65

روسی تیل کا حصول مشکل پاکستانی ریفائنریز

روسی تیل کا حصول مشکل پاکستانی ریفائنریز
اسلام آباد ( این این آئی) آئل کمپنیوں نے کہا ہے کہ روس سے تیل کا حصول مشکل ہے، پاکستانی ریفائنریز کیلئے 15 سے 30 فیصد روسی خام تیل قابل قبول ہے، ریفائنریز کے پاس اس سے زیادہ تیل ریفائن کرنے کی استعداد نہیں جبکہ مغربی پابندیوں کے باعث بھی روس سے تیل کے حصول میں مسائل کا سامنا ہے۔ یہ تجزیہ چار پاکستانی ریفائنریز نے حکومت کی جانب سےلکھے گئے خط کے جواب دیا ہے۔ قبل ازیں وزارت توانائی نے خط لکھ کر روس سے تیل درآمد کرنے کے حوالے سے آئل کمپنیوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق چار ریفائنریز نے کہا ہے کہ 15 سے 30 فیصد روسی خام تیل پاکستانی ریفائنریز کے لیے قابل قبول ہے لیکن اس کے حصول میں بہت سے مسائل ہیں، سب سے بڑا مسئلہ امریکا ، برطانیہ اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد پابندیاں ہیں ، جو یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کے تناظر میں لگائی گئی ہیں۔ حکومت کو روس کا خام تیل درآمد کرنے کیلئے حکومت سے حکومت کمرشل کانٹریکٹ کرنا ہوگا ، جس میں ادائیگی کا طریقہ کار یقینی بنانا ہوگا کہ وہ ماسکو پر عائد اقتصادی پابندیوں سے متاثر نہ ہو۔ یہ تجزیہ چار ریفائنریز کی جانب سے کیا گیا ہے ، جس میں پارکو، بائکو، پی آر ایل اور این آر ایل شامل ہیں ، یہ تجزیہ حکومتی خط کے جواب میں پٹرولیم ڈویژن کو جمع کروایا گیا ہے۔ حکومت نے ریفائنریز سے 28 جون تک روس کے خام تیل سے متعلق تجزیہ اور سفارشات طلب کی تھیں۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ریفائنریز کے لیے غیر ملکی بینکوں سے تصدیق شدہ ایل سیز کا حصول فی الحال آسان نہیں ہے، وہ روسی خام تیل درآمد نہیں کرسکتیں۔جبکہ پاکستانی کمرشل بینکوں کے ذریعے ایل سیز کھولنے والی ریفائنریز روس پر عائد پابندیوں کی وجہ سے خام تیل درآمد کرنے کو تیار نہیں ۔ فی الوقت ریفائنریز ڈالرز میں ایل سیز کھولتی ہیں ، جس کی تصدیق غیرملکی بینکس کرتے ہیں ۔جب کہ ڈالرز میں ہر ٹرانزیکشن کی معلومات نیویارک بینک کو جاتی ہیں۔ تاہم، ریفائنریز کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کسی ٹرانزیکشن انتظام کے تحت روس کا خام تیل درآمد کرتی ہے تو وہ روسی خام تیل سے موگاس، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات بناسکتے ہیں۔ تاہم، کیا حکومت ، جو پہلے ہی آئی ایم ایف پروگرام کے لیے تیار ہے، وہ پابندیوں کو نظرانداز کرسکتی ہے یا نہیں ۔ یہ اہم سوال ہے ، جس کا جواب ریفائنریز کے پاس نہیں ہے۔ ماضی میں بائکو روس سے خام تیل لیتی رہی ہے ، تاہم، اس وقت روس پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ صنعتی ذرائع کا کہنا تھا کہ روس کے خام تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ چین ہے، اس کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے۔ بھارت کئی دہائیوں سے روس کا خام تیل خرید رہا ہے، پابندیوں کے تناظر میں وہ بھارتی روپے۔روبیل ٹرانزیکشن انتظام کے تحت یا بارٹر معاہدے کے تحت خام تیل درآمد کررہا ہے۔ چین اور روس بھی اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارت کررہے ہیں۔ امریکا اور دیگر بڑی مغربی معیشتیں ، بھارت کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔ تاہم، بھارت نے ان کے اعتراض مسترد کردیے ہیں اور کہا ہے کہ اس کی معیشت کا بڑا انحصار روس سے خریدے گئے فیول پر ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں بھی رعایت حاصل کررکھی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان، آئی ایم ایف پروگرام کے حصول کی کوشش کررہا ہے، جبکہ اسکے غیرملکی کرنسی ذخائر صرف 10 ارب ڈالرز سے کچھ زائد ہیں ۔ ایسی صور ت میں اگر پاکستان روس سے تیل درآمد کرتا ہے تو اسے امریکی مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جبکہ امریکا، سعودی عرب پر اثرورسوخ استعمال کرکے پاکستان کو دی گئی تیل سہولت ختم کرواسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں