توانائی میں ہمارا تعاون مزید بڑھنے والا ہے۔‘
ارچنا اپادھیائے کا کہنا ہے کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی اب دباؤ سے آزاد ہے اور اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے واشنگٹن میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر امریکہ انڈیا میں انسانی حقوق کے بارے میں کچھ خیالات رکھتا ہے تو انڈیا بھی امریکہ میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر اپنے خیالات رکھتا ہے۔
ارچنا اپادھیائے کا کہنا ہے کہ پہلی بار امریکہ کو اسی کی اپنی زبان میں جواب دیا گیا۔ اس کے علاوہ روس سے تیل خریدنے پر ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ جتنا تیل یورپ ایک دوپہر میں روس سے خریدتا ہے اتنا انڈیا ایک مہینے میں خریدتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں