58

روسی سرماٹ میزائل کیا ہیں اور یہ کتنے خطرناک ہیں؟

روس نے موسم خزاں کے ختم ہونے تک سرماٹ بین البراعظمی بیلیسٹک میزائل نصب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جدید روسی میزائل جوہری صلاحیت کے حامل ہیں اور امریکہ میں بھی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
سرماٹ بیلیسٹک میزائل کے اہداف کے بارے میں تفصیلات روس کے خلائی ادارے روسکاسموس کے سربراہ دیمیتری روگزین نے فراہم کی ہیں۔ ان میزائل کا ابتدائی ٹیسٹ گزشتہ بدھ بیس اپریل کو کیا گیا تھا۔ اس آزمائش سے قبل تکنیکی مسائل اور مالیات کی کمی کی وجہ سے اولین ٹیسٹ کو مؤخر کیا جاتا رہا ہے۔
روس کا نیا بیلسٹک میزائل ہمارے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہیں ہے، امریکہ
مغربی عسکری تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس میزائل کے بارے میں ابھی مزید تفصیلات کا سامنے آنا باقی ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے اس میزائل کو ایس ایس ایکس انتیس اور تیس (SS-X29 & 30) کا نام دے رکھا ہے۔ کئی دوسرے عسکری ماہرین اس میزائل کے لیے سپر ہیوی بیلیسٹک میزائل کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔
سرماٹ میزائل کی صلاحیت
اس میزائل کا نام سائبیرین یونانی نژاد دیو ملائی کردار سرماٹین سے ماخوذ ہے۔ اس کو بعض مغربی ماہرین شیطان ثانی (Satan-II) کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس بین البراعظمی میزائل پر دس یا اس سے زیادہ جوہری ہتھیار ایک ہی وقت میں نصب کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سارے یورپ اور امریکہ میں ہزاروں کلومیٹر کی دوری تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس میزائل کا تجربہ ماسکو حکومت نے یوکرین پر فوجی چڑھائی اور جاری جنگ کے دوران کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سن 1962 کے بعد کشیدگی کی سطح انتہائی بلند ہو چکی ہے۔
روسکاسموس کے سربراہ دیمیتری روگزین نے مزید بتایا کہ ان میزائلوں کو پہلے سے سابقہ سوویت دور کے تیار کردہ ووئیودا میزائل کی جگہ نصب کیا جائے گا۔ سرماٹ کی تنصیب ماسکو کے مشرق میں قریب تین ہزار کلومیٹر یا اٹھارہ سو ساٹھ میل دور سائبیریا کے مقام کراسنویارسک کے قریب کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ایک فوجی یونٹ بھی متعین کیا جائے گا۔
جوہری جنگ کی تشویش
روس کے خلائی ادارے کے سربراہ دیمیتری روگزین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سُپر ہتھیار کے تنصب سے اگلے تیس سے چالیس برسوں کے لیے روسی بچوں اور اس کے بعد کی نسل کو سلامتی کی ضمانت میسر ہو جائے گی۔
دوسری جانب یورپ میں جوہری جنگ کی تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ تشویش روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے یوکرین پر رواں برس چوبیس فروری کو فوجی چڑھائی کے بعد پیدا ہوئی۔ پوٹن یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کوئی بھی روس کے راستے کو روکنے کی کوشش کرے گا تو اسے ایسی قیمت چکانا پڑے گی، جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو گی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے کہا ہے کہ کل تک جوہری تنازعہ ایک بھولا ہوا معاملہ تھا لیکن یوکرین جنگ نے اس کے امکان کو حقیقت کے قریب لاکھڑا کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں